بین الاقوامی یومِ مادری زبان پراے ایم یو میں خصوصی پروگراموں کا انعقاد

علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں بین الاقوامی یومِ مادری زبان پر خصوصی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ جدیدہندوستانی زبانوں کے شعبہ کے تیلگو سیکشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں فیکلٹی آف آرٹس، اے ایم یو کے سابق ڈین اور ریاستی سرکاری زبان کمیشن آندھرا پردیش کے موجودہ رکن پروفیسر شیخ مستان نے خصوصی خطبہ دیا۔ پروفیسر مستان نے کہاکہ مادری زبان میں اپنے خیالات و جذبات کا اظہار آسان ہوتا ہے ۔ ہم کئی زبانیں سیکھ سکتے ہیں اور کئی زبانیں بول سکتے ہیں مگر مادری زبان دل کے قریب ہوتی ہے، جو انسان کی اپنی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہوتی ہے۔ ملیالم سیکشن کے پروفیسر اے نجُم نے کہاکہ بین الاقوامی یوم مادری زبان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ مادری زبان کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ مراٹھی سیکشن کے ڈاکٹر طاہر ایچ پٹھان نے کہاکہ مادری زبان ہمیں اپنی مخصوص ثقافت سے جوڑتی ہے۔ بنگالی سیکشن کی ڈاکٹر امینہ خاتون، تمل سیکشن کے ڈاکٹر تمل سیلون اور ملیالم سیکشن کے مسٹر رفسل بابو نے بھی اظہار خیال کیا۔ شعبہ کے انچارج چیئرپرسن پروفیسر مشتاق احمد زرگر نے پروگرام کی صدارت کی۔ انھوں نے مہمان خصوصی پروفیسر شیخ مستان سمیت دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر زرگر نے کہاکہ ہندوستان ایک کثیر لسانی، کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی ملک ہے۔ یہاں مختلف موسم ہوتے ہیں اور علاقہ کے حساب سے بولیاں اور بہت سی دیگر چیزیں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ مادری زبان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جس میں متنوع تہذیبیںاور رسوم و روایات محفوظ ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں مادری زبان کو اہمیت دینی چاہئے ۔ ڈاکٹر قاسم پی خان (انچارج، تیلگو سیکشن) پروگرام کے کنوینر تھے۔ انھوں نے آخر میں شکریہ کے کلمات اداکیے ہیں۔دوسری طرف لسانیات شعبہ میں ’’مادری زبان میں تخلیقی صلاحیت ‘‘ موضوع پر آن لائن شعری مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں بی اے لسانیات کی طالبہ عفرہ مشتاق نے اوّل، ایم اے کے طالب علم محمد یاسر نے دوئم اور ایم اے کی ہی طالبہ عائشہ انیس نے سوئم انعام حاصل کیا۔ شعبہ کے کارگزار صدر ڈاکٹر صباح الدین احمد نے مادری زبان کی اہمیت بیان کی۔ ویمنس کالج میں بین الاقوامی یومِ مادری زبان پر منعقدہ پروگرام میں مقررین نے مادری زبان کی اہمیت پر زور دیا اور نظم خوانی کی۔ طالبات نے مادری زبان میں نظمیں سنائیں اور اس کی توسیع پر زور دیاتاکہ ملک کی تعمیر میں الگ الگ زبانیں اپنا کردار نبھاسکیں۔ پروگرام کے شرکاء میں سے گیتا گپتا کو اوّل، راشی کو دوئم اور الپنا کو سوئم انعام سے نوازا گیا۔ ان کے علاوہ گرویشا، فرحانہ، زینب سلطانہ اور ہادیہ جبیں کوحوصلہ افزائی انعام دیا گیا۔ پروفیسر ریشما بیگم کی رہنمائی میں یہ پروگرام منعقد کیا گیا۔ نظامت ڈاکٹر شگفتہ نیاز نے کی جب کہ نازش بیگم نے اظہار تشکر کیا۔