بین المذاہب شادی پر پچاس ہزار انعام کی اسکیم بند،44 سال پرانی اسکیم ختم کرے گی یوگی حکومت

لکھنؤ:اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت اتر پردیش بین المذاہب شادیوں کے فروغ کے قانون 1976 کو ختم کرنے جارہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ذات اور بین مذہبی شادی کرنے و الے جوڑے کو حکومت کی طرف سے 50 ہزار روپیے نقد ادا کیے جاتے تھے۔ اب یوپی حکومت اس اسکیم کو بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یوپی حکومت کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ریاستی حکومت نے زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، لو جہاد کے خلاف ایک آرڈیننس لایا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت اس 44 سالہ قدیم اسکیم کو ختم کرنے جارہی ہے۔ اس اسکیم کو قومی یکجہتی کے محکمہ نے شروع کیا تھا۔ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ گیارہ جوڑے بین مذہبی شادیوں کے تحت گذشتہ سال اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا تھا اور ان ہیں50-50 ہزار روپیے ملے تھے۔ لیکن اس سال اس اسکیم کے تحت کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کو چار درخواستیں موصول ہوئیں ہیں، لیکن یہ درخواستیں زیر التواء ہیں۔ یوپی حکومت کے مطابق اب ریاستی حکومت نے غیرقانونی تبدیلی مذہب کے خلاف ایک آرڈیننس پاس کیا ہے اس لیے اس اسکیم پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔