بحث نہیں، تبادلۂ خیال کریں!-نقی احمد ندوی

اکثر وبیشتر دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ اپنی زبان پر قابو نہیں رکھتے اور خاص طور پر بحث کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ تلخ کلامی کر جاتے ہیں، بلکہ بعض ناشائستہ الفاظ کا استعمال کر کے سامنے والے کا دل دکھا بیٹھتے ہیں حالانکہ دانشمندای یہ ہے کہ بحث ومباحثہ سے قطعی اجتناب کیا جاے کیونکہ کامیابی کی راہ میں یہ بھی بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
ایک نوخیزلڑکا تھا جس کو غصہ بہت آتا تھا، ایک دن اس کے والد نے ایک جھولا کانٹی اور ایک ہتھوڑا دیا، اور بیٹے سے کہا کہ جب بھی تمہیں غصہ آئے، ایک کانٹی نکالنا اور لکڑی کی جو چہار دیواری ہے اس میں ہتھوڑا سے ٹھونک دینا۔
پہلے دن اس لڑکے نے 37؍ کانٹیاں چہار دیواری میں ٹھونک دیں اور یہ سلسلہ چند دنوں تک چلتا رہا۔ آہستہ آہستہ اسے اپنے غصے پر قابو پانے کی عادت ہونے لگی اور دیوار پر کانٹیوں کی تعداد کم ہونے لگی، چند ہفتوں کے بعد اس نے محسوس کیا کہ دیوار پر کانٹی ٹھونکنے سے بہتر اور آسان ہے غصہ پر قابو پانا۔
آخر کار وہ دن آگیا جس دن اسے غصہ بالکل نہیںآیا اور اس نے ایک بھی کانٹی دیوار میں نہیں ٹھونکی۔ خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہا تھا اور دوڑتے ہوئے اپنے والد کے پاس اپنی کامیابی بتانے کے لیے پہنچا، والد بہت خوش ہوئے اور مشورہ دیاکہ اب تم کو جب غصہ پر قابو آجاے تو ایک کانٹی چہار دیواری سے نکال لینا۔
چنانچہ لڑکے نے ہر روز غصہ پر قابو پانے کے بعد کانٹی دیوار سے اکھاڑنا شروع کیا اور آخرکار وہ دن آگیا، جس دن ساری کانٹیاں دیوار سے نکل چکی تھیں، اس بار وہ اور زیادہ خوش تھا اور اپنی نئی کامیابی اپنے والد کو بتانے کے لیے بیتاب تھا۔ اس کے والد نے جب یہ خبر سنی تو امید کے مطابق بہت خوش ہوئے اور بیٹے کو مبارک باد دی اور کہا کہ مجھے آپ پر فخر ہے۔
بہرحال اس کے والد اپنے بیٹے کو لے کر اس لکڑی کی دیوار کے پاس پہنچے جس میں کیلیں ٹھونکی گئی تھیں، اور بیٹے سے مخاطب ہوتے ہوے کہا بیٹا! مجھے تم پر فخر ہے اور تمہاری کامیابی پر مجھے ناز ہے مگر دیوار کے ان سوراخوں کو ذرا دیکھو، وہ یہیں پر ہمیشہ ہمیش کے لیے رہ جایںگے اور اب یہ دیوار پہلے کی طرح نہیںرہ پائے گی یعنی ہم ان سوراخوں کو اب کبھی مٹانہیں سکتے۔ اسی طرح جب تم غصہ میں کچھ بولتے ہو تو اس کا نشان اسی طرح دلوں پرباقی رہ جاتا ہے اور ایک سوراخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، اس طرح۔بیٹے نے اپنے باپ کی حکمت آموز نصیحت کو غور سے سنا اور یہ وعدہ کیا کہ پھر وہ ایسی غلطی کبھی نہیں دہرائے گا۔
کچھ لوگوں کے سر پر بحث اور مباحثہ کا ایسا بھوت سوار ہوتا ہے کہ آپ کوئی موضوع چھیڑ دیں وہ اسپر اپنی دانشمندانہ رائے دینے سے باز نہیں رہیں گے۔ ہر موضوع پر خواہ اس پر ان کا مطالعہ ہو یا نہ ہو، سیر حال بحث کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ملیںگے، کچھ معصوم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ بحث کرنے سے علمی تفوق ثابت ہوتا ہے۔ آج کل فیس بک اورواٹس ایپ پر ایسی شخصیات زیادہ سرگرم نظر آتی ہیں۔ حالانکہ بحث ومباحثہ اور مناظرہ ایک ایسا لایعنی مشغلہ ہے جس سے آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکااور نہ آئندہ ہو گا ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس سے انرجی، وقت اور صلاحیت ضرور برباد ہوتی ہے۔
وقت کے کسی جید عالم دین کو کبھی آپ نے بحث کرتے دیکھا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس مشغلہ کی حقیقت اور اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہیں۔ بحث ومباحثہ میں کسی فریق کی جیت نہیں ہوتی اس میں صرف ہار ہی ہوتی ہے۔ اگر آپ نے یہ جنگ جیت بھی لی تو ایک اچھا دوست ضرور گنوا بیٹھیں گے اور اگر ہار گیے تو وہ آپ کو کھو بیٹھے گا ۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس کی جیت میں بھی ہار اور شکست ہی ہے۔
عید کا دن تھا، میں ایک عزیز دوست کے گھر بیٹھا تھا، شیر قورما چل رہا تھا، سوئیاں کھائی جا رہی تھیں، محفل سجی تھی اور حاضرین مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیالات کر رہے تھے۔ میرے یہ عزیز دوست ایک مشہور ملی تنظیم میں کام کرتے ہیں اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کے ہم زلف (جو پڑوسی بھی ہیں) ایک امریکن فلاحی تنظیم سے وابستہ ہیں۔ دونوں اپنی اپنی تنظیموں کی تعریف کر رہے تھے اور بات چل رہی تھی، نہ جانے کب تبادلۂ خیال بحثومباحثہ میں بدل گیا۔ دونوں طرف سے دلائل دیے جانے لگے، اعداد وشمار پیش کئے جانے لگے، لہجہ سخت ہوتا گیا اور بحث گرم ہوتی چلی گئی۔ میرے محترم دوست نے کہہ دیا کہ آپ تو جاہل ہیں، آپ کو کیا معلوم کہ مسلم تنظیمیں کیا کرتی ہیں، اتنا کہنا تھا کہ محفل پر سناٹا چھا گیا، ان کے ہم زلف تھوڑی دیر بعد آزردہ خاطر ہو کر جب رخصت ہوئے تو انھوں نے پھر اس گھر میں دوسال تک قدم نہیں رکھا۔
بحث کاا یسا نتیجہ ایک عام سی بات ہے۔ بحث میں جیت کسی کی نہیں ہوتی، ہاں! ہار دونوں کی ہوتی ہے۔ لہٰذا دانشمند لوگ کبھی بھی بے سود بحث ومباحثہ میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بحث یں پوری قوت اس بات پر صرف کی جاتی ہے کہ سامنے والے کو زیر کیا جائے۔ یہاں موضوع موضوعِ بحث نہیں رہتا، بلکہ بحث کرنے والا موضوعِ بحث بن جاتا ہے اور ہر فریق یہ کوشش کرتا ہے کہ آخری دلیل کی ایسی چھری سامنے والے کے پیٹھ میں گھونپ دی جائے کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے خاموش ہو جائے، نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری!
بحث ومباحثہ اور تبادلۂ خیال میں درج ذیل فرق ہے:
٭ بحث ومباحثہ سے گرمی (Heat) نکلتی ہے جبکہ تبادلۂ خیال سے روشنی (Light)۔
٭ بحث میں انسان کا دماغ بند ہوتا ہے اور انا (Ego) بولتی ہے اورتبادلۂ خیال میں کشادہ قلبی گویا ہوتی ہے اور دل کھلا ہوتا ہے۔
٭ مباحثہ اور مناظرہ نادانی اورجہالت کا تبادلہ ہے اور تبادلۂ خیال معلومات اور انفارمیشن کا۔
٭ بحث غصہ، ناراضگی اور خفگی کا اظہار ہے اور تبادلۂ خیال منطق، دلائل اور حقائق کا۔
٭ بحث میں زور اس پر ہوتا ہے کہ کون صحیح اورکون غلط ہے اورتبادلۂ خیال میں زور اس پر ہوتا ہے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔
تبادلۂ خیال کے کچھ اصول ہیں، جن کو یاد رکھنا بہت ضروری ہے:
1۔ سامنے والا جتنا بھی ترش رو اور سخت گو ہو آپ کوئی ناروا لفظ نہ نکالیں۔
2۔ سامنے والے کو غور سے سنیں اور ویسا ہی برتاؤ کریں جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔
3۔ افکار وخیالات کو نشانہ بنائیں، ذاتیات پر حملہ نہ کریں، مثلا: آپ احمق ہیں، ان پڑھ ہیں، بیوقوف ہیں وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ سنجیدہ اور مہذب جملوں کا استعمال کریں، مثلا: میری معلومات کے مطابق ایسا ہے، میری سمجھ یہ کہتی ہے، ذرا کچھ اور وضاحت کریں وغیرہ وغیرہ۔
4۔ اپنی غلطی کا فورا اعتراف کریں کہ میں نے سمجھنے میں غلطی کی یا مجھے صحیح معلومات نہیں۔ یاد رکھیں غلطی کے اعتراف سے انسان چھوٹا نہیں ہو جاتا۔ اگر آپ سے سامنے والے کو تکلیف پہنچے تو فورا معافی مانگ لیں، مگر ساتھ ہی ان سے معافی کی توقع نہ رکھیں، کیونکہ معافی مانگنے میں بعض لوگوں کی جان نکل جاتی ہے۔
5۔ اپنا ذہن ودماغ کھلا رکھیں، تاکہ نئے افکار وخیالات سے آپ بھرپور مستفیض ہو سکیں
اس لیے خواہ کوی بھی موضوع ہو اسپر تبادلہ خیال کریں بحث نہیں، اہل علم بحث کرتے ہیں اور اسی روش کو اپنانے کی ضرورت ہے۔