باغ ہند کا خوشنما پھول: داعی اسلام حضرت مولانا کلیم صد یقی-فتح محمد ندوی

ہیں لہو کی بوندیں اب میری سپاہ
سر کشی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا
(احمد عطاء)
نازش ہند داعی اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صا حب کا وطن اور مولد دنیائے اسلام کی وہ مقدس سرزمین ہے جہاں کے آفتاب و مہتاب کی چمک اور مہک سے ایک جہان روشن اور منور ہے ۔پھلت کے نام سے مشہور ولی اللٰہی خاندان کی وطنی نسبت اسی مٹی اور جگہ سے
وا بستہ ہے ۔ اس اعتبار سے بلا مبالغہ یہاں کے لالہ و گل کی خو شبو سے کا ئنات کا ذرہ ذرہ پوری توانائی اور تابناکی کے ساتھ محظو ظ ہو رہا ہے اور مزید دنیا کے ہر عارف اور تشنہ کامان معرفت کو علم و عرفان اور روحانی غذا فراہم کر رہا ہے ۔
انسان اپنے خاندان اور مورو ثیت کے اثر اور عناصر سے الگ نہیں ہو سکتا فطری طور پر اس کے خمیر میں شامل اس خون اور مٹی کا رشتہ اس کی ذات سے ہمیشہ وا بستہ اور قا ئم رہتا ہے جس ماحول میں اس کی پرورش ہوتی ہے ۔ مولانا کلیم صدیقی صا حب نے اپنی مٹی سے اپنے رشتہ کو ہر صور ت مضبوط اور مستحکم رکھا بلکہ اس سرزمین سے دنیا بھر میں پیار و محبت ،امن و شانتی اور انبیائی مشن کی جو تحریک چلی تھی جس کا صور ولی اللٰہی خاندان نے پھو نکا تھا۔ آ پ بلا شبہ انہیں کے افکار و خیالات کی مشعل لیکر دنیا بھر میں ان کے اس پیغام کو عام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے پیش رو اکابر اور بزرگوں کی گنگا جمنی روایت اور متحدہ ہندوستان کی بھائی چارگی پر مشتمل صدیوں پرا نی تہذیب کو بھی آپ کے وجود سے استحکا م عطاء ہو رہا تھا ، ساتھ ہی مادر گیتی کے گر تے ہوئے دنیا بھر میں وقار اور اعتبار کو بحالی، فر خندہ نصیبی اور عزت بھی مل رہی تھی ۔
آپ عالم اسلام کی وہ عظیم ہستی اور شخصیت ہیں جن کی محبت ، حسن عمل اور قول و فعل سے جہاں ہمارے ملک کو دنیا بھر میں نیک نامی اور ناموری عطاء ہو ئی وہیں اپنی جمالی صفات زندگی تواضع اور خاکساری سے اس کی مشترکہ تہذیب کو بڑھنے اور پھل پھول نے کا بھی آپ کے وجو د سے خوب موقع ملا۔آپ نے اپنے نرم اور شیرینی گفتار تکلم اور لہجے سے امن و شانتی کے حوالے سے جو گراں خدمات ان سنگین اور نازک حالات میں انجام دی ہیں جب ہند و اور مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور اور جان کے دشمن تھے۔ نفرت کی چنگاریاں ان کے اندر بھڑ رہی تھی ۔ تاہم آپ نے ان کے درمیان میں حائل ہوکر ان کو محبت اور پیار کا ایسا پاٹ پڑھا یا جس سے ان کے درمیان کھڑی نفرت کی دیواریں زمیں بوس ہوگئی۔
وہ لوگ اب کہاں ہیں وہ چہرے کد ھر گئے
ائے شہر حسن کس کی تجھے بد عا لگی
بلا شبہ اس عظیم خدمت کے حوالے سے آپ متحدہ ہندوستان کی وہ منفرد اور یگانہ شخصیت ہیں جن ہوں نے انسانی قدروں اور ا حترام آدمیت کی خاطر بلکہ انسانی اقدار کا محافظ اور امن کا سفیر بن کر لا ریب وہ کا رنامہ انجام دیا ہے جس کی نظیر اور مثال اس وقت تو کم سے کم کہیں نظر نہیں آتی ۔ہو سکتا ہے کو ئی اس سے اختلاف بھی کر ے اور اس کو مبا لغہ آ را ئی پر محمول کر ے لیکن میں حضرت مولانا کلیم صدیقی صا حب کے حوا لے سے اپنے اس دعوے پر قائم ہوں کہ آپ نے اپنے صاف شفاف کردار کی خوشبو سے ہندوستا ن کی مٹی میں محبتوں کی مشعلیں بھی روشن کیں اور تکثیری سماج میں تہذیبی وحدت کی صدیوں پرانی روایت کو باقی اور سلامت بھی رکھا ۔
آپ ہندوستان کی ان نفوس قدسی جماعت میں شامل ہیں جن ہونے اپنے کردار اور خلاق کی خوشبو سے عوامی سطح پر محبوبیت اور شہر ت کی بلندیوں کو چھویا بلکہ آ پ نے محبوبیت کے اس مقام پر نشان امتیاز ثبت کیا جہاں پہنچ پا نا ہر کسی کے لئے آسان کام نہیں ۔ شاید ہند ستان کی گلی گلی گا ؤں در گاؤ ں اور شہر شہر میں اتنا تعار ف اس عہد میں کسی اور کو اس درجہ نصیب ہو جو مولانا کو مشیت ایزدی کی طرف سے ملا ۔بغیر کسی قید و بندش کے عالم ہو یا جاہل ، ڈا کٹر ہو یا انجینئر ، عورت ہو یا مرد ، مسلمان ہو یا غیر مسلم وہ کسی بھی مذہب اور مکتب فکر کا شخص ہووہ کسی نہ کسی درجے میں حضرت مولانا کلیم صدیقی کے نام اور کام دونوں سے واقف ہے ۔ واقف ہی نہیںبل کہ وہ آپ کا جانثار اور محبوب بھی ہے ۔ میں نے خود آپ کے فراق میں لوگوں کو سسکیاں لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ایک مرتبہ حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب کے ساتھ میرا ایک سفر ہوا حضرت کہیں سے تشریف لا رہے تھے اور ہماری بستی سے حضرت کا گزر ہو رہاتھامیں اور میرے دوست اورکرم فرما مولانا ابرار صاحب ندوی کھجناوری جناب ماسٹر غفران انجم صاحب کی معیت میں حضرت کے ساتھ دیوبند کے سفر پر روانہ ہوئے ، جب دیو بند پہنچے ، حضرت کا پروگرام ایک مسجد میں پہلے سے طے تھا لوگ انتظار میں بسر و چشم کھڑے انتظار کر رہے تھے ۔اس دوران میں نے دیکھا کہ بعض لو گ فرط محبت میں بے ساختہ رورہے تھے اور اشکبار آنکھوں سے اپنے محبوب کا دیدار کر رہے تھے ۔ان لوگوں کی اس نیاز مندانہ ملاقا ت نے میرے دل پر آپ کی محبوبیت کا نقش ثبت کردیا ۔
چمن کے روند نے والوں ذرا خیال رہے
ہمارا خون بھی ہے شامل بہار چمن
ہم آج چاک گریباں و دل فگار سہی
ہمارے دم سے ہے گل پوشی نگار چمن
(محسن بھوپالی )
ہندوستان بلکہ پورے برصغیر میں انبیائی مشن ، دعوت اسلامی اور اسلام کے حوالے سے اس کا تعارف اور پیغام اور ساتھ ہی برادرن وطن کے دلوں میں پھیلی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کو دور کر نے کے لئے ڈائیلاگ اور گرا ؤ نڈ ٹیبل گفتگو جن مبارک ہستیوں کا مشن اور مشغلہ رہا ہے ان میں مولانا کلیم صدیقی صاحب کئی اعتبار سے منفرد اور ممتاز ہیں ۔ آپ نے اس مشن کو جس خوبصور تی ، پلاننگ اور گرد و پیش کے حالات اور ماحول کی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھا یا ہے آزاد ہندوستان میں منظم پلاننگ اور جہد مسلسل کی ایسی مثال اور کوشش شاذ ہی نظر آتی ہے ۔ میری مراد یہاں کسی کے قد کو گھٹانا اور بڑھا نہیںبلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے جو زمینی سطح پر زندگی کے اکثر شعبوں میں ،دینی تعلیم ہو یا عصری ، سماجی ہو یا دعوتی ،فلاحی یا رفاہی یا برادران وطن کے درمیان افہام و تفہیم کا مسئلہ ہو کامیابی کے ساتھ حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب نے سر انجام دیا ہے ۔
آپ محبت کی شمع اور پیار کی خوشبو لیکر رات دن چلے ،خوب چلے ، کہیں ٹھہر ے نہیں تھک کر آرام تک نہیں کیا بلکہ تھکن کا احساس تک نہیں کیاکبھی اس گاؤں کبھی اس شہر اور کبھی اس ملک میں اسلام کا پیغام سناررہے ہیں سمجھا رہے ہیں، قوموں کو ان کے دنیا میں آنے کا مقصد بتا رہے ہیں ۔ان کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلا رہے ہیں اور انہیں آنے والے کل سے ڈرا رہے ہیں ۔
جس دن سے چلا ہوں میری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
(بشیر بدر )
اپنی اس عظیم انسانی خد مت اور انسانو ں کو انسانیت کا سبق پڑھا نے کے اعتراف میںاجتماعی طور پر خندہ لبی سے آپ کا اسقبال کیا جاتا آپ کے اعزاز اور استقبال میں پرو گر ام منعقد ہوتے ، آنکھیں بچھائی جاتی ، آپ کی سوچ ، ذہانت ، بصیرت اور پیام امن اور پیام انسا نیت کی اس عظیم جدو جہد کے لئے سلام پیش کیا جاتا، اس سفیر امن کو جس کی پیشانی پر انسانی محبتوں کے جھومر سجے ہوئے ہیں ۔ اس کی عظمت کو اور کاموں کو ایسی داد شجاعت اور خراج تحسین پیش کیا جاتا جو آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ اور مثال ہو تا ۔ برادر ان وطن کے سامنے آپ کو سماج کا ایک آئیکون اور آئیڈیل کے طور پر پیش کیا جاتا لاریب آپ ان تمام صفات اور خوبیوں کے اعتبار سے اس قابل تھے اورہیں ۔ کیوں کہ آپ نے ہندستان کی اس باد سموم فضا میں جہاں نفرتوں نے سیاہ بادلوں کی طرح ڈیر ے ڈا ل لئے تھے وہاں آپنے محبت اور پیار کے پھول کھلائے، بلکہ محبت کی خو شبو اور کردار کی چمک اور رو شنی سے اس تیرگی اور تاریکی کو پاٹنے کی ہر ممکن کوشش کی دلوں کو جو ڑنے کے لئے کوئی لمحہ ہا تھ سے نہیں جانے دیا تاہم آپ کی یہ عطر بیزی فرقہ پرست اور بیمار ذہنوں کو راس نہیں آئی۔اور بالآخر باغ ہند کے اس خوشنما پھول کو پابند سلاسل کر دیا ۔بلکہ خوشبو کے اس سفر کو روک دیا گیا۔ کتنے افسوس کا مقام ہے وہ لوگ جو ہمارے کمپوزٹ کلچر کا نشان اور اعلان تھے ان کے ساتھ ایسا نا روا سلوک اور معاملہ عقل سے ما وراء ہے ۔
جہاں جہاں بھی ملے خار چن لئے میں نے
کہاں کہاں یہ مرا ذوق غم پناہ نہ تھا
پہنچ کے یوں سر منزل بھلا دیا تم نے
میں ہم سفر تھا تمہارا ،غبار راہ نہ تھا
داعی اسلام حضرت مولانا کلیم احمد صا حب کی ہوئی منظم سازش کے تحت گرفتاری پر ملک کا ہر امن پسند شہری ایک اندرو نی بے چینی اور ایک اضطراری کیفیت سے دوچار ہے۔ان کی یہ اضطراری کیفیت اور حالت حق بجانب اور سو فیصد درست ہے ۔ کیوں کہ ان کو یہ خطرہ اور ڈر مسلسل ستانے لگا کہ جب اس ملک میں مولانا کلیم صدیقی جیسا امن پسند اور انسان دوست محفوظ نہیں تو ہمہ شمہ کا حشر اور حالت کیا ہوگی ۔ ہم خود بھی اس سوال کا جواب تلاش کر نے میں ذہنی طور پر پریشان ہیں کہ آخر کیا ہوگا، اور کیسے اس ظلم و جبر کا مقابلہ ہوگااور کیسے یہ ننگا ناچ بند ہوگا۔ میرے ذہن میں اس وقت اس سوال کا ایک جواب گردش کر رہا ہے۔کہ ہمیں مضبوطی اور اتحاد کے ساتھ اس مشن کو جس کی بنیاد پر مولانا کلیم صاحب کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اسی نہج اور پلاننگ کے تحت بھائی چارگی کے اس مشن کو آگے بڑھانے کا عزم مصمم کریں ، بلکہ فولادی اورآہنی ارادہ سے ہی مولانا کلیم صدیقی صا حب کے دفاع میںکا میاب ہو سکتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی عہد کریں کہ جب تک یہ فر قہ پرست عناصر شکست نہیں کھا جا تے ہم ہمت نہیں ہارے گے ۔ رہی با ت گرفتاری اور تشدد کی تو ہر وہ شخص جو تاریخ اور قوموں کا رخ بد لنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کے سامنے یہ تمام چیزیں اور حالات ریت کی دیوار کی طرح ہیں۔ راہ حق کے مسا فروں کے لئے بڑی بڑی مصیبتیں آتی ہیں لیکن ان کے پائے ثبات میںہلکا سا لرزہ بھی طاری نہیں ہوتا۔ بہ قول اقبال مرحوم :
نشانی ہے اگر خا صان حق کی سختیاں سہنا
تو میری عمر بھی گذری اب تک ابتلاؤں میں