بنگلہ دیش کو میں نے دیکھا (امار سونار بنگلہ)

مؤلف :  صفدر امام قادری
ناشر :  ایم۔ آر۔ پبلی کیشنز، دریا گنج، نئی دہلی  موبائل: 8368305471
اشاعت :  ۱۲۰۲ صفحات :  ۰۶۱ قیمت :  ۰۰۲ روپے
ملنے کا پتہ :  مکتبہ صدف، اشوک راج پتھ، پٹنہ۔ موبائل :  9430466321
تبصرہ: شاہد حبیب
(مولانا آزاد نیشنل اردو نیورسٹی، لکھنؤ کیمپس  504/122  نزد ندوہ کالج، لکھنؤ 226020   موبائل 8539054888)
اردو میں سفر ناموں کی روایت بڑی تابناک رہی ہے مگر اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اب تک جو سفر نامے لکھے گئے ہیں وہ ترقی یافتہ ممالک کے ہی لکھے گئے ہیں۔زیادہ سے زیادہ سفر نامہئ پاک و ہند یا سفر نامہئ حج و زیارت کواس سے مستثنی قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں نئی بستیوں کے سفرنامے کی طرف جس طرح توجہ کی گئی ہے اسے یقینا خوش آئند کہا جائے گا۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر صفدر امام قادری کا سفر نامہ ”بنگلہ دیش کو میں نے دیکھا“ (امار سونار بنگلہ)کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
صفدر امام قادری کے اس سفر نامے کے توسط سے اردو کے قارئین کو نہ صرف بنگلہ دیش میں اردو کی صورت حال کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ اسی کے ساتھ انہیں بنگلہ دیش کی معاشی،تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں سے بھی واقفیت ہوگی۔ اردو کے قارئین نے بنگلہ دیش میں اردو کی صورت حال کا مشاہدہ اس سے بہتر کسی اور سفر نامہ کے توسط سے نہیں کیا گیا ہوگا۔
ہندوستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں بسے فرزندانِ ادب نے یہ کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش جو پسماندگی کو ختم کرنے میں اپنی مثال قائم کر رہا ہے، وہ اردو کی محبت میں بھی اس قدر آگے جاسکتا ہے۔ واقعی اس سفر نامے کے مطالعے سے پہلے راقم کے علم میں بھی یہ بات نہ تھی کہ جو ملک اردو کی عداوت کی بنیاد پر قائم ہوا ہے، وہاں اردو کو لے کر لوگوں کے دلوں میں اس قدر محبت کے جذبے موجزن ہو سکتے ہیں۔ اس سفر نامے کے توسط سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی دو سے زائد یونیورسٹیز اور نصف درجن کالجز میں شعبہ ئ اردو پورے طمطراق کے ساتھ قائم ہے۔ صرف ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہی نو مستقل اساتذہ اور پانچ سو سے زائد طلبہ اردو کی تعلیم و تعلم میں مصروف ہیں۔ اس خوشگوار فضا کا پہلا جھونکا صفدر امام قادری کو 2017 میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے ایک انٹرنیشنل سیمینار میں شرکت کے دعوت نامے کے طور پر محسوس ہوا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہئ اردو کے صدر پروفیسر ڈاکٹرمحمد اسرافیل نے جب یہ عندیہ پیش کیا کہ شعبہ ئ اردو کو عالمی اردو آبادی سے جوڑنے کی کوشش تیز ہونی چاہیے تو اس سلسلے کا سب سے پہلا قرعہئ فال صفدر امام قادری کے نام کا نکلا۔ اس سفر نامے کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پربآسانی پہنچا جاسکتا ہے کہ صفدر امام قادری اس ذمہ داری سے بخوبی عہدہ برآہو ئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سفر نامے کا قاری ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ ئ اردوسے نہ صرف واقف ہوتا ہے بلکہ بنگلہ دیش میں اردوکی مجموعی صورت حال کو بھی بخوبی جان جاتا ہے اور اسی کے ساتھ بنگلہ دیش کی تہذیبی،معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں سے بھی واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔
اس مختصر سفر نامے کی شروعات 2017 میں انجام پذیر پہلے سفر سے ہوتی ہے اور اختتام جنوری 2020 کے دوسرے سفر پہ ہوتا ہے۔ ان دو سفروں کی مدد سے صفدر امام قادری نے بنگلہ دیش کو قریب سے دیکھا، وہاں کی اردو آبادی سے دوستی کی، وہاں کے اردو مصنفین اور محققین کی خدمات کو ملاحظہ کیا،کھلے دل سے ان کا اعتراف کیا اور اردو دنیا میں ان کو متعارف کرانے کا بیڑا اٹھا یا۔ انھوں نے 2017 کے سفر کے بعد آٹھ مستقل کالمز لکھ کرروزنامہ انقلاب اور دیگر روز ناموں کے توسط سے اردو آبادی کو بنگلہ دیش کی سرگرمیوں سے واقف کرایا تھا لیکن جنوری 2020 کو دوسرا سفر ہوا تو اس سفر کے فیضان نے صفدر امام قادری کو بنگلہ دیش کے سفر نامے کو تفصیل سے لکھنے پر آمادہ کر لیا۔
سفر نامے کی شروعات صفدر امام قادری نے رابندر ناتھ ٹیگور کی مشہور نظم ’امار سونار بنگلہ‘ کے انگریزی ترجمہ سے کیا ہے۔اور اندرونی صفحات میں ’امار سونار بنگلہ‘ کا اردو ترجمہ بھی پیش کر دیا ہے۔ چونکہ یہ سفر شعبہئ اردو ڈھاکہ یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کے رہینِ منت ممکن ہوا تھا، اس لئے اس سفرنامے کو صفدر امام قادری نے انہیں کے نام معنون بھی کیا ہے جو رشتہئ الفت کو پائیدار بنانے کی عمدہ مثال ہے۔ معروف دانشور، محقق اور ڈرامہ نگار جناب جاوید دانش نے اس سفر نامے کا مقدمہ لکھاہے۔ اس کے بعد 34 ذیلی عناوین کے توسط سے صفدر امام قادری نے اس سفر نامے کو آگے بڑھایا ہے۔ سب سے پہلا عنوان جو انھوں نے قائم کیا وہ چونکانے والا بھی ہے اور چشم کشا بھی، جو بنگلہ دیش کی معاشی صورت حال پر بہترطریقے سے روشنی ڈالنے میں کامیاب بھی ہے۔عنوان ہے: ’اب پسماندگی کی مثال نہیں ہے بنگلہ دیش‘ (ص:۳۲)۔ یہ عنوان اس لئے بھی ضروری تھاکہ اب تک ہندوستان میں بسے اردو قارئین اس خوش فہمی مبتلا رہے ہیں کہ کم از کم ان کاملک بنگلہ دیش اور پاکستان  جیسے پڑوسی ممالک کے مقابلہ میں تواونچے پائدان پر ہے لیکن ان قارئین کی نظر عالمی درجہ بندی کی مختلف فہرستوں پر نہیں ہے، اس لیے ان کے علم میں یہ بات کم ہی رہی ہوگی کہ ’بنگلہ دیشی ٹکہ‘بھی اب ’ہندوستانی روپیہ‘کے مقابلے میں مستقل مضبوطی کی طرف گامزن ہے۔اس سفر نامے کے مطالعہ بعداردو قارئین کی یہ خوش فہمی بھی ختم ہو جائے گی کہ وہ گلوبل رینکنگ میں بنگلہ دیش سے بہتر مقام پر ہیں۔ کیونکہ صفدر امام قادری نے اپنے اس سفر نامے کی شروعاتی صفحات میں ہی بنگلہ دیش کی پسماندگی کی ختم ہوتی صورت حال کی وجوہات کے زمینی حقائق کوبہترین انداز میں پیش کیا ہے۔اس کے بعد سفر نامے میں بنگلہ دیش میں منعقد اردو کے پہلے بین الاقوامی سیمینارکی تفصیلی روداد بیان ہوئی ہے۔نئے علمی علاقوں کی سیر پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔اور ڈھاکہ یونیورسٹی اور اس کے دیگر شعبہ جات کا اجمالی تعارف بھی بیان ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ بنگلہ دیش میں اردو تنقید و تحقیق کے نئے مواقع کو بھی اجاگر کیاگیا ہے۔ لیکن ان سب میں ذاتی طور پر راقم کو جو چیزسب سے زیادہ توجہ طلب لگی وہ ہے انقلابی شاعر’قاضی نذر الاسلام‘کے آستانے پر حاضری کی روداد۔
اس روداد میں قاضی نذرل کی ذاتی زندگی بھی واضح ہوکر سامنے آئی ہے۔ ان صفحات کی مدد سے ہی قاری کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ قاضی نذر الاسلام جو1899 میں پیدا ہوئے تھے،وہ1942سے 1976تک تقریباََ 34 برس گونگے رہ کرزندگی گزارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ان کی زبان گنگ تھی اور ان 34 برسوں میں صرف ایک فقرہ ان کی زبان سے نکلا تھا ’میں گاندھی جی سے ملوں گا‘ اور دوسرا فقرہ تھا ’میں بنگلہ دیش جاؤں گا‘۔ ہزار علاج کے بعد بھی ان کی یہ ذہنی کیفیت تبدیل نہ ہو پائی تھی۔ 22برس کی عمر میں قاضی نذر ل نے اپنی مشہور نظم ’بدروہی‘لکھی تھی اور اس ’بدروہی‘ کی تخلیق سے اس قدر معروف ہوئے کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے جب اپنا شعری ڈرامہ ’بسنت‘لکھاتو اس کا انتساب ’بدروہی‘ کے کوی ’نذر ل‘ کے نام معنون کیاتھا(ص:۸۵)۔ یہ معلومات قاری کو نہ صرف ذہنی افق کو وسیع کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ وہ ان معلومات کے بعدایک طرح کی سرشاری میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔
صفدر امام قادری نے اس سفر نامے میں ’کوکس بازار‘ کی سیر اور اس کے آگے’سینٹ مارٹن دیپ‘’اِنائن بیچ‘ اور’لوچا‘  ِفش کے تذکرے سے ا س میں تنوع کا رنگ بکھیر دیا ہے۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کے کوہستانی علاقے’بندربن‘ کی سیر کے دوران بنگلہ دیشی فوج کے جوانوں سے انہونی ملاقات اور اس کے نتیجے میں پانچوں ہندوستانی مسافرین کو اس کوہستانی علاقے کی سیر سے محرومی کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ اس روداد سے سفر نامہ کا قاری اپنے اندر ایک مایوسی کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے لیکن مایوسی کی یہ کیفیت اس وقت دور ہو جاتی ہے جب ’کمل سرکار اورمحمد نور‘ جیسے عالی ہمت اور محبت کرنے والے دوست مسافر کے ہم نشیں ہوتے ہیں اور مصنف کی تحریروں کو ایک بڑی آبادی تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں تو اس طرح کی معلومات کے بعد قاری گد گد ہو اٹھتاہے۔ وہ اس امید کو اپنے اندر بآسانی جگہ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے کہ محمد نور کے ذریعہ یہ سفرنامہ جلد ہی بنگلہ میں ترجمہ ہوکر اردو کی روشنی کوبنگلہ دیش میں مزید دور تک پھیلانے کا سبب بنے گا۔
صفدر امام قادری نے اس سفرنامے میں بنگلہ دیش کے جن صاحبِ تصنیف شعرا ء و ادبا کا بھی ذکر کیا ہے، ان میں ارمان شمسی، جلال عظیم آبادی،پروفیسر کلثوم ابوالبشر،پروفیسر محمد محمودالاسلام،غلام مولیٰ اور دیگر صاحب علم اور اردو دوست حضرات کا تذکرہ بڑے شاندار الفاظ میں آیا ہے۔صفدر امام قادری کی زبان سفرنامے کے لئے مناسب ٹھہرتی ہے۔ انھوں نے جگہ جگہ اپنے جذبات کا اظہار کھل کر کیا ہے۔ اپنے اندر کی رعنا صفت شخصیت کو قاری کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ ئ اردو کے تقریباً سو طلبہ اور اساتذہ دو بسوں میں بھر کرجب ’کوکس بازار‘ کی طرف محو سفر ہونے والے تھے تو اس وقت ایک بس ان اشخاص کے لئے مختص کی گئی تھی جو رات میں سلیپر میں سو کر سفر کاٹنا چاہ رہے تھے اور ایک بس ان اساتذہ اور طلبہ کے لئے مختص تھی جو رات بھر سرود و موسیقی کے رنگ میں ڈوب کر اس سفر کو پرلطف اور یادگار بنانا چاہ رہے تھے۔ منتظمین نے صفدر امام قادری کو پہلے بس میں جگہ دینے کی کوشش کی لیکن صفدر امام قادری نے اپنے اندر کی رعنا صفت شخصیت کو پروفیسر محمودالاسلام کے سامنے یہ کہہ کر اجاگر کر دیا کہ ہم تو اس بس میں جگہ پانا چاہتے ہیں جس میں سرود و موسیقی کی مجلسیں جم رہی ہوں، آپ مجھے اس نعمت غیر مترقبہ سے کیوں محروم رکھنا چاہتے ہیں (ص: ۹۸)۔ اس نوع کی مندرجات سے قاری کو صفدر امام قادری کی شوریدہ صفت مزاج کا علم ہوتا ہے اور وہ بھی تھوڑی دیر کے لئے بنگلہ دیشی حسن،بنگلہ دیشی موسیقی اور بنگلہ دیشی فوک ڈانس کے رنگ میں اپنے آپ کو ڈوبتا ہوا محسوس کرلیتا ہے۔
اس اجمال سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سفر نامہ دلچسپ بھی ہے اور معلوماتی بھی، اور بنگلہ دیش کی ادبی و تہذیبی صورت حال کا جیتا جاگتا ثبوت بھی۔لیکن ایسا نہیں ہے کہ مسافر کو بنگلہ دیش کے ڈیولپمنٹ پلاننگ میں یا سماج کی سوچ میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ اس معاملے میں بھی ان کی نگاہ کی باریک بینی کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ مثلاََ: بنگلہ دیش میں کشادہ سڑکوں کی جال کے باوجود وہاں کے ٹریفک کی انتہائی سست رفتار پر وہ چیں بہ جبیں بھی ہوتے ہیں اور ایرپورٹ سے ڈھاکہ یونیورسٹی کے درمیان کی بیس کلومیٹر کی دوری کو طے کرنے کے لیے تین گھنٹے کی مسافت پر ناراضگی بھی ظاہر کرتے ہیں (ص:۸۲)۔ اسی کے ساتھ عوامی کرپشن کے مظاہرے پر اپنے ملک کی صورتحال سے موازنہ کرتے ہوئے خفگی اور مایوسی کا اظہار بھی کرتے ہیں (ص:۷۱۱)۔اس طرح یہ سفرنامہ بنگلہ دیش کی حقیقی تصویر بیان کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے،اس لیے امید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب اردو کے سفر ناموں کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھی جائے گی اور اردو کے قاری اس سفر نامے کو شوق کے ہاتھوں قبول بھی کریں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*