بدلتے حالات میں اردو تدریس کابدلتا منظر نامہ-پروفیسر اسلم جمشید پوری

کورونا جیسے مہلک مرض کے روز بہ روز پھیلتے دائرے اوراس کے نتیجے کے طور پر گھروں میں قید زندگی کو دیکھتے ہوئے سب کی زبان پر یہی جملے ہیں ”اب کیا ہوگا؟“ کیا لاک ڈاؤن پوری طرح کھل جائے گا؟ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد کیا ہوگا۔ اس پورے عمل میں جبکہ گذشتہ تین ماہ سے ہرکاروبارِ زندگی بُری طرح متاثر ہے۔
کورونا کے سبب لاک ڈاؤن کا ہونا اور جسمانی دوری کے فارمولے سے بیماری سے مقابلہ کرنے کے نتیجے میں پیدا شدہ تنہائی نے جیسے سارا منظر ہی بدل دیاہے۔ طرز ِ حیات بدل گیاہے۔ اب وہی باقی رہے گا جو وقت کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھال لے گا۔ زبانوں کے سامنے بھی ایسے ہی حالات درپیش ہیں، لیکن زندہ زبانیں، خستہ سے خستہ حالات میں بھی دوب کی طرح دب دب کر پھر سر ابھارتی ہیں۔ اُردو بے شک زندہ زبان ہے۔ اسی لیے اُردو نے لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں خود کو آن لائن کرکے اپنا وجود ثابت کر دکھایا ہے۔ آج آن لائن مشاعرے، تعزیتی جلسے، سیمینار(ویبنار) اورمیٹنگیں منعقد ہو رہی ہیں۔
یو جی سی کے احکامات کے مطابق سبھی یونیورسٹیز، حتیٰ کہ پرائمری، سکنڈری اور ہائر سکنڈری درسگاہوں میں بھی تعلیم و تدریس کا کام آن لائن شروع ہو گیا۔ سائنس اور دیگر مضامین انجیئرنگ، ایم بی اے، ایم سی اے وغیرہ کے لیے آن لائن نظام ِ تعلیم کوئی نئی بات نہیں لیکن اردو کے لیے یہ ضرور بالکل نئی صورتِ حال ہے۔ مگر مشہور مقولہ ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ اردو پر بھی یہ بات صادق آئی اور یونیورسٹی اور کالجز کے زیادہ تر شعبہء ہائے اُردو نے اُردو کی تعلیم و تدریس کو آن لائن کر دیا ہے۔ یہ بات جہاں اُردو والوں کے لیے پُر خطر اور انجان راستے کی مانند ہے وہیں مجھے لگتا ہے اُردو کے فروغ کا ایک اور در وا ہوا ہے۔ نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں۔ بڑی اور Establishedیونیورسٹیز کے شعبہء ہائے اُردو کے لیے یہ بات بہت زیادہ نئی اور حیران کن نہیں ہے۔ وہ بہ آسانی اس نئی تکنیک سے تدریس کا کام انجام دے رہے ہیں، جبکہ شہری علاقوں سے دور، کمپیوٹر، فورجی موبائل، انٹر نیٹ کنکشن جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کالجز اور یونیورسٹیز کے شعبہء ہائے اردو کے لیے یہ تجربہ بہت کار آمد نہیں۔ ملے جلے تاثرات ہیں۔ زیادہ تر صدر،شعبہء ہائے اردو کا مانناہے کہ کلاس روم تدریس ہی سب سے بہتر ہے۔اس کا بدل کوئی اور طریقہ نہیں۔ یہ زمانہ مجبوری کا زمانہ ہے۔ ان کھٹے میٹھے تجربات کے باوجود یہ بات باعث مسرت ہے کہ ایسے حالات میں اردو نے خود کو رائج تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔ اس پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ کنواں پیاسے کے پاس آگیا ہے۔
ہندوستان کی ڈیڑھ درجن سے زائد اہم، خاص اور بڑی یونیورسٹیز کے شعبہء ہائے اردو کے صدر، اساتذہ اور ذمہ داران سے اس سلسلے میں گفتگو کی گئی۔ سب سے کچھ باتیں، کچھ سوال، مشترک پوچھے گئے۔ سب سے ان کے یہاں آن لائن تدیس کے لیے اپنائی جارہی حکمت عملی اورطریقہئ کار کے بارے میں پوچھا گیا۔ ساتھ ہی پہلے ذریعہ تعلیم Class Room Teaching اوراب لاک ڈاؤن میں استعمال ہونے والے ذریعہ تعلیم یعنی Online Teaching System کے بارے میں تاثرات بھی لیے گئے۔
1۔ قومی نہیں بین الاقوامی سطح پر اردو کا سب سے بڑا شعبہء، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ہے۔ان دنوں شعبے کے سربراہ معروف محقق وناقد پروفیسر ظفر احمد صدیقی ہیں۔ ان سے جب آن لائن تدریس کی بابت گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے اساتذہ لاک ڈاؤن کے دوران Free Conference.com ایپ کے ذریعہ پڑھا رہے ہیں۔ اس ایپ میں یوں تو آڈیو اور ویڈیو دونوں سہولتیں موجود ہیں، لیکن ہم لوگ آڈیو کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس ایپ میں بہت سارے فیچر ہیں مثلاً آڈیو ریکارڈنگ، تاریخ کے ساتھ، کتنے لوگ کتنی بار سن چکے ہیں۔ کلاس شروع ہوتے ہی جڑنے والے طلبہ کے نام تحریر اور آواز کے ساتھ سنائی دیتے ہیں۔ طالب علم کبھی بھی ریکارڈنگ سن سکتے ہیں۔طلبہ کے کلاس کے اعتبار سے وہاٹس ایپ گروپ بنائے گئے ہیں۔گروپ میں تحریر ی مواد اور آواز کی رکارڈنگ وغیرہ لوڈ کی جاتی ہے۔ دیگر کئی اساتذہ Zoom in اور Google Classes کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔
پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے بتایا کہ کلاس روم تدریس کا معاملہ بہتر اور مختلف ہے۔ اس طریقہ ئ تدریس میں ہر طالب علم پر استاد کی نظر ہوتی ہے۔ طالب علم سننے کے علاوہ بالکل الرٹ ہوتا ہے۔ کسی بھی وقت سوال کر سکتا ہے۔ جبکہ آن لائن تدریس میں رابطہ یک طرفہ ہوتا ہے۔یہ بالکل ریڈیو کے پروگرام جیسا یک طرفہ ہے۔انٹرنیٹ کی مجبوری آڑے آتی ہے۔ بعض اونچی اونچی عمارتوں کے علاقوں میں انٹرنیٹ کام نہیں کرتا، لیکن لاک ڈاؤن جیسے حالات میں یہ طریقہ غنیمت ہے۔
2۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ہندوستان اور بیرون ملک اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔اس یونیورسٹیکا شعبہء اردوپوری دنیا میں مشہور ہے۔متعدد بڑی اورعلمی شخصیات شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔شعبہ اردو کے موجودہ صدر پروفیسر شہزاد انجم نے اس تعلق سے بتایا کہ آن لائن تدریس کے لیے ہماری یونیورسٹی ایک Training کو رس کرارہی ہے جس میں اساتذہ کو استعمال کے طریقہ بتائے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے اساتذہ آڈیو اور ویڈیو طریقے سے کلاس لے رہے ہیں۔ وہاٹس ایپ گروپ بنائے گئے ہیں اور ضروری نصابی مواد طلبہ کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے مزید کہا کہ آن لائن تدریس کے مسائل کافی ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ابھی تو صرف خانہ پُری کی جارہی ہے۔ یہ طریقہ کلاس روم تدریس کے مقابلے بہت کمزور ہے۔
3۔ کئی اعتبار سے ہندوستان کی نمبر ون اورمنفرد یونیورسٹی کے طور پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دنیا میں شہرت رکھتی ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جدید ٹکنالوجی کا بہتر استعمال سب سے پہلے ہندوستان کی جن جامعات میں ہوتا ہے ان میں جے این یو صف اول میں ہے۔ جے این یو کے شعبہء اردو کے استاد پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اس سلسلے میں بڑی تفصیل سے گفتگو کی۔انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا شعبہء اس معاملے میں قبل سے ہی کام کر رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہم لوگ وہاٹس ایپ Hangs out اورZoom in کے ذریعہ کلاس لے رہے ہیں۔ زیادہ تر طلبہ اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دور دراز کے طالب علم حتیٰ کے کشمیر کے طلبہ بھی اس طریقہئ تدریس کا فائدہ گھر بیٹھے اُٹھا رہے ہیں۔ اس میں حاضری بھی توقع سے زیادہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آن لائن طریقہ آج وقت کا تقاضہ ہے،لیکن کلاس روم طریقہ اب بھی بہتر ہے۔ وہاں روبرو گفتگو کرنے کا الگ ہی تاثر ہوتا ہے۔ آن لائن میں انٹر نیٹ کی رفتار اور موجودگی دونوں مخل ہوتی رہتی ہے۔ لیکن آنے والا وقت آن لائن طریقہ کا ہی ہے۔ ہمیں اس سمت بہتر کرنا ہی ہوگا۔
4۔ دہلی یونیورسٹی، ہندوستان کی ایک بڑی یونیورسٹی ہے۔اس سے متعدد کالجز کا الحاق بھی ہے۔ یہ ہندوستان کی واحد یونیورسٹی ہے جس کے تحت کثیر تعداد میں ایسے کالجز ہیں، جن میں شعبہء ہائے اردو، کافی زمانے سے زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ موجودہ صدر شعبہء اردو پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ زیادہ تر اساتذہ Whatsapp Group بنا کر طالب علموں کو پڑھارہے ہیں۔ ضروری نوٹس بھی اپلوڈ کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ سوالات بھی کر رہے ہیں۔ ایک نیا تجربہ ہو رہا ہے۔
دونوں طریقہئ تدریس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا یہ کبھی بھی کلاس روم تدریس کا بدل نہیں ہو سکتا۔ چاہے کتنی بھی ٹکنالوجی کا استعمال کر لیں۔ باڈی لینگویج، کے علاوہ اشعار کی تشریح، افسانے وغیرہ پڑھانا بہت دشوار کن ہے۔ آن لائن طریقے میں براہ راست رابطہ نہیں ہو پاتا۔کتابوں اوراساتذہ کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔
5۔ بنارس یونیورسٹی بھی اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر ہندوستان کی ایک بڑی اور مشہور یونیورسٹی ہے۔ شعبہء اردو یہاں خاصا قدیم ہے،فی الحال پروفیسر آفتاب آفاقی شعبہء اردو کے صدر ہیں۔ انہوں نے آن لائن تدریس کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں نے کلاسز کے اعتبار سے وہاٹس ایپ گروپ بنا رکھے ہیں، جن کے ذیعہ تدریس کاعمل جاری ہے۔ آڈیو اور ویڈیو بھی لوڈ کئے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی کی ویب سائٹس پر بھی سارا مواد لوڈ ہوتا ہے۔ انہوں نے آن لائن تدریس کے تعلق سے صاف کیا کہ استاد کا بنیادی کام Interaction ہے، جو اس تکنیک میں بہتر نہیں ہو رہا ہے۔ بلیک بورڈ کا استعمال نہیں ہے۔ بہت سے طلبہ کے پاس نہ موبائل ہے نہ وہاٹس ایپ، پھر نیٹ کی بھی دقت ہے۔ کلاس روم تدریس میں جو مزہ ہے وہ اس میں نہیں۔ ہاں یہ ایک اچھا متبادل ہو سکتا ہے۔ کوئی ادارہ ہماری دقتوں کے پیش نظراقدامات کرے،تو اچھے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
6۔ الہ آباد یونیورسٹی کا شمار ہندوستان کی قدیم جامعات میں ہوتا ہے۔یہاں کا شعبہء اردو بھی خاصا قدیم ہے۔ آج کل پروفیسر شبنم حمید صدر شعبہ ہیں۔ انہوں نے شعبہء اردو کی لاک ڈاؤن میں کار کردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہم لوگ Zoom in اور Watsappکے ذریعہ تدریس کر رہے ہیں۔ مضامین اور اسائمنٹ دیے جارہے ہیں۔ ریختہ سے بھی استفادہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی Swayam پر جو اچھی ریکارڈنگ موجود ہیں، انہیں بھی طلبہء کے لئے مہیا کر رہے ہیں۔
یہ طریقہ تو مجبوری ہے۔ اس میں انٹر نیٹ اور 4G موبائل کی ضرورت ہے جو ہر طالب علم کے پاس موجود نہیں۔ ادب تو ڈھنگ سے کلاس روم میں ہی پڑھایا جا سکتا ہے۔
7۔حیدرآبادسنٹرل یونیورسٹی جنوبی ہندوستان کی بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں کا شعبہء اردو خاصا متحرک اور فعال رہا ہے۔ آج کل ڈاکٹر فضل اللہ مکرم صدر شعبہء اردو ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یوجی سی اور یونیورسٹی کے احکامات کے باعث آن لائن تدریس شروع ہوئی ہے۔ بہت زیادہ طلبہ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ دور دراز کے طلب علم نہیں جڑ پا رہے ہیں۔ ویسے ہمارے اساتذہ وہاٹس ایپ کے علاوہ پی جی پاٹھشالہ سے بچوں کو لنک فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آن لائن طریقہ بہتر ہو سکتا ہے۔ آئندہ اُمید ہے کہ یو جی سی،اسی طریقہء تدریس کو لازمی کر دے۔ لہٰذا ہم اردو والوں کو اسے مزید بہتر بنانا ہوگا۔
8۔ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی، حیدر آباد ملک کی اپنے آپ میں منفرد یونیورسٹی ہے۔اس یونیورسٹی کے ملک کے مختلف علاقوں میں بھی کیمپس ہیں۔ یونیورسٹی کے مین کیمپس حیدر آباد ، جسے مرکزی حیثیت حاصل ہے، میں شعبہء اردو کے موجودہ صدر پروفیسر نسیم فارس ہیں۔ انہوں نے پوری یونیورسٹی کے شعبہء ہائے اردو کے تعلق سے فرمایا کہ ہم لوگ Zoom in کے علاوہ وہاٹس ایپ گروپ اور آڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ آن لائن تدریس کر رہے ہیں۔ طلبہ کو اہم نصابی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یونیورسٹی کی ویب سائٹس پر بھی مواد لوڈ کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر نسیم فارس نے مزید کہا کہ کلاس روم تدریس میں ایک ایک طالب علم سے بہتر اور راست تعلق بنا رہتا ہے۔ آن لائن میں اس کا امکان کم ہے۔ زیادہ تر بچوں کے پاس ایسی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ 9۔ بہار میں پٹنہ یونیورسٹی خاصی قدیم یونیورسٹی ہے۔ اس کا شعبہء اردو بھی بہت پُرانا ہے۔ شعبہء اردو کے صدر پروفیسر جاوید حیات ہیں۔ ڈاکٹر شہاب ظفراعظمی نے اس سلسلے میں گفتگو کے دوران بتایا کہ ہمارے یہاں تدریس آن لائن ہو رہی ہے۔ ایم اے کے مختلف گروپ بنا کر انہیں نصابی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹس پر بھی سب کچھ موجود ہے۔ڈاکٹر شہاب نے ایک خاص بات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے بتایا کہ عام طور پر طلبہ نوٹس کے متمنی اور خواہش مند ہوتے ہیں۔آن لائن میں ایسے طالب علم خوش ہیں، کہ انہیں گھر بیٹھے بیٹھے نوٹس مل رہے ہیں۔ یہ نظام کلاس روم تدریس کا بہترین متبادل تو نہیں لیکن ایک نیا دریچہ ضرور ہے۔ ہمارے طلبہ اور اساتذہ اس کے ماہر نہیں ہیں۔اچھے ایپ اور تربیت کے بعد معاملہ بدل سکتا ہے۔
10۔ رانچی یونیورسٹی، جھار کھنڈ کی بڑی یونیورسٹی ہے۔ شعبہء اردو کے صدر ڈاکٹر منظر حسین نے اس بارے میں پرجوش انداز میں بتایا کہ ہم لوگ یونیورسٹی کے احکام کے مطابق آن لائن تدریس کر رہے ہیں۔ دوسرے اور چوتھے سمیسٹر کے طلبہ کو وہاٹس ایپ گروپ کے ذریعہ پڑھا یا جا رہا ہے۔ پھر ہماری یونیورسٹی کااپنا ریڈیو Khanchi Radio Station ہے۔ ہم لوگ آڈیو لیکچر، بھیج دیتے ہیں جو پورے علاقے میں نشر ہو جاتے ہیں۔ گاؤں دیہات کے طلبہ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ پھر ایک Question Bank بھی بنایا جا رہا ہے۔ جس کا استعمال Objective Paper میں ہوگا۔ کلاس روم اور آن لائن تدریس کے تعلق سے منظر حسین نے کہا کہ دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ آن لائن میں ہر چیز محدود ہے۔ وقت، تعداد، کنکشن سب کا اہم کردار ہوتا ہے، لیکن حالات کے پیش نظر، یہ بدل بہتر ہے جسے دیہاتی زبان میں کہا جا سکتاہے کہ نئے ماما سے کانا ماما اچھا ہے۔
11۔ جموں یونیورسٹی، ہندوستان کی خوبصورت جامعات میں سے ایک ہے۔ یہاں کا شعبہء اردو خاصا قدیم ہے۔ آج کل شعبہء اردو کے صدر پروفیسر شہاب عنایت ملک ہیں۔انہوں نے بتایاکہ وہاٹس ایپ گروپ بناکر تدریس جاری ہے۔ طلبہ میسجز کے ذریعہ سوالات کرتے ہیں۔ نصابی مواد لوڈ کیے جارہے ہیں۔ Zoom in کا بھی استعمال کر رہے ہیں،لیکن نیٹ کی رفتار کبھی کبھی مانع ہو جاتی ہے۔ کلاس روم تدریس کی الگ بات ہے۔ آمنے سامنے ہونے سے طلبہ پر ایک طرح کا تعلیمی ماحول بنا ہوتا ہے۔ استاد کی ہر طالب علم تک رسائی ہوتی ہے۔ سوال و جواب ہوتے ہیں، لیکن آن لائن تدریس میں وہ روح پیدا نہیں ہوتی کام چلاؤ ہے۔ بہتر ہو سکتا ہے۔ کوئی مرکزی ادارہ اِدھر پیش رفت کرے،تو معاملہ بدل سکتا ہے۔
12۔کشمیر میں گذشتہ برسوں ایک نئی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا ہے۔ سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں اس وقت شعبہ ء اردو کی انچارچ ڈاکٹر نصرت جبیں ہیں۔ انہوں نے آن لائن تدریس کے تعلق سے بتایا کہ یہاں انٹر نیٹ کی بہت دشواری ہے۔ زیادہ تر جگہ 2G کنکشن ہی دستیاب ہیں۔اس کے باوجود ہم لوگ Zoom in، وہاٹس ایپ کا استعمال اورٹیلی فونک، کلاس لے رہے ہیں۔ آڈیو کلاس بھی جاری ہیں۔ زیادہ تر طلبہ اس سے جڑے ہیں۔ آن لائن تدریس کی راہ میں 2G کی پریشانیاں، انٹر نیٹ کی رفتار اوردستیابی حائل ہے۔ زیادہ تر بچوں کے پاس چھوٹے چھوٹے بٹن موبائل ہیں اس لیے Video کا تو سوال ہی نہیں اُٹھتا۔ ویسے کلاس روم تدریس کا کوئی متبادل نہیں۔
13۔ممبئی یونیورسٹی مہاراشٹر کی بڑی یونیورسٹی ہے۔ شعبے کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر معزہ قاضی انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران تدریس پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور ان کے اساتذہ Duo, Zoom ، وہاٹس ایپ اور آڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ تدریس کر رہے ہیں۔ اچھالگ رہا ہے بس ہم سب تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ اس لیے کچھ دشواریاں ضرور آرہی ہیں۔ ہم لوگ نصابی مواد، آڈیو لیکچروغیرہ طلبہ کو مہیا کرارہے ہیں۔ شہری علاقے کے طلبہ بہت پرجوش ہیں۔ کچھ علاقوں میں انٹر نیٹ کی سہوست کم ہے، وہاں دقت ہے۔ ڈاکٹر مغرہ قاضی نے مزید بتایا کہ کلاس روم تدریس تو بہت بہتر ذریعہ ہے۔ جہاں بہت سے تجربے بھی کر سکتے ہیں PPT بہت موثر ہوتاہے۔ آن لائن کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
14۔ راجستھان یونیورسٹی،ریاست راجستھان کی ایک پرانی اور مقبول جامعہ ہے۔ اس وقت شعبہء اردو کی کمان ڈاکٹر ناصرہ بصری صاحبہ کے پاس ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری یونیورسٹی نے آن لائن تدریس کے لیے منع کر دیا ہے۔ ہم لوگ ٹیلی فون پر طالب علموں کو ہدایات دے رہے ہیں۔ آڈیو کانفرنسنگ بھی کر لیتے ہیں۔ نصاب کی ضرورت کے مطابق ان کو کتاب کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔ ریختہ سے بھی مدد لے رہے ہیں۔ بعض مواد کا اسکرین شاٹ لے کر طالب علموں کو بھیجتے ہیں۔کلاس روم تدریس زیادہ بہتر ہے۔طلبہ وطالبات سے براہ راست تعلق بنا ہوتا ہے، لیکن آن لائن تدریس ایک چیلنچ ہے۔ اس میں استاد کو زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ خود بہتر مطالعہ کر کے اس طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
15۔ اِدھر دس بارہ برسوں میں جن نئی جامعات کا قیام عمل میں آیا ہے اور وہ بہتر کام کر رہی ہیں، اُن میں لکھنؤ کی جواجہ معین الدین چشتی اردو عربی فارسی، یونیورسٹی ہے۔ شعبہء اردو کے صدر پرفیسر شفیق احمد اشرفی نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ ہم لوگZoom, Webinar اور وہاٹس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے لاک ڈاؤن میں طلبہ اور نصاب کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی کی ویب سائٹس پر بھی مواد جمع کر رہے ہیں۔ کام تو چل رہا ہے لیکن پریشانیاں بھی ہیں۔ گاؤں دیہات کے بچے نہیں جڑ پا رہے ہیں۔ بہت کم طلبہ تک رسائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شعر کی تشریح، افسانے کا متن وغیرہ تو کلاس روم تدریس میں ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ متعدد مثالوں کے ساتھ طلبہ کو سمجھایا جاتا ہے۔ وہ سوال بھی کر لیتے ہیں۔ جبکہ آن لائن میں طالب علم کبھی نظر آتا ہے کبھی نہیں، کبھی صرف آواز، کبھی آواز میں رخنہ پیدا ہو جاتا ہے۔ نقل کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔
16۔ اتر پردیش میں نئی جامعات میں گوتم بدھ یونیورسٹی، گرٹیر نوئیڈا کا بھی الگ مقام ہے۔ شعبہ کی صدارت کی ذمہ داری ڈاکٹر اوم پرکاش کے پاس ہے۔ شعبہ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سُلطانہ نے آن لائن تدریس کے تعلق سے بیایا کہ ہم سب اردو والے Zoom, SKyp، وہاٹس ایپ وغیرہ سے طالب علموں کو پڑھا رہے ہیں۔ وہاٹس گروپ میں بی اے، اور ایم اے کے طالب علموں کے لیے ضروری نوٹس، کتابیں اور آڈیو مٹیریل لوڈ کیے جارہے ہیں۔بہت سے ضروری لنک بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ اسائمیٹ اور ٹیسٹ وغیرہ بھی لیے جا رہے ہیں۔آن لائن تدریس پر ڈاکٹر ریحانہ سُلطانہ نے بیایا کہ بہتر تو کلاس روم تدریس ہی ہے لیکن مجبوری میں ہمیں آن لائن تدریس کو نہ صرف اپنانا ہے بلکہ اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہے۔ طلبہ اور والدین کی سنجیدگی اور تیاری، آن لائن تدریس کو مزید بہتر بنائے گی۔
17۔ بی آر اے بہار یونیورسٹی، مظفر پور کے صدر شعبہء اردو پروفیسر حامد علی خاں نے بہت دلچسپ گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا ایسے وقت میں ان کے علاوہ اساتذہ، کسی نہ کسی مصروفیت میں ہیں۔ میں نے نصاب کے مطابق نوٹس وہاٹس ایپ گروپ پر ڈال دیے ہیں اور رجسٹرار کی میل آئی ڈی پر میل بھی کر دیے ہیں۔ نصاب پورا کرا دیا ہے۔ آن لائن تدریس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ صرف خانہ پُری ہو رہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے Objective طریقے سے امتحان لینے کی بدایت کی ہے۔ میں نے یونیورسٹی اور حکومت کو لکھ دیا ہے کہ آپ لوگ Communication کے معاملے میں طالب علموں کو زیرو کر رہے ہیں۔ اس طریقے میں بالکل سنجیدگی نہیں۔ کلاس روم تدریس کی بات ہی الگ ہے۔
18۔ مغربی بنگال میں عالیہ یونیورسٹی کی شکل میں ایک نئی جامعہ ہمارے سامنے ہے۔ شعبہ اردو میں بہت دنوں بعد مستقل اسامیوں کا تقرر ہوا ہے۔ ڈاکٹر درخشاں زریں صدر شعبہء اردو ہیں۔ انہوں نے لاک ڈاؤن میں تدریس کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ Webinar اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ تدریس کر رہے ہیں۔ ضروری مواد طالب علموں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ ریختہ سے کافی مدد مل رہی ہے۔
کام سب چل رہے ہیں۔ مگر کلاس روم والی سنجیدگی قائم نہیں ہو پارہی ہے۔ ہاں یہ اچھی بات ہے کہ جب استاد آن لائن کلاس لیتا ہے تو سب کچھ ریکارڈ بھی ہوتا ہے، لہٰذا استادالرٹ رہتا ہے۔ وہ تیاری کرتاہے۔ جبکہ کلاس روم میں استاد کبھی کبھی دقت ضائع بھی کرتا ہے۔ ویسے استاد سنجیدہ اوراپنے مضمون میں ماہر ہو تو کوئی سا بھی طریقہ تدریس ہو وہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
20۔ شعبہ اُردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، نے بھی لاک ڈاؤن کے پہلے فینر میں ہی یوجی سی اور یونیورسٹی کے احکامات کے مطابق آن لائن تدریس شروع کر دی ہے۔ طالب علموں کے لیے یہ نیا تجربہ ہے، انہیں بڑالطف آرہا ہے۔ شعبے کے اساتذہ نے بتایا کہ ہم لوگوں نے ابتداء ہی میں ایم اے سال اول، ایم اے سال دوم اور ایم فل کے نام سے وہاٹس ایپ گروپ بنا لیے تھے۔ ان گروپس میں نصابی ضرورت کے مطابق نوٹس، لیکچر اور متن لوڈ کیے جارہے ہیں، ساتھ ساتھ یہ تمام مواد یونیورسٹی کی ویب سائٹس پر بھی اپ لوڈ کیے جارہے ہیں۔ ان میں آڈیو لیکچر، ویڈیو ز اور شائع شدہ مواد شامل ہے۔ کلاسز کے لیے زوم اور اسکائپ کا استعمال کر رہے ہیں۔ طالب جب کم ہوتے ہیں تو وہاٹس ایپ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بھی کلاسز لی جارہی ہیں۔ دوسرے کئی متبادل گوگل میٹیگ،ویب میٹیگ وغیرہ پر بھی کوشش جاری ہے۔ طلبہ بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ حاضری میں زبردست مثبت تبدیلی ہے۔ زیادہ تر طا لب علم رابطے میں ہیں۔ لیکچر کے علاوہ سوال و جواب، اسائمنٹ، سیمینار، کوئز وغیرہ کا اہتمام بھی جاری ہے۔

اُردو آن لائن تدریس کے تعلق سے بہت زیادہ غور و فکر کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ یہ اُردو کے فروغ کے سلسلے میں نیا دریچہ ہے، جس سے نئی تکنیکی ہوائیں آرہی ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم زبان میں در آنے والے نئے جھونکوں کا خیر مقدم کریں۔ یہ بھی تسلیم کہ کلاس روم تدریس بہترین طریقہ ء کار ہے۔ جس کا متبادل بہت مشکل ہے، لیکن جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے۔ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ نے ایک نئی دنیا کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ سائنس، انجیئرنگ، مینجمنٹ اور دیگر ترقی یافتہ زبانوں نے نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے۔ ایسے میں اُردو کو بھی موجودہ عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہی چاہیے۔ ضروری ہے کہ آن لائن اردو تدریس کے سامنے در پیش مسائل کو ہمیں حل کرنا چاہئے، اور ایسے ایپ تیار کیے جائیں جس کے ذریعہ اردو کی تدریس آسان ہو سکے۔ ساتھ ہی ساتھ اردو اساتذہ کے لئے ایک خاص تربیتی پروگرام بھی منعقد ہو۔ یہ ہی نہیں ہمارے پاس ادب کی ہر صنف اور ہر موضوع کا ایک بڑا،E-content))ای ذخیرہ ہونا چاہیے۔ ہر طرح کا متن (داستان،ناول،افسانہ،نظم،غزل،قصیدہ،مرثیہ،وغیرہ)صحیح املااور تلفظ کے ساتھ ماہرین سے رکارڈ کروائے جائیں۔ان اقدامات کے بعد اردو کسی بھی مضمون اور زبان کے مقابل کھڑی ہو سکے گی۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)