بچوں کی تربیت کے رہنما اصول (نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں)-ڈاکٹر مامون مبیض

ترجمہ:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی
(قسط:۲)
عام طور پر نومولود کو لے کر والدین کی سوچ بہت سرسری اور سہولت پر مبنی ہوتی ہے، زیادہ سے زیادہ وہ اس کے رزق کی فکر کرتے ہیں، دونوں میاں بیوی نومولود کو اپنی محبت کے تعلق کا لازمی نتیجہ تصور کرتے ہیں، اس نومولود کے ذریعہ فیملی میں اضافہ ہوتا ہے، عام طور پر والدین اس نومولود کا خوشی خوشی استقبال کرتے ہیں، ان کو زندگی میں آنے والے اس نئے فرد سے اطمینان بھی ہوتا ہے، اور خود پر اعتماد بھی ہوتا ہے، لیکن ان ہی احساسات کے درمیان کبھی کبھی خوف و ہیبت کی نفسیات اور اس نومولود کے سلسلہ میں شکوک و شبہات گھیر لیتے ہیں، ظاہر ہے کہ بحیثیت زوجین ان کی زندگی میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کے پیشِ نظر یہ ایک فطری بات ہے، یہاں قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ زوجین کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیشہ دوسروں سے مشورہ کرنا اور گفتگو کرنا بہت اہم اور مفید ہوتا ہے، انسان کو کتنی چھوٹی سی ہی مشکل کیوں نہ پیش آئے دوسروں سے گفتگو سے فرار نہیں اختیار کرنا چاہیے، یہ الگ بات ہے کہ لوگ اپنی مشکلات کے سلسلہ میں گفتگو اور مشورہ کرنے میں مختلف المزاج ہوتے ہیں، چنانچہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جو کچھ ان کے دل میں ہو اسے جب تک بتا نہ دیں صبر نہیں ہوتا، جب کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حتی الامکان ایک وقت تک خود ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں البتہ جب کوئی بڑا معاملہ ہوتا ہے تو پھر بہت آہستگی سے اپنے احساسات دوسروں سے شیئر کرتے ہیں، احساسات و جذبات اور خواہشات نیز خوف کے اسباب کے سلسلہ میں دوسروں سے گفتگو کرنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔
والدین کے لیے یہ مفید ہے کہ وہ آپس میں آرا و افکار پر باہمی تبادلہ خیال کی قدرت میں اضافہ کریں، اس کے نتائج سے وہ پوری زندگی فائدہ اٹھائیں گے، خاص طور سے مصیبت و پریشانی اور رنج و الم کی صورت میں اس سے بڑی مدد ملے گی، اس لیے دونوں کو ایک دوسرے سے پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنا چاہیے، پریشانی کسی قدر چھوٹی کیوں نہ ہو، خوف کے اسباب کسی قدر معمولی کیوں نہ ہوں مگر ان کے متعلق زوجین کی باہمی گفتگو فائدے سے خالی نہیں ہوتی، مثلاً ماں سوچتی ہے کہ کیا وہ اپنے بچے کے لیے کامیاب ماں ثابت ہوسکے گی؟ حمل سے اس کی شکل و صورت اور خوبصورتی تو متاثر نہیں ہوگی؟ وہ سوچتی ہے کہ کہیں اس کے سبب اس کو طویل عرصہ گھر ہی میں تو نہیں رہنا پڑے گا؟ اسی طرح باپ سوچتا ہے کہ ایسا تو نہیں ہوگا کہ نومولود اس کی بیوی کی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لے؟ اسی طرح وہ اس کی ضروریات پوری کرنے کے متعلق سوچنے لگتا ہے، وہ سوچتا ہے کہ کیا اس کے اندر اس کی اچھی تربیت کرنے کی صلاحیت ہے؟ یہ سوالات و خیالات تو محض بطور مثال پیش کیے گئے ورنہ یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات استقرار حمل کے بعد سے ہی والدین کے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، اس لیے دونوں کا آپس میں تبادلۂ خیال بہت مفید ہوتا ہے، جس سے نہ صرف دونوں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ بہت سی غلطیوں اور خطروں سے محفوظ رہتے ہیں، یہ باہمی نقاش دونوں کا ولادت کے بعد پیدا ہونے والی نئی تبدیلی اور نئے ماحول کا عادی بننے میں بھی تعاون کرتا ہے۔
یہ بھی ہوتا ہے کہ زوجین کے مزاج مختلف ہوتے ہیں، ایک کو تمام امور میں گفتگو اور مشورے کی رغبت ہوتی ہے جبکہ دوسرا اس سے الجھن محسوس کرتا ہے، ایک مسائل سے بہت کم متاثر ہوتا ہے جبکہ دوسرا بہت پریشان ہوجاتا ہے، چنانچہ پھر ایک فریق نہ دوسرے فریق کی ٹھیک سے سنتا ہے اور نہ ٹھیک سے اپنے مافی الضمیر کو بیان کرتا ہے، ظاہر ہے کہ مزاج کے اس بنیادی فرق کو تبدیل کرنا ممکن نہیں، اس لیے جو جلد ہی پریشان ہوتا ہو اور گفتگو کرنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ یہ عمل کم سے کم کرے، اور تھکن و پریشانی کے وقت یا جس وقت وہ فریق کسی اور کام میں مشغول ہو تو بالکل ہی اجتناب کرے۔
اور اگر ایک فریق ان نادر لوگوں میں ہے جن کو کسی چیز سے کوئی پریشانی ہوتی ہی نہیں، دوسروں کی پریشانیاں سننا بھی جن کے لیے دشوار ہوتا ہے، تو اس فریق کو خود کو یاد دلانا چاہیے کہ لوگوں کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں، یہ سمجھنا چاہیے کہ دوسروں کی بات سننا بھی ایک مہارت اور بڑی اہم صلاحیت ہے، جس سے وہ دوسروں کی پریشانیوں کو ہلکا کرسکتا ہے، ایسے شخص کو دراصل اس امر کو فریق ثانی کے زاویۂ نگاہ سے دیکھنا چاہیے، اور یہ سمجھنا چاہیے کہ زندگی کے تغیرات اور نئے مسائل سے پریشانی، ذہنی الجھن دراصل فطری رد عمل ہے جس سے اکثر لوگ دوچار ہوتے ہیں، اس صورت میں ان کے گرد و پیش کے لوگ انھیں سمجھا کر، ان سے اظہار ہمدردی کر کے ان کی حقیقی معنیٰ میں مدد کرسکتے ہیں۔
منفی احساسات و مواقف کے ساتھ تعامل:
بچوں کے ساتھ سلوک و تعامل میں منفی احساسات و مواقف کا موضوع اس ناحیہ سے بہت اہم ہے کہ آئندہ اس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے، اس لیے بچے کے ساتھ ابتدا سے ہی مثبت رویہ اپنانا چاہیے، اگر آپ ابتدا سے ہی مثبت برتائو کریں گے تو وہ بھی آپ کے ساتھ اچھی طرح مثبت رویہ سے پیش آئے گا، البتہ اگر اس سے تعلق میں آپ سے غلطیاں سرزد ہوئیں تو مزید مشکلات و پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی۔
چنانچہ اگر نومولود کا استقبال منفی انداز میں کیا گیا تو اس سے تمام معاملات سبھی کے لیے اور بالخصوص آپ کے لیے مزید پیچیدہ ہوجائیں گے، اس لیے ضروری ہے کہ یا تو آپ اطمینان سے بیٹھ کر سمجھ بوجھ کر اپنے موقف تبدیل کیجئے یا پھر اپنی شریک حیات کے ساتھ گفتگو کر کے منفی احساسات کا ازالہ کیجئے، یہ دوسرا طریقہ زیادہ بہتر ہے، آدمی کا یہ تصور کرلینا سب سے زیادہ برا اور نقصان دہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے خیالات اور کسی چیز کے متعلق اپنا موقف نہیں تبدیل کرسکتا، فی الحقیقت تعلیم و تعلّم کا پورا عمل خواہ اسکول کی رسمی تعلیم ہو یا گھر اور معاشرہ کی غیر رسمی تعلیم، سب اسی مشہور قاعدہ پر قائم ہے کہ ’’انسان اپنی ذات سے متعلق، دوسروں سے متعلق اور اپنی گردوپیش کی دنیا کے سلسلے میں اپنے اندازِ فکر اور اپنے تصورات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،‘‘ بحیثیت والد جب بھی آپ کا بچہ کوئی نامناسب حرکت کرتا ہے تو آپ اس کے رویّے کی تبدیلی کی توقع کرتے ہیں، چنانچہ جب آپ سمجھتے ہیں کہ بچہ اپنا برتائو بدلنے پر قادر ہے تو یوں ہی سمجھیے کہ خود آپ بھی اپنا موقف تبدیل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، آپ آنے والے نئے مہمان (نومولود) کے سلسلہ میں اپنے احساسات و مواقف کا جائزہ لیجئے، کہیں اس کے متعلق کوئی منفی خیال تو آپ کے ذہن میں نہیں ہے، اگر ہے تو اس کو فوراً تبدیل کرنا شروع کردیجئے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اسی منفی خیال کے وجود کا اعتراف کیجئے، اس لیے کہ بسااوقات نومولود سے متعلق منفی خیال کو ہم خود اپنے آپ سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اعتراف کرنا تو دور کی بات، بالخصوص یہ خیالات اگر ایسے ہوں جن سے ہم کو دلچسپی نہ ہو اور نہ ہی ہم متفق ہوں بلکہ بسااوقات ان کے وجود سے احساسِ گناہ بھی ہوتا ہو، تو پھر سب سے پہلے ان کا اعتراف ضروری ہوجاتا ہے، ان منفی خیالات سے محض تجاہل برتنے اور ان کا انکار کرنے سے چھٹکارا نہیں ملتا، بلکہ بسااوقات یہ اندرون میں دب جاتے ہیں، شدت جذبات، غصہ یا تھکن کی صورت میں کبھی نہ کبھی ظاہر ہوجاتے ہیں۔
پھر ان خیالات کو چھپانے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ خیالات مزید قوت کے ساتھ کبھی کبھی ظاہر ہوتے ہیں، جیسے بچپن میں ہم جن مخلوقات سے ڈرتے تھے ان کو حقیقی سمجھتے تھے، بلکہ جیسے بیڈروم میں کوئی سایہ وغیرہ نظر آتا تو ہم ڈرائونی مخلوق سمجھ کر ڈر جاتے، البتہ اگر ان خیالات کا سامنا کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آ جائے گی ان خیالات کی حقیقت بچپن کے اس سایہ وغیرہ سے زیادہ نہیں ہے۔
دوسری بات ان خیالات کا سامنا کرتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ زندگی میں پیش آنے والے کسی واقعہ کے پس منظر میں اس طرح کے منفی خیالات و تصورات کا پیدا ہونا ایک فطری رد عمل ہے، ان کا براہ راست بچے کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔
بہت سے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا رد عمل اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے، وہ بڑے جوش و خروش اور مسرت کے ساتھ بچے کا استقبال کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ اس کے آنے کے بعد راتوں کی نیند قربان ہوجائے گی، صبح جلدی اٹھنا پڑے گا، اور بھی متعدد دشواریاں اور مشکلات پیدا ہوں گی، یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت سے خدشات و تحفظات ذہن میں ہوتے ہیں مگر صراحت کے ساتھ یہی لوگ کہتے ہیں کہ جیسے ہی بچے پر پہلی نظر پڑی یہ سارے خدشات زائل ہوگئے، اور وہ فیملی کے اس نئے ممبر بلکہ جزء لاینفک سے بہت قوی تعلق محسوس کرنے لگے۔
کیا میں تربیت کی ذمہ داری نبھا سکتا ہوں:
یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً ہر انسان کو اپنی زندگی میں صاحب اولاد (ماں ہو یا باپ) ہونے کے مرحلے سے گذرنا پڑتا ہے اور اولاد کی تربیت جیسی اہم ترین ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے، مگر اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی اس اہم ذمہ داری کو نبھانے کے لیے نہ کوئی تیاری کرتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی مشق، ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کو اس وقت تک بحیثیت استاد مقرر نہیں کیا جاتا جب تک وہ ایک مدت تعلیمی عمل میں نہ گذار دے اور ضروری مشق و تدریب اور ورکشاپ سے نہ گذر جائے، اسی طرح بغیر ٹریننگ کے نہ ڈاکٹر کی تقریر کی جاتی ہے نہ نرس کی، بلکہ اس طرح لوگوں سے براہ راست جن کا سابقہ پڑتا ہو بالخصوص بچوں سے ان کی ٹریننگ کے بغیر تقرری نہیں ہوتی، لیکن والدین جن کی ذمہ داری سب سے اہم اور حساس ہوتی ہے ان کو یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے، وہ بغیر کسی اصول و قاعدے کے محض اپنی صوابدید سے جیسے چاہتے ہیں یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں، ان کے سامنے صرف اپنے والدین کے انداز تربیت کی کچھ جھلکیاں ہوتی ہیں، یا پھر وہ دوستوں اور پڑوسیوں کی نصیحتوں پر عمل کر لیتے ہیں، اس لیے اگر کسی کو نومولود کی ولادت کے وقت اپنی صلاحیت پر شک ہو، اور یہ خوف ستائے کہ وہ کامیاب تربیت کرسکے گا کہ نہیں تو کوئی بعید نہیں، پھر بچوں کی پرورش میں پیش آنے والی مشکلات وہ خود دیکھتے ہیں کہ لوگ کس قدر محنت کرتے ہیں اور پریشان ہوتے ہیں، آج کل نئی نسل کی تربیت میں جو پریشانیاں پیش آرہی ہیں ان سے متعلق واقعات سن کر اپنی صلاحیت پر شک ہونا اور خدشات کا پیدا ہونا یقینی ہے۔
یہاں اس بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ اس طرح کی الجھنیں اور ذہنی پریشانی دراصل اچھی علامت ہیں، یہ اپنے کو دھوکہ میں رکھنے والے اس طرح کے جھوٹے اعتماد سے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ پہلے ہی مرحلہ میں اور پہلے ہی تجربہ میں کامیاب ہوجائے گا اور وہ پورے طور پر اپنا کردار ادا کرسکے گا۔
بسااوقات بعض لوگوں کے لیے اصول تعلیم و تربیت سے متعلق کتابیں پڑھنا محض اس لیے خوف کا باعث ہوتا ہے کہ بہت سے اصول و قواعد کو یاد کرنا پڑے گا، حالانکہ اگر اچھی طرح توجہ نہ دی جائے تو پھر تربیت میں بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہونے کا امکان ہوتا ہے، بنیادی طور پر جو چیزیں سب سے زیادہ معاون ہوتی ہیں وہ یہ کہ والدین بچے کو سمجھ لیں، فطرت سلیم اور حکمت عملی پر اعتماد کریں، اور ہر عمل واقدام سے پہلے اچھی طرح غور کریں اور پھر اطمینان کا مظاہرہ کریں، یقینی طور پر والدین کے سامنے پریشانیاں اور چیلنجز آئیں گے، لیکن محبت، کوشش اور سیکھنے کی رغبت لازمی معلومات کو حاصل کرلینے میں مدد کریں گی، جن کی روشنی میں والدین اپنی اولاد کے ساتھ اچھی طرح سفر زندگی طے کرسکیں گے۔
کیا میرا بچہ بالکل صحیح و سالم ہوگا:
کبھی کبھی والدین محض اس طرح کے خیالات و خدشات سے بہت زیادہ پریشان رہتے ہیں کہ کہیں نومولود میں جسمانی یا عقلی کوئی نقص نہ ہو، اب تو طب جدید Medical Science بہت زیادہ ترقی کرچکی ہے، عام طور پر ڈاکٹر اکثر بچوں کے بارے میں بتا دیتے ہیں کہ بچہ صحیح طریقہ سے نمو پذیر (Normal growth) ہے یا نہیں، پھر بھی اگر کسی طرح کا شبہ اور خوف ہو تو ڈاکٹروں سے مشورہ کرلینا چاہیے، پھر یہ بھی فطری بات ہے کہ بعض امور پہلے مرحلہ میں خوفناک اور پیچیدہ تو ہوتے ہی ہیں، لیکن مناسب تدبیر و علاج سے یہ مسائل بہت آسان ہوجاتے ہیں، لیکن یہاں یہ نکتہ سمجھنے کا ہے کہ صرف میڈیکل سائنس کی ترقی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ فی الحقیقت والدین کو اس نئے آنے والے بچے کو سمجھنا اور قبول کرنا پڑے گا، تاکہ پھر وہ اس کی اس طرح رعایت کرسکیں جس کا وہ مستحق ہے، اس کو ایسی محبت و توجہ دے سکیں جس کی اسے ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ اس سے معاملہ کی اہمیت اور اس کی صعوبت کو کم کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ دراصل یہ واضح کرنا مقصد ہے کہ کسی بھی معاملہ میں کامیابی و توفیق انسان اور اس کے موقف کو سمجھنے اور خود اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرنے پر منحصر ہے، پھر اگر واقعی نومولود میں کوئی نقص و عیب اور خلل ہو تو اس میں والدین کی کوئی خطا نہیں ہوگی اور نہ ہی بچے کا کوئی گناہ ہوگا، ماں باپ کے لیے خود کو ملامت کرنے اور خطاکار ٹھہرانے کا کوئی جواز نہیں ہے، اصل مقصود یہ ہونا چاہیے کہ خود والدین اور اولاد کی زندگی کو اچھی اور بہتر سے بہتر بنانے کے لیے جو بھی کوشش ممکن ہو کی جائے۔
حقیقت پسندانہ توقعات:
یہ اہم نکتہ ہے کہ نومولود کے سلسلے میں والدین کا نظریہ حقیقت پسندانہ ہو، اس کی آمد سے ان کی زندگی میں جو بنیادی تبدیلی ہوگی اسے بھی حقیقت کی نظر سے دیکھیں، والدین کا فرطِ شوق کے ساتھ نومولود کا استقبال اور اس کے ساتھ زندگی گذارنے سے محظوظ ہونا فطری ہے، مگر اس وفورِ شوق اور فرطِ مسرت میں ان کو حقیقت پسندی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
بسا اوقات شیر خوار بچے کی پرورش و پرداخت اور دیکھ ریکھ بہت مشکل عمل بن جاتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ بچہ محض ایک ننھی سی سعادت مند مخلوق ہی نہیں ہے کہ جو ہر وقت اپنی خوراک وقت پر لے۔ بغیر کسی مشکل پوری رات سوتا رہے، صبح ہمیشہ ہنستا مسکراتا اٹھ جائے اور کبھی بھی ماں کے روٹین میں خلل انداز نہ ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ عام طور پر یہ سارے عمل بہ سہولت انجام پاتے ہیں، لیکن بسااوقات اس میں پریشانی بھی آتی ہے، ان ہی دشواریوں کا سامنا کرنے کے لیے والدین کو اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے، ان امور میں میں سب سے اہم یہ ہے کہ نومولود کی پوری رعایت کی جائے، اس پر توجہ دی جائے، اس کے رونے اور آواز نکالنے کے احتمالات کو سمجھا جائے۔
یہ بات معروف ہے کہ چھوٹے بچے کو بہت زیادہ خدمت و توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، اس کو صفائی ستھرائی،وائپر/ پمپر وغیرہ کی تبدیلی، غذا اور تسلی وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے کپڑے دھلنے پڑتے ہیں، اس کے کھانے کی اشیاء تیار کرنی ہوتی ہیں، اس کا بستر وغیرہ صاف کرنا پڑتا ہے، بازار سے اس کا سامان خرید کر لانا ہوتا ہے، اس کے کمرے کو مرتب کرنا ہوتا ہے، اس کو بستر پر لٹانا ہوتا ہے، پھر بیدار ہوتے ہی اس کو اٹھانا ہوتا ہے، گود میں لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہوتا ہے، اس کو ضرورت ہوتی ہے کہ سب کام چھوڑ کر سب سے پہلے اس کی ضروریات پوری کی جائیں، اس کے مطالبات پورے کیے جائیں، اب ظاہر ہے کہ کس کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ دن و رات یعنی چوبیس گھنٹے اس کی خدمت میں لگا رہے، پھر آئندہ صبح کو مسکراتے ہوئے اٹھے اور بچے کے ساتھ کھیلنے کے لیے اس طرح تیار ہو گویا گذشتہ کل اس نے کوئی کام کیا ہی نہیں تھا اور کوئی تھکن ہے ہی نہیں۔
ظاہر ہے ان تمام ہی کاموں کے دوران بچہ خوب روتا بھی ہے بلکہ ہر طرح رونے کی مشق کرتا ہے، ہر طرح کی آوازیں نکالتا ہے، بچے کو اکثر و بیشتر حالات میں رونا پڑتا ہی ہے، بچہ توقع کرتا ہے کہ اس کے اردگرد جو لوگ بھی ہیں وہ اس کے رونے کی زبان کو اچھی طرح سمجھیں کہ وہ کیا چاہتا ہے، پھر وہ اس کے مطالبات و خواہشات کو فوراً پورا کریں، گویا اس کی امیدیں کچھ اس طرح ہوتی ہیں کہ اماں ابا ہر وقت چوبیس گھنٹے اس کے سامنے موجود رہیں اور اس کے رونے کا مطلب سمجھ کر اس کی ضروریات پوری کرتے رہیں۔
اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بچے کی پرورش میں بہت محنت ہے، بڑی مشقت ہے، بہت تھکنا پڑتا ہے اور بہت صبر سے کام لینا پڑتا ہے، ابتدائی چند مہینوں میں خاص طور پر والدین کی زندگی اور بالخصوص ماں کی زندگی صرف اور صرف شیرخوار کی خدمات انجام دینے اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں گذرتی ہے، بعض مواقع تو ایسے آتے ہیں جبکہ ماں اپنی تمام ترجسمانی و شعوری قوت صرف کردیتی ہے، لیکن اپنے اہم کردار کو سمجھتے ہوئے مشکلات کے اس مرحلہ سے گذرنے کی تیاری کے سبب پھر بھی اپنی ذمہ داری نبھاتی ہے، وہ جو کچھ بھی کرتی ہے اس ننھی مخلوق کی خوشی کے لیے کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا ہے، چنانچہ وہ بغیر کسی احساسِ ناکامی و ناامیدی کے اپنا کام انجام دے سکتی ہے، وہ تنگی و پریشانی کا خوشی و آسانی سے تقابل کرسکتی ہے، وہ اپنے آپ کو اس کی یاد دہانی کراسکتی ہے کہ کوئی کتنی ہی خطرناک صورت حال کیوں نہ پیش آئے اور اس کا زمانہ کسی قدر طویل کیوں نہ ہو لیکن وہ ہمیشہ باقی نہیں رہتی، ایسی مشکل اور پریشان کن صورت حال میں ماں کو اس طرح سکون مل سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سمجھائے کہ یہ وقت جلدی ہی گذر جائے گا، جلد ہی بچے کا بچپن جاتا رہے گا، چند مہینوں کے بعد پھر کہاں یہ مشکلات دوبارہ واپس آئیں گی۔
اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ والدین یہ سمجھ جائیں کہ اس نئے مرحلہ کی کیا کیفیت ہوگی، اس میں ان دونوں کو کس طرح عمل کرنا پڑے گا اور پھر اس مختصر سے مرحلہ میں کیسی لطف اندوزی اور مسرت کا سامان ہوگا۔
(جاری)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*