بنگلورو میں بھی ’دہلی‘ بنانے کی ضرورت:راکیش ٹکیت

شموگہ:دہلی کی مختلف سرحدوں پر جاری دہلی میں کسانوں کے احتجاج کے درمیان کسان قائدین ملک کی بہت سی ریاستوں میں اس تحریک تیزکررہے ہیں۔ بھارتی کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت کرناٹک پہنچے۔ یہاں انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ بھی ریاست میں دہلی کی طرح احتجاج کریں۔ انہوں نے کہاہے کہ بنگلور کودہلی بننے کی ضرورت ہے اور اسے شہرکوگھیرناچاہیے۔کرناٹک کے شموگہ میں ایک ریلی میں ٹکیت نے مرکز کے زرعی اصلاحات کے قوانین پر حملہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاست کے کسانوں کی اراضی چھیننے کے لیےایک اچھی طرح سے تیار کی گئی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ کسان رہنما نے کہاہے کہ دہلی میں لاکھوں لوگ محصور ہیں۔ یہ لڑائی طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ ہمیں ملک کے ہر شہر میں ایسی تحریک چلانے کی ضرورت ہے ، تاکہ ان تینوں کالے قوانین کو واپس لیاجائے۔ اور کم سے کم سپورٹ قیمت پر قوانین لائے جائیں۔آپ کو کرناٹک میں ایک تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ آپ کی اراضی چھیننے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ اب بڑی کمپنیاں کھیتی باڑی کریں گی۔ سستی مزدوری کی فراہمی کے لیے لیبر قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو بنگلورو میں دہلی بنانے کی ضرورت ہے۔ بنگلوروکوگھیرنے کی ضرورت ہے اور لوگ آپ کے ساتھ آئیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاہے کہ اگر کسان اپنی فصل کہیں بھی بیچ سکتے ہیں تو اپنی فصل کو ضلعی کلکٹر ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے پاس لے جائیں۔ اگر پولیس روکتی ہے تو پھر انہیں ایم ایس پی پر اپنی فصل خریدنے کو کہیں۔ انہوں نے کسانوں سے سرکاری سیکٹر کمپنیوں کی نجی کاری کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کرنے کو بھی کہا۔ انہوں نے کہاہے کہ اگر یہ مظاہرہ نہیں ہوتا ہے توملک فروخت ہوجائے گا اور اگلے 20 سالوں میں آپ کی سرزمین ہاتھ سے نکل جائے گی۔ آپ کو ان کمپنیوں کے خلاف مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تقریباََ 26 سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرنے کی تیاریاں ہیں۔ ہمیں اس کو روکنے کے لیے حلف اٹھانا ہوگا۔احتجاج کرنا پڑے گا۔