بچوں کی تربیت کے رہنما اصول (نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں)-ڈاکٹر مامون مبیض

ترجمہ:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی
(قسط:۴)

بچے کی زندگی میں والد اور بقیہ افراد خانہ کا کردار:
باپ کا رول دیگر افراد خانہ سے مختلف ہوتا ہے، حتی کہ جس گھر میں روزی کمانے کی ذمہ داری تنہا باپ پر ہوتی ہے اس پر بھی بچے کی زندگی میں اہم ترین کردار ادا کرنے کی یہ ذمہ داری باقی رہتی ہے، بہت سے والد بالکل ابتدائی مراحل میں بچے کی ذمہ داریاں اٹھانے اور اس کی دیکھ ریکھ میں مداخلت کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اس معاملہ میں پس و پیش میں مبتلا رہتے ہیں، بعض تو اعتراف بھی کرتے ہیں کہ دراصل وہ اچھا نہیں محسوس کرتے یا ایسا کرنے میں ان کو خود پر اعتماد نہیں ہوتا، ایسا کسی جسمانی مشکل کے سبب نہیں ہوتا بلکہ دراصل وہ اس سماجی نظریہ سے مجبور ہوتے ہیں جو ہر خاندان میں معمول بہ ہے، یعنی یہ کہ شیرخوار بچے کی پرورش اور دیکھ ریکھ ابتدائی مراحل میں ماں کی ذمہ داری ہے، اس میں باپ کا کوئی کردار نہیں ہے، اس کا کوئی صحیح اور بایولوجیکل سبب بھی نہیں جو اس موقف کو درست قرار دے سکے، بچہ کی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت دونوں جنس میں بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ علاقائی و خاندانی تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج اور سماج کا اپنا کام ہوتا ہے اور اس کے اپنے اصول ہوتے ہیں، اسی لیے ہم قوموں، ثقافتوں اور معاشروں میں الگ الگ فرق محسوس کرتے ہیں، چنانچہ ان خاندانوں میں جہاں ماں کسب معاش کے لیے باہر نکلتی ہے ان میں چھوٹے بچے کی دیکھ ریکھ میں والد کا رول بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، بلکہ ماں کے کردار سے بڑھا ہوا ہوتا ہے اور باپ اگر کامیابی کے ساتھ اپنا کردار نبھاتا ہے تو بچہ محروم نہیں رہتا، البتہ جس گھر میں بچے کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری صرف ماں پر ہو تو وہاں ماں اور بچے دونوں کے لیے ضروری ہے کہ بچے کی تربیت و پرورش میں باپ کا بہت فعال رول ہو، بالخصوص رات میں یا صبح سویرے بچہ جس کو بھی جگائے یہ ایک بڑا پریشان کن اور تھکا دینے والا مرحلہ ہوگا، ایسے میں ماں کے لیے جو چیز بہت اطمینان بخش اور باعث سکون بنے گی اور جس سے اس کو بڑی اخلاقی مدد ملے گی وہ یہ کہ آپ اپنی شریک حیات کا ان مشکل اوقات میں کچھ تعاون کریں اور اس کو یہ احساس دلائیں کہ وہ دن رات کے طویل عرصہ میں کافی تھکی ہے۔
بہت سے والد اس پر اصرار کرتے ہیں کہ وہ دن بھر تھک ہار کر آئے ہیں اب بچے کی دیکھ ریکھ کا کوئی کام نہیں کرسکتے، لیکن ہم کو یہ بھی تو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ماں بھی تو اسی طرح دن بھر بچوں کے پیچھے دیکھ ریکھ میں ملکان رہی اور دن بھر ان ہی کی خدمت میں مصروف رہی ہے، جب باپ بچے کو بیوی کے سامنے سے اٹھا لیتا ہے تو اس سے اس کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، جن میں ایک اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو بچے سے اپنا حقیقی اور قلبی لگاﺅ معلوم ہوتا ہے، ساتھ ہی وہ اس کے ذریعہ بیوی سے بھی اپنے تعلق و محبت کا اظہار کرتا ہے، بیوی مطمئن ہوتی ہے اور اس کے اندر شوہر کے گہرے تعلق کا شعور جاگزیں ہوتا ہے، وہ اس طرح بیوی کے اس عظیم کردار کے قدر و احترام کا بھی اظہار کرتا ہے جو وہ بچے کی تربیت میں ادا کر رہی ہے، ظاہر ہے کہ حمل، ولادت اور پھر ابتدائی مراحل میں دیکھ ریکھ ماں کی زندگی کے اہم ترین پہلو ہیں، اس دوران اس کو شوہر کی طرف سے یہ باور کرائے جانے کی شدید ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس کو ویسے ہی چاہتا ہے، اس پر اتنی ہی توجہ دیتا ہے جس طرح ولادت سے قبل کرتا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس عورت کو اپنے شوہر سے اس طرح کی توجہ اور عنایات حاصل ہوں گی وہ اپنی زندگی کو زیادہ خوش نصیب محسوس کرے گی اور خود کو زیادہ سعادت مند تصور کرے گی، ایسا کرنے کے لیے باپ کو کچھ بہت زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں، بس اس کے لیے اس قدر عمل کافی ہوگا کہ مثلاً جب وہ گھر لوٹے تو فوراً ماں اور بچے کی طرف متوجہ ہوجائے، دن بھر ماں پر جو گذری ہے اس کے متعلق معلوم کرے اور غور سے سنے، اگر بچہ سو رہا ہے تو محض اپنے اطمینان کے لیے اس کے کمرے میں ہو آئے، اگر جاگ رہا ہے تو اسے اٹھا لائے اور والدین (یعنی اپنے) کے ساتھ بٹھائے، کھانے کا وقت ہوجائے تو بچے کو کھلانے میں ماں کا تعاون کردے، اسی طرح جب بچے کو کوئی تکلیف ہو یا رات میں وہ جگائے تو باپ بھی اپنا کردار ادا کرے، کچھ ہی عرصہ کے بعد یہ سب امور معمول (روٹین) کے کام بن جائیں گے اور باپ ان کاموں کا عادی ہوجائے گا، اس طرح باپ کے ساتھ بچے کے مضبوط تعلق کی بنیاد پڑ جائے گی، کچھ وقت کے بعد وہ خود ہی اپنے والد کی آمد اور ایسے کام کرے گا جو اس کے لیے راحت رساں اور باعث خوشی ہوتے ہیں، پھر ایک وقت آئے گا کہ وہ والد سے ملنے کا انتظار کرے گا اور انھیں کو تلاش کرے گا۔
ایک عام رواج یہ پایا جاتا ہے کہ باپ اپنے کام سے شام کو واپس آتا ہے، کھانا وغیرہ کھا کر وہ دوستوں سے ملنے ملانے نکل جاتا ہے، دیر رات کو واپس آتا ہے جبکہ گھر میں ماں اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ تنہا رہتی ہے، پھر باپ اس کی یہ دلیل دیتا ہے کہ شادی سے پہلے سے اس کا یہی طریقۂ  زندگی رہا ہے اور وہ اسی کا عادی ہے، اب جبکہ اس کے ایک بچہ بھی ہوگیا ہے تب بھی وہ اس نظام کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا، حالانکہ اپنی نئی ذمہ داریوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو اب اپنا نظام تبدیل کرنا چاہیے، یہ سمجھنا چاہیے کہ آزادی اور انفرادیت کے دن رخصت ہوگئے، یہ صحیح ہے کہ ولادت سے پہلے اس پر یہ نئی ذمہ داریاں عائد نہیں ہوئی تھیں مگر وہ اب باپ بن گیا ہے، باپ بننے کے ساتھ ہی نہ صرف بچے کے تئیں بلکہ اس کی ماں (یعنی بیوی) کے تئیں بھی اب اس پر نئی ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں، اب اگر وہ اپنی نئی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے سمجھتا ہے تو اس طرح ایک ایسی فیملی تشکیل پا سکتی ہے جس کی بنیاد بہت مضبوط و محبانہ اور معاونت پر مبنی باہمی تعلق پر ہوگی۔
اس بات کا تذکرہ بھی یہاں مفید ہوگا کہ یہ انسان جو نیا نیا باپ بنا ہے اس کو بھی تعاون کی ضرورت ہے، اس کو بھی ضرورت ہے کہ جب وہ اپنے بچے کے ساتھ ہو تو اسے اطمینان و اعتماد کا احساس حاصل ہو، بچے کو ماں کی جانب سے جو دیکھ ریکھ ملتی ہے اس پر بسااوقات باپ کو غیرت آتی ہے، اس لیے بیوی کو چاہیے کہ شوہر پر بھی توجہ دے، مثلاً جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہو اسے خوش آمدید کہے، اور اس کو در پیش امور و مسائل سے متعلق بات کرنے کے لیے وقت دے، اسی طرح اسے بچے کو شوہر سے یہ کہہ کر دور نہیں کرنا چاہیے کہ مرد ٹھیک سے بچے کی دیکھ ریکھ نہیں کر پاتے، ان کو صحیح خدمات فراہم کرنے کی قدرت نہیں ہوتی، گویا مرد کے بھروسے چھوٹے بچے کو نہیں چھوڑا جاسکتا، ماں کی اگر یہی سوچ رہی تو پھر وہ کسی مرد کے حوالے بچے کو کرے گی ہی نہیں، حتی کہ شوہر کو بھی نہیں دے گی، اس لیے اس طرح کی غلط فہمیوں سے متعلق زوجین کو آپس میں بات چیت کر کے دور کرلینا چاہیے، یہ صحیح ہے کہ اس طرح کے مواقف بچے سے ماں کی شدید محبت کے سبب پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپر خوف کی نفسیات طاری کرلے، ورنہ وہ بچے اور شوہر دونوں پر ظلم کی مرتکب ہوگی، بچے کو صحت مند نمو کے لیے معاشرتی میل جول کی ضرورت ہوگی اور ماں اس کو دبوچ کر رکھے گی، اس طرح بچہ فطری اور صحت مند نمو کا موقع پانے سے محروم ہوجائے گا، ضرورت سے بڑھی ہوئی یہ محبت اور یہ تسلط آئندہ دنوں میں مزید مشکلات کا سبب ہوگا، خود ماں کو بچے کے بڑے ہوجانے پر یہ قبول کرنے میں سخت دشواری ہوگی کہ وہ اب بڑا ہوگیا ہے، اس کی اپنی مستقل شخصیت اور الگ دنیا ہے۔
بچے کی زندگی کے ابتدائی مہینوں میں طبعی بات یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں مل کر خدمت انجام دیں تاکہ ایسی فیملی کو وجود میں لاسکیں جس کا ہر فرد ایک دوسرے سے محبت کرتا ہو اور ایک دوسرے کی ضروریات و احساسات کا احترام کرتا ہو، ماں اور باپ دونوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کی محبت کو وہ محسوس کریں، اسی طرح دونوں کو یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا بچے کی تربیت اور نشونما میں اہم کردار ہے، دونوں فیملی کے دست و بازو ہیں، دونوں سے مل کر ہی فیملی مکمل ہوتی ہے۔
بقیہ افراد خاندان کا رول:
زندگی میں انسان کو جو چیز سب سے زیادہ خوش نصیبی کا احساس دلاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے بچے سے اس کے دوست و احباب اور رشتہ دار اظہار محبت کریں، جب وہ دیکھتا ہے کہ رشتہ دار اور دوست اس کے بچے کو پیار کر رہے ہیں تو وہ دل ہی دل میں سعادت و مسرت محسوس کرتا ہے، بہت سے لوگ طبعی طور پر چھوٹے بچوں سے پیار کرتے ہیں، بہت سے لوگ بچے کے ساتھ اپنی خوشی میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہتے ہیں لیکن والدین کو اس سلسلہ میں یہ ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے کہ بچے دوسروں بالخصوص اجنبی لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے میں مختلف الطبع اور مختلف المزاج ہوتے ہیں، چنانچہ بعض بچے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ والدین کے علاوہ کوئی بھی کھیلتا ہے تو وہ پریشان ہونے لگتے ہیں، چڑ چڑانے لگتے ہیں، جیسے ہی کوئی ان کے قریب جاتا ہے وہ رونے اور چلانے لگتے ہیں، پھر بچے کے اس طرح کے برتاﺅ اور رد عمل سے والدین پریشانی محسوس کرتے ہیں، اس سلسلہ میں صحیح اصول یہ ہے کہ آپ بچے کو کسی کے ساتھ کھیلنے پر مجبور نہ کریں، بلکہ آپ کوشش کیجیے کہ بچے کے مزاج اور اس کی طبیعت سے واقف ہوں، چنانچہ اگر بچہ دوسروں سے پریشانی محسوس کرتا ہے تو آپ اس کو دوسروں کے حوالے کرنے میں قطعی جلدی نہ کیجیے، بغیر کسی جبر و زبردستی کے اس کو خود ہی لوگوں سے گھلنے ملنے کے لیے کافی مہلت دیجیے، رفتہ رفتہ وہ خود ہی لوگوں کی موجودگی کا عادی ہوجائے گا، پھر خود ہی اس کے اندر لوگوں کو جاننے اور ان سے قریب ہونے کا شوق جاگے گا، والدین ایسی صورت میں زیادہ پریشان ہوتے ہیں جبکہ دادا دادی پہلی بار اس سے قریب ہوتے ہیں اور وہ ان کے قرب سے تنگی محسوس کرتا ہے، لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ جلدی ہی واقف ہوجائے گا اور دیگر افراد خانہ سے اپنے خاص تعلق کو سمجھ لے گا، کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمہ وقت اس کو اپنے آغوش محبت میں لینے اور اس کی خدمت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
لیکن اجنبی لوگوں سے میل جول کی اہمیت بہر حال باقی رہتی ہے، حتی کہ اس بچے کے لیے بھی یہ چیز اتنی ہی اہم ہوتی ہے جو دوسروں کے ساتھ راحت نہیں محسوس کرتا، چنانچہ جس بچہ کو بچپن میں اس طرح کے میل جول سے روکا گیا یا محروم رکھا گیا، بڑے ہونے پر وہ لوگوں سے ملنے میں شرمائے گا اور اس وقت کی بہ نسبت زیادہ پریشانی محسوس کرے گا، بچے کی اچھی نشو نما کے لیے یہ مفید ہے کہ قرابت داروں اور دوستوں کے یہاں اجتماعی اور خاندانی ملاقاتیں (Familiy Visits)ہوتی رہیں، اور پھر اس طرح کے اجتماعی ماحول میں لوگ بچے کو وقت دینے کی کوشش کریں، اگر اس کو صحیح مان لیں کہ اجنبی مہمان کی گود میں بچہ جیسے ہی پریشان ہو فوراً ماں کے دوڑ کر اس کو اٹھا لینے میں کوئی فائدہ نہیں، لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ اس کو آخری درجہ عاجز ہونے اور چیخنے کے لیے چھوڑے رکھنا بھی درست نہیں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ابتدائی عمر میں بچے کو پیش آنے والے منفی تجربات اس کے مزاج اور ردِّ عمل پر کچھ نہ کچھ نقوش ضرور چھوڑتے ہیں، چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب وہ لوگوں کے ساتھ ہوگا تو کچھ زیادہ ہی پریشان ہوگا۔
بچے کی تربیت میں دیگر لوگوں کے کردار کا تعلق ویسے ہی ہے جیسے کہ لوگوں سے ناصحانہ و خیر خواہانہ سلوک کا تعلق ہوتا ہے، اور نصیحت تب ہی مفید ہوگی جب آپ بچے کو اپنا بچہ سمجھیں، اور ذمہ داری کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، پھر جو چیز کسی بچے کے لیے مناسب ہوتی ہے ضروری نہیں کہ وہ سب بچوں کے لیے مناسب ہو، تربیت کے سلسلہ میں انسان کے لیے سب سے مفید ایسے لوگوں کے وہ کامیاب تجربات ہیں جو اولاد کی تربیت سے حاصل ہوئے ہوں، بہت سے لوگوں سے اگر آپ مشورہ کریں گے تو وہ آپ سے اپنے تجربات بیان کریں گے، آپ کو یہ احساس بھی نہیں دلائیں گے کہ غلطی آپ کی ہے یا بچے کی، خواہ آپ ان کے نصیحت کو مانیں اور نظریہ کو قبول کریں یا نہیں، عام طور پر ایسے لوگوں کو غور سے سننا مفید ہوتا ہے، آپ بھی جب ان سے بات کریں گے تو وہ آپ کی بات غور سے سنیں گے اور بات نہیں کاٹیں گے، آپ پوری وضاحت سے اپنی مشکلات بیان کردیجیے، پھر وہ صرف آپ کے سامنے اپنی اولاد سے متعلق اپنے طویل، کامیاب اور ثمرآور تجربات بیان کردینے پر اکتفا کریں گے۔
اگر آپ کے کچھ اچھے اور بھلے ایسے رشتہ دار قریب میں رہتے ہوں جو عملی و معنوی صورت میں آپ کا کچھ تعاون کردیں تو یہ اور زیادہ مفید و معاون ہے، کیونکہ اس سے بچے کی تربیت میں پیش آرہی آپ کی کچھ پریشانیاں حل ہوجائیں گی، اس سلسلہ میں جو بھی مشکلات و پریشانیاں پیش آئیں ان سے متعلق کسی سمجھدار دوست یا رشتہ دار سے گفتگو کرنا مفید ہوگا، عملی تعاون کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، جیسے آپ کے قریب رہنے والے رشتے دار اگر آپ کا ضرورت کا سامان بازار سے خرید کر لاویں تو یہ بڑا تعاون ہوگا، یا ماں اگر کسی امر میں مصروف ہو اور وہ تھوڑی دیر بچے کو سنبھال لیں، لیکن دھیان رکھیے کہ دوسروں سے اس طرح کی خدمات زیادہ مت لیجیے ورنہ وہ اکتا جائیں گے، کیونکہ لوگوں کا حال کچھ اس طرح ہے کہ ”بار بار ان سے مٹی ہی مانگی جائے تو وہ اکتا جائیں“، یہ معاون رول ان کرداروں میں سے ہے جس کو بھرے پُرے خاندان کا کوئی فرد نبھاتا ہے۔
یاد رکھیے کہ انسان کے لیے دوسروں پر نقد کرنا بہت آسان ہے، اور یہ سمجھنا بھی آسان ہے کہ لوگوں سے زیادہ بہتر انداز میں یہ عمل وہ خود انجام دے سکتا ہے، اگر لوگوں کے بچے اس کے پاس ہوں تو وہ ان کے والدین سے زیادہ بہتر طریقہ سے ان کے امور انجام دے، آپ کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ خود آپ کے اپنے بچے کو جس طرح آپ پہچانتے ہیں کوئی دوسرا نہیں جانتا اور پہچانتا، اور نہ کسی کو اس سے آپ سے زیادہ قلبی تعلق ہوسکتا، اس لیے آپ ان لوگوں سے بحث و تکرار میں اپنا وقت مت ضائع کیجئے، جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپ کے بچے سے آپ سے زیادہ واقف ہیں، وہ آپ سے وہی کہیں گے جو آپ بچے کے ساتھ کر رہے ہوں گے، بس آپ ان سے سہولت سے ہاں یا نہیں میں کوئی جواب دے کر اپنا دامن چھڑا لیجیے ۔
عام طور پر دادا دادی کے ساتھ تعامل ذرا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ آپ باپ تو بن گئے مگر اپنے والدین کی نظر میں آپ ہمیشہ ”چھوٹے“ ہی رہتے ہیں، ان کے نقطۂ نظر ان کے تعاون کے بغیر آپ اولاد کی تربیت پر قادر نہیں، لہٰذا یہ بات سمجھنے کی ہے کہ وہ آپ کی اور آپ کے بچے کی زندگی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے، کبھی کبھی آپ کو پریشان ہوکر ان کو یہ بتانا پڑے گا کہ ”یہ میری فیملی ہے جس میں میری بیوی اور میرا بچہ ہے“ اور بچے کی تربیت کی ذمہ داری ہم دونوں کی ہے، یہ صحیح کہ آپ کو ان کے تعاون اور تائید کی قدر کرنی چاہیے اور احترام کرنا چاہیے، لیکن لُبّ لباب یہی ہے کہ بچہ آپ کا ہے، ذمہ داری بھی اصل میں آپ کی اور آپ کی بیوی کی ہی ہوگی، اس کی زندگی کے متعلق آخری فیصلہ لینے کے آپ ہی دونوں مجاز ہوں گے۔
(جاری)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*