بدنصیب ماں-آبیناز جان علی

(موریشس)

پنچوتی موریشس کے شمال میں ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ اس علاقے میں یہاں وہاں کچے مکانات نظر آتے ہیں۔ رضیہ اسی قصّبے کی لڑکی تھی۔ ایچ۔ ایس۔ سی کے بعداس نے نرس کی ٹریننگ مکمل کر کے اپنے ضعیف ماں باپ کا نام روشن کیا۔ اسی سال وہ ریاض سے ملی جس نے اس کی سادہ لوحی اور نیک خصلتوں سے متاثر ہو کر رضیہ کے والدین سے اس کا ہاتھ مانگا۔ رضیہ کو بھی ریاض کا بھولاپن بہت بھایا اور اس نے شادی کے لئے حامی بھری۔ ریاض پاس کے گاؤں پلین دے روش کا رہنے والا تھا اور پورٹ لوئی میں سرکاری نوکری کرتا تھا۔ ہر روز دونوں ایک ہی بس سے سفر کرتے۔ رضیہ کا تقرر پورٹ لوئی کے شفاخانے میں ہوا۔ دورانِ سفر ریاض کی نگاہ رضیہ پر روز پڑتی۔ رضیہ کے چہرے پرایک معصومیت ظاہر تھی اور غرور و تکبر کا نام و نشان نہ تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھی رہتی اور کنڈکٹر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی۔ ایک بار رضیہ نے ایک حاملہ خاتون کو اپنی جگہ بھی دی تھی اور پورٹ لوئی تک بس میں کھڑی کھڑی سفر کرتی رہی۔
ریاض اپنی ماں اور بڑے بھائی کے ساتھ رہتا تھا۔ بڑے بھائی کی چار سال پہلے شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک ان کا کوئی بچہ نہیں ہوا تھا۔ شادی کے بعد رضیہ ساس جیٹھ اور جیٹھانی کے ساتھ ہی رہتے تھے۔
”منیزہ بیٹی، میرے پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے۔“
”ممی جی آپ سے کتنی بار کہا ہے وقت پر کھایا کیجئے۔“
”درد برداشت کی حد سے باہر ہے منیزہ بیٹی۔“
”میں ابھی انجیکشن لگا دیتی ہوں۔ مجھے آپ کے مرض کا علم ہے۔ اس لئے پہلے سے دوالا کے رکھی ہے۔ اب اتنی رات کو کون ہسپتال جائے؟“ منیزہ نے اپنی بوڑھی ساس کے بازو میں ٹیکہ لگایا اور انہیں بستر پر لٹاتے ہوئے کمبل اوڑھا دیا۔
”تم میری آنکھوں کا تارہ ہو منیزہ بیٹی۔ جب سے شادی کرکے آئی ہو میرے امجد کے کام میں کتنی ترقی ہوئی ہے۔ خدا تمہیں جلد بچہ دے۔ میں تو رات دن اسی بات کی دعا کرتی ہوں۔“ منیزہ نے سر جھکا لیا۔
”اداس مت ہو بیٹی۔ تم خود ڈاکٹرنی ہو۔ کتنا علاج کرایا گیا۔ تمہارا آپریشن بھی ہوا۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ لیکن تم ہمت مت ہارو۔ تمہیں بچہ ضرور ہوگا۔“
شادی کے ایک سال بعد رضیہ کی گود میں ایک ننھی کلی کھل اٹھی۔ اس نے اپنی بیٹی کا نام تسنیم رکھا۔ جس طرح جنتی تسنیم کی نہر سے اپنی پیاس بجھائیں گے اسی طرح رضیہ کو اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھ کر آنے والے کل کے لئے ہمت ملتی۔
”دیکھئے ریاض ہماری بیٹی کی مسکان کتنی پیاری ہے۔ میں تسنیم کی پرورش میں کوئی کثر نہیں چھوڑوں گی۔ اس کو ہر فن میں ماہر بناؤں گی۔ کپڑے سینا، کھانا بنانا، کڑھائی کرنا، مصوری کرنا۔۔۔“
”تسنیم کو بڑی تو ہونے دیجئے۔ اب تو آپ کو صرف تسنیم ہی نظر آئے گی۔ آپ کی نظر میں ہماری اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔“ ریاض نے اچانک کہا۔
”ایسی بات نہیں ہے۔ لیکن ماں بننے کا احساس ہی خاص ہوتا ہے۔ اور پھر ماں اور بیٹی کا رشتہ ہی الگ ہوتا ہے۔ میں اپنی ماں کی کتنی قریب ہوں۔ میں اور تسنیم بھی بہترین دوست بنیں گی۔ دیکھنا!“ رضیہ خوشی سے تسنیم کو اپنی گود میں جھلاتی گئی۔
جب منیزہ نے پہلی بار تسنیم کو اپنی گود میں لیا تو تسنیم نے زور سے اس کی انگلی پکڑی تھی۔ اس پر منیزہ کے دل کے اندر خلائیں اچانک پُر ہوگئیں۔ اس نے تسنیم کے گول چہرے، چھوٹی ناک اور موٹی کالی آنکھوں میں کو پیار سے دیکھا۔
”تسنیم تمہاری ایک نہیں دو دو مائیں ہیں۔“ منیزہ نے اس ننھی سی جان سے کہا۔ اس پر رضیہ مسکرائی۔
تسنیم کی پیدائش سے گھر کا ماحول خوشگوار ہوگیا۔ سب کی جان اسی میں بسی تھی۔ کام سے لوٹ کر بڑے چچا امجداور منیزہ چچی سب سے پہلے رضیہ کے کمرے میں تسنیم کو دیکھنے جاتے۔ تسنیم کی تین مہینے کی زچگی کی چھٹی کے بعد جب رضیہ نے پھر سے کام پر جانا شروع کیاتو اس کی ساس ہی بچی کا خیال رکھتی۔ کبھی کبھی منیزہ تسنیم کی دیکھ بھال کے لئے چھٹی لے کر گھر پر رہتی۔ امجد نوکری سے لوٹتے وقت تسنیم کے لئے کھلونے لاتا۔ شام کا کھانا بھی امجد ہی تسنیم کو کھلاتا۔ جیسے جیسے تسنیم بڑی ہوتی گئی اس کی شرارتیں بھی بڑھتی گئیں۔ کھانا کھانے میں ہمیشہ ناک چڑھاتی۔ ایسے میں امجد چچا اس کو باغ کی سیر کراتے اور بہلا پھسلا کر کھانا کھلاتے۔ ”وہ دیکھو بطخ۔۔۔“جیسے ہی تسنیم کی نظر باغ کے تالاب میں تیرتے بطخ پر جاتی امجد فوراً چاول اور سبزی سے بھرا چمچ اس کے منہ میں ڈالتا۔
تین سال بعد رضیہ پھر سے ماں بنی۔ اس بار اس کوایک لڑکا ہوا جس کا نام انور رکھا گیا۔انور کی پیدائش کے ایک سال بعد رضیہ کو چھ مہینے روڈیگس میں ٹریننگ کا آفر آیا۔(روڈیگس موریشس کے مشرق کی طرف ۰۶۵ کلومیٹر کی دوری پر واقعہ ہے اور جمہوریہ موریشس کے تحت آتی ہے۔) رضیہ کا جانا مشکل لگ رہا تھا۔ لیکن ریاض نے اصرار کیا کہ یہ روڈیگس دیکھنے کا اچھا موقعہ ہے۔
”تسنیم کو یہیں چھوڑ جاؤ۔ اسے اسکول بھی تو جانا ہے۔ اور امجد اور منیزہ تو ہیں ہی۔ وہ تسنیم کا خیال رکھ لیں گے۔“ رضیہ کی ساس نے اپنا فیصلہ سنایا۔ تسنیم سے دور رہنا رضیہ کو گوارا نہیں تھا لیکن اس نے اپنی ساس کا دل رکھنے کے لئے اس کی بات مان لی۔
”جی روڈیگس میں دو دو بچے سنبھالنامشکل ہوگا۔ میں سارا وقت ٹریننگ میں مصروف رہوں گی۔ چھ مہینے کافی جلدی نکل جائیں گے۔“ رضیہ نے تسنیم کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی ساس سے کہا۔
ریاض نے اپنی نوکری سے چھٹی لی اور انور اور رضیہ کے ساتھ روڈیگس چلا گیا۔ رضیہ ٹریننگ پر جاتی اور ریاض انور کی دیکھ بھال کرتا۔ ان چھ مہینوں میں رضیہ نے کام کے سلسلے میں کافی کچھ سیکھا اور اسے زیادہ پیسے کمانے کا بھی موقعہ ملا۔ پھر بھی اس کے دل میں تسنیم کی کمی
اسے کھائے جا رہی تھی۔ کام میں مصروف ہونے کے باعث جب وہ جب ہاسٹل پہنچتی تو کافی رات ہو جاتی۔ جب موریشس فون کرتی تو تسنیم سو چکی ہوتی۔ کئی مہینوں سے اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں ہوئی تھی۔
روڈیگس کی خوبصورتی سے ریاض اور رضیہ بہت متاثر ہوئے۔ وہاں کی زندگی میں ایک ٹہراؤتھا۔ بسیں بھی چالیس کلومیٹر سے زیادہ نہیں چلتی تھیں۔ تازے پھل، سبزیاں اور مچھلیاں بھی ملتی تھیں۔ چاروں طرف وسیع مرغزار تھا۔ گائے بکریاں ان میں آزادانہ گھومتے پھرتے گھاس کھاتے ہوئے دکھائی دیتے۔ سمندر کا نیلگوں سبز رنگ کا صاف پانی چمکتی دھوپ میں چگمگاتا ہوا نظر آتا۔ وسیع ساحل پر چھوٹی کشتیاں دکھائی دیتیں۔ دور دور تک آبادی کا کوئی نشان نہیں ہوتا۔ صرف گھنا جنگل، اونچی چٹانیں اور موجیں مارتا ہوا سمندر انسان کو دنیا و مافیہا سے دور لے جاتا۔ ریاض کو وہ چھ مہینے بہت دلفریب لگے۔ اسے خوشی تھی کہ وہ موریشس کی تیز رفتار زندگی کو چند مہینے چھوڑ کر اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزار پایا۔ انور بالکل اس پر گیا تھا۔ وہی سانولا رنگ، تیز نقش، گھنگھریالے بال اور گہری بھوری آنکھیں جن میں ریاض کو اپنے بچپن کا پھر سے دیدار کرنے کی فرصت ملتی۔ اپنے بیٹے کو دیکھ کر وہ فخر محسوس کرتا۔ ’بیٹا ہی گھر کا چراغ ہے اوروہی میرا نام آگے لے جانے والا ہے۔‘ یہ سوچتے ہی اس نے انور کو زور سے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور سمندر کی بے چین موجیں ساحل سے ملتے ہی اچانک خاموش ہوگئیں۔
موریشس آنے کے بعد، رضیہ نے گھر پہنچتے ہی تسنیم کو آواز لگائی۔
”وہ منیزہ کے کمرے میں سو رہی ہے۔“ اس کی ساس نے کہا۔
”اچھا۔“ رضیہ نے اپنی مایوسی چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔
”منیزہ نے تسنیم کو پڑھایا، نہلا کر کھانا کھلایا اور سلا دیا۔ وہ تسنیم کا بڑا خیال رکھتی ہے۔“ ساس کہتی گئی۔
رضیہ چپ رہی۔
رات کو کھانے کی میز پر ریاض اپنے بھائی اور بھابی کے سامنے روڈیگس کے گن گا رہا تھا۔ ”نہایت ہی پرسکون جگہ ہے۔ وہاں کی مچھلیوں کا ذائقہ ہی کچھ اور ہے۔“ ریاض کہتا گیا۔
اتنے میں ریاض کی ماں چھوٹی رکابی میں مرغی کی ترکاری لیتی ہوئی مہمان خانے میں داخل ہوئی۔ اس نے اپنے بیٹوں اور بہوؤں کی پلیٹوں میں ترکاری رکھی۔ اس کے بعد خود بیٹھ گئیں۔ سب لوگوں نے کھانا شروع کیا۔ اتنے میں وہ کہہ اٹھی ”منیزہ نے تسنیم کا بہت خیال رکھا۔ تسنیم تو منیزہ سے اس قدر گھل مل گئی ہے کہ پوچھو مت۔“ رضیہ کے ہونٹوں پر ایک خفیف تبسم تھا۔ اس کے دل میں ایک درد اٹھنے لگا۔ ساس نے پھر ریاض کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”ریاض تمہیں تو معلوم ہے کہ تمہارے بڑے بھائی اور بھابی اولاد کے لئے کتنے ترستے تھے۔“ ریاض نے جب سر ہلایا تو انہوں نے پھر کہا: ”میں چاہتی ہوں کہ تسنیم کی پرورش منیزہ اور امجد ہی کریں۔ پھر تمہارے پاس تو انور ہے ہی۔ تمہارا ایک ہی بھائی ہے۔“
ریاض نے حسبِ معمول ماں کی بات فوراً مان لی۔”ہاں ماں تسنیم تو انہیں کی بیٹی کی طرح ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے۔“
رضیہ کی بھوک اسی وقت مٹ گئی۔ اس نے ریاض کی طرف دیکھا، پھر اپنی ساس کی طرف، پھر منیزہ کی طرف دیکھا۔ اس کی سانسیں رک سی گئیں۔ وہ کچھ بھی نہیں کہہ پائی۔ اس کے دل کی ڈھرکنیں کمزور ہو رہی تھیں۔
رات کو خوابگاہ میں اس نے ریاض سے کہا: ”آپ تسنیم کو دینے کے لئے راضی ہو گئے؟ آپ نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں۔“
”اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے۔ ماں نے سوچ سمجھ کہ ہی یہ فیصلہ لیا ہوگا۔ منیزہ بھابی ہم سب کا کتنا خیال رکھتی ہیں۔ بچہ نہ ہونیکے باعث ان کی زندگی بے نور تھی۔ جب سے تسنیم آئی ہے ان کو راحت ملی ہے۔ پھر ہمارے پاس تو انور ہے نا؟“
رضیہ کچھ نہیں کہہ پائی۔ اس کی پیٹھ میں زور کا درد اٹھا۔ جیسے کوئی اس کے پیچھے جنجر سے وار کر رہا ہو۔
ریاض نے مزید کہا”بھیا اور بھابی ہم سے زیادہ فارغ البال ہیں۔ منیزہ بھابی اتنی بڑی ڈاکٹرنی ہیں۔ وہ تسنیم کی پرورش ہم سے بہتر کر پائیں گے۔“
رضیہ کچھ نہیں کہہ پائی۔ اس کا کلیجہ پھٹ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا اور اس کا شوہر سفر کی لمبی تھکان کے باعث لمبی تان رہا تھا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ہو۔
تین مہینے بعد منیزہ اور امجد نے پلین دے روش چھوڑ کر واکواہ میں مکان بنایا اور وہاں تسنیم کے ساتھ منتقل ہو گئے۔ جب رضیہ اور ریاض روڈیگس گئے تھے تسنیم کی دیکھ بھال کرتے کرتے منیزہ کے دل میں ایک خوف نے گھر کر لیا تھا۔ امجد، تسنیم اور وہ ساتھ میں کتنے
خوش تھے۔ وہ سمندر کے کنارے جاتے۔ دونوں شفقت سے تسنیم کو گھروندہ بناتے دیکھتے۔ پھر لہریں آکر اس گھروندے کو بہا لے جاتے۔ وہ لہریں منیزہ کو یاد دلاتے کہ تسنیم ادھار کی خوشی ہے۔ وہ اس کی اپنی بیٹی نہیں ہے۔ اس پر منیزہ کا دل کانپ اٹھتا۔ بہت سوچنے کے بعد اس نے اپنی ساس سے منتیں کیں کہ تسنیم کواسے دے دیا جائے۔ اس کی ساس نے کبھی اس کی کسی بھی بات سے انکار نہیں کیا تھا۔ لہٰذا وہ یہ سوچ کر مان گئی کہ امجد اور ریاض دونوں ہی اسی کے بیٹے ہیں۔ تسنیم ایک کے پاس رہے یا دوسرے کے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
”ممی جی تو راضی ہوگئیں۔ لیکن جب رضیہ آئے گی تو اس کا ردِ عمل کیا ہوگا امجد؟ میں کب تک بے اولاد ہونے کا بدنما داغ لے کر جیتی رہوں؟ میں نے واکوا شہر میں ایک زمین دیکھی ہے۔ اس کو خرید کر اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔“
”منیزہ تم تو جانتی ہی ہو کہ میں ہمیشہ شہر میں دوسرے کامیاب لوگوں کے درمیان مکان بنانے کا آرزومند رہا ہوں۔ میں زندگی میں آگے جانا چاہتا ہوں۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے کاروبار کو اتنا پھیلایا ہے۔ تم فکر مت کرو منیرہ مکان جلد تیار ہوجائے گا۔“
سات مہینوں کے اندر تعمیری کام کے ختم ہوتے ہی تسنیم رضیہ کی زندگی سے چلی گئی۔ کسی نے سوچا نہیں کہ رضیہ کے دل پر کیا گزرے گی۔ رضیہ نے کبھی اپنے حق میں آواز بلند کرنا نہیں سیکھا تھا۔وہ اپنا دکھ اپنے اندر رکھتی رہی۔
پندرہ سال بعد سلطانہ رضیہ سے پنچوتی گاؤں میں ملی۔ پندرہ سالوں میں موریشس میں کافی ترقیات ہوئی تھیں۔ بڑی بڑی عمارتیں بن گئیں۔ لوگوں کی طرزِ زندگی اور معیارِ زندگی میں بھی اضافہ ہوا۔ لیکن پنچوتی گاؤں میں کچھ خاص نہیں بدلا تھا۔ سلطانہ اور رضیہ ایک ہی اسکول میں پڑھتی تھیں۔ سلطانہ شادی کے بعد اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ اب پیرس میں رہتی ہے۔ وہ چھٹیوں میں اپنے والدین کے گھر رکی ہوئی تھی۔ مرکزی سڑک کے کنارے والی دکان سے روٹی لاتے وقت رضیہ اس کواملی کے درخت کے پاس والی بس اسٹاپ پر نظر آئی۔رضیہ بالکل نہیں بدلی تھی۔ اس کے چہرے پر وہی بچپن کی سادگی نمایاں تھی۔
”ارے رضیہ کیسی ہو؟“ سلطانہ نے رضیہ کے دونوں گالوں کو چومتے ہوئے پوچھا۔”اچھی ہوں۔ مجھے اپنی بیٹی کے اسکول جانا ہے۔ میں نے اس کے لئے حلوہ بنایا ہے۔ میں اس کے اساتذہ اور اس کے دوستوں کو دوں گی۔ یہ بس بھی نہیں آرہی ہے۔ تسنیم کو معلوم نہیں کہ میں آرہی ہوں۔ اس نے کئی بار منع بھی کیا کہ میں اس کے اسکول نہ آؤں لیکن اس کو دیکھے بغیر رہا نہیں جاتا۔۔۔ویسے تم کون ہو؟“ رضیہ نے آخر میں پوچھا۔
سلطانہ کو رضیہ کی باتوں پر ذرا حیرت ہوئی۔ ”میں سلطانہ ہوں۔ ہم ساتھ میں پاس والی اسکول جاتے تھے۔ اسکول سے واپس آتے وقت اسی املی کے درخت پر پتھر مار کر املی توڑتے تھے۔ یاد ہے؟“
”اری ہاں سلطانہ! کیسی ہو؟ تمہارے بچے ہیں؟“ رضیہ نے پوچھا۔
”میں ٹھیک ہوں۔ میرے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔“ سلطانہ نے جواب دیا۔
”اپنی بیٹی کو کڑھائی کرنا، کروشیا کرنا اور کھانا بنانا سکھانا۔ لڑکیوں کے لئے یہ چیزیں جاننا اچھا ہوتا ہے۔ تسنیم مصّوری میں ماہرتھی۔
اس کے استاد بھی اس کے ہنر کی داد دیتے تھے۔ پھر منیزہ نے منع کردیا اورر اس نے مصّوری چھوڑ کر سائنسی مضامین کا انتخاب کیا۔“
رضیہ کہتی گئی۔ سلطانہ نے غور کیا کہ رضیہ نے بال نہیں بنائے تھے اور اس کے کپڑے ایک دو جگہ پر پھٹے ہوئے تھے۔
”منیزہ کون ہے؟“ سلطانہ نے تذبذب کی حالت میں دریافت کرنا چاہا۔
”بس آگئی۔ منیزہ تسنیم کو اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن بھیج رہی ہے۔ پتہ نہیں پھر کب میں اپنی شہزادی سے ملوں گی۔ منیزہ بہت بڑی ڈاکٹرنی ہے۔ اس کے پاس بہت پیسے ہیں۔ میرے پاس کیا ہے؟“ یہ کہتے ہوئے رضیہ کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ پھر وہ بھاگتی ہوئی بس میں سوار ہو گئی۔
سلطانہ کچھ دیر تک وہیں کھڑی رہی۔ گھر واپس آکر اس نے اپنی ماں کو سارا معاملہ کہہ سنایا۔
”یہ تم کس پاگل کے گلے لگ گئی۔“ ماں نے کہا۔
”پاگل؟“ سلطانہ کو حیرت ہوئی۔
”ہاں اس کے شوہر نے اس کو چھوڑ کر دوسری شادی کر لی ہے۔ تب سے یہ اکیلی اپنے مرحوم والدین کے گھر میں رہنے آگئی۔“ ماں نے بتایا۔
”پھر رضیہ کے بچے؟“
”رضیہ کی جیٹھانی کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ساس کے کہنے پر رضیہ نے اپنی لڑکی جیٹھانی کو دے دی۔ بیٹی دینے کے بعد میاں بیوی کے رشتے میں خلل آنے لگا۔ بیٹی کی جدائی میں رضیہ کا دل اس قدر کڑوا ہوا کہ لڑکے کی طرف دھیان نہ دے پائی۔ پھر رضیہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ پاگل خانے میں علاج کروایا۔ تب تھوڑی ٹھیک ہوئی۔ تب سے یہیں پنچوتی میں پڑی ہے۔ اپنے کام سے پنشن ملتاہے۔ اسی پر گزارا کرتی ہے۔“ ”بے چاری بدنصیب!“ سلطانہ نے نفی میں سر ہلایا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*