بہن صفورا زرگرکے نام ایک بے بس بھائی کا خط-نوراللہ جاوید قاسمی

میری پیاری بہن صفورا!
سوشل میڈیا اور نیوزچینلوں پر تمہاری کئی تصویریں موجودہیں،جو تمہاری زندہ دلی، بہادری، جرأت و بے باکی کی آئینہ دارہیں۔لیکن حالیہ ایک دو تصویریں جن میں تم بے بس اور لاچار نظر آرہی ہو، انھوں نے ذہن و دماغ کو متاثر کردیا ہے۔ ایک طرف تمہاری پر اعتماد گفتگو اور دوسری طرف تمہاری یہ تصویریں۔ کئی لوگوں نے مجھ سے پوچھاکہ تمہارا قصور کیا ہے؟کن قصوروں کی سزا دی جارہی ہے۔ ان سوالوں پر جب میں نے غورکرنا شروع کیا تو تم مجھے معصوم سے زیادہ قصور وار نظر آنے لگی اور تمہاری تمام خطائیں فلم کی طرح نگاہوں کے سامنے چلنے لگیں۔ایک بہن ہونے کے ناطے میری ذمہ داری تھی کہ تمہارے قصوروں پر پردہ ڈال کر حمایت میں کھڑا ہوجاؤں۔مگرمجھے اپنی دیگر بہنوں کی فکر ہے جو تم کو اپنا آئیڈیل مانتی ہیں۔ میں نہیں چاہتا ہوں کہ میری دوسری بہنیں بھی اس کرب سے گزرے جس سے آج تم گزررہی ہو۔
صفورا!
ٹی وی نیوزچینلوں پر چلاتے اور دھمکاتے نیوز اینکروں نے ہمیں یقین دلادیا ہے کہ کشمیری نہ ہندوستان کو اپنا ملک تسلیم کرتے ہیں اور نہ دستور پر یقین رکھتے ہیں۔کشمیری ملک کے دشمن، دہشت گرد، پاکستانی ایجنٹ ہیں اور کشمیری پنڈتو ں کے قاتل ہیں۔ اس ملک کو کشمیر چاہیے،کشمیری نہیں،گزشتہ 70سالوں سے جاری ناانصافی، تعصب اور جبرکے باوجود تم نے کشمیر ی ہوتے ہوئے بھی بھارت کو اپنا ملک سمجھا،اس کے دستور کی حفاظت کیلئے قسمیں کھائیں۔ ہاتھوں میں بندوق لے کر دہشت گرد بننے کے بجائے تم نے جامعہ میں پڑھنے کو ترجیح دی اور سماجیات پر پی ایچ ڈی کر کے اس ملک کو فائدہ پہنچانے کا سوچا۔ تم نے جناح،لیاقت،بھٹو اور ضیاء کو اپنا ہیرو بنانے کے بجائے گاندھی، نہرو، پٹیل اور آزاد کو اپنا آئیڈیل مانا۔مگر تمھیں معلوم ہونا چاہیے تھاکہ بھارت اب بدل چکا ہے اور ہمیں یہ تبدیلیاں قبول نہیں ہیں۔
یہ بھارت ہے اور اس کا دوسرا نام ”مسلمانوں کی جنت“ بھی ہے۔یہاں کے وزیر اعظم مسلم خواتین کے مسیحاہیں،انہوں نے مسلم خواتین کو ”تین طلاق“ سے آزادی دلائی۔یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان میں ’تین طلاق‘ کی شرح 0.1فیصد سے بھی کم ہے۔ مسیحائی کیلئے انہوں نے کئی سالوں تک جتن کئے،مسلم دشمن ”سیکولر پارٹیوں نے روکاوٹیں ڈالیں، مذہبی آزادی اور آئین،مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی،مگر ہمارے وزیر اعظم نے صرف مسلم خواتین کی خاطرآئینی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کران پر احسان کیا۔ایسے اس ملک میں ”جسودا بین“ جیسی ہزاروں خواتین ہیں جن کے شوہروں نے طلاق دیے بغیر چھوڑرکھا ہے۔نان و نفقہ اورسماجی پذیرائی کے بغیریہ ابلہ ناریاں سات جنموں کا رشتہ نبھارہی ہیں۔
”جامعہ کی لڑکیوں“ کو آخر ہوکیا گیا تھا کہ دسمبرکی یخ بستہ راتوں میں اچانک سڑکوں پر نکلیں، ترنگا ہاتھ میں لے کر ہندوستان زندہ باد کا نعرہ بلند کرنے لگیں۔”بھگتوں“کے ٹیکس کے روپے پر پلنے اور پڑھنے والی ان لڑکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ اب بھارت بدل چکا ہے، ملک مضبوط ہاتھوں میں ہے،یہاں اب سوال کرنا جرم ہے،”56انچ“کےسینے والے حکمرانوں کو سوال برداشت نہیں ہے۔ انہیں ”پاکستان“سے نہیں معصوم لڑکیوں کے سوال سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں ایک ہتھنی کی موت پر واویلا مچ جاتاہے۔حکمراں اپنی پیڑاچھپا نہیں پاتے ہیں۔مگر سڑکوں پر بلکتی ہوئی ماؤں کا درد ان کے ضمیر پر دستک نہیں دیتاہے۔جب معلوم ہوتا ہے کہ ہتھنی کا قاتل مسلمان نہیں ہے تو ہتھنی سے ہمدردی ختم ہوجاتی ہے۔”گائے ماتا“کا ہتیارا اگر مسلمان نہیں ہے تو وہ گائے ماتا بھی قابل رحم نہیں ہے۔
”جامعہ کی لڑکیوں“ کی وجہ سے ہی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، ’کپل مشرا‘،مرکزی وزیر انور راگ ٹھاکر اور ممبر پارلیمنٹ’پرویش ورما کو غصہ آیا۔معصوم بچہ بندوق تان کر جامعہ اور شاہین باغ پہنچ گیا۔اگر یہ لڑکیاں احتجاج نہیں کرتیں، تو پھر کوئی”بابوسنگھ“غصے میں مسجد میں توڑ پھوڑ نہیں کرتا۔کوئی’’کمار پرساد“ مسجد کے مینار پر چڑھ کر بھگوا جھنڈا نہیں لہراتا اور کوئی شرماجی کا بیٹا مشرقی دہلی کے مزار کو نقصان نہیں پہنچاتا۔جامعہ کی لائبریری میں پولس کو توڑ پھوڑ اور جے این یو کے کیمپس میں گھس کر اے بی وی پی کے مہارتھی غنڈوں کے ذریعے طلبا کے ساتھ مارپیٹ کیلئے بھی یہی لڑکیاں ذمہ دار ہیں۔
دہلی پولس مجرموں کو پکڑنے میں یقین نہیں رکھتی ہے۔وہ ”کورونا لوجی“ سمجھتی ہے۔اسی وجہ سے آج بھی کپل شرما، انوراگ ٹھاکر، پریش ورماکے خلاف کارروائی نہیں ہوئی ہے۔نہ جانے فیس بک والے مارگ زکربرگ کو کیا سوجھی کہ اس نے کپل مشرا کے بھاشن کو نفرت انگیز قراردےدیا۔
اس ملک میں اب پرامن احتجاج ناقابل برداشت ہے۔ہریانہ میں جاٹوں، راجستھان میں راجپوتوں اور مہاراشٹر میں مراٹھے اگر پرتشدد احتجاج کرتے ہیں، تو ہفتوں ریلوے ٹریک جام کئے جانے اور اسی ”سی اے اے“ کے خلاف آسام اور نارتھ ایسٹ میں ہنگامہ آرائی ہوتی ہے تو اس سے بھارت کی اکھنڈتا کو فرق نہیں پڑتا ہے۔صفورااور جامعہ کی لڑکیوں کا یہی سب سے بڑا قصور ہے کہ انھوں نے پرامن احتجاج کی روایت ڈالی۔مرد حاوی سماج میں ملک کو راستہ دکھایا۔بھارت میں دیوی کی پوجا ہوسکتی ہے مگر قیادت منظور نہیں ہے۔لواب بھگتو انجام۔
پیاری بہن صفورا!
اگلے چند مہینے میں تم ماں بننے والی ہو، میری دعائیں ہیں کہ تمہارے بچے اس کے اثرات محفوظ رہیں۔ سنا ہے کہ تمہارے کردار پر انگلیاں اٹھائے جانے اور بدکردار بتائے جانے پرتم اور تمہارے اہل خانہ تکلیف میں ہیں۔میری شکایت تمہارے شوہر سے ہے،انہیں معلوم نہیں تھاکہ بھارت ماتاکی سنتانوں نے اپنی”ماں سیتا میا“ سے پاکبازی کی شہادت مانگی تھی۔جہاں ماؤں کے پیٹ کو چیڑ کر بچے کو ماردینے والوں کا کچھ نہیں بگڑتا،جہاں معصو م بچیوں کا ریپ کرنے والوں کی حمایت میں قانون ساز آجاتے ہوں وہاں اگر تمہارے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں تو کون سا پہاڑ ٹوٹ گیا۔
سنا ہے کہ تمہاری شکایت ججوں سے بھی ہے کہ تین تین مرتبہ تمہاری درخواست ضمانت کو رد کردیا گیاہے،قانون کے ماہرین کی رائے بھی تمہارے حق میں ہے۔ خود جج صاحب بھی مان رہے ہیں کہ تمہارے خلاف دہلی فسادات میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ عزت مآب جج صاحب کی کچھ مجبوریاں ہیں،کوئی جج لویا جیسا حشر نہیں چاہتا ہے۔ بے چارے جسٹس مرلی دھرکا کیا بنا، راتو ں رات ٹھکانے لگادیے گئے۔گجرات کے ہائی کورٹ کے جج صاحبان وینٹی لیٹر گھوٹالے کا نوٹس لینے چلے تھے مگر کیا ہوا۔پریس کانفرنس کرنے والے ایک جج انکل کو جانتی ہی ہو۔کتنے سیانے نکلے، عزت کے ساتھ اب پارلیمنٹ میں عدلیہ کی آزادی کی لڑائی لڑیں گے۔تمھیں معلوم نہیں ہے یہاں پہلے گرفتاریاں ہوتی ہیں، کئی کئی سال تک ٹرائل شروع نہیں ہوتا ہے۔14 سے 20سال تک میں جرم ثابت نہیں ہونے پرباعزت رہا ئی کا پروانہ سنادیا جاتا ہے۔ تمہیں تو جیل میں ابھی دو ہی مہینے ہوئے ہیں۔ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
صفورا!
تم سے میرا سوال یہ بھی ہے کہ تم کس کو انصاف دلانے چلی تھی، کس کے لئے آواز بلند کی تھی؟۔تم نے ہم سے یہ امیدباندھ رکھی تھی کہ ہم تمہاری حمایت میں سڑکوں پر اتر آئیں گے۔ یہ تمہاری بھول ہے۔دیکھا کوئی سامنے آیا۔دہلی میں سیکڑوں قومی اور بین الاقوامی ملی تنظیمیں ہیں۔ کسی کی غیرت جاگی؟پیاری صفورا! یہ بھارت ہے، کوئی امریکہ نہیں ہے جہاں ایک سیاہ فام پرمظالم کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔دیکھو امریکی کتنے بیوقوف ہیں، اپنے محسن کرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ ہی توڑ دیا ہے۔یہاں بستیوں کی بستیاں جلادی جاتی ہیں، ماؤں کی گود سے بچے چھین لئے جاتے ہیں، بچوں کے مستقبل دفن کردئے جاتے ہیں۔ پھر بھی کسی کے ضمیر پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ صفورا تم جیل میں قید ہو مگر تمہارادل و دماغ اورضمیر آزاد ہے۔ ہم جیل سے باہر ہیں مگر اپنے ضمیر اور خوف کے قیدی اور غلام بن گئے ہیں۔کیا غلاموں سے صدائے حق کی امید جاسکتی ہے۔ اچھا سنو ایک خبر تمہیں ملی ہے کہ جامعہ ملک کی ٹاپ ٹین یونیورسٹیز میں شامل ہوگئی ہے، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔اس کے باوجود یہ غداروں کی یونیورسٹی ہی کہلائے گی۔
بات لمبی ہوگئی ہے۔مجھے معاف کردینا، تمہارا بے بس بھائی!

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*