24.2 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

بہت خواب غفلت میں دن چڑھ گیا-اشعر نجمی

کل میں نے اپنے مضمون میں سوال کیا تھا کہ کیا صرف لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے جب کہ ہمارے پاس اس وبا کے مریضوں کی شناخت کے لیے ابتدائی جانچ نہایت ہی سست روی کا شکار ہے جس پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ آج میرا ارادہ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس وبا کے کچھ مزید اہم پہلوؤں پر سرکاری تیاریوں کا ایک اجمالی جائزہ لینا تھا لیکن اس سے پہلے کل یعنی 24 مارچ کی رات 12 بجے سے ملک گیر سطح پر 21 دنوں کے طویل لاک ڈاؤن کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے کردیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اب اس وبا سے بچنے کا یہی ایک ہی راستہ ہے اور پوری تقریر میں انھوں نے بار بار مختلف پیرائے میں زور دے کر یہی بات دہرائی کہ ملک کو اس وبا سے بچانے کی ذمہ داری اب عوام پر ہے۔خیر، اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ علاج سے بہتر احتیاط ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ 21 دنوں کا یہ ملک گیر لاک ڈاؤن نہایت ہی اہم اور ضروری کاروائی ہے جس پر عوام کو سختی سے عمل کرنا چاہیے اور سرکاری احکامات اور شعبہ صحت کے مشوروں پر ہر ایک شہری کو پوری ذمہ داری سے اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ یہ تو ہوگئی عوام کی ذمہ داری لیکن کیا مرکزی سرکار اپنی ذمہ داری کو پوری ایمانداری سے ادا کررہی ہے؟ بلاشبہ ہم ہندوستان کے 135 کروڑ لوگ اس ناگہانی صورت حال میں سرکار کے ساتھ کھڑے ہیں، اس کے مشوروں پر عمل کرنے کے پابند بھی ہیں لیکن بطور شہری اب بھی ہم اس سے سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں، اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر گرفت کرکے اسے متنبہ کرنے کا جمہوری اختیار ہم سے موت کی آخری ہچکی سے پہلے کوئی نہیں چھین سکتا کیوں کہ یہ عوام کی منتخبہ سرکار ہے اور وہ اپنے ہر عمل کے لیے عوام کے سامنے جوابدہ ہے، بطور خاص ایسے برے وقت میں جب تقریباً سوا سو کروڑ جانیں داؤ پر لگی ہوں تو پھر یہ محاسبہ سخت بھی ہوسکتا ہے۔ سوال کئی ہیں لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 21 دنوں کے "لاک ڈاؤن” کی یہ صورت کیوں پیدا ہوئی؟ اس وبا سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کی پیشگی تیاریاں کیا تھیں؟ کیا واقعی اب بھی سرکار عملی طور پر اس وبا سے نمٹنے کے لیے ضروری ہتھیاروں سے لیس ہے؟یہاں فلیش بیک شروع ہوتا ہے۔

ملک میں پہلا COVID-19 کیس 31 جنوری کو آیا اور دوسرے دن یعنی یکم فروری کو تجارت برائے خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے ڈاکٹروں اور نرسوں کے ذریعہ استعمال ہونے والے آلات یعنی Personal Protective Equipment جیسے میڈیکل دستانے، N95ماسک، چشے، گاؤن وغیرہ کے ایکسپورٹ پر پابندی عائد کردی جو بگڑتے حالات کے پیش نظر ایک دور اندیشی کے تحت تھی ، لیکن ایک ہفتے بعد ہی سرکار نے پابندی بدل کر دستانے اور N95 کے ایکسپورٹ کا بند راستہ پھر کھول دیا ، حتیٰ کہ PPE بنانے کے خام مال پر بھی کسی طرح کی پابندی عائد نہیں کی۔ چنانچہ دوسرے ملکوں نے ان آلات کے خام مال کو خرید کر ایمرجنسی کے لیے اپنے یہاں اسٹاک کرنا شروع کردیا۔ Preventive Wear Manufacturers Association of India کے چیئرمین سنجیو کمار نے 7 فروری کو مرکزی سرکار سے کارکنان صحت کے لیے لازمی PPE کے خام مال کے ایکسپورٹ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا لیکن سرکار نے نظر انداز کردیا ۔ اٹلی اور جرمنی ہم سے آلات بنانے کا خام مال خرید کر اپنے یہاں ذخیرہ کرتے رہے۔ نتیجتاً ہندوستان میں 3 پلائی ماسک بنانے کا خام مال 250 روپے فی کلو سے بڑھ کر 3000 روپے فی کلو ہوگیا۔ اِلاسٹک تو کسی بھی ریٹ پر دستیاب نہیں ہے۔

25 فروری تک اٹلی میں COVID-19 سے 11 مرنے والے اور 200 سے زیادہ کیس ملنے کے بعد بھی ہندوستان کی مودی سرکار نے دستانے اور ماسک کے علاوہ مزید 8 نئے PPE کے لیے ایکسپورٹ کا راستہ کھول دیا۔ PPE کا سارا بندوبست اسمرتی ایرانی کی ماتحتی میں آنے والی وزارت صحت؛ وزارت ٹکسٹائل اور سرکاری کمپنی HLL کے تعاون کے ساتھ کرے گی۔ "کارواں” کے مطابق، ہندوستان کی مرکزی سرکار نے صرف سرکاری کمپنی HLL کو مختار کُل بنا دیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ HLL خود PPE نہیں بناتی، بلکہ چھوٹی کمپنیوں سے لے کر assemble کرکے اضافہ شدہ قیمت 1000 روپے فی کِٹ (kit) بیچ رہی ہے، جب کہ دوسری کمپنیاں اپنے منافع کے ساتھ 400-500 روپے فی کِٹ بیچنے کو تیار ہیں لیکن سرکار کو تو اس میں بھی منافع چاہیے۔

27 فروری کو WHO نے بھی متنبہ کردیا تھا کہ دنیا میں PPE کی سپلائی میں کمی آنے والی ہے، سارے ملک اس کا بندوبست کریں، لیکن ہماری سرکار نے نظر انداز کردیا۔اس طرح ہم ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتے ہوئے 21 دنوں کے طویل لاک ڈاؤن کی طرف بڑھتے رہے۔

17 مارچ کو PPE اور اس کے خام مال کے ایکسپورٹ پر بندش لگا کر دوسرے دن تینوں وزارتوں کی میٹنگ میں کہا گیا کہ ماسک اور گاؤن کی کمی ہونے والی ہے، کیوں کہ خام مال نہیں مل رہا ہے یا مہنگا مل رہا ہے، لیکن سرکاری کمپنی "ایچ ایل ایل” 7.25لاکھ گاؤن، 60 لاکھ N95ماسک اور ایک کروڑ 3 پلائی ماسک کی سپلائی کرے گا مگر یہ ماسک مئی 2020 تک مہیا ہوں گے جب کہ وزارت صحت کے ایک این جی او AIDAN (All India Drug Action Network) کا کہنا ہے کہ ہندوستان کوہر روز 5 لاکھ گاؤن کی ضرورت پڑنے والی ہے۔

وزارت صحت کے ایک افسر کے مطابق، جن ماسک، گاؤن کو HLL کے ذریعہ مہیا کرانا ہے، ان کے نہ تو ابھی تک آرڈر گئے ہیں اور نہ ہی وزارت میں کسی کو اس کی کاپی ملی ہے۔ آرڈر جاری ہونے میں ہفتوں لگیں گے۔ اس کی انچارج اسمرتی ایرانی جن پر 22 مارچ کو فوری طور پر آرڈر جاری کرنے کی ذمہ داری تھی، وہ اس دن ٹوئٹر پر SingAlong انتاکشری کھیل رہی تھیں۔

ڈاکٹر، نرس اور دیگر کارکنان صحت اپنی جان ہتھیلی پر لے کر ملک کی خدمت کرنے کو تیار ہیں لیکن انھیں بالکنی میں کھڑے ہو کر تالی اور تھالی بجانے کی بجائے ضروری آلات کی ضرورت ہے۔ آخر وہ بھی انسان ہیں، خود زندہ رہیں گے تو دوسروں کو زندہ رکھنے کی کوشش کرپائیں گے۔ آپ نے شاید اس خاتون ڈاکٹر کا وائرل ٹوئٹ دیکھا ہوگا جس میں وہ وزیر اعظم اور سرکار سے کہہ رہی ہیں کہ وہ بہرحال اپنا کام جاری رکھیں گی ، جب کبھی سرکار کے پاس ان کے لیے حفاظتی ماسک ، گاؤن اور چشمے وغیرہ آجائیں تو وہ انھیں ان کی قبر پر رکھ دیں اور ساتھ میں تھالی اور تالی بھی بجادیں۔

سرکار اس وبا کو لے کر کتنی سنجیدہ ہے، اس کا اندازہ اب تک ہمیں ہوگیا ہوگا کہ جس وقت چین اور اٹلی میں موت کا تانڈو شروع ہوچکا تھا اور اس عفریت کے خونی پنجے پوری دنیا کی طرف بڑھ رہے تھے، اس وقت ہماری سرکار جمائیاں لے رہی تھی، ابتدائی جانچ میں اس کی بے حسی اور PPEکے خام مال کو ایکسپورٹ کرکے ملک کی 135 کروڑ کی آبادی کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی تھی۔ اس کی ایک اور عبرت انگیز مثال وینٹی لیٹر (Vantilator) کے بندوبست سے بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ کورونا وائرس کی گرفت میں مریضوں کے علاج میں وینٹی لیٹر کا بہت ہی اہم رول ہے۔ جب سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے تو ایک وینٹی لیٹر کا ہی سہارا ہوتا ہے۔ پوری دنیا اس وقت وینٹی لیٹر کے انتظام میں لگی ہے۔ یورپ کے کئی ممالک وینٹی لیٹر بنانے والی کمپنیوں کو آرڈر کررہے ہیں، نئی کمپنیوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ وینٹی لیٹر بنائیں، اس کے لیے فوری طور پر بنائے جانے والے نئے ماڈل کے وینٹی لیٹر پر بھی بات چل رہی ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم نے اپنے یہاں کی کئی انجینئرنگ کمپنیوں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے، ان سے پوچھا کہ کہ کیا دو ہفتوں میں 15 سے 20 ہزار وینٹی لیٹر کا انتظام ہوسکتا ہے؟ دراصل وینٹی لیٹر بنانے والی کمپنیوں کی اتنی قابلیت نہیں ہے، کیوں کہ یورپ کے دوسرے ممالک بھی وینٹی لیٹر بنانے کا آرڈر دے رہے ہیں اور سبھی کو جلدی بھی چاہیے۔ پوری دنیا میں بنیادی طور پر وینٹی لیٹر بنانے والی چار پانچ بڑی کمپنیاں ہی ہیں ، مگر ان کے پاس اتنے آرڈر آ چکے ہیں کہ اس وقت وہ سبھی کی ضرورتوں کو پورا نہیں کرسکتی ہیں۔اس بارے میں برطانیہ کی بڑی انجینئرنگ کمپنی اسمتھ نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمپنی وینٹی لیٹر کے اپنے "پیٹنٹ” (جملہ حقوق محفوظ) ماڈل کو دوسری کمپنیوں کے ساتھ ساجھا کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہے تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ وینٹی لیٹر بنائے جا سکیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ کمپنیاں جو ہمیشہ مسابقت کی دوڑ میں سرگرم رہتی ہیں، بڑی قربانیاں دے رہی ہیں۔ وہ اپنے پروڈکٹ کی اجارہ داری کو چھوڑ رہی ہیں۔ اسمتھ کا ٹارگیٹ ہے کہ دو ہفتوں کے اندر اسے 5000 وینٹی لیٹر بنا کر سپلائی کرنا ہے۔ میڈیا کےمطابق برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس کے پاس 5000 وینٹی لیٹر ہی ہیں۔ واضح رہے کہ پوری دنیا میں برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس کو طبی سہولیات میں اول مقام حاصل ہے۔ کیا ہماری سرکار نے اپنے گریبان میں جھانک کر خود سے سوال کیا ہے کہ وہ وینٹی لیٹر کی فراہمی میں کیا مقام رکھتی ہے؟ جرمنی نے 10 ہزار وینٹی لیٹر کا آرڈر دیا ہے۔ اٹلی نے پانچ ہزار کا آرڈر کیا ہےبے شک اس آزمائش کی گھڑی میں وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب عوام سے کافی اہم ہے، انھیں بار بار عوام کے روبرو ہونا ہی چاہیے کہ اس سے عوامی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ان کی تقریروں میں کہیں بھی وائرس سے لڑنے کی تیاریوں کے انتظام کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ جب قیامت سر کو آن پہنچی تو طبی سہولتوں میں اضافے کے لیے 15000 کروڑ روپے کا اعلان اونٹ کے منھ میں زیرہ کے مصداق ہے، لیکن پھر بھی ہم ان کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے ایسے اقدامات اٹھائے ، اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا یہ تیاریاں جو اب کی جارہی ہیں، پہلے نہیں کی جا سکتی تھیں؟ چلیے، آپ پیشگی تیاریوں میں چوک گئے، لیکن کیااب واقعی اس کی تلافی کی جارہی ہے؟ وزیر اعظم کو اپنی تقریروں میں بتانا چاہیے کہ آپ نے کتنے وینٹی لیٹر کا اب تک آرڈر کیا ہے؟ آپ کے پاس کورونا کے مریضوں کے لیے کتنے بیڈ کا انتظام ہے؟ اتر پردیش جیسے صوبے میں جس کی آبادی 20 کروڑ ہے، وہاں پر صرف 2000 سے کم بیڈ کیوں تیار ہیں؟ دہلی، مہاراشٹر، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور دوسرے صوبوں میں کتنے وینٹی لیٹر ہیں، کن کن اضلاع میں کتنے وینٹی لیٹر موجود ہیں؟ پورے ملک میں نجی اور سرکاری طور پر کیا کیا طبی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، ان سب کا ڈیٹا وزیر اعظم کو عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کا ڈیٹا تک ہماری سرکار نے تیار نہیں کیا ہے۔ لاک ڈاؤن بلا شبہ اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم یہ سوالات ہیں جن کے جواب دینا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ قسط میں ہم بتا چکے ہیں کہ ہندوستان فی الحال 3 ہزار سیمپل بھی ٹیسٹ کرنے کی حالت میں نہیں ہے جب کہ 7 فروری سے ہی جنوبی کوریا نے ٹیسٹ کِٹ بنانے شروع کردیے تھے اور اس کے لیے اس نے پرائیوٹ کمپنیوں کے ساتھ میٹنگ کرنی شروع کردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہر روز 20 ہزار سیمپل ٹیسٹ کررہا ہے۔ اتنی معمولی سی بات تو خیر سبھی جان گئے ہیں کہ کورونا وائرس سے شفا پانے کا فی الحال ایک ہی راستہ ہے کہ ٹیسٹ کرو، پتہ کرو کون کون اس وائرس کی گرفت میں ہے۔ گھر میں لاک ڈاؤن رہنے کا پیغام عوام تک پہنچایا جا چکا ہے، مزید پہنچانے کی ضرورت ہے، لیکن بہرحال عوام یہ ضرور جاننا چاہے گی کہ ان کی ذمہ داریوں میں سرکار کی کچھ ذمہ داریاں بھی شامل ہیں یا نہیں؟ کیا اس وائرس سے لڑنے کا کام صرف عوام کے سر منڈھ دیا گیا ہے اور سرکار نے خود کو اس سے علیحدہ کرلیا ہے؟ کیا اس لڑائی میں عوام یک و تنہا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہوجاتا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریروں میں لاک ڈاؤن سے جنمی کالا بازاری پر اپنی تشویش کا اظہار تک نہیں کیا۔ انھوں نے 21 دنوں کی اس طویل تنہائی میں غریب عوام کے راشن پانی کے لیے کیا انتظامات کیے ہیں ، اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ آنے والے دنوں میں اس ملک کا غریب طبقہ کورونا وائرس سے مرے یا نہ مرے لیکن اسے بھوک سے مرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment