Home نقدوتبصرہ ’ الفرقان ‘ کا وقیع اور دستاویزی ’ بیت المقدس نمبر ‘

’ الفرقان ‘ کا وقیع اور دستاویزی ’ بیت المقدس نمبر ‘

by قندیل

تعارف و تبصرہ : شکیل رشید

اگر یہ کہا جائے کہ لکھنئو سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’ الفرقان ‘ کی ایک روشن تاریخ ہے ، اور اس نے ہندوستانی مسلمانوں کی ہر پہلو سے ذہنی آبیاری کی ہے ، ایک مشن کی طرح ، تو غلط نہیں ہوگا ۔ اس کے مضامین اور اداریے مسلمانوں کو مذہبی ، شرعی ، سماجی ، تہذیبی اور سیاسی حالات سے آگاہ کرتے ، مفید تجاویز دیتے بلکہ جگاتے رہے ہیں ۔ پہلے حضرت مولانا منظور نعمانیؒ اور پھر حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلیؒ کی ادارت میں ماہنامہ ’ الفرقان ‘ نے دینی رسائل کی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا ، مضامین کے لحاظ سے بھی اور اپنے خاص شماروں کے لحاظ سے بھی ۔ اور اب حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کی ادارت میں بھی اس رسالے کی منفرد شناخت قائم ہے ، اور یہ اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ’ الفرقان ‘ کا تازہ شمارہ ( فروری تا جون ۲۰۲۴ء ) ایک خاص اشاعت ہے : ’ بیت المقدس نمبر ‘۔ یہ خاص اشاعت کیوں ضروی تھی ؟ اس سوال کا ایک جواب تو سامنے ہی ہے ؛ ان دنوں فلسطین میں جو ہو رہا ہے ، جس طرح قابض عناصر نے وہاں جبر و تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے ، وہ عالمِ اسلام کے لیے ایک المیہ ہے ۔ اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس المیے کے ’ سچ ‘ سے واقف ہونا چاہتی ہے ۔ اس خاص نمبر کے مطالعے سے قضیۂ فلسطین اور بیت المقدس پر یہودی قبضے کی ایک تاریخ سامنے آجاتی ہے ۔ مدیر محترم ( حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی ) نے اداریے میں ، جس کا ایک مستقل عنوان ’ نگاہِ اولیں ‘ ہے ، اس شمارے کی اشاعت کی غرض و غایت پر یوں روشنی ڈالی ہے : ’’ آج کل ملّتِ اسلامیہ ہند بھی اپنی تاریخ کے شدید ترین امتحانات سے گذر رہی ہے ، اس موقع پر جہادِ فلسطین ، اور اہلِ غزہ کی عزیمت واستقامت کی داستان سُنانے اور اُس کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کے پیچھے ایک اہم مقصد یہی ہے کہ مسلمانانِ ہند کے عوام و خواص ، مردوں اور خواتین اور نوجوانوں کا عزم و ایمان بھی مضبوط ہو اور ہم میں سے ایک ایک فرد اس اجتماعی و قومی فیصلے میں شریک ہو کہ ہم توحید و سنّت ، ملّت ِ ابراہیمی اور شریعتِ محمدی ﷺ پر مضبوطی سے ثابت قدم رہیں گے ۔ نہ دار و رسن کا خوف ہمیں اسلام و ایمان کا سودا کرنے پر مجبور کر پائے گا اور نہ مال و زر اور عہدہ کی لالچ ہمارا رشتہ دامن مصطفیٰ سے کاٹ پائے گا ۔ یادرکھیں ! آزمائشوں کی بساط بچھ چکی ہے ، آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے کہ امتحان کی شدت میں مزید اضافہ ہو ۔ آئیے فلسطین کے جانبازوں کی سچی داستان سن کر ہم بھی اپنے بارے میں فیصلے کریں ، اور ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ اللہ سےمدد مانگتے ہوئے اسلام اور امن و انصاف کے مسلمہ اصولوں کے تئیں عہد وفا کی تجدید کریں ۔‘‘ گویا یہ کہ ’ بیت المقدس نمبر ‘ کی اشاعت کا ایک بڑا مقصد مسلمانانِ ہند کو جگانا ، حالات کی سنگینی کا احساس کرانا اور اہلِ غزہ کی طرح آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرانا ہے ۔

رسالے کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ پہلے باب کا عنوان ہے ’ فلسطین اور بیت المقدس اسلام اور اہلِ اسلام کی نظر میں ‘۔ اس باب میں پروفیسر ابو سفیان اصلاحی ، مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان ، مولانا فیصل احمد ندوی ، مولانا مجیب الرحمٰن عتیق ندوی ، مولانا محمد فرمان ندوی ، مولانا محمد رضی قاسمی بجنوری ، ڈاکٹر محمد اعظم ندوی اور مولانا تبریز بخاری ندوی کے آٹھ وقیع مضامین شامل ہیں ، جن میں قرآن پاک میں فلسطین کے ذکر ، رسول اللہ حضرت محمد ﷺ کی فلسطین کے بارے میں پیشن گوئیوں ، مسجد اقصی کی قرآن و سنت اور تاریخ کے آئینے میں تفصیلات اور فلسطین سے متعلق فقہی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ دوسرے باب ’ فلسطین و بیت المقدس قدیم و جدید تاریخ کی روشنی میں ‘ میں پانچ مضامین ہیں ، لکھنے والوں میں مولانا خلیل الرحمٰن سجاد ندوی کا نام بھی ہے ، ان کا مضمون ’ قضیئہ فلسطین تاریخ کی روشنی میں ‘ سارے قضیئے کو آسانی سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے ، یہ ایک اہم مضمون ہے ۔ بیت المقدس کے غاصبوں کے ہاتھ میں جانے کا ذکر کرتے ہوئے مولانا محترم کا ایک جملہ ملاحظہ کریں : ’’ جہاں ایک طرف یہودی و صہیونی سازشیں تھیں وہیں دوسری طرف اپنوں کی ناعاقبت اندیشیاں اور بے وفائیاں بھی تھیں ۔‘‘ اس مضمون میں مولانا محترم نے یہ بھی بتایا ہے کہ ’ قیامِ اسرائیل اور تقسیم ہند کا آپسی ربط ‘ کیا تھا ، اور یہ بھی کہ یہود اور برہمنوں میں کیا تعلق ہے ۔ اس باب کے دیگر مضامین بھی اہم ہیں ، ان کے لکھنے والوں میں دکتور احمد بن یغزر ، مولانا مجیب الرحمٰن عتیق ندوی ، مولانا عتیق احمد بستوی اور پروفیسر محسن ندوی شامل ہیں ۔ تیسرا باب ’ فلسطین و بیت المقدس اسلام دشمن نظریات و تاریخ کے آئینے میں ‘ کے عنوان سے ہے ، اس باب کا پہلا مضمون حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد ندوی کا ہی ہے ’ یہودیت اور اسلام ‘ ، شاندار مضمون ! اس باب میں کُل چار مضامین ہیں ، مولانا محمد انصار اللہ قاسمی ، مولانا ابو فہد ندوی اور مولانا مجیب الرحمٰن عتیق ندوی ۔ اس باب کا ایک اہم مضمون ’ فلسطین کے مسلمان اور قادیانی گروہ ‘ ہے ۔ چوتھا باب بعنوان ’ فلسطین ؛ سرفروشی و جانبازی اور مزاحمتی جدوجہد کی تاریخ ‘ ہے ۔ اس باب میں قٖضیے کے ابتدا سے لے کر اب تک کی مزاحمت ، سرفروشی اور جانبازی کی داستان تفصیل کے ساتھ پیش کی گئی ہے ۔ اس باب میں چھ مضامین ہیں ۔ لکھنے والے ہیں ڈاکٹر فہیم اختر ندوی ، مولانا محمد عمر قاسمی ، ڈاکٹر عنایت اللہ وانی ندوی ، مولانا محمد ابوبکر قاسمی ، مولانا محمد الیاس ندوی بھٹکلی ، مولانا عبدالباری بھٹکلی ۔ آخری باب ’ حالیہ جنگ ’ طوفان الاقصیٰ ‘ اور مسلمانوں کی ذمہ داری ‘ کے عنوان سے ہے ۔ اس باب میں آج کی فلسطینی مزاحمت کی تفصیلات اور اس کی روشنی میں مسلمانوں کے کرنے کے کاموں کا بیان ہے ۔ اس باب میں اسمعیل ھنیہ کا مضمون ’ سپہ سالار کی ہدایت ‘ سرفہرست ہے ۔ باقی لکھنے والے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا محمد محسن قاسمی ، ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی ، مولانا امداد الحق بختیار قاسمی ، مولانا سیّد احمد ومیض ندوی ، مفتی امانت علی قاسمی ، مفتی محمد نوشاد نوری قاسمی اور مولانا ناصر سعید اکرمی ہیں ۔ ’ الفرقان ‘ کی یہ خاص اشاعت دستاویزی ہے ، اس کا ہر اس شخص اور ادروں و مدارس کے پاس ہونا ضروری ہے جو فلسطین اور بیت المقدس کی تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس شمارے کی ضخامت 380 ہے اور قیمت 350 روپیے ۔ اسے حاصل کرنے کے لیے فون نمبر 05224079758 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ میرے لیے یہ خاص شمارہ نوجوان قلمکار اویس سنبھلی کا تحفہ ہے ؛ بہت بہت شکریہ ۔

You may also like