بدلتے موسم کے تقاضے ـ مسعود جاوید

 

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

مایوسی کفر کے مترادف ہےـ مخصوص نظریہ والوں اور پس پردہ سیاسی مقاصد رکھنے والوں کے ذریعے چلاۓ گئے بیانیوں پر توجہ دے کر اپنا خون جلائیں اور نہ خوف و ہراس میں مبتلا ہوں۔

"آپدا میں اوسر ” کے اصل مخاطب تو آپ ہیں ۔ مصیبت آن پڑی ہو اور ہر طرف دروازے بند نظر آرہے ہوں تو اسے بطور چیلنج لیں اور ہمت ہار کر بیٹھ جانے کی بجائے نئے راستے اور نئے مواقع تلاش کریں۔

اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آج سے دس پندرہ سال قبل ہمارے لئے حالات زیادہ سازگار تھے تو اعدادوشمار سامنے رکھ کر موازنہ کر لیجئے حقیقت سامنے آ جائے گی۔
کیا مسلمانوں میں آج جس سطح کی تعلیمی بیداری ہے وہ دس سال پندرہ سال قبل تھی؟ کیا سول سروس ؛مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نوکر شاہی کے مقابلہ جاتی امتحانات میں ہمارے اتنے لوگ کامیاب ہوتے تھے؟
کیا آج سے دس پندرہ سال قبل یونین پبلک سروس اور اسٹیٹ پبلک سروس اسی طرح میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ کے لئے ہمارے نوجوانوں میں آج کی طرح بیداری تھی ؟ کیا خصوصی مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے ملی سطح پر کوچنگ کے مراکز ہوتے تھے ؟ ظاہر ہے نہیں۔ اس لئے کہ یہ سب دین ہے بابری مسجد کی شہادت کی۔ شہادت سے قبل رتھ یاترا کے ذریعہ مسلم مخالف مہم چلائی گئی جس سے پورے ملک کے مسلمانوں میں خوف وہراس اور دہشت پھیلنا فطری تھا۔
اس وقت ایسا لگنے لگا تھا کہ اس سیکولر ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت مٹا دی جائے گی۔ ملک کے طول و عرض میں ہر مسلمان اپنے وجود کو لے کر سہما ہوا تھا اور بقاء کے لئے متفکر تھا، لیکن:
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری !

جب مسلمانوں نے دیکھا کہ عنقریب انہیں دیوار سے لگا دیا جائے گا تو ایک نئی سوچ اور ایک نیا آئیڈیا ابھر کر سامنے آیا اور وہ تھا” آپدا میں اوسر” یعنی نامساعد حالات میں پرعزم ہو کر نئے راستے تلاش کرنا ۔
تعلیمی میدان میں یہ حصولیابیاں اسی کا ثمرہ ہیں۔
ملت کے دور اندیشوں کو ادراک ہوا کہ فرقہ پرستوں کی سازشوں کا جواب تعلیم ہی سے دیا جا سکتا ہے،چنانچہ ملک کے مختلف حصوں میں عصری اعلیٰ تعلیم بالخصوص job oriented education پر توجہ دی گئی نہ صرف میڈیکل اور انجینئرنگ کے متعدد کالجز قائم کئے گئے بلکہ سرکاری میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ کے اہل بنانے کے لئے NEET , JEE کوچنگ کے مراکز بھی کھولے گئے۔

ان دنوں ایک بار پھر مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے والی حرکتیں عروج پر ہیں ان واقعات اور بالخصوص میڈیا کے ذریعے تشہیر کی وجہ سے ممکن ہے مسلمان سہمے ہوئے یا پریشان ہوں لیکن اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ ہم اور آپ پریشان ہو کر بھی کچھ کر نہیں سکتے۔ تاریخی مساجد ہوں یا آثار قدیمہ، قصبوں اور شہروں کے نام ہوں یا سڑکوں کے نام، دعویٰ کے ساتھ جس طرح کے دلائل پیش کئے جا رہے ہیں اسے اکثریتی فرقہ کے بعض عناصر کا احساس تعلی کہا جا سکتا ہے۔
اگر تازیانہ ہی ہمیں صحیح سمت میں گامزن کرتا ہے تو آج کل کی زہر آلود فضاء تازیانہ سے کم نہیں ہے اس لئے ایک بار پھر کمر بستہ ہو کر روایتی عصری تعلیم بی اے ایم اے پی ایچ ڈی کی بجائے نئی نسل کو اعلی پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع فراہم کرائے جائیں ۔ اس کے لئے مناسب اخراجات پر معیاری تعلیم کے کالج اور انسٹیٹیوٹ کھول کر یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ فیس اور اخراجات کی قلت کے باعث اعلیٰ تعلیم سے کوئی محروم نہ رہ جائے۔ یہ جب ہی ممکن ہوگا جب تجارتی نفع نقصان سے بلند ملی درد کے جذبے سے اداروں کے بانیان سرشار ہوں گے۔