بچوں میں نفسیاتی دباؤ ایک اہم مسئلہ-وسیم احمد

کورونا وبائی مرض آج نہ کل اپنے اختتام کو پہنچے گا مگر اس کے اثرات ذہن پربرسوں قائم رہیں گے اور نفسیاتی دبائو کی شکل میں بچوں اور نوجوانو ں کی صلاحیتوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔نفسیاتی دباؤ کو بڑھانے میں لاک ڈاؤن نے آگ پر گھی کا کام کیا۔اس کی وجہ سے لوگوں کی ذہنی صحت اور خوشی بہت متاثر ہوئی ہے۔اسکولوں کی بندش، کورونا کے تکلیف دہ اثرات اور اپنے پیارو ں کو کھونے کے غم نے نوجوانوں بالخصوص بچوں کوذہنی کوفتی کا شکار بنا دیا۔یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ ’’ اسٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرن 2021 ‘‘ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں10 سے 19 برس تک کی عمر کا ہر ساتواں نوجوان کسی نہ کسی ذہنی عاضے کا شکار ہے۔ اس عمر کے نوجوانوں میں پائے جانے والے نفسیاتی مسائل میں ڈپریشن، خوف اور ذہنی بے چینینمایاں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ وبا کے اثرات نوجوانوں اور بچوں کی نفسیات اور ان کی دماغ پر آنے والے کئی برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔اس سلسلے میں معاشرے میں پائی جانے والی خاموشی کو توڑنا ،غلط فہمیوں اور مفروضے کو دور کرنا ، ذہنی صحت کی خواندگی کو بہتر بنانا اور بچوں ، نوعمروں اور نوجوانوں کے جذبات کو سمجھنا اور ان مسائل کا تدارک کرنا ضروری ہے۔ یہ مسئلہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں ایک اہم موضوع بناہوا ہے۔اس سے نوجوانوں اور بچوں کی صحت، تعلیم اور صلاحیتیں متاثر ہورہی ہیں‘‘۔ ہمارے ملک میں زیادہ تر نفسیاتی مریضوں کی مناسب تشخیص نہیں ہوپاتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نفسیات کا مریض خود کو کبھی مریض نہیں سمجھتا ۔ وہ اپنے مسائل دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سے ہچکچاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا مناسب علاج نہیں ہوپاتا ۔بسا اوقات نفسیاتی مریض شاطر دماغ کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔میرا دہلی کے ’ الشفا ‘ اسپتال کے طراف سے بارہا گزر نا ہوتا ہے۔ یہاں آنے والے بہت سے ایسے مریض دیکھنے میں آتے ہیںجو گلے میں بہت سے تعویذات اور انگلیوں میں کئی کئی انگوٹھیاں پہن رکھے ہوتے ہیں ۔در اصل وہ جعلی پیروں اور بابا بنگالیوں سے لٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔وہ نفسیاتی بیمار ہوتے ہیں۔ اپنی بیماریاں کا علاج ان باباؤں کے پاس تلاش کرتے ہیں اور جب پورے طور پر لٹ چکے ہوتے ہیں تب اسپتال یا کسی ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نفسیات کے مریض ناسمجھی میں بڑا نقصان اٹھا لیتے ہیں۔لہٰذا بچوں اور نوجوانوں کو نفسیاتی دباؤ سے باہر نکالنے کی سنجیدہ اور بھرپور کوشش ہونی چاہیے ۔ ایسے وقت میں والدین یا نگراں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پر نظر رکھیں اور غور کریں کہ بچہ کسی نفسیاتی دباؤ کا شکار تو نہیں ہے۔بچوں میں نفسیاتی دباؤ کے اثرات کئی شکل میں رونما ہوتے ہیں۔ مثلا ًوہ پریشان، تناؤ کا شکار ، بے چین ، ناراض یا مشتعل نظر آتے ہوں ، ان میں بیزاری نظر آتی ہو۔لاک ڈاؤن کے دوران بچوں میں تنائو کی شکایتیں زیادہ پائی گئی ہیں ۔اس عرصے میں بہت سے بچوں اور نوجوانوں نے اپنوں کو بچھڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب بچہ کسی حادثے سے گزرتا ہے تو ان میں جسمانی ، دماغی اور جذباتی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔ عموماً کسی حادثے پر ان کا رد عمل نارمل ہوتا ہے لیکن اگر یہ رد عمل توقع سے زیادہ لمبا ہوجائے تو اس کے لیے طبی مدد کی ضروررت پڑ سکتی ہے۔اگر بچوں میں ان میں سے کوئی بھی علامت نظر آئے تو انہیں تنائو سے محفوظ ماحول دینے کی کوشش کریں جہاں وہ اپنے محسوسات کے بارے میں بلا خوف و خطر بات کرسکیں۔
بچوں میں نفسیاتی دبائو کا فوری طور پر تدارک ہوناضروری ہے تاکہ ان میں صحت مند سوچ پیدا ہو ۔جب تک صحت مند سوچ پیدا نہیں ہوگی تب تک صحت مند معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔کسی بھی معاشرے کو اعلیٰ اور معیاری ہونے کے لئے لازمی ہے کہ اس کے افراددماغی و جسمانی اعتبادر سے تندرست ہوں۔ ابھی حال ہی میں ’’ صحت مند دماغ، صحت مند جسم اور صحت مند سماج ‘‘ کے نام سے نئی دہلی میں ایک عالمی ویبنار منعقد ہوا تھا۔ اس میں دنیا بھر کے دانشوروں نے حصہ لیا تھا۔ اس ویبنار میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا تھا کہ ’’ تعلیم ، غذا ، صحت ، علاج اور صاف ستھرا ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ صرف بیماری کا نہ ہونا صحت نہیں ہے بلکہ مکمل دماغی ، جسمانی تندرستی اور زندگی کی ضروریات کی فراہمی کا نام صحت ہے۔ یہ تبھی برقرار رہ سکتی ہے جب ہم ہر چیزکے استعمال میں اعتدال اختیار کریں۔ اگر ہم اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں تو یہ ہمارے سوچ میں خرابی پیدا کرتا ہے۔دماغ کو منفی سوچ سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اعتدال اختیارکیا جائے ۔ انسان کا جسمانی اور نفسیاتی طور پر معتدل سوچ کا ہونا مثبت نتائج پیدا کرتا ہے ۔ اس سے ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔جب معاشرہ صحت مند ہوتا ہے تو ملک میں امن و خوشحالی یقینی ہوتی ہے‘‘۔ ماہرین کے مطابق صحت مند معاشرہ زندگی کی سلامتی اور ریاست کی ترقی کے کلیدی عوامل میں سے ہے جس کی وجہ سے ملک ترقی کرسکتا ہے۔اگر ہم ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں تو بچوں اور نوجوانوں پر نظر رکھنی ہوگی کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل صحت مند ہیں یا نہیں؟ نفسیاتی دبائوں سے بچنے کےلیے کئی طریقے بتائے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انسان کا اپنے مذہب سے تعلق ہونا اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بے شمار نفسیاتی اور ذہنی دباؤ سے بچا لیتا ہے۔اس کے علاوہ کسی کو نیچا دکھانے کی آرزو کو پالنے کے بجائے دوسروں کے کام آنے کے جذبے سے سرشار لوگ کم ہی نفسیاتی دبائو کا شکار ہوتے ہیں۔یاد رکھنے والی بات ہے کہ نفسیاتی دبائو سے پاک معاشرہ خوشحال ملک کی ضمانت ہوتاہے لہٰذا ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کے نفسیات کا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*