بچوں کی تربیت کے رہنما اصول (نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں)-ڈاکٹر مامون مبیض

ترجمہ:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی

(قسط:۳)

والدین کے درمیان تعلقات:
بچے کی زندگی اور اس کی نشو و نما میں والدین کے آپسی تعلق کی بڑی اہمیت ہے، بچے اور والدین کے تعلق کے سلسلہ میں والدین کے ایسی تعلقات کا استوار ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ عام طور پر وہ بچے بہت اچھی طرح پروان چڑھتے ہیں جو ماں باپ کے خوشگوار ازدواجی تعلقات کے سایے میں پروان چڑھتے ہیں، جہاں ماں باپ کے درمیان آپس میں ہنسی مذاق کا تبادلہ ہوتا ہے، جہاں ماحول یہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، ایک دوسرے کے مصالح کی رعایت کرتے ہیں، دونوں مل کر ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں، تمام امور میں آپس میں بات چیت کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اس طرح دونوں ایک خوبصورت نمونہ پیش کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح رشتے میں ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے۔
اس ماحول میں جو بچہ پروان چڑھتا ہے اس کے اندر امن و امان کا احساس بہت گہرا ہوتا ہے، اس لیے کہ سامنے بہترین نمونہ ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ کسی طرح تعامل کیا جائے، پھر اس کے اندر یہ شعور پروان چڑھتا ہے کہ اس زندگی میں سب سے مامون جگہ گھر ہے۔
اس کے برخلاف ایسا ماحول جس میں ہر وقت ماں باپ کے درمیان بحث و تکرار جاری ہو، دونوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہو اور چیخ و پکار مچتی ہو، غصہ میں آوازیں بلند ہوتی ہوں، ایک دوسرے کو رونے پر مجبور کردیتا ہو، جس ماحول میں تکلیف، سوزشِ قلب اور بے اعتمادی ہو، تو اس ماحول میں جو بچہ پروان چڑھتا ہے وہ خطرات و خوف میں مبتلا ہوتا ہے، انتشار ذہنی کا شکار ہوتا ہے، وہ ایک طرف تو ماں باپ سے یکساں طور پر محبت کرتا ہے مگر دوسری طرف اس کشمکش میں مبتلا رہتا ہے کہ دونوں میں سے کس کی طرف کھڑا ہو، اس کو دونوں کے درمیان تفریق اور گھر کے بکھرنے کا امکانی خطرہ ستاتا رہتا ہے، ایسے ماحول میں پلنے والے بچے کے لیے کسی اجتماعی سرگرمی Activity اور گھریلو تقریب سے لطف اندوز ہونا بہت مشکل ہوتا ہے، اس ماحول میں کھانے کے اوقات، سفر، اجتماعی سرگرمیاں سب جھگڑے اور اختلاف کی نذر ہوجاتی ہیں، یا یہ سب کچھ غیض و غضب کی حالت میں انجام پاتا ہے، اس ماحول میں بات کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوتی، بچہ شام کو سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹا ہو، ایسے میں والدین کی بلند ہوتی آوازیں اس کو بہت پریشان کرتی ہیں، اسی طرح بچہ اسکول سے گھر واپس آتا ہے تو ایک ایسے ماحول میں آتا ہے جہاں غصے کا ماحول ہوتا ہے اور ہر طرف تنائو ہی تنائو نظر آتا ہے، ازدواجی تعلقات میں اس طرح کے اختلاف کے سبب بچے اور والدین کے درمیان اچھے اور خوشگوار تعلقات قائم نہیں ہو پاتے، کیوں کہ ہر ایک تنائو کا شکار رہتا ہے اور ہر کوئی ذہنی الجھن، کوفت اور تکان میں مبتلا رہتا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ ازدواجی تعلقات میں بعض مشکلات اور پریشان کن لمحات کا آنا فطری عمل ہے، یہ بھی ضمانت دینا مشکل ہے کہ ماں باپ کے درمیان جو کچھ بھی ہو بچہ اس سے دور رہے، نہ اس کو دیکھے اور نہ سنے، اگر والدین کے درمیان کسی وقت کوئی بحث و تکرار ہو جائے اور بچہ اس کو دیکھ لے تو یہ بہرحال اس سے بہتر ہے کہ والدین اندر ہی اندر کڑھتے رہیں اور جذبات امنڈ آئیں کہ موقع ملتے ہی پھٹ پڑیں اور پھر ذرا بھی سانس لینے کا موقع نہ ملے، خاندانی زندگی Family Life کے لیے افضل یہ ہے کہ افراد خانہ کے درمیان صراحت کا چلن ہو، وہ براہ راست آپس میں ایک دوسرے سے گفتگو کرسکتے ہوں، لیکن بچہ کے لیے ہمیشہ وہ گھر بہتر قرار پاتا ہے جس میں ماں باپ ایک دوسرے کی رائے اور نقطۂ نظر کا پورا احترام کرتے ہوں، اور ہر فریق کو اپنے افکار و احساسات کے اظہار کی آزادی حاصل ہو، ایسا کرنے سے دوسرے کو اس کی شخصیت و انفرادیت کی قیمت اور اس کے احساس دلانے کا مقصد بھی حاصل ہوتا ہے، کیونکہ انسانیت کی قدر و قیمت کے شعور سے اگہی پر ہی انسان کی خوش نصیبی و خوش بختی منحصر ہے، اس کے علاوہ اس گھر کا ماحول بھی مناسب قرار دیا جاسکتا ہے جس میں اختلاف رائے کے موقع پر صراحت و آزادی کے ساتھ بات چیت کرلی جاتی ہو، بجائے اس کے کہ بات جھگڑنے تک پہنچے اور تند و تیز آوازوں میں الفاظ کا تبادلہ ہو۔
شور شرابہ اور جھگڑے سے اختلافات کو حل کرنے میں ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ہر دو فریق کی طرف سے کھڑے ہوجاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس اختلاف کی ابتدا معمولی سی بات سے ہوئی تھی جس کا حل سادہ سی گفتگو سے ممکن تھا، اب وہ بڑھ کر ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، پھر کوئی بھی فریق رجوع کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، جذبات بھڑکتے ہیں، باتوں کا تکرار اور مواقف کا ٹکرائو ہوتا ہے، ہر ایک فریق دوسرے کو نیچا دکھانے دوسرے کو قصور وار ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ ایک طرح سے انتقام کی کوشش کرتا ہے، آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ٹکرائو کی سی صورت حال کچھ اس طرح پیدا ہوجاتی ہے کہ پھر اس میں بچے کے ساتھ کوئی مثبت اور ثمر آور عمل انجام نہیں پاتا، چند دن گھر میں یہی ٹکرائو کی صورت حال باقی رہتی ہے، تنائو کے ماحول میں آدمی کی زبان سے وہ نکلتا ہے جو کہنا بھی نہیں چاہتا، اور اسی تنائو کے سبب سننے والا وہ سمجھتا ہے جو کہنے والے کام قصد نہیں ہوتا، پھر دونوں ہی جو کچھ سنتے اور سمجھتے ہیں اس کو دوسرے مواقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، جبکہ چند دنوں یا ہفتوں کے بعد از سرِ نو جب جنگ چھڑتی ہے تو اس موقع پر بھی اس کے اثرات نظر آتے ہیں، علاوہ از ایں درمیان میں بھی گفتگو پر ان تلخ یادوں کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
بچے اس طرح کے نفسیاتی حادثات کے بار بار پیش آنے سے بڑی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، انھیں صلح و مصالحت کے ان ایام میں بھی پریشانی ہی ہوتی ہے جن میں خاموشی چھائی رہتی ہے، جفا، دوری اور عدم تعاون کا ماحول رہتا ہے، بچہ اپنی آئندہ زندگی میں بعض ان احساسات کا تذکرہ کرتا ہے جن سے اس تنائو سے بھرے ماحول میں وہ گذرا تھا، اس کی حساسیت جس قدر بڑھتی جاتی ہے اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، پھر خواہ بچے کے اندر تحمل کی قدرت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو مگر وہ اس معرکہ میں زخمی ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
لازمی طور پر بچہ یہ نتیجہ اخذ کرلیتا ہے کہ وہ جس طرح کے خاص حالات میں جی رہا ہے وہی فطری زندگی کے عکاس ہیں، بالخصوص اس لیے کہ اس کے سامنے اس وقت کوئی دوسرا نمونہ نہیں ہوتا جس سے وہ اس ماحول کا موازنہ کرسکے، بالاخر وہ اسی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتا ہے، کبھی کبھی ہم کو لگتا ہے کہ بچہ متاثر نہیں ہوا بلکہ وہ اسی طرح کے طرزِ زندگی کا عادی ہے، لیکن درحقیقت بچے کے اندر بہت اضطراب ہوتا ہے، امن کا فقدان اور ناامیدی کا احساس ہوتا ہے، جس کے آثار اس کی پوری زندگی پر نظر آتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بچہ اگر والدین کے درمیان کوئی تکرار و جھگڑا دیکھ لے تو والدین احساسِ گناہ میں مبتلا ہوجائیں، البتہ یہ مطلوب ہے کہ جب ازدواجی تعلقات میں بہت اختلافات رونما ہوتے ہوں تو پھر انسان کو اس سلسلہ میں سوچنا چاہیے اور توجہ دینا چاہیے، بالخصوص یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ کبھی کبھی پیش آنے والی اس طرح کی دھماکہ خیز صورت حال جس وقت شدت اختیار کرتی ہے تو وہ بچے کو شدید خوف میں مبتلا کردیتی ہے۔
اگر آپ کی ازدواجی زندگی اس طرح کی مشکلات سے دوچار ہے تو پھر آپ دونوں کو معاملہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے اور صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنا چاہیے، پھر اگر دونوں فریق تھوڑی سی بھی اعلیٰ ظرفی و تحمل کا ثبوت دیں گے تو بہت سے چھوٹے چھوٹے مسائل جو بڑے اختلاف و جھگڑے کا سبب بنتے ہیں یوں ہی رفع ہوجائیں گے، اس کا بھی امکان ہوگا کہ دونوں پرسکون ماحول کے قیام پر اور اولاد کے سامنے جھگڑا نہ کرنے پر اتفاق کرلیں، اور اس طرح کا اتفاق کرلیں کہ اگر اختلاف و تکرار کی نوبت آہی جائے تو اسے ایسے وقت کے لیے ٹال دینا ہے جبکہ بچے موجود نہ رہتے ہوں، اور پھر دونوں ہی فریق ایک دوسرے سے زیادہ مثبت رویہ اپنا کر کھلے ماحول میں اطمینان کے ساتھ نفسِ موضوع پر بات کرلیں گے۔
بچے کی اسکولی ترقی پر اثرات:
یہ ایک بہت فطری سی بات ہے کہ جب بچہ کا ذہن ماں باپ کے جھگڑوں میں الجھا رہے گا، وہ بے اطمینانی اور بے امنی کا شکار رہے گا تو اس سے اس کی اسکول پر توجہ دینے کی قدرت پر منفی اثر پڑے گا، پھر وہ اسکول پر کم توجہ دے گا، گھر کے ماحول کے نتیجہ میں جو مزاج پروان چڑھے گا اس کے سبب کبھی کبھی اپنا غصہ (Frustration) اپنے اسکول کے ساتھیوں پر نکالے گا۔ وہ اپنے ٹیچر کے لیے بھی سرکش اور پریشان کن ثابت ہوگا، اسی طرح دوسرے بچوں کو پریشان کرے گا، اسی طرح بسا اوقات وہ غیر سماجی حرکتیں کرے گا جیسے کہ کبھی کچھ چوری کرلے گا کبھی اسکول کا کوئی سامان توڑ دے گا، کبھی والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں سے جھگڑا کرے گا کیونکہ والدین کے درمیان کشیدگی کے سبب ان کی توجہ اسے حاصل نہیں ہوپاتی، والدین سے شدت وفاداری اور محبت کے سبب بچہ کسی اور کو اپنی تکلیف و پریشانی کے اسباب جاننے کی اجازت نہیں دے گا، اسی طرح اس کو اس قلق اور اس کی حقیقت کے ادراک میں بھی پریشانی ہوگی، اس کے سبب وہ اپنے دل کی بات بھی صحیح طور پر نہیں کہہ سکے گا، اس کی وجہ سے ٹیچر اس کو سرکش، کاہل، شرارتی وغیرہ نام دے دیں گے، اس طرح ابھی تک تو اس کے سامنے صرف گھر کی ایک مشکل تھی لیکن اب اسکول کی بہت سی مشکلات ہوں گی اور بہت سے خدشات اس کو لاحق ہوجائیں گے، پھر والدین بھی محسوس کریں گے کہ اس کی اسکولی زندگی کی مشکلات کی وجہ سے خود ان کی زندگی مزید پیچیدہ بنتی جا رہی ہے اس طرح بہت سے امور نہایت خراب، معیوب اور پریشان کن ہوجائیں گے، گھر کی اجتماعی زندگی درہم برہم ہوکر رہ جائے گی، ہر فرد دوسرے سے کٹ جائے گا، مشکل وقت میں جبکہ ہر شخص کو تائید و تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، گھر کا ہر فرد خود کو تنہا محسوس کرے گا۔
یہاں یہ ذکر کردینا مناسب ہے کہ اکثر و بیشتر خاندانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ حالات اس قدر ابتر نہ ہوں اور پستی اس حد تک نہ آئے، مگر اس سے کامیاب ازدواجی تعلقات کی اہمیت قطعی کم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اہمیت کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے نہ صرف زوجین کے تعلق کے سبب بلکہ اولاد کی وجہ سے بھی، یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ کہیں بچے کے حقوق زوجین کے اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں، کہیں ماں یا باپ کے تئیں اس کی وفاداری و محبت کھلونا بن کر نہ رہ جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ دونوں میں سے کوئی ایک اسے دوسرے کے خلاف استعمال کرنے لگے، مثلاً یہ کہ ایک فریق دوسرے کو بچے کو لینے کے سبب دھمکائے تو دوسرا فوراً گھر چھوڑنے کی دھمکی دے دے اور کہے کہ ہم جارہے ہیں اب تم خود ہی بچے کو سنبھالو۔
والدین میں علیٰحدگی:
بہت سے ایسے والدین جو مسلسل ازدواجی تعلقات کی مشکلات سے گذرتے ہیں وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا بچہ مستقل تنائو، اختلاف اور جھگڑے کے ماحول میں رہے، کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ زوجین علیحدگی اختیار کرلیں، پھر بچہ دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ رہے جبکہ دوسرا فریق ہفتہ در ہفتہ میں کبھی کبھی اس سے ملاقات کرلیا کرے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ازدواجی تعلقات اس سطح تک خراب ہوجائیں تو پھر نہ صرف بچے کے مستقبل کے تئیں سوچنا ضروری ہوجاتا ہے بلکہ خود زوجین کی نفسیاتی و ذہنی اور جسمانی صحت کے متعلق بھی سوچنا ضروری ہوجاتا ہے، لیکن اگر ہم گفتگو صرف بچے پر مرکوز رکھیں تو ہم یہ کہیں گے کہ بہتر تو یہ ہے کہ والدین کو ایک دوسرے سے علیٰحدگی اختیار کرلینی چاہیے یہ سب کے لیے بہتر رہے گا، پھر دونوں میں سے کسی ایک کو بچے کو مطلوب خدمات فراہم کرنا چاہیے اور اس کی ضرورت کے مطابق ممکنہ کام سہولیات اس کو فراہم کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اس علیحدگی سے سبھی کو ایک دلی تکلیف (Shock) ہوگی، بالخصوص جبکہ بچے کو جس کے ساتھ رہنا ہے اس کو نقل مکانی کرنا پڑے، اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ بچہ کا اسکول بھی تبدیل ہو اور اس کے دوست بھی بدل جائیں، یہ بھی ہوگا کہ اس حل یعنی علیٰحدگی کے سبب بچے کے ذہن میں والدین سے قلبی تعلق و محبت کے سبب شکوک و شبہات پیدا ہوں گے، لیکن یہ پریشانیاں اس مسلسل معرکہ اور مسلسل باہمی اختلافات کے درمیان جینے سے بدرجہا بہتر ہوں گی، بعض لوگ یہ غلطی بھی کر بیٹھتے ہیں کہ ازدواجی زندگی باہمی اختلافات سے بھری ہوتی ہے پھر بھی دونوں میں سے کوئی ایک فریق ایک نئے بچے کو جنم دینے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے، جس کی منشاء یہ ہوتی ہے کہ نئے بچے کی نئی ذمہ داری سے یہ ممکن ہے کہ انتشار و افتراق سے بچا لے اور غالباً ہوتا بھی ایسا ہی ہے، لیکن بسااوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہی نومولود اختلاف و افتراق کا ایک مزید سبب بن جاتا ہے۔
بچہ جو ابھی دنیا سے واقف نہیں، ابھی اس کا معصوم بچپن ہے، ابھی اس کے احساس کی ٹھیک سے نمو بھی ہوئی نہیں اور ماں باپ اس کو اپنے تنازعات میں گھسیٹنے لگیں، یا دونوں میں سے کوئی ایک فریق اس کو اپنا نقطۂ نظر بتانے لگے اور پھر اس کے حل کے لیے اس کی رائے طلب کرنے لگے تو یہ بچے پر ایک قسم کا ظلم ہوگا۔
اس علیٰحدگی کے بعد معاملات قدرے مفاہمت و محبت کے ساتھ انجام پائیں گے بایں طور کہ پھر بہت ساری وہ مشکلات نہیں ہوں گی، جو دوسری صورت میں تھیں، اب بچہ اس فریق کے ساتھ رہ رہا ہے جس پر اس کی پرورش کی ذمہ داری ہے، مثلاً وہ ہر ہفتہ یا دو ہفتہ میں دوسرے فریق سے ملاقات کے لیے جاتا ہے، اور یہ فریق ثانی بچہ کی تربیت و رعایت میں پہلے سے ہی غیر ذمہ دار ہے اس لیے وہ راحت و اطمینان میں ہے، چنانچہ چند گھنٹوں میں بچہ پھر فریق اول کے پاس واپس آ جائے گا، فریق ثانی اسے بہت ساری چاکلیٹ کھلونے اور تحائف دے گا، کوئی تعجب نہیں کہ بچے کو اس میں اس قدر لذت ملے کہ وہ اسی فریق ثانی سے اس قدر مانوس ہوجائے کہ اس کی صحبت اختیار کرنے کو ترجیح دے جو اس کو لبھانا بھی چاہ رہا ہے اور غالباً اسی لیے تحائف کی بارش بھی کر رہا ہے، پھر وہ فریق اول کے طریقۂ تربیت اور بچے کے ساتھ اس کے سلوک پر نقد بھی کرے گا، خواہ وہ تنقید واضح ہو یا ڈھکی چھپی، جس سے بچے کے اس خیال کو تقویت ملے گی کہ اگر وہ فریق ثانی کے پاس رہے تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر اور خوش نصیبی کی بات ہوگی، پھر بچہ بھی فریق اول جس پر اس کی ذمہ داری ہے اسی کو اس طرح ملامت کرے گا گویا کہ اس علیحدگی کی پوری ذمہ داراصلاً وہی ہے، اس سے اس کے سلوک و برتائو میں مزید پریشانیوں کا اضافہ ہوگا، بہرحال اگر صورت حال یہ ہے تو اس سلسلہ میں آپ بچے کو ملامت مت کیجئے، ملامت کے لائق تو کوئی اور ہے، اگر صورت حال یہ ہے تو پھر یہ تو والدین کی علیحدگی کے منفی نتائج میں سے ایک منفی نتیجہ ہے، آپ کو اپنے پر قابو کرنا پڑے گا کہ ہر وقت آپ یہی سوچنے میں لگے رہیں کہ بچے کو کیسے سمجھایا جائے کہ ہمارا کیا کردار رہا اور ہم کس طرح اس کی نظر میں بری ثابت ہوں اور کس طرح ساری غلطی فریق ثانی کی ثابت ہوسکے، یہ اسلوب مزید بچے کو آپ کے خلاف کردے گا کیونکہ وہ حقیقی صورت حال سے واقف نہیں ہے، البتہ عنقریب بچہ فریق ثانی کے ساتھ آپ کے تعامل، اس کے احترام اور فطری سلوک کے ذریعہ آپ کے موقف سے پورے طور پر واقف ہوجائے گا، آپ کے ذمہ داریاں اٹھانے سے بھی اس کو اندازہ ہوجائے گا، بچے پر توجہ دینے اور فریق ثانی کا خیال رکھنے سے بھی بچے پرآپ کا موقف واضح ہوجائے گا، اگر بچہ آپ کا فریق ثانی کے ساتھ منفی موازنہ کرنے لگے تو آپ قطعاً اس میں مت پڑیے اور بچے کو قطعی اپنے اور فریق ثانی کے درمیان ڈاکیہ نہ بننے دیجئے، اس کو یہ بھی احساس نہ ہونے دیجئے کہ آپ دوسرے فریق کے تعامل و سلوک سے تکلیف محسوس کر رہے ہیں، اس لیے کہ بچے کو جب بھی موقع ملے گا وہ پھر ان احساسات کو آپ کے خلاف استعمال کرے گا۔
ہر دو فریق کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے منافست اور مقابلہ آرائی نہ کریں، بس دونوں کوشش کریں کہ طبعی طور پر بچے کو جو بہتر سے بہتر دے سکتے ہوں وہ دیں اور بچے کو چھوڑ دیں کہ ان دونوں کے تعلق سے اس کے اپنے آزادانہ طور پر تاثرات پروان چڑھ سکیں، یہ مشکل ہے کہ بچے کو وہ فریق مصنوعی اعمال اور مادی لالچ کے ذریعہ دھوکہ میں رکھے جس سے وہ ہر ہفتہ ملاقات کے لیے جاتا ہے، ہر فریق کو کوشش کرنا چاہیے کہ وہ فریق آخر کی ملامت کے ذریعہ بچے کے احساسات کو نقصان نہ پہنچائے، والدین کے درمیان افتراق کا سبب بچہ نہیں بنا، اس لیے والد جو تنہا ہی بچے کی تربیت اور دیکھ ریکھ کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے اسے بچے سے اس کے عوض بہت زیادہ شکر کی توقع نہیں رکھنا چاہیے، ماں ہو یا باپ اس کے لیے اسے قبول کرنا مشکل کام ہوگا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ بچہ تو اچھی سے اچھی دیکھ ریکھ کو ایک طبعی امر تصور کرتا ہے، گویا اس کے نزدیک اس پر یہ کوئی احسان نہیں اور اس کا یہ ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اس کی قدر نہیں کرتا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ آپ کی ذمہ داری اور جزو زندگی ہے، اب اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ آپ کی کوششوں کو حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے دیکھے، البتہ بچے اور اس کے مربی کے درمیان تعلق بہت بہتر اور بہت مضبوط ہوگا بشرطیکہ مربی ہمہ وقت اس پر اپنے احسانات نہ شمار کرائے اور بار بار اس کے سامنے یہ تذکرہ نہ کرے کہ وہ کس کس طرح اس کی خدمت کر رہا ہے اور اس کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے اور کیسے اس کی دیکھ ریکھ کر رہا ہے۔

(جاری)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*