بین الاقوامی شخصیات کے ٹوئیٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا،سی اے ا ے پربھی لوگوں کو بھی گمراہ کیاگیاتھا:مختارعباس نقوی

کانپور:بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئرلیڈر اورمرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ہفتے کے روز کانپور کے سرکٹ ہاؤس میں بجٹ 2021-22 کی خصوصیات پیش کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے زرعی بل کے خلاف تحریکوں پر بھی بات کی۔انھوں نے یہ نہیں بتایاکہ اقلیتی بجٹ کیوں کم کیاگیاہے۔ بین الاقوامی مشہور شخصیات کی طرف سے کسان تحریکوں کی حمایت کرنے کے لیے پوچھے جانے پر مختارعباس نقوی نے کہاہے ایک امریکی پاپ اسٹار کے ٹویٹ سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں اپنی سالمیت کوثابت کرنے کے لیے کسی بین الاقوامی ادارے کے سرٹیفکیٹ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت نے محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنایا ہے۔ بل نامی بل میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ نہ تو ایم ایس پی ختم ہوگی اور نہ ہی منڈیاں۔مرکزی وزیرمختار عباس نقوی نے نامزد کیے بغیر اپوزیشن پارٹی کانگریس کو شدید نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہاہے کہ بعض اوقات نام نہاد عدم رواداری پر ہنگامہ برپا ہوتا ہے ، کبھی سرجیکل اسٹرائک پر سوال ہوتا ہے یا کبھی سی اے اے پر الجھن ہوتی ہے اورکورونا دور میں لوگوں کی فلاح وبہبودکے لیے کیے گئے کام کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب زرعی قوانین کاشتکاروں کے کاندھوں پر بندوق ڈال کر اور کسانوں کے مفادات کو پامال کرکے ملک کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔کچھ لوگوں کا’جاگیردار انہ مزاج‘اب بھی نہیں اتراہے۔ رسی جل گئی ،ایٹھن نہیں گئی۔ 2014 میں ، تمام پروپیگنڈوں ، سیاسی توڑ پھوڑ کے باوجود عوام نے وزیر اعظم نریندر مودی اور این ڈی اے پر اعتماد کا اظہار کیا۔ 2019 میں حکومت کو مضبوط اکثریت سے تشکیل دی گئی اور اس سے زیادہ مینڈیٹ دوبارہ دیا گیا۔ اس دوران اسمبلی ،پنچایت ، بلدیاتی انتخابات میں مودی سرکار کی پالیسیوں پر مہر لگ گئی۔