باجپٹی اسمبلی حلقہ:رائے دہندگان حکمت و بصیرت سے کام لیں- محمد شمس عالم قاسمی

بہار میں دو مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے سات نومبر بروز سنیچر تیسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مرتبہ کے چناؤ میں ابھی تک جو رجحانات سامنے آئے ہیں، ان سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ سیدھا مقابلہ مہاگٹھ بندھن اور این ڈی اے کے درمیان ہے۔

اس وقت ہم اپنے باجپٹی اسمبلی حلقہ  کے سنجیدہ احباب کی خدمت  میں چند باتیں عرض کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ملک اور مسلم دشمن پارٹی بھاجپا حسب عادت صوبہ بہار میں بھی مکمل استحکام اور اپنے دم پر اکیلے حکومت سازی کیلئے کوشاں ہے، اس کیلئے پس پردہ اس نے وزیر اعلی نتیش کمار کو بھی ٹھکانے لگانے کا انتظام کر لیا ہے تاکہ اسے اپنے مشن یعنی بھارت کو ہندو راشٹر بنانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے، اس کا اپنا وزیر اعلی ہو جو اتر پردیش اور دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی کھل کر اس کے منشا کے مطابق کام انجام دے سکے۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اس نے چراغ پاسوان اور کشواہا کو پس پردہ میدان میں اتار دیاہے؛ تاکہ سیکولر ووٹ کو تقسیم کیا جائے اور نتیش کمار اور مہاگٹھ بندھن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے۔

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمارے اور آپ کے ووٹ کی  طرح ان کا ووٹ بینک مختلف امیدواروں کے درمیان تقسیم نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ لوگ بڑی حکمت عملی کے ساتھ اپنے ووٹ کا  صحیح استعمال کرتے ہیں اور اپنے پسندیدہ امیدوار کی جیت کو یقینی بناتے ہیں۔

دس سالوں سے باجپٹی کی نمائندگی کرنے والی موجودہ ودھائک ڈاکٹر رنجو گیتا اس مرتبہ بھی این ڈی اے کی امیدوار ہیں،لیکن پہلے کی طرح اونچی ذاتی یا بھاجپائی لوگ ان کو سپورٹ کرتے نظر نہیں آرہے ہیں، نتیش کمار کو کمزور کرنے اور اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کیلئے بی جے پی نے اس مرتبہ ان کی جگہ اپنی پسندیدہ اور سابقہ بھاجپا امیدوار ریکھا گپتا کو جتانے کا من بنا لیا ہے ۔ ریکھا گپتا سابق بھاجپا منتری کشواہا جی کی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی سے  امیدوار ہیں، 2015 میں بھاجپا کی امیدوار تھیں اور 52000 ووٹ بھی ان کو ملا تھا اور وہ دوسرے نمبر پر تھیں، جبکہ رنجو گیتا نے مہا گٹھ بندھن کے امیدوار کے طور پر67194 ووٹ حاصل کرکے تقریبا 17000 ہزار ووٹ سے جیت درج کی تھی؛ لیکن اس مرتبہ صورت حال بالکل مختلف ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کشواہا اور مایاوتی کے اس گٹھ بندھن میں اویسی صاحب بھی شامل ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے مجلس  کے جذباتی نوجوان ریکھا گپتا کی سبھاؤں میں دری بچھانے کو اپنے لیے فخر کی بات اور ان کے  پرچار پرسار کو دینی و ملی فریضہ سمجھ کر خوب محنت کر رہے ہیں۔

مہا گٹھ بندھن سے اس مرتبہ نوجوان نیتا مکیش کمار یادو میدان میں ہیں، 2015 میں باجپٹی سے مہا گٹھ بندھن کو کامیابی ملی تھی، اسی لیے اس مرتبہ بھی امید کی جارہی ہے کہ اگر سیکولر ووٹ تقسیم نہیں ہوا تو ان کی جیت یقینی ہے۔

علاوہ ازیں لوک جن شکتی پارٹی سے ڈاکٹر انتخاب عالم صاحب بھی اپنی قسمت آزمارہے ہیں، یہ مودی کے ہنومان یعنی چراغ پاسوان کی پارٹی ہے، جو بہار میں این ڈی اے سے باہر ہے، چراغ نے بھاجپا کو جتانے اور نتیش کمار کو ستا سے ہٹانے کے لئے جدیو کے خلاف اپنے بہت سارے امیدواروں کو میدان میں اتار دیاہے تاکہ آسانی سے بھاجپا کی سرکار بن سکے، بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کشواہا بھی اندرون خانہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کروا کر بھاجپا کو فائدہ پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔

جناب انیس الرحمن عرف آرزو صاحب بھی پہلی بار چناوی میدان میں اترے ہوئے ہیں ۔ یہ پپو یادو جی کی جن ادھیکار پارٹی سے ہیں جو پہلی بار بہار ودھان سبھا کا چناؤ لڑ رہی ہے۔ ان کے علاوہ سید نیاز احمد  صاحب بھی اس دفعہ میدان میں ہیں اور مولانا عامر رشادی صاحب کی راشٹریہ علما کونسل پارٹی سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ نیز ان کے علاوہ اور بھی بہت سی چھوٹی پارٹیوں کے امیدوار، بہت سے آزاد امیدوار اس مرتبہ باجپٹی ودھان سبھا سے اپنی موجودگی درج کروا رہےہیں.

سیکولر ووٹوں کو تقسیم کروا کر کامیابی حاصل کرنا ہمیشہ سے بھاجپا کا طریقۂ کار رہا ہے اور اس مرتبہ بھی وہ چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیکولر ووٹ تقسیم ہو ؛تاکہ اس کو زیادہ سیٹوں پر کامیابی ملے اور اپنے دم پر حکومت سازی کر سکے۔

لہذا باجپٹی ودھان سبھا حلقے کے تمام رائے دہندگان سے ہماری مؤدبانہ التماس ہے کہ اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کریں، بہار میں نئی سرکار بنانے اور فرقہ پرستوں کو اقتدار سے دور کرنے کیلئے سوچ سمجھ کر متحدہ طورپر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں، غلط افواہوں پر دھیان نہ دیں، ہزار دو ہزار روپے کے عوض اپنے ووٹ اور ضمیر کا سودا نہ کریں، اپنے دینی و ملی مفاد کے حصول اور امن و امان کی بقا اور ایک خوش حال بہار کی تعمیر  کے لیے بصیرت کے ساتھ اپنی سیاسی قوت کا صحیح استعمال کرکے فرقہ پرستوں اور ملک دشمن عناصرکی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ فسطائی اور بھگوائی طاقتوں  کو سبق سکھانے کا یہی سنہرا اور مناسب موقع ہے، جو پانچ سال میں صرف ایک دفعہ ملتا ہے، اس ملک میں ہمارا ووٹ ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے جس کا صحیح استعمال ہمارے لیے بہت ضروری اور انتہائی اہم ہے!

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*