بچوں کے ادب کی بے ادبی-رضا علی عابدی

میں کتابوں کی ایک دو منزلہ دکان میں گیا اور عملے کے ایک شخص سے پوچھا کہ بچوں کی کتابیں کہاں ہیں؟ اس نے کہا کہ اوپر پڑی ہیں۔ میں اوپر کی منزل میں گیا تو دیکھا ،بچوں کی کتابیں فرش پر پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ رکھی ہوئی نہیں تھیں، واقعی پڑی ہوئی تھیں۔کتابوں کے جس شان دار شو روم میں نو نو سو روپے کی کتاب آراستہ ہو وہاں تیس پینتیس روپے کی کتاب کی قدر کون کرے گا اور کیوں کرے گا؟ یہ حال ہے ہمارے مستقبل کے معماروں کے لیے تخلیق ہونے والے ادب اور کتب کا۔ جن کتابوں کا نہ گاہک ہو، نہ قاری ،جن کی نہ فروخت ہو، نہ کاروبار اور نہ بڑا منافع تو پھر نہ کوئی انہیں چھاپے گا، نہ بیچے گا اور ان کا ٹھکانا فرش پر ہی ہوگا۔
کسی اور کا دُکھا ہو یا نہ دُکھا ہو، میرا دل یوں دُکھا کہ میں نے جب ہوش سنبھالا ، یہ بات سنہ چالیس کی ہوگی، ہمارے گھر میں لاہور سے بچوں کا نہایت خوش نما رسالہ ’’پھول‘‘ آیا کرتا تھا۔ بدقسمتی سے ’’پھول‘‘ کا بھی چل چلاؤ تھا۔ پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پیام تعلیم نام کا ماہنامہ نکلا۔ ایسا اعلیٰ معیاری رسالہ پھر کبھی نہ نکلا۔ اس کے بعد ماہنامہ شمع کے ادارے نے اپنے بے پناہ مراسم اور وسائل کی بنا پر رسالہ کھلونا جاری کیا جو گھر گھر پڑھا گیا۔ وہ ملک کی تقسیم کی زد میں آ کر اپنے خاتمے کو پہنچا لیکن پاکستان میں فیروز سنز جیسے بڑے اشاعتی ادارے نے بچوں کا بیش بہا ادب شائع کیا اور اسی دوران روزنامہ جنگ نے بے مثال رسالہ بھائی جان جاری کیا۔ وہ بھی تھک ہار کے بیٹھ رہا تب حکیم سعید مرحوم اس میدان میں اترے اور انہوں نے رسالہ نونہال ہمدرد جاری کیا جس نے اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔اسی دوران ایک ادارے نے کمال ذہانت سے کام لے کر جدید دور کی نئی نسل کو سامنے رکھ کر رسالہ سنگترہ شائع کیا۔ وہ بھی حوصلہ ہار گیا۔ لاہور سے نئے زمانے کا پھول نکل رہا ہے اور کراچی سے کھلاڑی شائع ہورہا ہے اور ان کے حوصلے کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔کچھ پرچے اور بھی ہیں کہ جیسے بھی بنے جاری ہیں۔ کتنے ہی شان و شوکت سے نکلے اور چل بسے۔ غنیمت ہے کہ آرٹس کونسل آف پاکستان ،کراچی جو سال کے سال دھوم مچاتی ہوئی عالمی اردو کانفرنس منعقد کرتی ہے اور جس کو اب خیر سے تیرہ برس ہو چلے ہیں، اس میں بیچ میں کہیں کچھ وقت نکال کر ’بچوں کا ادب‘ کے عنوان سے ایک اجلاس ضرور سجایا جاتا ہے۔ اس سال بھی محفل آراستہ ہوئی اور میری خوش نصیبی کہ مجھے بھی بلایا گیا لیکن اُس َبلا نے کہ جس کا نام کورونا ہے، ہمارے سارے ہی کس بل نکال دئیے۔ میں جو چھ ماہ سے خود کو بچائے بیٹھا تھا، ان دشوار حالات میں اپنے اندر کراچی جانے کی ہمت نہ پا سکا اور آرٹس کونسل کے کرتا دھرتا محمد احمد شاہ صاحب سے معذرت کر لی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی سے کام لیا اور میں گھر بیٹھے ’آن لائن‘ صدارت کے فرائض انجام دے سکا۔ کانفرنس میں بچوں کا ادب لکھنے والی محترمہ نیّر رُباب، اردو کے سرکردہ اسکالر ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور بچوں کی خاطر طویل عرصے تک خدمات انجا م دینے والے جناب سلیم مغل بھی شریک تھے۔ نئی نسل کے لیے ادب تخلیق کرنے کی راہ میں ساری دشواریاں گنوائی گئیں اور خاص طور پر سلیم مغل صاحب نے ماضی کے ان نام ور اور سر کردہ ادیبوں، شاعروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے بچوں کے لئے بہت کام کیا لیکن جن میں سے زیادہ تر بھلا دیے گئے۔
اس سیشن میں ویسے بھی کم ہی احباب آتے ہیں ۔ اس بار ’ایس او پیز‘ کی پابندیوں کی وجہ سے شرکا کو دو دو میٹر کے فاصلے پر بٹھایا گیا۔ اس سے ہال بھرا بھرا لگا لیکن مجھے پچھلے سال کا سیشن بہت یاد آیا۔ اُس روز اجلاس کی کارروائی جاری تھی اور خاصی سنجیدہ گفتگو ہو رہی تھی کہ اچانک ہال کا دروازہ کھلا اور آٹھ دس بچے ہنستے کھل کھلاتے داخل ہوئے۔ ان کا آنا تھا کہ ساری فضا بدل گئی اور اسٹیج پر بیٹھے ہوئے عمائدین نے وہ سنجیدہ گفتگو رکھی ایک طرف اور ہم نے بچوں کی دل چسپی کی چیزیں سنانی شروع کردیں۔ اسٹیج پر محترم محمود شام بھی موجود تھے جنہوں نے کسی کو دوڑا کر باہر بُک اسٹال سے بچوں کے گیتوں کی اپنی کتاب منگوائی اور نو وارد کمسن سامعین کو گیت سنائے۔ بچوں کے آنے پر مجھے مومنؔ کا شعر یاد آیا:
مومن آیا ہے بزم میں ان کی
صحبتِ آدمی مبارک ہو
تو بات یہ ہور ہی تھی کہ کتاب ہماری زندگی سے رخصت ہو رہی ہے۔ جن بچوں کے بارے میں ہمارا جی چاہتا ہے کہ وہ کتاب پڑھیں، وہ بچے اب اسمارٹ فون کے لتّی ہوگئے ہیں۔ جو بچے کبھی لوری سن کر سویا کرتے تھے، وہ اب کمپیوٹر گیمز کھیلتے کھیلتے سوتے ہیں۔ غضب یہ ہوا ہے کہ آج کی مائیں لوری بھول گئی ہیں۔ میں نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر ’لفظوں کا سفر‘ کے عنوان سے احباب جو مشقیں کر رہے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ پرانی لوریاں لکھ کر بھیجیں۔ زیادہ تر کو فلمی لوریاں یاد تھیں، بہت کم نے پرانی لوریاں لکھیں اور اُن میں بھی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔
میں نے تجویز پیش کی کہ ہمیں ’بیڈ ٹائم اسٹوریز‘ کو رواج دینا چاہیے، یعنی بچے کو سلاتے وقت ماں کو چاہیے کہ کتاب سے پڑھ کر چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنائے۔اس سے بچے کی ذہنی تربیت بھی ہوگی اور وہ کتاب سے روشناس ہوگا۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے کہ وہ کمپیوٹر گیمز کی طرف راغب ہو اس کا کتاب سے تعارف کرا دیا جائے۔ بیڈ ٹائم اسٹوریز بہت چھوٹے بچوں کے لیے لکھی جاتی ہیں اور ا س کے لیے آن لائن ورک شاپ کرائے جا سکتے ہیں۔شاید مجھ ہی کو اٹھنا پڑے گا۔ مسافر نواز بہتیرے ہیں، مل جائیں گے۔
مجھے شکایت اپنے ادیبوں شاعروں سے ہے (جانتا ہوں کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا) شکایت یہ ہے کہ وہ بچوں کے لیے کیوں نہیں لکھتے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس کام میں نہ شہرت ہے، نہ عزت ہے اور سب سے بڑھ کر نہ دولت ہے۔ ہماری نگاہوں کے سامنے ابنِ انشا، شان الحق حقی اور صوفی تبسم بچوں کے لیے کمال کی چیزیں لکھ گئے ہیں۔ راجا مہدی علی خاں کی تحریریں ہمیں یاد ہیں۔ یہاں تک کہ تلوک چند محروم جیسے سینئر شاعر بھی بچوں کے لئے کافی مواد چھوڑ گئے ہیں۔آج کے شاعر اُن کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟ شاید یہ خسارے کا سودا ہے۔قصور کسی کا نہیں ،ہماراہی ہے کہ ابھی تک خود کو اس خواب سے نکال نہیں پائے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*