بدعنوانی کا انڈیکس:ہندوستان کی درجہ بندی میں بہتری کے لیے عدالت میں پی آئی ایل دائر

نئی دہلی:سپریم کورٹ میں ’’عالمی بدعنوانی انڈیکس‘‘ میں ہندوستان کی ناقص درجہ بندی کوبہتر بنانے کے لیے مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو تجویز دینے کے لیے ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دینے کے لیے ایک مفادعامہ کا مقدمہ دائرکیاگیا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تیار کردہ کرپشن پرسیسیسی انڈیکس (سی پی آئی) میں 180 ممالک میں ہندوستان کا نمبر 80 ہے۔بی جے پی کے لیڈر اور وکیل اشوینی اپادھیائے کی طرف سے بدعنوانی کے انڈیکس میں سرفہرست 20 ممالک میں شامل ممالک کے اچھے طرز عمل کی جانچ کرنے اور رشوت کے خاتمے اور کالے دھن کی واپسی کی تجویز کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ایڈوکیٹ اشونی کمار دوبے کے توسط سے دائراپنی پی آئی ایل میں اپادھیائے نے ہندوستان کے لاء کمیشن ، وزارت داخلہ اور وزارت قانون و انصاف کے علاوہ ، تمام ریاستوں اورمرکزی علاقوں کوفریق بنایا ہے۔درخواست میں لاء کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بدعنوانی کے خطرے ، کالے دھن کی تخلیق اور بے نامی لین دین کو ختم کرنے اور کرپشن پرسیسی انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویزکرے۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ آزادی کے 73 سال گزرنے کے بعد بھی ، 50 فیصد آبادی بحران کی شکارہے اوروسیع پیمانے پر بدعنوانی کے باعث اسے معاشی میں مشکلات کا سامنا ہے۔