بہت بے آبرو ہو کر’مرے‘ کوچے سے’تم‘ نکلے- منصور قاسمی 

ریاض،سعودی عرب

پورے ملک میں اس وقت شہریت ترمیمی قانون اور قومی شہری رجسٹر کے تنازع پر ہنگامہ بپا ہے، احتجاج کرنے والوں پر کہیں پولیس آنسو گیس چھوڑ رہی ہے، کہیں گولیاں چل رہی ہیں، کہیں سنگ باری ہو رہی ہے؛ مظاہرین میں مرد بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں، بوڑھے بھی ہیں،بچے بھی ہیں، امیر بھی ہیں، غریب بھی ہیں، ڈاکٹر بھی ہیں، وکیل بھی ہیں، تعلیم یافتہ بھی ہیں،غیر تعلیم یافتہ بھی ہیں، ہندو بھی ہیں،مسلم بھی ہیں، سکھ بھی ہیں اور عیسائی بھی ہیں؛ مرکزی اور ریاستی سرکار یں ان مظاہروں کو روکنے اور کمزور کرنے کے لئے کبھی طاقت و قوت کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں، تو کبھی مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ معطل کرنے کا فرمان جاری کر دے رہی ہیں؛ مگر مودی سرکار مظاہرین کی سننے کو تیار نہیں، ایسے وقت میں جبکہ ہر طرف سراسیمگی اور ہو کا عالم ہے، بی جے پی کی جھارکھنڈ اسمبلی الیکشن میں شکست فاش کسی مژدہئ جانفزا سے کم نہیں ہے، جس تیزی سے پچھلے پانچ سالوں میں بی جے پی ریاستوں پر فتح کے جھنڈے گاڑتی چلی گئی تھی اب اس سے بھی زیادہ سرعت سے شکست و ہزیمت کی تاریخ رقم کر رہی ہے، سال رواں ہی راجستھان،مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور اب جھارکھنڈ سے بے آبرو ہو کر راندہئ درگاہ ہوچکی ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس پارٹی نے روز اول سے ہی نفرت کی سیاست کی ہے؛ بلکہ اس پارٹی کی بنیاد ہی نفرت و تعصب پر پڑی ہے، پے در پے جس طرح فتوحات کے سلسلے دراز ہو رہے تھے، اس سے اس کے اندر غرور، انا، کبر اور نشہ سر چڑھ کر بول رہا تھا، مودی اینڈ کمپنی یہ بھول گئی تھی کہ حقیقی فاتح وہی ہوتا ہے جو دلوں کو فتح کر تا ہے، جبر و استبداد، ظلم و ستم اور ڈکٹیٹر شپ کی طاقت پر حکمرانی زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی۔

پانچ سال قبل جب بی جے پی اقتدار میں آئی تھی اور رگھوبر داس سرکار نے حلف لیا تھا، اس وقت میں نے سوال کیا تھاکہ کیا اب جھارکھنڈ میں اچھے دن آئیں گے؟ ایک نئی سرکار سے امیدیں وابستہ تھیں، سوچا تھا قدرتی معدنیات سے مالا مال جھارکھنڈ ترقی کرے گا، تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ اور کمزور طبقات کے ادھورے خواب پورے ہوں گے، خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے حالات سدھریں گے،۳۸ فیصد وہ زمین جو قابل کاشت ہے مگر پانی کی عدم سہولت کی وجہ سے بنجر پڑی ہوئی ہے اسے آباد کیاجائے گا، نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی، ”سب کا ساتھ سب کا وکاس“کے نعرے پررگھوبر داس ضرور عمل کریں گے، مگر انہوں نے ایک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے جھارکھنڈ کے لئے کم، بی جے پی کے لئے زیادہ کام کیا،یکے بعد دیگرے ماب لنچنگ کی وارداتیں ہوتی رہیں، مسلم اوردلت مارے جاتے رہے، ان کی چیخیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سنی گئیں، راہل گاندھی نے جھارکھنڈ کو ماب لنچنگ کا مرکز قرار دیا، مگرٹویٹ والی سرکار نے کوئی سخت ایکشن نہیں لیا؛بلکہ جینت سنہا جیسے انسان دشمن، متعصب اور بھگوائی نے مجرمین اور قاتلین کی حوصلہ افزائی کی اور مجبور عوام یہ سب دیکھتے رہے۔نوجوان ملازمت کے لئے سرگرداں رہے، پارا اساتذہ مستقل بحالی کے لئے لڑتے رہے، مگر رگھوبر سرکار نے مطالبہ مسترد کردیا، آنگن باڑی کارکنان عورتوں پر بے دریغ پولیس نے لاٹھیاں چلائیں، آدی باسی کی زمینیں حصول اراضی کے نئے قانون کے توسط سے ناجائز قبضہ کرنے کی سرکار نے کوششیں کیں، مومینٹم جھارکھنڈ کے نام پربڑے بڑے دعوے ہوئے مگر ہوا ہوائی۔گزشتہ پانچ سے عوام یہ سہتے رہے اور اب جب چناؤ آیا توانہوں نے رگھوبر داس اور بی جے پی کو ٹھینگا دکھلا دیا؛ بی جے پی کے لئے اس سے بڑی ناکامی اور بے عزتی کی بات کیا ہو گی کہ اس کے وزیر اعلیٰ رگھوبرداس ہی ۵۲۷۵۱ وووٹوں سے اپنے کابینی وزیراورآزاد امید وار سریو رائے سے ہار گئے،ریاستی صدر بھی شکست کھا گئے،اسمبلی اسپیکردنیش اراوکو بھی عوام نے مسترد کر دیا؛حالانکہ پھر سے جھارکھنڈ پر قبضہ کے لئے بی جے پی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو فرنٹ لائن میں رکھ کر امیت شاہ، یوگی، راجناتھ سنگھ، اسمرتی ایرانی جیسے کھلاڑیوں سے سجی ٹیم کو میدان میں اتار اتھا،ان سیاسی بازی گر وں نے بڑی چالاکی سے گیم کھیلنے کی کوشش بھی کی، مگر جنتا جناردھن نے باؤنڈری سے باہر بھیج دیا، ان کھلاڑیوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ جھارکھنڈ ہے، جہاں کی زمین بہت سخت ہے۔مودی نے پانسہ پھینکا:بھائیو اور بہنو! چار مہینے کے اندر عظیم الشان رام مندر تعمیر ہو جائے گا، جس کام کو کوئی نہیں کر سکا بی جے پی نے کر دکھایا۔عوام سمجھ گئے، چار مہینے میں گلی کی ایک نالی نہیں بن پاتی ہے اور یہ چار مہینے میں شاندار مندر تعمیر کرنے چلے ہیں۔وزیر داخلہ امیت ساہ نے گگلی ماری: دفعہ ۰۷۳ میں ہاتھ لگانے کی کوئی ہمت نہیں کر پا رہا تھا،ہم نے اسے ختم کردیا۔ ساہ جی یہ بھول گئے کہ یہ جھارکھنڈ ہے کشمیر نہیں،یہاں بھات بھات کر کے ایک بیٹی مرجاتی ہے، اسے روٹی چاہئے دفعہ ۰۷۳ سے اسے کیا سروکار۔”عرفان جیتے گا تو مندر کیسے بنے گا“مگر عرفان جیت گیا، لوگوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی کے ذریعے بیچی جا رہی دھرم کی پڑیا کو زہر ہلاہل کہہ کر گٹر میں پھینک دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان اسٹار پرچارکوں نے جہاں جہاں بھی خطاب کیا،وہیں پربی جے پی کو اکثر شکست ملی ہے۔یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین کے ذریعے تیار کئے گئے ملٹی ڈائمینشن پاورٹی انڈیکس میں جھارکھنڈ ۶۱-۵۱۰۲ میں بھارت کا دوسرا سب سے غریب صوبہ تھا، جہاں ملکی پیمانے پر خط افلاس سے نیچے رہنے والے لوگوں کی فیصد ۸۲ تھی وہیں جھارکھنڈ میں ۶۴ فیصد تھی، اس پرکسی بی جے پی نیتا کی زبان نہیں کھلی، مقامی ایشوز ندارد رہے،جبکہ اس سے قبل وکاس وکاس کرکے گلے خشک پڑ جاتے تھے۔

دو مرحلوں کے انتخاب کے بعد CAB اور NRCپر بحث و مباحثہ اور احتجاجات تیز تر ہو گئے، بی جے پی نے انہیں انتخابی ایشوبھی بنا لیا اور ہر پروگرام میں اس پر بولنے لگی، وزیر اعلی رگھوبرداس نے بار بار اور شدت سے کہا کہ ہم NRCجھارکھنڈ میں نافذ کریں گے، لوگوں نے رگھوبر داس کو ہی اقتدار سے ہٹا دیا، چونکہ یہ تیلی ذات سے ہیں اس لئے ان کویہ پتہ ہی نہیں کہ جن آدی باسیوں کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں ہیں،وہ پچاس سال پرانے دستاویزات کہاں سے لائیں گے؟۔بی جے پی گرچہ تسلیم نہیں کررہی ہے،مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ NRC کوبار بار اچھالنے پرآخری کے تین مرحلوں میں ووٹ فیصد بڑھا اور اس میں بی جے پی کو سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے، گو کہ انتخابی فتح کے لئے جتنے پروپگنڈے ہو سکتے تھے،بی جے پی کی فوج نے اپنایا؛ مگر عوام نے بے آبرو کر کے اسے اپنے کوچے سے نکلنے پر مجبور کردیا؛ ان محلات کے راجاؤں کو خبر ہی نہیں کہ جھارکھنڈ کے لوگ جل، جنگل اور زمین سے جڑے ہوئے ہیں، جو ان سے یہ امانت چھیننے کی کوشش کرے گا، ان کے درمیان نفرت کی سیاست کرے گا،اسے رسوا ہی ہونا پڑے گا۔اب تو جھارکھنڈ (روح غالب سے معذرت کے ساتھ) یہی کہہ رہا ہے: نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

بہت بے آبرو ہو کر’مرے‘ کوچے سے’تم‘ نکلے

mansoorqasmi8@gmail.com

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*