بدلتے زمانے میں عید الفطر کا پیغام اور مرد مؤمن کا کام-ڈاکٹر جسیم الدین

گیسٹ فیکلٹی، شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، دہلی
خاتم الانبیاء والمرسلین، شفیع المذنبین،سرورکونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت پرخلوص لہجہ میں اہل ایمان کو تلقین فرمائی:”لوگو! اسلام کو پھیلاؤ (سب کو سلام کرو سب کو سلامتی کی دعائیں دو) اور بھوکو ں کو کھانا کھلاؤ اور رات کو محو خواب ہونے کے بعد، نرم ونازک بستر سے الگ ہوکرتہجدادا کرو، اس کے بدلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤگے،یہ ہے خالق کی عبادت اورمخلوق کی خدمت۔پھر فرمایا اللہ کا شکر گزار بندہ وہی ہوتا ہے جو لوگوں کاشکر گزار ہو(مسلم)ایک جگہ اور ارشاد فرمایا اگر لوگ اپنی دعاؤں کو قبولیت کے مقام تک پہنچانا چاہتے ہیں اور اپنی پریشانیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو خدا کے بندوں کی ضروریات پوری کریں۔
الغرض اسلام نے انسانی زندگی کا پورا نقشہ اور معلومات زندگی کا پورا خاکہ پیش کر دیا ہے اوریہ بھی واضح کردیا ہے کہ خدا کا یہ دین، دین اسلام، انسانیت کا مذہب ہے اوریہ مذہب، پیشہ و ر مذہبی لوگوں کے کسی طبقہ کو تسلیم نہیں کرتا اور عبدو معبود کے درمیان کسی قسم کی اجارہ داری کو حائل نہیں ہونے دیتا، ہر روح کسی پادری، پنڈت، پروہت، پیر، نیم ملا کی وساطت کے بغیر اپنے پیدا کرنے والے کی طرف صعود کرتی ہے ایک مضطرب دل کو تسکین دینے والی ہستی کے حضور میں جانے کے لیے ذاتی مفادات کے مدعیوں کی ایجاد کردہ راہوں اور رسموں کی کوئی گنجائش نہیں ہر انسان اپنا وکیل وشفیع ہے۔اسلام میں کوئی شخص کسی کو غلام نہیں بنا سکتا۔ سب خدا کے بندے اور غلام ہیں بہ حیثیت انسان سب مساوی درجہ رکھتے ہیں صرف تقوی قابل اعزاز ہے، ارشاد گرامی ہے، کلکم را ع و کلکم مسؤول عن رعیتہ(حدیث) تم میں ہر شخص راعی ہے۔ نگراں ہے اورمسؤول ہے۔ ہر ایک کو جو ابدہ ہونا ہے اپنی رعایا کے بارے میں۔
عید الفطر اسلام کا عظیم تہوار ہے یہ تہوار خدا پرستی اوراسلامی تہذیب کا آئینہ دار ہے، عید الفطر میں فرندان اسلام کی ذمہ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں وہ پوری انسانیت کے لیے رحمت اورسلامتی کے ضامن ہیں، امن، سلامتی، عدل، مساوات ہمہ گیر بھائی چاری عالمگیری محبت و اخوت اور فرقہ دارانہ ہم آہنگی کے روشن مینار ہیں اس عظیم تہوار عید الفطر میں فضول خرچی، رسم و رواج اور غیر معقول طرز زندگی کی گنجائش نہیں ہے، اسراف تبذیر، رنگ رقص اور لہوولعب یعنی غیر معنی کوئی فعل وعمل، عید الفطر کے مقدس پروگرام سے خارج ہیں، یا د رکھیے قومی کرداراور صحت مند معاشرہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی تعمیل سے وجود میں آتا ہے، مسلمان صحیح الفکر اور سلیم الدماغ ہوتا ہے، اور اسی صحت فکر و ذہن کی بنیاد پر مسلمان اسلام کا ترجمان بنتا ہے اوریہ مسلمان اسلام کی تصویر کی صحیح عکاسی کرتا ہے، ایک طرف اس کی بے پناہ مسرت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ پوری گرم جوشی کے ساتھ رمضان المبارک کااستقبال کرتاہے، رمضان کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے تعلق مع اللہ کے ہر عنوان کو سرانجام دیتا ہے اور دوسری طرف خدا کی مخلوق خدتم اور انسانی حقوق کی ادائیگی میں سر گرم عمل ہوتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے، بیوی بچوں، قرابت داروں اوررشتہ داروں کے حقوق ادا کرتا ہے، پڑوسیوں، دوستوں، بیواؤں یتیموں، بیماروں، مسکینوں اورتمام انسانوں کے حقوق ادا کرتا ہے، سب کو خوش کرتا ہے مسرت و راحت سے ہمکنار کرتا اور دشمنوں کی دشمنی کو دوستی سے بدل دیتا ہے اس طرح انسانی معاشرہ پر مسرت و انبساط کی لہر دوڑ جاتی ہے، ماحول خوش گوار بن جاتا ہے اور عید الفطر کی خوشویں سے اسلامی تہذیب کا جلوہ فضا میں طاری ہو جاتاہے۔آئیے عید کے پس منظر بھی نگاہیں دوڑائیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو آپ نے وہاں بھی یہ دیکھا کہ چند یوم مخصوص ہیں جن میں لہوو لعب کے مظاہرے ہوتے ہیں اورتمام متعلقہ لوگ اس میں شریک رہتے ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان تہواروں کے دن ہیں جن کا سلسلہ برسوں سے چلا آرہا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے تمارے لیے دو دن مقرر کئے ہیں جو ان سے کہیں بہتر ہیں اور وہ ہیں عید الفطر اور عید الاضحی۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ہر سال ان عیدوں کو اسلامی طریقے پر منا کر قیامت تک آنے والے حضرات کی مستقل رہنمائی فرمادی۔ احادیث میں تفصیل سے ان سب اعمال کا تذکرہ موجود ہے۔ جن کی رو سے بنیادی حیثیت اور عیدالفطر میں نماز عید اور صدقہ فطر کو حاصل ہے، نماز عید سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے بعد حضرات خلفا ء راشدین خطبہ دیتے اورصدقہ فطر کے احکام وغیرہ سے لوگوں کو باخبر کرتے۔ صدقہ، فطر کے سلسلے میں یہ ہدایت تھی کہ جو لوگ بھی حیثیت رکھتے ہیں، اپنے اوراپنے اہل وعیال کی طرف سے صدقہ فطر نکال کر مساکین کو دے دیا کریں اور یہ اشارے بھی ملتے ہیں کہ اسے جتنا جلد ہو سکے ادا کر دیاجائے۔ اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ عید کے بنیادی عناصر دو ہیں۔ رب کریم کی بندگی کے لیے سجدہ ریزہ ہونا جس کے لیے دوگانہ عید کو واجب قرار دیا گیا اور غریبوں کی غمخواری اور باخبر گیری کرنا جس کے لیے صدقہ، فطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان نکات پر غور کرنے سے ہم خود بھی سمجھ سکتے ہیں کہ عید بے شک ہمارا تیوہار ہے لیکن اس کی نوعیت وہ ہرگز نہیں ہے جو دوسروں کے یہاں ان کے تہواروں کی ہے۔ اسلامی نظریہ ہر ہر قدم پر اطاعت فرماں برداری کا ہے اور اس کے لیے اسلامی تعلیمات میں مکمل ہدایات موجود ہیں اور عید کا معاملہ بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ چنانچہ انسانی مزاج کی رعایت کرتے ہوئے اسلام نے خصوصی دن متعین تو کر دئے ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ اجتماعیت کو اور اجتماعیت کے اظہار کو اچھا سمجھا گیا ہے لیکن اس کو عبادت سے ہم آہنگ کردیا گیا ہے جس میں بندگی کا بھرپور اظہار بھی ہے اور قوم کے بے کس اور بے سہارا اشخاص کا تعاون بھی ہے۔ عید کے یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جنہوں نے اسلامی عید کو دوسرے تہواروں سے ممتاز کر دیا ہے اور اس سے اسلام کا یہ مزاج بھی ظاہر ہو کر سامنے آجاتا ہے، کہ بندگی کے تقاضوں کو پورا کرنا ہر حال میں مقدم ہے چاہے وہ خوشی کا موقع ہو یا رنج و غم کا۔
البتہ اسلام نے خدمت خلق اور قوم کے سہارا افراد کی رعایت کو بھی کار ثواب قرار دیا ہے اوراسے یا تو ایک فرض کی حیثیت دی ہے اور جہاں فرض نہیں ہے اس حالت میں بھی اسے بہت بڑے اجر و و ثواب والا عمل بتایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ موقع جن میں عام لوگ صرف خرافات میں بدمستی کو اصل موضوع سمجھتے ہیں، اسلام نے ان مواقع میں بھی ان چیزوں کو اہمیت اوراولیت دی ہے۔ عید کی ایک حیثیت انعام اور تحفہ کی بھی ہے۔ دن بھر اللہ کی رضا کے لیے بھوکے پیاسے اوردوسری تمام نفسانی خواہشات سے دور ہے اور ایک دن یا ہفتہ نہیں پورا ایک مہینہ اس حال میں گزارا پھر راتوں کو سب سے پہلے تراویح میں مشغول رہ کر نماز اور قرآن سننے کی سعادت حاصل کی پھر حسب توفیق نوافل تسبیحات اور تہجد وغیرہ میں ان کاوقت مصروف رہا۔ مانگنے والوں نے خدا سے خیر و سلامتی کی دعائیں مانگیں اوراس کے فضل و کرم اور بخشش و مغفرت کے حقدار قرار پائے، صدقہ خیرات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا غرضیکہ خیر اور بھلائی کے جتنے ذرائے تھے ان سب میں پیش پیش رہے۔ عید کا دن انہیں عبادت گزاروں کا دن اوراللہ پاک کی طرف سے آج ان کو انعام دیا جانے والا ہے گو یا حقیق معنوں میں اصل عید تو انہیں کی ہے جنہوں نے رمضان کو رمضان گزارا اور بندگی کے تقاضے پورے کیے، مگر ان کے طفیل میں دوسرے بھی اس خوشی میں شریک قرار پائے اور عید کے منانے کا حق انہیں بھی عطا کردیا گیا۔ اس موقع پر ایک بات بھی قابل توجہ ہے کہ عبادت اور نیکیاں جو رمضان میں کی جاتی ہیں، لوگ خیر اوربھلائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں او جس طرح زیادہ سے زیادہ عبادت گزار بندے بن کر اپنا وقت گزارتے ہیں یہ صرف رمضان ہی کے لیے نہیں ہے، بلکہ بندۂ مؤمن کا یہ شعار ہونا چاہیے کہ اس کا ہر عمل سنت وشریعت کا مظہر ہو، دوسروں کے لیے باعث کشش ہو اور وہ بندۂ مؤمن کے طرزحیات میں اپنی کامیابی وکامرانی کی جھلک پا رہا ہو، اگر ہمارے اعمال واخلاق اسوہئ نبوی کا پرتو ہوجائے تو آج بھی معاندین اسلام اپنی تمام تر ضد اورہٹ دھرمی کے باوجود ایک نہ ایک دن اسلام کے سایہ ٔ عاطفت میں ضرور آجائیں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*