بین مذاہب شادیاں شرعی نقطۂ نظر سے جائز نہیں 

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
ہندی سے ترجمہ : محمد اسعد فلاحی

گزشتہ برسوں میں مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ ہندی ہفت روزہ کانتی نئی دہلی نے اپنے شمارے مؤرخہ 6 دسمبر تا 12 دسمبر 2020 میں اس موضوع کا سماجی ، شرعی اور دیگر پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے _ اس موقع پر ماہ نامہ کے مدیر جناب مشرف علی نے شعبۂ اسلامی معاشرہ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سے گفتگو کی ۔ پیش ہیں اس کے اہم نکات :

*سوال 1:جدید معاشرے میں ، مذہب کو الگ رکھتے ہوئے شادی کے بعض واقعات سامنے آئے ہیں ۔ کیا کسی مسلمان لڑکے کی کسی غیر مسلم لڑکی سے ، یا کسی مسلمان لڑکی کی کسی غیر مسلم لڑکے سے شادی ہوسکتی ہے ، جب کہ ان دونوں میں سے کسی نے اپنا مذہب تبدیل نہ کیا ہو؟*
جواب :
اسلام ایک نظریاتی مذہب ہے ۔ کسی بھی مرد یا عورت کے مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ خاص عقیدے رکھتا ہو ۔ بنیادی طور پر تین چیزیں ایسی ہیں جن کو ماننا ہر مسلمان پر لازم ہے : اللہ پر ایمان ، اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان اور آخرت پر ایمان ۔ اسلام نے رشتوں کو بہت اہمیت دی ہے اور یہ لازم کیا ہے کہ دو الگ الگ مذہب کے ماننے والے نکاح کے رشتے میں نہیں بندھ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاہے:
وَلاَ تَنکِحُواْ الْمُشْرِکٰتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ وَلأَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکَۃٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْکُمْ وَلاَ تُنکِحُواْ الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُواْ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکٍ وَّلَوْ أَعْجَبَکُمْ أُوْلَئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ وَاللّہُ یَدْعُوْآ إِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ وَیُبَیِّنُ آیٰتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (البقرۃ: 221)
(تم مشرک عورتوں سے ہر گز نکاح نہ کرنا ، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن لونڈی ، مشرک شریف زادی سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمھیں پسند ہو ۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح مُشرک مَردوں سے کبھی نہ کرنا ، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن غلام ، مشرک شریف سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو ۔ یہ لوگ تمھیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے _ توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے ۔)

قرآن کے اس صریح حکم کے بعد ، کسی مسلمان لڑکے کی کسی غیر مسلم لڑکی سے ، یا کسی مسلمان لڑکی کے کسی غیر مسلم لڑکے سے نکاح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔

*سوال 2 :جو مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے کورٹ میرج کرلیتی ہیں ، اگر وہ غیر مسلم شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو مسلمان کہتی ہیں ، تو اس دعوے میں وہ کتنی صحیح ہیں؟*
جواب :
اسلام میں اس طرح کی شادی کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے _ لیکن اگر ایک مسلمان لڑکا ، غیر مسلم لڑکی سے شادی کرتا ہے ، یا مسلمان لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے سے شادی کرتی ہے تو صرف اس شادی کی بنیاد پر انہیں اسلام سے خارج قرار دینا درست نہیں ہوگا ۔ ان کا ایمان باقی ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ ان بنیادی عقائد کی بنیاد پر ہوگا جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے ۔ ان عقائد کو نکاح کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا ہے ۔ اسلام نے نکاح کے لیے جو شرائط رکھی ہیں ، ان کو پورا کیے بغیر کوئی شادی کرتا ہے تو وہ ایک غلط کام کرتا ہے ۔ اسلام میں بتائے گئے نکاح کے طریقہ کے علاوہ ، کسی اور طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنا ایک حرام کام ہے اور لگاتار اس حرام کام کو کرتے رہنا بہت بڑا گناہ ہے ، لیکن اس بنا پر کسی کو اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا ۔ کوئی مسلمان لڑکا یا لڑکی غیر مسلم سے شادی کے باوجود ، اگر اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہو ، شرک و بت پرستی سے بچے اور اپنے آپ کو مسلمان کہے تو اسے مسلمان سمجھنا چاہیے ۔

عام طور پر بین مذاہب شادیوں میں ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے اور اپنی عبادتوں پر قائم رہتے ہیں اور غیر مسلم اپنے عقیدے اور عبادتوں پر _ دونوں ایک دوسرے پر کوئی دباؤ نہیں ڈالتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے لوگ آزاد خیال ہوتے ہیں ، مذہب کی ان کے یہاں کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔

*سوال 3 :غیر مسلموں کے ساتھ شادیوں کو روکنے کے لیے مسلم والدین کی کیا ذمہ داری ہے؟ انہیں کس حد تک جانا چاہیے؟*
جواب:
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ، ان کے بچپن ہی سے اخلاقی اور دینی تربیت کریں ، انہیں جائز و ناجائز اور حلال و حرام سمجھائیں ، معاشرتی زندگی کے اصول اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے حدود بیان کریں ۔

مخلوط تعلیم کے نتیجے میں لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک دوسرے کے قریب آنا فطری بات ہے ۔ اگر وہ پہلے سے تربیت یافتہ ہوں گے تو ان حدود کو پہچانیں گے اور اگر انھیں دینی تربیت نہیں ملی ہوگی تو اس کا پورا امکان ہے کہ وہ حدود کو عبور کرجائیں ۔

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے ہی لڑکی اور لڑکے کے درمیان جنسی تعلقات قائم ہوچکے ہوتے ہیں ۔ اگر والدین کو اطلاع ملنے تک معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہو تو پھر ان پر پابندی لگانا بے کار ہوگا ۔ جوانی کے جوش میں لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کی بات کو اہمیت نہیں دیتی ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ اگر انھوں نے کورٹ میرج کر لی ہے تو پھر ملکی قانون انہیں تحفظ فراہم کرے گا _ ایسی صورت میں انہیں زبردستی اپنے پاس روکنا خلافِ قانون ہوگا ۔ ایسے حالات پیدا نہ ہوں ، اس کے لیے والدین کو شروع سے ہی کوشش کرنی چاہیے ۔

*سوال 4 :ایسی شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو کیا سمجھا جائے گا؟*
جواب:
ظاہر ہے ، جب نکاح ہی جائز نہیں ہے تو شریعت کے مطابق اولاد بھی جائز نہیں مانی جائے گی ۔ لیکن یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے _ انھیں ان کے والدین کی غلطیوں کی سزا نہیں دی جا سکتی ۔ وہ اگر بڑے ہوکر اسلام کو سمجھیں اور شعوری طور پر اسے قبول کرلیں تو انہیں مسلمان سمجھا جائے گا _

*سوال 5 : کچھ مسلمان لڑکیاں جذبات میں آکر گھر اور سماج سے بغاوت کرکے غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرلیتی ہیں ، پھر کچھ عرصہ بعد انھیں پچھتاوا ہونے لگتا ہے ، لیکن تب ان کے لیے گھر واپسی کا کوئی امکان باقی نہیں ہوتا _ ایسی لڑکیوں کے لیے کیا رہ نمائی ہے؟*
جواب:
اگر یہ افسوس اور پچھتاوا ابتدائی دنوں ہی میں ہو تو انہیں فوراً اپنے گھر والوں کو بتانا چاہیے ۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ ان کی مکمل حمایت کریں ، انہیں سہارا دیں اور اگر ضرورت پڑے تو قانونی مدد بھی فراہم کریں ۔ مسلم معاشرے کو بھی آگے بڑھ کر ایسے معاملات کو حکمت کے ساتھ سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

لیکن اگر ایسی شادی کو طویل عرصہ گزر گیا ہے ، اب والدین بھی ایسی لڑکی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں ، یا وہ لڑکی خود اتنی شرمندہ ہے کہ مسلم معاشرے میں واپس آنے کی ہمت نہیں کرپارہی ہے ، یا بچے ہوگئے ہیں، جو اس کے پیر کی زنجیر بن رہے ہیں تو ایسی صورت میں مسلم معاشرہ بھی کچھ نہیں کرسکتا ۔ اگر کوئی لڑکی کسی مرحلے میں مسلم معاشرے میں واپس آنے کی ہمت کرلے تو مسلم معاشرے کو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ۔ جن خواتین کو زندگی بھر اس کاموقع نہ ملے ، ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے _ وہ جیسا چاہے گا ، فیصلہ کرے گا ۔

ظاہر ہے کہ ان کا یہ کام تو حرام ہے اور زندگی بھر وہ اس حرام کام میں ملوث رہی ہیں ۔ لیکن جب انھیں اس کا احساس ہوگیا اور انھوں نے اپنے ایمان کو بچا لیا ، نماز روزہ شروع کر دیا اور اللہ سے معافی مانگ لی تو امید کی جاتی ہے کہ اللہ انھیں معاف کردے گا ۔ دوسری طرف یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ دنیا کے فیصلے ظاہر کو دیکھ کر ہوتے ہیں اور ظاہر میں وہ مسلسل ایک غلط اور حرام کام میں ملوث رہی ہیں ۔

*سوال 6 : شریعت کی بیڑیوں کو توڑ کر غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے والی لڑکیوں کا آخرت میں کیا معاملہ ہوگا؟*
جواب:
آخرت میں فیصلہ اللہ خود کرے گا ۔ سورہ النساء کی آیات 48 اور 116 اور دیگر آیتوں میں کہا گیا ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا ، ہاں شرک کے سوا کسی نے جتنے بھی گناہ کیے ہوں گے وہ اپنی شانِ کریمی سے انہیں معاف کر سکتا ہے ۔ اگر غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے والی لڑکیاں شرک اور بت پرستی سے بچتی رہیں اور توبہ کرلیں تو اللہ سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ انھیں معاف کردے گا ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*