بنگال سیاست کے لیے ادھیر رنجن چودھری کتنے اہم،کتنے ضروری – ڈاکٹر نوشاد مومن

کانگریس کی قومی سربراہ سونیا گاندھی نے گزشتہ دنوں لوک سبھا میں پارٹی کے فائر برانڈ قائد ادھیر رنجن چودھری کو مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی (ڈبلیو بی پی سی سی) کا نیا صدر مقررکر کے بنگال کانگریس میں روز افزوں بد گمانیوں اور نت نئی قیاس آرائیوں پر لگام لگا دی ہے۔
بنگال پردیش کانگریس کے معمر سربراہ سومن مترا کی فوت کے تقریباً ایک مہینے کے بعد ادھیر کا تقرر کانگریس چیف کی حیثیت سے عمل میں آنا اس لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ بنگال میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات کا بازار گرم ہونے والا ہے اور اس انتخاب سے قبل ریاست میں سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات و مفادات بدلنے کے بڑے امکانات نظرآ رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کا بائیں بازو کی پارٹیوں سے اتحاد ہونے کی صورت میں بنگال کی سیاسی لڑائی تین پارٹیوں کے درمیان محدود ہو جائے گی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی اگر مانیں تو اس تین طرفہ مقابلے سے بی جے پی کو زبردست نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سیاسی میدان کے تجربہ کار رہنما ادھیر رنجن چودھری ان دو کانگریس رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال سے ایسے وقت میں کامیابی حاصل کی جب کانگریس پارٹی نے مجموعی طور پر پورے ملک میں بد ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
چودھری مرشد آباد ضلع کے برہم پور سے پانچ بار کے رکن پارلیمنٹ اور مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے سابق ممبر ہیں۔ 64 سالہ یہ سیاسی رہنما اس سے قبل فروری 2014 اور ستمبر 2018 کے درمیان ڈبلیو بی پی سی سی کے صدر کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پارلیمنٹ( لوک سبھا) میں کانگریس کے قائد ہونے کے علاوہ، ادھیر رنجن چودھری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرپرسن ہیں۔ اس سے قبل موصوف وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یو پی اے 2 حکومت میں تقریباً دو برسوں تک وزیر ریلوے برائے اسٹیٹ (ایم او ایس) کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔
فائر برانڈ لیڈر کے طور پر ادھیر رنجن چودھری بنگال میں کانگریس کے سب سے زیادہ مقبول رہنما ہیں۔ وہ وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کی پالیسیوں کے بھی سخت مخالف ہیں۔ ریاست میں مسمار ہوتے کانگریسی قلعے کے باوجود چودھری برہم پور میں اپنے قلعے کی حفاظت کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔
اس فائر برانڈ لیڈر نے کبھی بھی نڈر ہو کر اپنے خیالات اور آرا کے اظہار سے گریز نہیں کیا اور پارٹی رہنماؤں کے ایک حلقے کو تنقید کی دعوت بھی دی۔
ادھیر رنجن چودھری کے حوالے سے یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ مغربی بنگال میں بائیں بازو کے محاذ کے ساتھ انتخابی افہام و تفہیم قائم کرنے میں اُن کا اہم کردار رہا ہے۔ اگرچہ ترنمول کانگریس نے ریاست میں اپنے اقتدار کو برقرار رکھا ، لیکن کانگریس چودھری کی سربراہی میں 44 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی ، اور ریاستی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن بن گئی۔
تاہم اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس کو کچھ دھچکے بھی لگے اور پارٹی کے متعدد اراکین اسمبلی نے چودھری کی قائدانہ خوبیوں پر سوالات اٹھا تے ہوئے حکمران ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا۔ جس سے چودھری کے حریفوں کو ان کی مخالفت کے مزید مواقع نصیب ہوئے۔ پارٹی کا خیمہ بدلنے والے ان ممبران اسمبلی کو کانگریس میں برقرار رکھنے کے قابل نہ ہونے کا الزام لگا کر انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔
اس وقت مغربی بنگال اسمبلی میں کانگریس کے 24 ممبران ہیں۔ جبکہ اس کے 17 ارکان اسمبلی نے ٹی ایم سی میں پناہ لے کر ادھیر رنجن چودھری کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان لگا دیا حتٰی کہ ایک نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد بی جے پی میں شمولیت اختیار کر کےکانگریس کے دامن کو مزید داغ دار کر دیا ہے،حالانکہ اعلیٰ کمان نے 2018 میں چودھری کی جگہ پارٹی کے تجربہ کار رہنما سومن مترا کو بنا دیا تھا ۔ لیکِن یہ تبدیلی بھی کانگریس کے حق میں مؤثر ثابت ہونے میں ناکام رہی۔ ہر چند کہ پارٹی کے بیشتر کارکنان اور مقامی قائدین ٹی ایم سی سے غیر مطمئن رہے۔
ان کی بہترین کوششوں کے باوجود مترا ۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بائیں بازو کے ساتھ انتخابی اتحاد بنانے میں ناکام رہے۔ جس کے نتیجے میں پارٹی ریاست سے صرف دو سیٹیں جیت سکی ، اور وہ معمولی طور پر 5.67 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی ، جو 2014 کے عام انتخابات میں حاصل ہونے والے ووٹوں کی شرح سے 4.03 فیصد کم ہے۔
موجودہ صورت حال کا تجزیہ کیا جائے تو اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی بقا کے لئے کانگریس پارٹی کو تنظیمی سطح پر مضبوط بنانا لازم ہے نیز عوام میں اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کے لئے بنگال کانگریس کو ایک مضبوط ایک متحرک اور ایک مقبول رہنما کی اشد ضرورت تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ادھیر رنجن چودھری اس کمی کو کس حد تک پورا کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کے عہدے اور فائل ختم کرنے کی خفیہ تیاری شروع کردی ہے۔
سیاسی حوالے سے دیکھا جائے تو ادھیر رنجن چودھری کا تقرر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت 2021 کے انتخابات کے لئے بائیں بازو تفہیم کی خواہاں ہے۔ ادھیر رنجن چودھری نے ہمیشہ ترنمول کے بجائے بائیں بازو کے ساتھ اتحاد کی وکالت کی ہے۔ سیاسی ماہرین یہ کہتے نہیں تھک رہے ہیں کہ ادھیر رنجن کے لیےدو اہم منصب سے انصاف کرنا ایک مشکل کام ہوگا جیسا کہ چودھری کا لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہونا اور بنگال کانگریس چیف کے طور پر ذمّے داری نبھانا نیز کانگریس کے ایک دم دار لیڈر کی حیثیت سے اپنی شناخت کو برقرار رکھنا۔ مزید یہ کہ اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہی اُنھیں دہلی سے زیادہ ریاست میں وقت گزارنا پڑے گا اور فتح کا پرچم لہرانے کے لیے نت نئی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔
بہر حال ادھیر رنجن چودھری نے مغربی بنگال پردیش کانگریس کا صدارتی عہدہ سنبھالتے ہی ششانت سنگھ – ریا چکرورتی معاملے کی بی جے پی اسپانسرڈ میڈیا ٹرائل پر جس طرح نکتہ چینی کی ہے اور اپنے بیان میں بنگال و بنگالی قوم کو قومی فخر سے تعبیر کر کے دراصل ایک سیاسی کھیل کھیلا ہے اور اپنے سیاسی حریف ترنمول کو اس قضیے پر موقف واضح کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ٹی ایم سی حکومت کے خلاف چودھری کے بیانات سے یہ بات بڑی حد تک واضح ہے کہ جب تک وہ بنگال کانگریس یونٹ کے سر براہ ہیں، ترنمول اور کانگریس کے مابین کوئی اتحاد ممکن نہیں ۔ ملحوظ رہے کہ بنگال میں بی جے پی کی طرف سے ایک مضبوط چیلنج کا سامنا کرنے والی حکمراں جماعت نے اگر کانگریس اعلیٰ کمان کو اسمبلی انتخاب سے قبل اتحاد کے لیے راضی کر لیا تو ریاستی بایاں بازو کو انتخابی میدان میں تنہا اپنی قوت کے بل پر لڑنا پڑے گا۔ ویسے ریاست میں سر ابھارتی ہندوتوا اور بھاجپا کی فرقہ پرست ایجنڈے پر قابو پانے کے لیے سیاسی مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ترنمو ل سپریمو کو کانگریس اور بایاں بازو اتحاد کے ساتھ بنگال سیاست کے وسیع تر سیاسی مفاد کے لیے اتحاد کر لینا چاہیے۔ جس کا امکان یوں تو کم کم ہے۔ پھر بھی اگر ایسا کچھ ہو جاتا ہے تو بی جے پی کو زبردست پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کانگریس اور بائیں بازو کے اتحاد کے ساتھ حکمران ترنمول جماعت کے اتحاد سے انتخابات میں دو جہتی لڑائی ہو جائےگی۔ بہ صورت دیگر تین جہتی انتخابی جنگ یقینی معلوم ہوتی ہے۔ سہ طرفی انتخابی جنگ میں ترنمول کانگریس کو زیادہ فرق پڑنے سے رہا۔البتہ جو کانگریس لیفٹ اتحاد کے حامی نہیں اُن کا ووٹ زعفرانی کیمپ کے حصے میں جانے کا خدشہ ہے۔ بی جے پی ان ہی ووٹوں کی تقسیم سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے – جیسا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کا یہ ایک اہم عنصر قرار پایا ہے۔ مبصرین کے مطابق سخت مزاج کانگریسی اور کٹّر کمیونسٹوں کا اس اتحاد پر عدم اطمینان نے جہاں بی جے پی کا راستہ آسان کیا وہیں ترنمول لیڈران کے متکبرانہ رویے اور اپنی من مرضی کے علاوہ دیہی عوام سے اُن کے بڑھتے فاصلے کی وجہ سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے 18 نشستوں پر ترنمول کو شکست دے کر سب کو حیران کردیا ۔ بھاجپا کی اس غیر متوقع کامیابی نے عوام الناس میں یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں بی جے پی بنگال کی سب سے بڑی اپوزیشن بن سکتی ہے اور خرید و فروخت کو بروئے کار لا کر اقتدار بھی حاصل کر سکتی ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ادھیر رنجن چودھری کے کاندھے پر ایک بڑی ذمہ داری سونیا گاندھی نے سونپ دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چودھری جی اپنی سیاسی بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کرکے بنگال سیاست میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب و کامران ہوتے ہیں!