بجرنگ دل کافاروق عبداللہ اورپرشانت بھوشن کے خلاف احتجاج،غداری کامقدمہ دائرکرنے کامطالبہ

جموں:روہنگیامسلمانوں کے خلاف مرکزی حکومت کی کارروائی پرتنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ بجرنگ دل نے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ اور سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن کے خلاف احتجاج کیاہے ۔بجرنگ دل نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت جلدسے جلد فاروق عبد اللہ اور پرشانت بھوشن کے خلاف غداری کامقدمہ درج کرے۔مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں مبینہ طورپرغیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے۔ مرکزی حکومت ریاست میں مقیم غیر قانونی روہنگیا کو قبضہ میں لے رہی ہے اور جموں کے ہیرا نگر میں تعمیر کردہ ڈٹینشن سنٹر منتقل کررہی ہے۔مرکزی حکومت ڈٹینشن سینٹر میں ان لوگوں کو رکھے ہوئی ہے جن کے پاس مبینہ طورپردرست دستاویزات نہیں ہیں۔سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت کی کارروائی پراعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مودی سرکارروہنگیا بحران کو انسانیت کے نقطہ نظر سے دیکھے۔ اسی کے ساتھ ہی سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے حکومت کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔پرشانت بھوشن اور فاروق عبد اللہ سے ناراض بجرنگ دل کے کارکنوں نے ہفتے کے روزجموں میں مظاہرہ کیا۔ بجرنگ دل کے کارکنوں نے فاروق عبد اللہ اور پرشانت بھوشن کے پتلے کو نذر آتش کیا۔ بجرنگ دل نے الزام لگایاہے کہ نوے کی دہائی میں جب دہشت گردی کی وجہ سے وادی کشمیر سے پنڈتوں کو نکالا جارہا تھا ، فاروق عبد اللہ نے پنڈتوں کی حمایت میں کچھ نہیں کہا۔اب جب روہنگیا کو نکالا جارہا ہے ، وہ حمایت میں انسانیت کا سبق یاد کرتے ہیں۔ بجرنگ دل نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ فاروق عبداللہ اور پرشانت بھوشن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔