بچوں کی تربیت کے رہنما اصول (نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں)-ڈاکٹر مامون مبیض

ترجمہ:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی
(قسط:۵)

اپنی ذات اور اپنے جذبات کے تئیں بچے کا احساس:
بچہ مسلسل کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے، صبح کو جب سے اس کی آنکھ کھلتی ہے رات کو نیند کی آغوش میں جانے تک وہ گردش زمانہ، افراد خانہ اور زندگی کے مختلف پہلووں سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے، بلکہ بچپن کا یہ زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ بچہ ہر زندہ شخص کے علاوہ مختلف اشیاءاور جمادات تک سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ضرور ہے، اس کی زندگی کے پہلے دوسال ایسے ہوتے ہیں جس میں وہ سوائے اپنے والدین کے کسی کو نہیں پہچانتا، کیوں کہ والدین ہی اس کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں، اس کے کھانے پینے کا خیال رکھتے ہیں، لیکن عمرکے اس مرحلہ میں فطری طور پر بچے میں وہ حس پائی جاتی ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے والدین اور دوسرے لوگوں کے مابین خوب فرق کر سکتا ہے، عمر کے تیسرے سال میں عام طور پر بچے میں یہ شعور پیدا ہونا شروع ہوتا ہے کہ کس چیز سے والدین خوش ہوتے ہیں اور کس چیز سے ناراض ہوتے ہیں، بچہ پورے طور پر ماں کے روز مرہ کے کاموں سے واقف ہونے لگتا ہے، اس کے رکھ رکھاؤ کو بھی پہچاننے لگتا ہے، یہ بھی سمجھنے لگتا ہے کہ ماں کس چیز سے ہنسے گی اور کیسے اس کے ساتھ کھیلنے پر آمادہ ہوگی اور اس کو قصے کہانی سنانے اور اس سے گفتگو کرنے کے لیے تیار ہوگی، وہ یہ بھی سمجھنے لگتا ہے کہ کیا کرنے سے ماں اس کو اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے پاس بھیجے گی، اس کی پریشانی کو کیسے بانٹے گی اور پریشانی و الجھن میں کس طرح اس کے ساتھ نرمی و شفقت کا معاملہ کرکے اس کی مدد کرے گی، کیسے اس کو چھوڑدے گی کہ وہ پانی سے اٹھکھیلیاں کرے، اور وہ کس طرح پیش آئے گی جبکہ وہ باورچی خانے میں اتھل پتھل مچائے گا یا کھانا زمین پر گرائے گا، مختصر یہ کہ اس مرحلہ میں بچہ ماں اور باپ دونوں سے بخوبی واقف ہونے لگتا ہے اور ان کے طریقوں کو سمجھنے لگتا ہے۔
عمر کے اسی مرحلہ میں بچہ اپنے ماں باپ کا دیگر افراد سے تقابل بھی شروع کر دیتا ہے، مثلا وہ اپنی ماں کی سیاہ زلفوں کا دادی کے سفید بالوں سے موازنہ کرتا ہے، کبھی اس کی نظر اس پر پڑتی ہے کہ اس کے والد تو خوش مذاقی اور خوش مزاجی کے ساتھ ہنستے رہتے ہیں جبکہ چچا اکثر سنجیدہ رہتے ہیں اور بہت کم ہنستے ہیں کبھی اس کی نظر اس پر جاتی ہے کہ اس کے والد اس حالت میں کس طرح گاڑی ڈرائیو کرتے ہیں جبکہ کہ پچھلی نشست پر دادی محترمہ تشریف رکھتی ہیں، غرض کہ اس طرح کے ہر موقع سے وہ کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے، حتی کہ اسے جو شام کو بستر پر لٹاتا ہے اور صبح کو جو اٹھاتا ہے، اور نیند سے پہلے جو لوریاں سناتا ہے اور جو بازار لے جاتا ہے ان سب سے بچہ سیکھتا ہے، اس طرح سے بچہ اپنے والدین سے مانوس ہوتا ہے اور بہت قریب سے ان کو پہچانتا ہے، اور ان کی خصوصیات کے ساتھ ہر روز کے ان کے رکھ رکھاو ¿ سے واقف ہوتا رہتا ہے، اس کی نظر والدین کے سلوک اور ظاہری کاموں نیز معمول کی گھریلو زندگی میں تبدیلی پر بھی رہتی ہے، مثلا اگر کسی دن والد مرض وغیرہ کے سبب اپنے کام پر نہ جا سکیں تو بچہ اس تبدیلی کو بھی بغور دیکھتا ہے اور اس کے متعلق متعدد سوالات کرتا ہے۔
ان تمام تبدیلیوں بالخصوص بچے کا صحیح طور پر اپنے والدین سے واقف ہونا اس کی پرورش و پرداخت ونشو ونما میں بہت اہم ہے، اسی کے سبب بچہ اپنے والدین میں سے ہر ایک کو الگ اور ایک ایسا مستقل و منفرد انسان سمجھتا ہے، جس کی اپنی الگ دنیا ہو، اس سلسلہ میں جب بھی آپ تجربہ کے لئے بچہ سے محو گفتگو ہوں گے اور اس کی ذہنی پرواز کو جانچنا چاہیں گے تو ہرمرتبہ آپ کو پہلے سے زیادہ بہتر تجربہ ہوگا۔
اس مرحلہ میں جو بات زیادہ قابل غور اور اہم ہے وہ یہ کہ بچہ والدین اور ان کی خصوصیات کو پہچاننے کے ساتھ اپنے آپ کو بھی صحیح طریقہ سے پہچانے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ صرف والدین کو جاننے اور ان کی نقل و حرکت پر غور کرتا رہے اور اپنی شخصیت و خصوصیات سے ناواقف رہ جائے، کیوں کہ بچہ کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ اس میں یہ احساس پیدا ہو کہ اس کی بھی اپنی شخصیت ہے، اپنی ترجیحات وخصوصیات ہیں، وہ اپنی دنیا کا خود بھی بادشاہ ہے، اس اہم ضرورت کے ساتھ یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ عمر کے اس مرحلہ میں بچہ کو صرف اپنی بعض جسمانی ضروریات کا احساس ہوتا ہے مثلا وہ بھوک کو محسوس کرتا ہے، سردی گرمی، تکلیف و تھکن اور خوشی و سکون کی حالتوں کا اس کو ادراک ہوجاتا ہے، عام طور پر عمر کے تیسرے سال میں بچہ ان جسمانی ضروریات کے علاوہ یہ بھی سوچنے لگتا ہے کہ وہ کون ہے؟ اسے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے الگ ایک انسان ہے، تفکیر و اختیار پر اس کو قدرت ہے، اپنے آپ کو مطمئن کرنے کا بھی اس میں ملکہ پیدا ہونے لگتا ہے، وہ اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی محسوس کرتا ہے، یہ صحیح ہے کہ اس کو ابھی یہ شعور نہیں ہوپاتا کہ اپنے ان احساسات کو کلمات و عبارات میں بیان کرے مگر اپنی ذات کے عرفان کا احساس ضرور ہونے لگتا ہے۔
یہاں جس بات کا ذکر ضروری ہے وہ یہ ہے کہ بچے میں اپنی ذات کے عرفان کا احساس اس کے ساتھ والدین کے سلوک اور معاملہ کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے اپنے بارے میں احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں ایک مستقل انسان ہے لیکن اس انسان کی خصوصیات اور شخصیت کی جہات کا اس کو علم نہیں ہوتا، اسی لیے بچہ کو یہ احساس دلانے کے لئے کہ وہ اشرف وافضل اور ایک مکرم انسان ہے، ضروری ہے کہ والدین اس سے یوں کہیں ”تم تو اچھے بچے ہو“ اپنے اندر موجود اس کی محبت کا اس کو احساس دلائیں اور اس پر یہ واضح کریں کہ اس کا وجود والدین کی زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل ہے، اس طرح اس کے اندر یہ شعور پیدا ہوگا کہ وہ افضل و مکرم ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولقد کرمنا بنی آدم (الاسراء۰۷) اس کے برعکس اگر والدین اس سے یہ کہیں گے ”تم بہت برے ہو یا تم اچھے نہیں ہو“ یا اس کی حرکتوں پر بے صبری کا اظہار کریں گے اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ روا نہ رکھیں گے اور اسے اپنی محبت کا احساس نہ دلائیں گے، اس کے جذبات اور جسمانی ضرورتوں پر خاطر خواہ توجہ نہ دیں گے تو اس میں یہ سوچ پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ بے قیمت ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں یا یہ کہ وہ اچھوت ہے اس سے کسی کو کوئی رغبت نہیں۔
اگر بچہ میں یہ منفی سوچ پیدا ہو گئی تو پھر اسی کے مطابق اس کا رد عمل ہوگا اور اس سوچ کے نتیجہ میں وہ حزن و ملال اور بے دلی کی کیفیت سے دوچار رہنے لگے گا، یا پھر وہ اپنا دفاع کرے گا اور یہ کوشش کر ے گا کہ اس منفی رویہ کا سلسلہ ختم ہو اور والدین اس پر مزید توجہ دینا شروع کریں، لیکن اس کی یہ دفاعی کوشش سرکشی، نافرمانی اور عدم تعاون کی صورت میں رونما ہوگی، گویا وہ زبان حال سے یہ کہے گا ”میں مستقل طور پر ایک منفرد انسان ہوں، پوری وضاحت سے آپ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو آپ لوگوں کی خواہشات کے حوالے نہیں کر سکتا“ ظاہر ہے کہ یہ بات بچہ الفاظ میں تعبیر کرنے سے قاصر ہوگا اس لیے وہ والدین کے فیصلوں اور خواہشات کی نافرمانی کرے گااور اس نافرمانی کے ذریعہ وہ والدین کی اس توجہ کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جو اس کی اپنی دنیا اور اپنے وجود کی حفاظت کے لئے ضروری ہے، اس طرح وہ اپنے الگ تھلک ہونے کے احساس کا دفاع کرے گا کیوںکہ فطری طورپر وہ والدین کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات کو برقرار رکھنا چاہے گا اور ان سے محبت واحترام کا طلبگار ہوگا، اس میں یہ خواہش بھی شدید ہوگی کہ والدین اس کی قیمت و اہمیت کا اس کو احساس دلائیں لیکن بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ عمر کے اس مرحلہ میں بچہ کے ان تمام احساسات کے با وجود اس کو یہ شعور نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ان جذبات واحساسات کا اظہار کس طرح کرے اور کس طرح والدین کی توجہ اور ان کا تعاون حاصل کرے۔
سطور بالا کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ بچے میں اپنے تئیں معرفت پیدا ہونے میں والدین کا کتنا اہم رول ہے، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ والدین بچے سے بڑی سختی اور غصہ سے بات کرتے ہیں اس پر قلق و خوف اور افسوس نہیں ہونا چاہیے البتہ شرط یہ ہے کہ وہ اس پر اپنی محبت واضح کر چکے ہوں، اپنی زندگی میں اس کی اہمیت بھی اس پر واضح کر چکے ہوں اور اس کے مصالح میں بڑی دور اندیشی برتیں، البتہ اس کے ساتھ یہ بہت ضروری ہے کہ اپنی اس دور اندیشی کے اظہار کے لئے بہت مناسب کلمات اختیار کیے جائیں ، ایسے الفاظ کا انتخاب کیا جائے جن سے بچہ متاثر ہوسکے، یہ بات سمجھنے کی ہے کہ الفاظ بہت طاقتور ذریعہ ہیں، چنانچہ اگر والدین نے بچے سے کہا ”تم جھوٹے ہو، برے ہویا بہت عاجز کرتے ہو“ تو پھر بچہ اس کی تصدیق یوں کرے گا کہ وہ اس کو اپنی صفت بنانے کی کوشش کرے گا، ظاہر ہے کہ والدین بچہ کے مقابلہ میں بہت بڑے ہوتے ہیں ہر بات کو سمجھتے ہیں اورہر سوال کا جواب دے سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر وہ اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں تو خطرہ ہے کہ بچہ اس کو اپنی انفرادی صفت اور اپنی شخصیت کے عنصر کے طورپر نہ استعمال کرنے لگے، اور ان الفاظ کو اپنی فکر میں اس طرح نہ شامل کرلے جیسے وہ اپنا نام اپنی عمر اور اپنے دراز یا پستہ قدکو یاد رکھتا ہے، یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ والدین کے بچوں کو اس طرح کے القاب سے ملقب کرنے اور اس طرح کے الفاظ ان کے لئے استعمال کرنے سے بچے ان افعال کے ارتکاب سے جن کو والدین ان کے لئے عیب سمجھتے ہیں ہرگز نہیں باز آئیں گے، کیوں کہ اس مرحلہ میں اس طرح اسکے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ وہ ایک غیر محبوب اور برا انسان ہے۔
یہ بات اور زیادہ صحیح طریقہ پر سمجھ میں آجائے اوراس پر عمل ہو سکے اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین ایسے الفاظ پر غور کریں اور اس کی فہرست بنائیں جو خود ان کی صفت کے طور پر استعمال ہوتے ہوں، ظاہر ہے کہ ان کا ذہن سب سے پہلے ان صفات کی طرف جائے گا جن کا استعمال آپسی تعلق کو بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے خواہ وہ تعلق بیوی سے ہو یا والدین سے، پھر کام اور پیشے میں استعمال ہونے والے الفاظ کا خیال آئے گا پھر وہ الفاظ آئیں گے جن سے قد او رصورت کا اندازہ ہوتا ہو، پھر اس کے بعد ان صفات کا ذکر ہوگا جن سے مثلا لطف و راحت اور شوق وغیرہ کی عکاسی ہوتی ہو، اس فہرست کو تمام کرنے کے بعد ذرا اس میں ”حقیر، جھوٹا“ وغیرہ کے الفاظ کا اضافہ کرکے دیکھیں اور اندازہ کریں کہ جب یہ کلمات وہ سنتے ہیں تو ان پر کیا گزرتی ہے، جبکہ یہ معلوم ہے کہ یہ الفاظ صحیح نہیں اور ان سے ان کی شخصیت کی صحیح تصویر نہیں بن رہی ہے لیکن پھر بھی یہ الفاظ کیسے اثر انداز ہو رہے ہیں، سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس بچے پر اس کا کیا اثر ہوگا جو آپ کی طرح حقیقت اور الفاظ کے درمیان تفریق کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا، لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ عملی طور پر آپ کے استعمال کردہ ان الفاظ کی بھی تصدیق کرے گا جیسے آپ سے وہ اور جو کچھ سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے۔
چنانچہ جب آپ بچہ کی کسی نا پسندیدہ بات پر تنبیہ کریں تو اس کی اس ناپسندیدہ حرکت کی نکیر کریں اور اس کی شناعت اس پر واضح کریں نہ کہ اس طرح کے جملے استعمال کریں جس سے وہ اس کام کو عیب سمجھنے کے بجائے اپنے آپ کو معیوب انسان سمجھ بیٹھے، مثلا بچے نے غلط حرکت کا ارتکاب کیا، اب اس سے یہ کہنے کے بجائے ”تم اچھے بچے نہیں ہو“ یہ کہا جائے کہ ”آج آپ نے جو کام کیا وہ اچھا نہیں ہے“، مثلا بچے نے اپنے بھائی وغیرہ سے کوئی سخت بات کہہ دی یا دونوں میں کوئی درشت معاملہ ہوگیا تو اب اس سے یہ کہنے کے بجائے کہ تم ”سخت و درشت بچے ہو“ یہ کہا جائے کہ ”آپ نے اپنے بھائی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بہت سخت ہے یا درست نہیں ہے۔“
بظاہر تو یہ بہت معمولی سا فرق ہے لیکن بہت مو ¿ثر ہے، بالخصوص بچے کی نفسیات پر اس کا بڑا اثر پڑتا ہے، اسی فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ بچے کو اس پر آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ عمر کے اسی مرحلہ سے اپنی شخصیت کو پہچانے اور اپنے آپ کو ایک علیحدہ انسان سمجھے اور اس طرح آپ اس میں اپنے حرکات و سکنات پر قابو پانے کی قدرت پیدا کر سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی کبھی آپ کے اندر سختی کا مادہ جوش مارتا ہے اور بہت غصہ آتا ہے لیکن ان حالات میں اپنے آپ پر یہ سوچ کر قابو پانا چاہیے کہ اکثر قساوت و غضب سے شرو فساد کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا، اس لیے بہتر ہے کہ آپ انسانی جذبات کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ سیکھنے کی کوشش کریں کہ ان کیفیتوں میں بھی آپ کس طرح کا سلوک کریں جس سے دوسروں کو کوئی تکلیف نہ ہو، اور اس پر تو جہ دینی چاہیے کہ بچہ ظاہر ہے کہ ہر وقت نہیں سیکھتا لیکن اس کو اس پر آمادہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ دھیرے دھیرے لیکن احترام و محبت کی بنیاد پر اپنے آپ قبول کرتے ہوئے یہ سیکھے کہ اس کو اپنے ساتھ اور پھر دوسروں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہیے، اس سلسلہ میں اصول کی بات یہ ہے کہ بچہ جن صفات کا حامل ہو اس کی ان ہی صفات کے ساتھ اس کو اپنا بچہ تسلیم کرتے ہوئے بہتر ترین بنانے کی کوشش کریں، اس طرح آپ بچے میں اچھا شعور اور اس کی اپنی ذات کے تئیں ایجابی اور مثبت سوچ پیدا کر سکتے ہیں، اس طریقہ سے وہ ایک مثبت فکر کا حامل، خوش بخت اور معاشرے کے لئے پر امن انسان بن کر تیار ہوگا، اور ایسا انسان ہوگا جس کی اپنے افعال و تصرفات پر نظر ہوگی اور اپنی زندگی کے لیے حکمت و مصلحت کے اختیار کا ملکہ ہوگا، اس کو عرفان ذات حاصل ہوگا، اسی لیے وہ اپنا احترام کرے گا اور پھر دوسروں کو سمجھتے ہوئے ان کا بھی احترام کرے گا، اس کو ایسی قدرت ہوگی کہ اس مرحلہ کے علاوہ مستقبل میں بھی آپ سے مخلصانہ طور پر اپنے تعلقات خوشگوار و برقرار رکھے۔
بچے کی اچھی تربیت اور اس کی اچھی پرورش میں اس کا بڑا دخل ہے کہ والد اپنے اوقات کا وافر حصہ اس کے لئے خاص کریں تاکہ آئندہ زندگی خوشگوار و مفید بن سکے، ظاہر ہے اس طرح خود ایک والد اپنے لیے بہت کچھ سامان منفعت جمع کرنے کے ساتھ مستقبل کا سہارا تیار کرے گا۔
ہم میں سے ہر ایک اس کا خواہاں اور اس کے لئے کوشاں نظر آتا ہے کہ اولاد کے ساتھ اس کے تعلقات کامیاب و سودمند ہوں، اور ان تعلقات سے والدین و اولاد دونوں اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں فائدہ اٹھا سکیں، یہ تعلقات ایسے استوار و خوشگوار ہوں کہ ان کے باعث امن وسکون حاصل ہو اور گھر جنت نشان نظر آئے، ہم میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بچہ والدین کا مطیع و فرمانبردار اور ان کے لئے معاون ہو، لیکن اس خواہش کی تکمیل کوئی کھیل تماشہ تو نہیں، اس کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے، بڑا وقت درکار ہوتا ہے اور بڑے صبر سے گزرنا پڑتا ہے، البتہ اگر کوئی اس میں کامیاب ہوجائے تو پھر آنے والے سالوں میں بچے اور والدین دونوں کی زندگی بڑی پُرلطف و خوشگوار ہوتی ہے، بچہ والدین کی آغوش رحمت و تربیت میں اپنے بچپنے سے لطف اندوز ہوتا ہے تو والدین بھی اس کی پرورش و پرداخت کا مزہ اٹھاتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ والدین کے ذریعہ بچے میں یہ احساس پیدا کرنا کہ وہ بہت قیمتی انسان ہے اور بالکل مامون ہاتھوں میں اس کی تربیت ہو رہی ہے، اور یہ کوشش کرنا کہ وہ اپنے افعال اور حرکتوں کو سمجھ سکے اور ان پر قابو پانے کا اس میں ملکہ پیدا ہو شخصیت کی تکوین کے لئے بہت اہم عنصر ہے، ساتھ ہی والدین و اولاد کے درمیان خوشگوار و مفید تعلقات کےلئے بھی اس احساس کا وجود بہت مفید ومو ¿ثر ہے۔
بچہ کے غصہ کے ساتھ کیسے برتاؤکریں!
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بچہ کھیل کود میں مشغول ہوتا ہے اور یہ حالت اس کے لیے بڑی خوش کن ہوتی ہے، کہ اچانک اس کی ماں آتی ہے اور کہتی ہے کہ بیٹا اب آپ کپڑے پہن کر تیار ہوں، بعض ضروریات کی خرید وفروخت کیلئے بازار جانا ہے، بچہ فوراً انکار کرتا ہے کیوں کہ اس وقت اس کے نزدیک اس کا کھیل بازار جانے سے زیادہ اہم ہے، اس صورت میں بچہ اور ماں دونوں کی طرف سے غصہ کا اظہار ہوتا ہے، اور پھر ماں کو یہ کہتے ہوئے پایا جاتا ہے کہ اس کا بچہ نہ اس کی اطاعت کرتا ہے اور نہ اس کی معاونت کرتا ہے۔
یہ منظر جو تقریباً ہر روز ہر کسی کے سامنے پیش آتا ہے اس کاتجزیہ ضروری ہے، ظاہر ہے کہ بچہ اپنے کھیل کودمیں مسرور ہوتا ہے، اس کو قطعی یہ بات نہیں بھاتی کہ وہ اپنے کھیل کے سلسلہ کو منقطع کرے، یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی اس کے بازار جانے کا دل ہی نہ کر رہا ہو، ان دونوں صورتوں میں اس کو غصہ آنا لازم ہے، جہاں تک ماں کے موقف کی بات ہے توا سکے سامنے گھر کی ضروریات اور اس کے اپنے روزانہ کے معمولات و فرائض ہوتے ہیں اس لیے وہ اس وقت بازار جانا ضروری سمجھتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے کہ کبھی وہ بازار جانے کے لیے مائل نہیں ہوتی، دونوں کے اپنے موقف کے بعد ہوتا یہ ہے کہ دونوں کا غصہ ٹکراتا ہے اور ماں وبچہ ایسی حالت سے دوچار ہوتے ہیں جس میں دونوں کو بے چینی و بے کیفی ہوتی ہے۔
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس صورت میں دونوں میں سے کس کا موقف درست ہے اس لیے کہ دونوں کی اپنی مصلحتیں اور اپنے موقف ہیں، اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں کہ بچے کو یہ احساس دلایا جائے کہ اس کا غصہ محسوس کر لیا گیا اور اس نے بازار نہ جاکر اچھا نہیں کیا، وہ بالکل تعاون نہیں کرتا ہے اور بہت عاجز کرتا ہے، البتہ ماں سے یہ بات آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کو یقینا غصہ آیا ہے، اور ہم کو بھی اس وقت غصہ آتا ہے جب ہم اپنی خواہش کے مطابق کام نہیں کرپاتے، یہ بات ہمارے لیے ممکن بھی نہیں کہ ہم ہر وقت اپنی خواہش کے مطابق کام کریں، اسی لیے کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جس وقت موقع ملے اس وقت گھر کی ضروریات خرید لیں۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بچے کا غصہ کوئی جادو نہیں ہے جو فوراً زائل ہوجائے گا، ماں کو چاہیے کہ وہ مسلسل یہ تاکید کرتی رہے کہ وہ بچہ کو جب جس طرح کہے بچہ اس کی اطاعت کرتا رہے کچھ دنوں میں وہ خود یہ محسوس کرے گی کہ بچہ میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے، یہ احساسات فطری ہیں اور انہیں سمجھا جا سکتا ہے، ماں کے اس طریقہ سے بچہ میں یہ احساسات ضرور پیدا ہوں گے اور وہ کسی نقصان کو بھی نہیں محسوس کرے گا، وقت کے ساتھ وہ یہ بھی سیکھ لے گا کہ وہ اپنے جذبات اور ان کے رد عمل کا اظہار کیسے کرے، البتہ اس وقت ایک نازک نفسیاتی مشکل پیش آتی ہے جب ماں بچے کو یہ احساس دلا دیتی ہے کہ جو بچے اس طرح عاجز کرتے ہیں اور غصہ کرتے ہیں وہ ناپسندیدہ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماں تم سے محبت نہیں کرتی کیوں کہ اس کے دل میں تمہارے لیے غصہ اور اس صورت حال کے سبب کھنچاؤ ہے، ظاہر سی بات ہے کہ ہر آدمی کسی نہ کسی وقت تنگی اور کھنچاؤ محسوس کرتا ہے، یہی معاملہ بچہ کا بھی ہوتا ہے بسا اوقات وہ اس کا اظہار کر دیتا ہے اور بعد میں نادم ہوتا ہے، اور کبھی کبھی وہ ان جذبات کو دبا لیتا ہے، یہ دھیان رہے کہ بچے کا اپنے جذبات کو دبا لینا اکثر اس کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ انسان اگر یہ سوچتا ہو کہ جو جذبات دل میں دبا دیے جاتے ہیں وہ ختم ہو جاتے ہیں یا ان سے چھٹکارا مل جاتا ہے تو یہ غلط فہمی ہے بلکہ وہ دل میں انگڑائی لیتے رہتے ہیں بلکہ کچوکے لگاتے رہتے ہیں، چنانچہ جب بچہ اس حالت سے گزرتا ہے تو متعدد جسمانی اور ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، مثلا اس کے اندر یہ بات پیدا ہو سکتی ہے کہ بہت زیادہ چیزوں کوچھپائے اور اپنے جذبات کا بالکل اظہار نہ کرے اور بغیر کسی واضح سبب کے وہ ہر وقت گناہ اور غلطی کے احساس سے دو چار رہنے لگے، پھر وہ ایک داخلی کشمکش کا شکار ہوجائے گا اور ہر وقت اپنے اچھے اور برے مزاج کے بارے میں سوچے گا، اور اس طرح وہ ایک ایسے انسان کی شکل میں پروان چڑھے گا جس کی شخصیت میں دلجمعی و یکسوئی نہ ہوگی، اپنے آپ پر اعتماد بہت کمزور ہوگا، اس نفسیاتی مرض کے ساتھ اس کو بعض جسمانی مشکلات بھی پیش آئیں گی کیوں کہ نفسیاتی زندگی کا جسمانی زندگی سے مضبوط تعلق ہے، بچے میں اس طرح کی پریشانیوں کے سبب جو کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں ان کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس میں سختی جنم لیتی ہے، نرمی پر اس کو قدرت نہیں ہوتی ، کھانے کے سلسلہ میں وہ مشکوک رہتا ہے اور اس کو ایک پریشانی سمجھتا ہے، ایسے بچوں میں کمزوری تو عام بات ہے، قابو پانے کی قدرت اور زندگی کا فقدان پیدا ہوجاتا ہے اور نیند میں بھی ایک طرح کی پریشانی پیش آتی ہے۔
اپنے بچے کے غصہ کے ساتھ ماں کیا برتاو ¿ کرے: عام طور پر عمر کے تیسرے سال میں بچے والدین کے حکم کی خلاف ورزی اور ان کے مطالبات کا انکار شروع کردیتے ہیں، اس منفی انداز کو آپ ان کے ان جملوں میں سنیں گے، جیسے وہ غصہ کی حالت میں کہتا ہے”میں آپ کو نا پسند کرتا ہوں، مجھے آپ کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں، مجھ سے الگ ہٹ جائیے، میں آپ کے پاس نہیں آنا چاہتا یا مجھے آپ سے کوئی محبت نہیں وغیرہ۔۔۔“ ظاہر ہے کہ یہ انداز ماں کی نازک و بے لوث ممتا کو زخمی کرتا ہے، اس منفی اور مخالفت بھرے انداز کو قبول کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے، پھر ماں غصہ ہوتی ہے اور بچے پر چیخ پڑتی ہے ”یہ کیا گندی بات ہے، مجھے نہیں معلوم کہ تم کو کیا ہو گیا ہے، ایسا لگتا ہے تمہارے اندر شیطان داخل ہوگیا ہے، تم پر شیطان کا اثر ہوگیا ہے“، اور پھر ماں اس کو ڈراتی ہے کہ اگر وہ اسی منفی انداز اور اس طرح کے غیر مناسب کلام سے باز نہ آیا تو وہ ایک برا انسان بن جائے گا۔
بچے کے اس رد عمل اور اس طرح کے جملوں سے ماں کو تکلیف ہونا فطری بات ہے لیکن یہ ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جو بچہ یہ جملے اور الفاظ استعمال کر رہا ہے اس میں اتنی عقل ابھی نہیں ہے کہ وہ الفاظ و تعبیرات کا انتخاب کرکے بات کرے جس طرح کہ بڑے کیا کرتے ہیں، اس کو کیا معلوم کہ جو وہ غصہ میں اپنی ماں سے کہے گا کہ میں ”آپ کو پسند نہیں کرتا“ تو ماں پر اس جملے کا کیا اثر ہوگا، یہ بھی امکان ہے کہ اس طرح کے جملے و الفاظ بچہ اپنے والدین میں سے کسی کواستعمال کرتے ہوئے سن کر سیکھتا ہو مثلا ہم کہتے ہیں ”موسم بارش میں ہمیں باہر نکلنا پسند نہیں“ یا ”میں فلاں فلاں کو پسند نہیں کرتا وغیرہ“۔
ہم میں سے بہت سے افراد یہ جملہ استعمال کرتے ہیں ”میں نا پسند کرتا ہوں“ ظاہر ہے کہ اس سے صرف یہی مراد ہو تا ہے کہ یہ بات یا یہ کام مجھ کو پسند نہیں، کسی کو تکلیف پہنچانا یا پھر کراہت وغیرہ جیسی کوئی بات اس سے مراد نہیں ہوتی البتہ جب یہ جملہ غصہ میں بولا جاتا ہے تو پھر شدید انقباض مراد ہوتا ہے، بچہ بھی جب یہ جملہ منہ سے نکالتا ہے تو ہر گز اس کا مقصد اپنی ماں کو تکلیف پہنچانا اور رنجیدہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو صرف اپنے ان جذبات کا اظہار کرتا ہے جو اس میں فوری طور پر اس کی اپنی پسندیدہ مشغولیت کھیل کود وغیرہ سے ماں کے روکنے سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس طرح کے جملوں پر ماں کے غصہ اور ری ایکشن سے بچہ اپنے آپ کو ”برا“ تصور کر سکتا ہے اور اس میں یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ والدین کی اطاعت تو ”اچھے“ بچے کا کام ہے، پھر والدین کی نافرمانی کو وہ محسوس بھی نہیں کرے گا، اور والدین کے اس ری ایکشن کے سبب بچہ ان کے غصے کو بھی نہیں محسوس کرے گا۔ پھر ایسے بچے کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ اس ”اچھے“ بچہ کی طرح بنے لیکن ظاہر ہے کہ وہ اس عمر اور ان حالات میں اپنے آپ کو عاجز تصور کرے گا۔
یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کو اپنے جذبات و احساسات کو ظاہر کرنے کی پوری آزادی دی جائے، ورنہ اگر ماں ذرا ذرا سی بات پر غصہ کا اظہار کرے گی مثلًا کوئی اس جیسے جملہ پر وہ غصہ کا اظہار کرے گی اور کہے گی ”بیٹے تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ اس طرح بات کرنے کی“ تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ آئندہ زندگی میں وہ اس کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار نہیں کر سکے گی، اس لیے کہ اس مرحلہ میں جبکہ بچہ کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہونی چاہیے تو ماں اس پر قدغن لگا رہی ہے اور بچہ پر وہ اپنا حکم اور اپنی مرضی مسلط کر رہی ہے خواہ بچہ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو، اس صورت میں بہت ممکن ہے کہ بچہ میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ وہ والدین کے ساتھ امن و سکون محسوس نہ کرے اس لیے کہ وہاں حریت تعبیر پر قدغن لگائی جارہی ہے اور وہ یہ محسوس کر رہا ہے کہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے ہر احساس کو والدین کے سامنے پیش کر سکے۔
یہ بات ضرور ہے کہ بہت سے والدین ایسے ہوتے ہیں جو بچوں سے اس طرح کے جملے سننا پسند نہیں کرتے، ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ بچے کو اس کی حدود سکھائیں اور یہ بتائیں کہ بڑوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے اور کیسے ادب کیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑوں سے وہی بات کرے جو ان کے شایان شان ہو، ایسے والدین کو سمجھنا چاہیے کہ یہ چیز بچہ میں عمر کے ساتھ آتی ہے، عمر کے اس مرحلہ میں چاہیے کہ بچہ جب یہ کہے ”میں تم کو پسند نہیں کرتا“ یا یہ کہے کہ ”میں آپ کے ساتھ بازار نہیں جانا چاہتا“ تو ماں کچھ یوں جواب دے” بیٹا لگتا ہے اس وقت تم مجھ سے کچھ غصہ ہو ، تم کو مجھ سے کچھ پریشانی ہے …. لیکن سنو بیٹا …. اس وقت ضروریات کے لیے ہمیں بازار جانا ضروری ہے“
کبھی ایسا بھی مرحلہ آتا ہے کہ بچہ اچانک چیختا ہے کہ ”میں چاہتا ہوں کہ تم مر جاؤ  ماں“ ماں کو چاہیے کہ بغیر کسی تکدر کے بہت پیار سے کچھ یوں جواب دے ”بیٹا یہ ایسی بھلی بات نہیں جسے کوئی عام انسان بھی زبان سے نکالے، اور سنو آدمی جب مرجاتا ہے تو پھر وہ ہمیشہ کے لیے …. دور…. چلا جاتا ہے پھر کبھی واپس نہیں آتا، میں اگر مر گئی تو پھر تمہاری دیکھ ریکھ کون کرے گا، چلو لگتا ہے تم غصہ ہو اس وقت…. چھوڑو چلو بیٹا اس وقت ہم کو بازار جانا ضروری ہے“۔
یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ احساس کی نشو ونماانسانی زندگی میں بہت اہمیت کی حامل ہے، یہ ”احساس“ ہی تو ہے جس کی بدولت ہم ایک انسان کو کہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں بہت خوش ہے اور دسرے کو کہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں خوش نہیں ہے، ایسا انسان جو ہر وقت اپنے آپ کو ناپسند کرے یا اسے گناہ، غم اور خوف لاحق ہو تو وہ خوش نہیں رہ سکتا، وہ شخص بھی اپنی زندگی سے متلذذ نہیں ہو سکتا جو ہمیشہ نا امید رہتا ہو یا جسے اپنے جذبات کے اظہار کا موقع نہ ملتا ہو، یا جسے اس کے گردو پیش کے لوگ زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع نہ دیتے ہوں، اس لیے والدین کے لئے بے حد ضروری ہے کہ وہ جس طرح بچے کی جسمانی، عقلی اور فکری نشو ونما پر توجہ کرتے ہیں اسی طرح پورے اہتمام کے ساتھ ”احساس“ کی نشو ونما پر توجہ مرکوز کریں، (احساس کی نشو ونما پر الگ سے ایک بحث آئے گی)۔
سطور بالا میں پیش کر دہ تفصیلات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بچہ کو بالکل بے نکیل چھوڑ دیا جائے، وہ جو چاہے کرے، نہیں! بلکہ اس کو آزادی دینے کی بھی ایک حد ہوگی، جب وہ اس حدسے آگے بڑھے گا تو اس کی تنبیہ کی جائے گی، مثلا اس کو رونے یا اپنے غصہ کے اظہار کے لیے کوئی جملہ منہ سے نکالنے کی آزادی ہے (جس کی تفصیل اوپر گذری) لیکن اس کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی کہ وہ دوسروں کو مارے اور تکلیف پہنچائے سامان کی توڑ پھوڑ کرے، اب اگر وہ اپنے غصہ کے اظہار کے لیے اپنا کوئی کھلونا توڑ ہی بیٹھے تو اسے اس کا نتیجہ سکھانے کے لیے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، ایسا نہ ہو کہ کوئی اٹھے اور جلدی سے دوسرا دلا لائے، نہیں بلکہ اس کو سیکھنے دیا جائے کہ اس نے غصہ میں جو کیا اس کا نتیجہ ہے کہ اب وہ بغیر کھلونے کے یا ٹوٹے ہوئے کھلونے کے ساتھ رہنے پر مجبور ہے، اور یہی حرکت اگر وہ دوسروں کے ساتھ کر بیٹھے تو ضروری ہے کہ تنبیہ کے لیے (خواہ صرف دکھانے کے لیے ہو) اس بچہ کو معاوضہ دیا جائے اور ماں یہ کام اس طرح کرے کہ بچہ کو باور ہو کہ اس کی ضرورت کے لئے جو رقم تھی وہ اس حرکت کے نتیجہ میں دوسرے کو دے دی گئی۔ پھر ماں اس کو ڈراتی رہے کہ دیکھو اگر تم ایسا کروگے اور اس طرح غصہ میں کوئی چیز پھینکو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی، پھر تمہیں اس کے بغیر ہی رہنا پڑے گا اور وہ چیز تم کو نہیں مل سکے گی، اس طرح آہستہ آہستہ وہ اپنے اعمال کے نتیجہ پر نظر رکھنا سیکھے گا۔
خاص بات یہ ہے کہ ماں خود بچے کو اظہار غضب کے ایسے طریقے سکھا سکتی ہے جس سے اس کا غصہ نقصان دہ ہونے کے بجائے مفید ہوجائے، مثلا بچے کو یہ سمجھایا جائے کہ جب تم غصہ کا اظہار کرنا چاہو تو گھر میں دوڑنا شروع کردو، کمروں میں چکر لگاؤ یا تالا وغیرہ بجانے لگو اس طرح اس کے غصہ سے کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ غصہ کھیل اور نشاط میں تبدیل ہوجائے گا۔
خوشی کا فقدان:
ایسے جذبات و احساسات جن کے ساتھ زندگی گذارنے کا ہنر سیکھنا بچہ پر ضروری ہے، ان میں ہم تکلیف، بے قراری اور تکلیف پہنچانے کے جذبات کو لے سکتے ہیں، بچہ کو اگر کوئی تکلیف ہو یا کسی وجہ سے بے قرار ہو یا اسے کوئی تکلیف پہنچادے تو اس صورت میں اس کی عمر کے تقاضہ کے مطابق فوری اور فطری رد عمل کے طور پر وہ رونا شروع کر دیتا ہے، یہ بات مسلم ہے کہ رونا جذبات کی تسکین کے لیے مفید ہے، ہر انسان تکلیف و غم میں آنسو بہا کر کچھ نہ کچھ راحت محسوس کرتا ہے، لیکن اس کے با وجود اگر بچہ سے کہا جائے(لڑکوں سے اکثر کہا جاتا ہے) کہ وہ نہ روئیں، رونا غیر محبوب عمل ہے، اس سے شرمندگی ہوتی ہے، ”وہ آدمی ہے رونا اس کو زیب نہیں دیتا، بڑے بچے روتے نہیں ہیں“ تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بچہ یہ بھی سیکھے کہ جذبات پر کیسے قابو پایا جاتا ہے، کیوں کہ جذبات تو بہر حال ہوتے ہیں ان سے انکار ممکن نہیں، ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ چھوٹی چھوٹی بات پر رونے سے گریز کرے اور زیادہ رونے والا نہ بنے، اپنی ہر بات منوانے کے لئے آنسوو ¿ں کا سہارا نہ لے لیکن اس خواہش کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ بچہ اگر واقعی پریشان ہے، کسی تکلیف میں مبتلا ہے تو والدین بغیر کسی احساس شرمندگی کے اسے اظہار جذبات کا موقع دیں۔
متوازن صحت و شخصیت کے پروان چڑھنے کے لیے ضروری عناصر میں ایک اہم عنصر یہ بھی ہے کہ بچہ موقع و محل کے مطابق ہنسنے اور رونے کی قدرت رکھتا ہو، اس کے برخلاف اگر اس کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جذبات کو دبائے اور ہر بات پر نہ روئے تو اس سے متوازن صحت اور متوازن شخصیت کی نشو و نما ممکن نہیں۔
چھوٹے بچوں کی یہ خصوصیت ہے کہ ان میں احساسات و جذبات بہت کم وقفہ میں مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں، ایک لمحہ میں بچہ ہنستا ہے اور خوشی کا اظہار کرتا ہے پھر یکایک رونا شروع کر دیتا ہے اور کسی تکلیف و پریشانی کے احساس کا مظاہرہ کرتاہے، چشم زدن میں تھکن ظاہر کرتا ہے اور دوسرے ہی لمحہ پھر نشاط دکھاتا ہے، اس کا سبب یہی ہے کہ ابھی بچہ میں بڑوں کی طرح نہ یہ قدرت ہے اور نہ ہی اس نے سیکھا ہے کہ وہ اپنے احساسات کو دبا سکے اور جذبات پر قابو پا سکے اس لیے وہ جیسے ہی کوئی چیز اپنی مرضی کے موافق پاتا ہے فورا ہنس پڑتا ہے خوشی کا اظہارکرتا ہے اور ذرا جو ٹھیس لگے تو بس آنسووں کی جھڑی بندھ جاتی ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بچہ کا احساس اپنی جگہ مسلم ہوتا ہے، اس کا جذبہ اپنی جگہ صادق ہوتا ہے، چاہے بڑوں کے نزدیک وہ قابل توجہ اور لائق اعتناءنہ ہو اور وہ اسے یہ تلقین کریں کہ ”یہ بات رونے کی نہیں ہے“ کبھی کسی بات سے بچہ کا دل ٹوٹتا ہے، کبھی اس کو اپنی خوشی کافور ہوتی نظر آتی ہے اس صورت میں اس کا تھوڑا رولینا ہی بہتر ہے چہ جائیکہ اس کو نہ رونے کی تلقین کی جائے، کہ اس رونے سے اس کے جذبات کی تسکین ہوجائے گی، کیوں کہ بچپن میں رونا تسکین قلب اور جذبات کو سمجھانے اور قابو پانے کا بہترین ذریعہ ہے، بلکہ بڑوں کی بابت بھی یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ جو لوگ کسی حادثہ کے بعد رو لیتے ہیں ان پر اس کے اثرات اتنے نہیں پڑتے جتنے ایسے لوگوں پر پڑتے ہیں جو شدت جذبات کو چھپانے کے لئے اس طرح کوشش کرتے ہیں گویا کچھ ہوا ہی نہیں، جذبات سے مغلوب ہوکر رونے میں بڑے چھوٹے، مرد، عورت، بچے اور بچیاں سب برابر ہیں، اس لیے ضروی ہے کہ بچوں کو اس کا موقع دیا جائے، بلکہ ایسے مواقع پر والدین انہیں چمٹائیں، تھپکیاں دیں اور دلاسے دینے کی کوشش کریں، البتہ یہ بھی ملحوظ رہے کہ بچہ پر یہ بات بہت جلد واضح ہوجاتی ہے کہ وہ آنسوؤں کا سہارا لے کر اپنی بات منوا سکتا ہے اور اپنے مطالبات پورے کرا سکتا ہے، خواہ وہ مادی مطالبات ہوں یا ماں باپ کی توجہ حاصل کرنے، ان کے ساتھ ہنسنے کھیلنے جیسے معنوی مطالبات۔
اب ظاہر ہے کہ والدین اپنے بچے کے متعلق زیادہ بہتر جانتے ہیں، وہ خوب سمجھتے ہیں کہ بچے کے آنسو بناوٹی کب ہوتے ہیں اور کب وہ واقعی کسی پریشانی اور کسی ناپسندیدہ واقعہ کے پیش آنے سے روتا ہے، چنانچہ جب بچہ بناوٹی آنسو گرائے تو اسمیں کوئی حرج نہیں کہ اس کے اس فعل کی شناعت اس پر واضح کی جائے اور اس کو بتایا جائے کہ اپنے مطالبات منوانے کا یہ طریقہ بالکل صحیح اور پسندیدہ نہیں بلکہ اس کو فوراً دوسرے طریقے سکھا ئے جائیں اور اسے یہ باور کرایا جائے کہ بناوٹی آنسووں سے وہ اپنا کوئی مقصد حاصل نہیں کر سکتا، اس کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے کہ بچہ رونے کے ذریعہ والدین پر پریشر بنانا نہ سیکھ پائے ورنہ اسی عادت کے ذریعہ وہ دوسروں پر بھی پریشر بنانے کی کوشش کرے گا، پھر اسی طرح روکر اپنی کمزوری و عاجزی ظاہر کرنے کی اس کی عادت پڑجائے گی اور آئندہ زندگی میں وہ ہر کسی کی توجہ اور شفقت حاصل کرنے کے لیے یہی حربہ استعمال کرے گا خواہ بیوی سے معاملہ ہو یا رفیق کا رسے یا کسی اور دوست وغیرہ سے، لیکن اس وقت اس کے آنسووں سے متاثر کرنے کی عمر نکل چکی ہوگی بلکہ عمر کے اس مرحلہ میں اس کی یہ عادت لوگوں میں اس کے تئیں نفرت پیدا کرے گی، وہ بچشم خود دیکھے گا کہ لوگ اسے پسند نہیں کرتے اور اس کے تعاون کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے، اس لیے بچپن میں والدین کا بچے کے رونے سے پریشر میں آنے سے بچنا انتہائی ضروری ہے، ایسے موقع پر اس کو سمجھانا چاہیے کہ” وہ ابھی چھوٹا ہے سمجھتا نہیں“ ۔۔۔ وغیرہ اور اس طرح اس میں اپنی ذات پر اعتماد پیدا کرنا چاہیے، بصورت دیگر والدین بچے کے آنسووں سے متأثر ہوکر اگر اس کا ہر مطالبہ پورا کریں گے تو غیر شعوری طور پروہ اس میں عجز و کمزوری کا احساس پیدا کردیں گے جس سے ہمیشہ وہ دوسروں کی امید پر جیے گا اور کام میں دوسروں کے سہارے رہے گا، والدین کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ بچہ میں عجز کے بجائے قدرت کا احساس پیدا کریں، اسے توکل کے بجائے عمل کی تعلیم دیں چنانچہ جب کبھی ایسا ہو کہ بچہ کسی وجہ سے ناراض ہوکر یا بد دل ہوکر روئے اور اسے اپنا دل ٹوٹنے کا احساس ہواہو، تو اس کے کچھ دیر بعد ہی نہایت عقلمندی سے اس کو کسی ایسے کام پر آمادہ کرنا چاہیے جو کام اس کے موافق بھی ہو اور اس کے کرنے پر اسے قدرت بھی، تاکہ اس میں وہ خصوصیات پیدا ہو سکیں جو آئندہ زندگی میں اسے کامیاب انسان بنائیں گی۔
بچہ کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے کہ زندگی میں غم و تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، کبھی مقاصد کی بر آوری نہیں ہوگی لیکن ان سب حالات کے ساتھ جینے کا نام ہی زندگی ہے، لہذا کبھی تو بچہ کو رونے کا موقع دیا جائے، کبھی اس کی ہمت افزائی کی جائے اور ساتھ ہی اس کو رو کر ہمیشہ اپنی کمزوری ظاہر کرکے مقصد پورا کرنے کا عادی بننے سے بھی بچایا جائے۔
جب کبھی بچہ کی کوئی بات نہ پوری ہو پھر اس کی تھوڑی سی دلجوئی کر دی جائے اور سمجھا دیا جائے تو جلد ہی اس کو یہ بھی سمجھ میں آنے لگتا ہے کہ زندگی چلتی رہتی ہے اور انسان کو زندگی کی مختلف کیفیتوں اور مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اکثر بچے اس نکتہ کو بہت جلد سمجھ لیتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچے ہمیشہ اپنے حال میں مست رہنا پسند کرتے ہیں نہ انہیں گذرے ہوئے لمحات کا خیال ہوتا اور نہ مستقبل کا فکر اور نہ ہی تاریخ کی الجھنوں سے کوئی مطلب، بچے کو تکلیف اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کی جب تعلیم دی جائے گی تو یہ فطری بات ہے کہ کبھی وہ روئے گا، کبھی اس کو پریشانی ہوگی اور کبھی غمگین ہوگا، اس کے ان جذبات کی قدر کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور سمجھا بجھا کر اس حال سے نکال لینا اور پھر زندگی ادھارے میں لے آنا ہی دانشمندی ہے۔
احساسات کے سلسلہ میں آخری بات:جس کے ایک سے زائد بچے ہوں اسے سارے بچوں کے یکساں احساس کی توقع کرنا فضول ہے، اس لیے کہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں، انسانی مزاج میں تنوع پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ شور وشغب کا عادی ہوتا ہے تو دوسرا خاموشی پسند، کوئی چیز ایک کے لیے پریشان کن ہے تو وہی دوسرے کو بالکل پریشان نہیں کرتی، بعض بچے دوسروں کے مقابلہ میں کسی بات کو بہت گہرائی سے سوچتے ہیں، ان کا احساس بہت بڑھا ہوتا ہے، اور یہ بات مسلم ہے کہ بچہ کا مزاج اور اس کے احساسات اس کے اختیاری نہیں ہوتے، اس لیے یہ توقع کرنا صحیح نہیں ہے کہ ہر بچہ دوسرے کے مثل ہو، والدین کے لئے ضروری ہے کہ بچے کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کرتے رہیں، اسے دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر اس کو احساس دلائیں کہ کیا چیز اس کے لیے پریشان کن ہے اور کیا چیز اس کو ناراض کرتی ہے، اس کے بھڑکنے کا سبب بنتی ہے، اسی طرح اس کی ضروریات کا اسے احساس دلائیں البتہ اس پر بھی توجہ رہے کہ وہ اپنے ان خیالات و احساسات کو سمجھے اور ان کو برتے۔
ایک نکتہ یہ بھی سمجھنے کا ہے کہ ایک ہی بچہ کے جذبات و احساسات دن رات کے مختلف اوقات میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ دن کے آخری حصہ میں جب وہ تھکا ہوا ہوتا ہے تو زیادہ پریشان ہوتا ہے، اس کے برخلاف بہت سے بچے جب صبح کو سوکر اٹھتے ہیں تو روتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہیں، کچھ بچے کھانے کے وقت بڑی بد مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ بچوں میں اس طرح کی تبدیلیاں بے سبب نہیں ہوتیں، اس میں بڑا سبب صبح و شام اور کھانے سے قبل بلڈ شوگر کے توازن کا بھی ہوتاہے، اس کے علاوہ بچہ کا دن بھر کا نظام اور طریقہ ¿ زندگی اس تبدیلی کا ایک مؤثر عامل ہو سکتا ہے، اس کو بالکل یوں سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنی ۴۲ گھنٹے کی زندگی میں خود مختلف کیفیات کا شکار ہوتے ہیں، کسی وقت زندگی اور نشاط کا احساس ہوتا ہے اور کسی وقت تھکن سے دو چار ہوتے ہیں،کسی وقت کام کی طاقت ہوتی ہے اور کسی وقت آرام کو دل چاہتا ہے، یومیہ زندگی میں واقع ہونے والی یہ تبدیلیاں بچوں میں وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ آتی ہیں، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے مزاج سے واقف ہوکر مناسب طریقہ سے ان کے ساتھ معاملہ کریں۔
انہیں خود بھی اس کا اندازہ رکھنا چاہیے کہ کس وقت انہیں بچوں کے ساتھ پریشانی ہوتی ہے اور کس وقت ان کے ساتھ رہنے پر خوشی ہوتی ہے، اگر اس کا اندازہ نہ کیا گیا تو پھر بڑے خود اپنے مزاج کی پریشانی سے بچوں کی پریشانی میں اضافہ کریں گے، یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کے ساتھ ان کی دلچسپی کے لیے اپنا وقت فارغ کیا جائے اور ان کی دل بستگی کی جائے، اگر بچے ایسے اوقات میں اپنے ساتھ کھیل کود کے لیے تنگ کریں جو خود ماں باپ کی تھکن یا پریشانی کا ہوتو بچے کو پیار سے اس کا احساس دلا دیا جائے کہ بیٹا اس وقت ذرا سا آپ خاموش رہیں ہم پھر آپ کے ساتھ تھوڑی دیر بعد کھیلیں گے یا آپ کا یہ کام کریں گے وغیرہ۔
(جاری)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*