بچوں کی تربیت کے رہنما اصول (نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں)-ڈاکٹر مامون مبیض

ترجمہ:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی
(قسط:۶)

شخصیت کی تعمیر و تشکیل:

عمر کے پہلے ۵ سالوں میں بچے کی شخصیت میںجو چیزیں جڑ پکڑ جاتی ہیں ان میں اعتماد بھی ہے، اعتماد اپنے عام مفہوم کے اعتبار سے ان میں پیدا ہوتا ہے، خواہ دوسروں پر اعتماد کرنا ہو یا اپنے ارد گرد کی دنیا پر یقین کرنا ہو،دوسری چیز جو اس عمر میں بچے کے اندر پیدا ہوتی ہے وہ اپنی ذات کا عرفان ہے، پھر ۵ سے ۱۱؍سال تک کی عمر میں جو چیزیں اس کے مزاج و شخصیت کا حصہ بنتی ہیں ان میں ذاتی اقدامات ، قدرت و لیاقت اور خود اعتمادی (Self Confidence) سر فہرست ہیں، عمر کے اس مرحلہ میں بچہ میں شدت سے ان چار چیزوں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
اقدام:
اگر بچہ کی تربیت اس طرح کی جائے کہ اس کو اس کا مکلف بنا دیا جائے کہ وہ جس کام میں بھی جب بھی ہاتھ لگائے ضروری ہے کہ پہلی ہی کوشش اور پہلے ہی مرحلہ میں کامیاب ہو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خوف و تردد کی کیفیت سے دوچار ہوجائے گا، پھر کسی کام کی ذمہ داری لینے سے وہ یوں خوف کھائے گا کہ اس کو اپنی قوت کمزور نظر آنے لگے گی اور ہر کام پر اقدام کرنے سے پہلے ہی اسے خطا اور ناکامی کا احساس ستانے لگے گا، حالانکہ انسانی زندگی میں ہر آنے والے لمحہ میں اقدام کی کیا اہمیت ہے وہ ہم پر مخفی نہیں ، ہم اگر یہ چاہیں کہ محض گفتگو کے ذریعہ اقدام کی اہمیت بچہ پر واضح کردیں تو یہ کافی نہیں بلکہ اس سے خاطر خواہ فائدہ بھی نہ ہوگا، بلکہ ایسے مواقع فراہم کرنے ہوں گے جس میں عملی طور پر اقدام کی اہمیت اجاگر کی جائے، اس کا آسان طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ والدین جب کسی کام کو انجام دینا چاہیں تو نہ صرف بچہ کو اس میں شریک کر لیں بلکہ اس کو اس حد تک چھوٹ دیں کہ وہ ذمہ داری قبول کرکے اس کام میں قائدانہ کردار ادا کرے اور بطور مربی والد یا والدہ کی شرکت محض ایک معاون کی سی ہو۔
جب آپ کے دوست یا مہمان وغیرہ آئیں تو بجائے اس کے کہ آپ بچہ کا تعارف کرائیں اسے چھوٹ دیں کہ اپنے متعلق وہ خود ان سے گفتگو کرے، اس موقع پر اس سے بھی احتراز کرنا ہوگا کہ آپ بچہ کو اس پر آمادہ کریں کہ وہ آپ کے متعلقین سے وہی بات کہے جو آپ کی مرضی کے مطابق ہو اور جو آپ بتانا چاہتے ہوں، اسی طرح اس کے پاس اگر جیب خرچ وغیرہ ہو تو اسے مکمل اختیار دیں کہ اس میں خود تصرف کرے اور خود اپنی پسندیدہ اشیاء خریدے البتہ آپ اسے نہایت حکیمانہ انداز میں پیسہ کے استعمال کی ہدایات دیں، اسی طرح آزادی دیں کہ وہ خود اپنے کمرے کی ترتیب (Setting) اور نظم کو دیکھے، اسی طرح اس کو گھر اور فیملی کے مختلف مسائل میں اپنی رائے دینے کی مکمل آزادی دینی چاہیے۔
بچہ کی خصوصیات کی قدر کرنی چاہیے:
بچہ میں جیسے جیسے اقدام کی یہ صلاحیت پیدا ہوتی جائے ضروری ہے کہ اس کی خصوصیات اور اس کی خاص ذاتی زندگی کے لئے اس کو مواقع دیے جائیں، خاص نجی زندگی کا تصور بچے میں عام طور پر عمر کے چھٹے سال میں وجود پذیر ہونا شروع ہوتا ہے، اس مرحلہ میں یہ بات تقریبا لازمی ہوتی ہے کہ بچہ میں کچھ خاص عادتیں پیدا ہوجاتی ہیں، کبھی اس کو کچھ وقت تفکیر و راحت کے لئے تنہائی کی عادت پڑ جاتی ہے، دوسروں سے ملنے جلنے کے لئے وہ وقت کی تحدید کر لیتا ہے، یہاں تک دیکھا جاتا ہے کہ ایک بچے کے کمرے میں اگر اس کے دوسرے بھائی بہن سوئیں تو وہ بچہ اپنے لیے ایک کونے کنارے کو منتخب کر لیتا ہے، جب اس کو آرام کرنے یا سکون کے لمحات گزارنے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اسی گوشہ کو اپنے لیے خاص جگہ اور گوشۂ عافیت تصور کرتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے ہو جاتا ہے کہ جو لوگ بھی اس کمرے میں بچے کے ساتھ سوئیں وہ تقسیم و ترتیب کا خاص لحاظ رکھیں، اس سلسلہ میں آپ ان بچوں کی اس طرح مدد کر سکتے ہیں کہ ان کے لئے بعض قواعد و ضوابط متعین کرکے ان کو اس کمرے میں مشترک زندگی کا سلیقہ سکھائیں جو ان میں باہمی تفاہم و ارتباط اور گھلنے ملنے کی صلاحیت کو زیادہ مناسب طریقہ پر پیدا کر سکتا ہے، اس طرح کے قواعد وضع کرنے کی ضرورت عام طورسے جن مسائل میں پیش آتی ہے اس میں لائٹ بند کرنا، کب جلاناہے، شور وغوغا، ریڈیو، ٹی، وی وغیرہ کی آواز اور کمرے میں کھانے وغیرہ کے مسائل ہیں ، لیکن مسائل میں اگر تھوڑی سی محنت اور باہمی تفاہم کی عادت ڈال دی جائے تو مستقبل میں یہ عادت بڑی کار آمد ہوتی ہے، عام طور پر بچے ایک دوسرے پر غصہ کرنے بلکہ چڑھانے اور چھیڑنے کے لئے اس طرح کے قواعد کی پابندی نہیںکرتے، پھر یہاں تربیتی مرحلہ آجاتا ہے کہ مناسب و مفید طریقہ سے ان کو تنبیہ کی جائے اور قواعد و ضوابط کی پابندی کا عادی بنایا جائے، ویسے صحیح بات یہ ہے کہ اصولی زندگی میں مشکلات ان لوگوں کی زندگی کے بالمقابل بہت کم آتی ہیں جن کا نقطۂ نظریہ ہوتا ہے کہ ’’جس کا جو من چاہے وہ کرے‘‘۔
بچہ کا کمرہ صرف اس کے لیے خاص ہو یا مشترک ہو مگر یہ ضروری ہے کہ اس کو بعض شخصی خصوصیات کا مالک بنانے کے لئے اس کی نفسیاتی ضرورت اور ذاتی خصوصیات کا احترام کیا جائے اور یہ کوشش کی جائے کہ معقول حدود میں رہتے ہوئے اس کے قول اور اس کی رائے پر عمل در آمد ہو، اس کو صاحب نظریہ اور صاحب رائے بنانے کیلئے یہ عمل انتہائی ضروری ہے، مثلا معقول حدود میں رہتے ہوئے اس کو آزادی دی جائے اور اس کی خواہش کا احترام کیا جائے کہ اس کو کمرے میںکون سا رنگ پسند ہے، دیواروں پر کیسی سینریز وہ لگانا چاہتا ہے، پردے اس کو کس رنگ کے پسند ہیں، اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ بچہ اپنی اختیاری اشیاء کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھے گا اور ان کی قباحتوں و منافع کا از خود اس پر انکشاف ہوگا،لیکن یہ ضروری نہیں کہ بچہ پر جتنی جلدی اس کا انکشاف ہو اور نئی خواہش کا مطالبہ کردے تو اسے فورا پوراکیا جائے، اس کو اس طرح یہ شعور بھی پیدا ہوگا کہ ایک رائے کو اختیار کرنے کے بعد اس پر استقرار ہونا چاہیے اور یہ بات بھی سمجھ میں آئے گی کہ اپنی رائے پر عمل کرنے سے قبل سوچنا، پلان کرنا اور دوسروں سے مشورہ کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ بات فطری طور پر متوقع ہے کہ جب آپ بچے کو اقدامات کرنے کی چھوٹ دیں گے تو بسا اوقات بعض مشکلات پیش آئیں گی، آپ کے اور اس کے درمیان نظریات کا فرق ہوگا، بسا اوقات آپ کو بچے کے انتخاب کو کالعدم قرار دینا پڑے گا اور مداخلت کرنی پڑے گی، لیکن ایسے موقع پر آپ کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ آپ بچے کو یہ باور کرائیں کہ آپ اس کی رائے اور نقطۂ نظر کی قدر کرتے ہیں اور ساتھ ہی بہت مناسب انداز میں یہ وضاحت کرنی پڑے گی کہ آپ اسکے انتخاب کوکیو ں غیر علمی اور غیر مناسب قرار دے رہے ہیں اور آپ کو اس کے اقدام و عمل میں کیوں مداخلت کے لئے مجبور ہونا پڑا، ایسے موقع پر بہت سادہ انداز کے جملوں سے اس کو سمجھایا جا سکتا ہے مثلا اس سے کہا جائے ’’بیٹے تمہارا انتخاب درست ہے لیکن دیکھو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا تجربہ آئندہ کسی موقع پر کریں، اس وقت بعض وجوہات کے سبب اس دوسری رائے پر عمل کریں‘‘ یا یوں کہیں کہ ’’میں اچھی طرح تمہارا نقطۂ نظر سمجھ گیا بیٹا، لیکن بیٹا ذرا میرے ساتھ تم یہ سوچنے کی کوشش کرو کہ اگر ایسا کر لیا گیا تو ایسا ایسا ہوگا…‘‘ اس طرح کی نرم و مناسب گفتگو کے دو فائدے ہوں گے، ایک تو یہ کہ بچہ آسانی سے سمجھ جائے گا اور آپ کی بات کا قائل ہوجائے گا، دوسرا یہ کہ آپ دیکھیں گے کہ وہ کس طرح آپ کی رائے پر بحسن و خوبی اقدام کرتا ہے۔
اس مرحلہ میں والدین کے لئے یہ بات ضروری ہوجاتی ہے کہ وہ بہت سوچ سمجھ کر بچے کے اقدامات پر اپنا رد عمل ظاہر کریں، بعض مواقع پر بچے اس طرح کے اقدامات کر گزرتے ہیں جس سے لازمی طور پر آپ کو غصہ آتا ہے، مثلا عید کے دن آپ کا کوئی دوست آئے اور آپ کا بچہ اس کو عیدی دینے لگے، آپ اس پر غصہ ہوکر اسے ڈانٹ دیں، یا یہ کہیں کہ ان کو اس کی ضرورت نہیں تو اس طرح کے رد عمل سے بچہ میں اقدام کی صلاحیت میں کمی آئے گی اور کم از کم آپ کے اس دوست سے ملاقات کرنے سے وہ ضرور کترائے گا، قاعدے کی بات یہ ہے کہ آپ بچے کی تعریف کریں، اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کو پیار سے اس طرح کے اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کریں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بچہ کا ہدیہ قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے اس سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ اس موقع پر بڑوں کا رد عمل اس کو ہمیشہ یاد رہتا ہے، اس کو ہرگز یہ بات نہیں یاد رہے گی کہ آپ کے دوست نے ہدیہ قبول کیا لیکن ہمیشہ اس پر ان کی جانب سے ہونے والے رد عمل کا استحضار ضرو رہے گا۔
مستعدی، اہلیت اورقدرت کا شعور ضروری ہے:
بچہ کی پرورش وپرداخت میں یہ انتہائی اہم ہے کہ اس میں اہلیت وقدرت اور چستی ومستعدی پیدا کی جائے بلکہ اسے اس کی مستعدی واہلیت کا احساس دلایا جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین اس کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی تعلیمی سرگرمیوں میں اس کی مدد کریں، اس کے ہوم ورک، ٹیچر کے سوالات کے جوابات دینے میں اس کی معاونت کریں، اس کا ایک کار آمد طریقہ یہ ہے کہ والدین بچہ کو لے کر تعلیم وتعلم سے متعلق مقامات پر جائیں تاکہ جنرل نالج حاصل کرنے میں اس کی مدد کی جا سکے مثلا لائبریری، میوزیم، اور علمی نمائش وغیرہ ایسے مقامات ہیں جہاں اس کو معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں، گھر میں موجود مختلف مراجع اور کتابیں اس کے سپرد کرکے اس کے متعلق اسے سوالات دیے جا سکتے ہیں اور اس سے استفسار کیا جا سکتا ہے،ساتھ ہی اگر خود والدین میں بھی مزید سے مزید تر علم حاصل کرنے کا شوق ہے اور وہ متنوع سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں تو فطری طور پر بچوں میں بھی والدین کی صحبت سے یہ شعوربیدار ہوگا، وہ ان کی گفتگو اور افعال سے لا محالہ مستفید ہوں گے۔
صلاحیت واہلیت پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بچہ کو مثبت سوچ پر آمادہ کیا جائے، اس کی اس طرح حوصلہ افزائی کی جائے کہ اپنے تئیں ایجابی سوچ کا حامل ہو سکے، نہ اپنے لیے غیر حقیقی، خیالی اور مبالغہ آمیز اہداف مقرر کرے، نہ ہی احساس کمتری کا شکار، خود کو ان کاموں کے کرنے سے عاجز سمجھنے لگے جو اس کے ہم عمر کرتے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ناکامیوں کا تذکرہ کرنے کے بجائے اس کی کامیابیوں اور حصولیابیوں کاذکر کیا جائے، والدین اس پر اپنے اعتماد کا اظہار کریں اور یہ احساس دلائیں کہ انہیں یقین ہے کہ دوسروں کی طرح وہ بھی کر لے گا، اس موقع پر بچہ کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے کہ پریشانیاں اور مشکلات آتی ہیں لیکن ان کو حل کرنے کے مختلف راستے ہوتے ہیں، بس قوی ارادے اور بلند ہمتی کی ضرورت ہوتی ہے، اسے بتایا جائے کہ اہم چیز تو وہ کوشش ہوتی ہیں جو انسان حصولیابی کے لئے کرتا ہے، مقصد کی حصولیابی پر ملنے والی خوشی تو ثانوی چیز ہے۔
بچے کو سب سے پہلے اس کے اندر پائی جانے والی خصوصیات اور خاص صلاحتیوں سے واقف کرانا چاہیے اور ان کا تذکرہ کرکے اس کے تفرد کا احساس دلانا چاہیے، یہ بتانا چاہیے کہ وہ اپنی کن خصوصیات کی بنا پر منفرد اور دوسروں سے الگ انسان ہے، کیوں کہ قدرت واہلیت پیدا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنی ذاتی خصوصیات کا شعور ہو، بسا اوقات ہم بعض بچوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں بلکہ یہ شکوہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ ’’جب بھی میں کچھ کرنا چاہتا ہوں میں دیکھتا ہوں کہ کوئی دوسرا بچہ مجھ سے اچھا اس کام کو کرتا ہے، اب ایسے موقع پر اس سے کہنا چاہیے کہ ’’بھائی زندگی تو اسی تگ و دو کا نام ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، آپ بھی تو دوسرے بہت سے بچوں سے افضل ہیں، البتہ یہ یاد رکھیے کہ ہر جاننے والے سے بڑا ایک جاننے والا ہے اور پھر کوشش کرتے رہیے‘‘
اس موقع پر بچہ کو اس نفسیاتی پہلو سے بھی سمجھانا مفید ہے کہ ہمیشہ دوسروں سے تقابل نہیں کرنا چاہیے، ہر ایک کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں، اپنی زندگی ہوتی ہے اور ہر ایک کو یکساں مواقع نہیں ملتے، کوشش یہ کرنی چاہیے کہ وہ اپنی خصوصیات اور انفرادیت کو پہچانے اور اپنی پسند وناپسند کا خیال کرے، اور یہ دیکھے کہ وہ کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا ہے، اور اس کا خیال رکھے کہ اس کی اپنی زندگی کے لیے کیا چیز اہم ہے اور یہ کس چیز کے حصول کا شوق رکھتا ہے، اسے اس کی انفرادیت کا احساس دلاکر اس میں مثبت سوچ پیدا کی جا سکتی ہے اور کمزوری کا اس طرح تدارک کیا جا سکتا ہے۔
مذکورہ بالا پہلو سے بچہ کی تربیت کی ضرورت ابتدا سے ہی ہوتی ہے، لیکن جب وہ اسکول جانا شروع کرتا ہے اور پھر مسلسل اپنا تقابل (Comparison) دوسروں سے شروع کر دیتا ہے تو اس موقع سے والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اسے اس کی اپنی انفرادیت اور صلاحیت کا احساس دلائیں۔
بعض لوگ ماہر نفسیات سے اپنے بارے میں یہ شکایت کرتے ہیں اگرچہ وہ اپنے پیشے میں کامیاب ہیں، پڑھنے میں بھی ممتاز رہے ہیں، دیگر امور بھی اچھی طرح انجام دیتے ہیں مگر ان کو اپنی ذات اور اپنی حیثیت کا ادراک نہیں، وہ اپنے آپ کو بے حیثیت سمجھتے ہیں، وہ قطعاً اپنے بارے میں یہ محسوس نہیں کرتے کہ وہ بھی اس دنیا میں دوسروں کی طرح ایک باعزت انسان ہیں، بسا اوقات اس طرح کے خفی احساسات بالکل بچپن میں ہی پیدا ہو جاتے ہیں جب کوئی بچہ اپنے آپ کو والدین یا استاد کی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال پاتا۔ یہ الگ بات کہ کچھ کام وہ ان کی مرضی سے کر بھی لیتا ہے لیکن اپنے دوستوں، ہم جولیوں اور بھائی بہنوں کی طرح کام انجام دینے میں ناکام رہتا ہے، اس طرح کے احساسات پیدا ہونے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ بچہ بچپن کا لطف نہیں اٹھا پاتا، اس کا بچپن بے مزہ اور بے کار ہوکر رہ جاتا ہے۔
اس کے برخلاف ایک وہ انسان ہوتا ہے جس کی زندگی میں گر چہ حصولیابیاں بہت کم ہوں مگر وہ اپنے آپ سے، اپنے افکار سے خوش رہتا ہے، یوں کہیے کہ اپنے آپ میں مگن رہتا ہے، وہ کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ کوئی اور ہے، یعنی دوسرے کی طرح ہونے کا مدعی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کی تقلید اور دوسروں سے مقابلہ آرائی میں نہیں کھپاتا، اس کے سامنے صرف اپنی ذات اور اپنی صلاحتیں ہوتی ہیں چونکہ ایسا انسان اپنی ذات، اپنی صلاحیت سے مطمئن ہوتا ہے، اس لیے وہ خام خیالی میں مبتلا نہیں ہوتا، وہ اپنا وقت خیالی پلاؤ پکانے میں نہیں برباد کرتا ہے، بلکہ مثبت سمت میں اپنی صلاحتیوں کے مطابق اقدام کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو ایک مشارک تصور کرتا ہے نہ کہ انا پرست اور لالچی انسان، چنانچہ اس طرح کا انسان صلاحیت واہلیت کا صحیح ادراک کرتا ہے، کیوں کہ حقیقی اہلیت یہی ہے کہ انسان انسانیت سیکھے اور اپنی صلاحیتوں سے دوسروں کا تعاون کرنا سیکھے، اس طرح کی نفسیات رکھنے والا انسان اپنے آپ کو ایک آزاد انسان سمجھتا ہے، جو قوت فیصلہ کا مالک ہو۔
خود اعتمادی:
جس گھر کے افراد اپنے بچہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ایک باعزت انسان جیسا سلوک روا رکھتے ہیں اس گھر کا بچہ نہ صرف خود اعتمادی سے سرفراز ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں پر اعتماد کرنا بھی سیکھ لیتا ہے، یہی نہیں جلد ہی اس میں اقدام کرنے، فیصلہ لینے اور اہلیت کو پہچان کی صلاحیت بھی پیدا ہوجاتی ہے، اگر بچے میں یہ صلاحیت پیدا ہوجائے، تو گویا اس نے شخصیت کی تکوین کا ایک اہم جوہر حاصل کر لیا، شخصیت کے پروان چڑھنے میں سب سے بڑا اور اہم جوہر یہ ہے کہ بچہ اپنے آپ کو پہچان لے اور اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوجائے، اپنی صلاحتیوں کو پہچاننا اور پھر ان پر اعتماد کرنا یہ بہت اہم بات ہے، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ کسی طرح کے غرور میں مبتلا ہوجائے اور ہمہ وقت خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا رہے، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ ایک فرد اور ایک انسان کی حیثیت سے اپنی قدرو قیمت کو پہچان لے۔
خود اعتمادی کا موضوع نہایت اہم ہے، نفسیاتی طور پر انسان کے صحت مند ہونے اور صحیح طور پر شخصیت کے پروان چڑھنے میں اس کا بڑا دخل ہے، یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر بہت تحقیقات سامنے آئی ہیں، تمام تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے کہ والدین اور تربیت سے متعلق عناصر میں سب سے پہلے ان صلاحتیوں کو موضوع بنایا جائے جو خود بچے میں موجود ہیں اور خود اعتمادی کے لیے جن کی پہچان ضروری ہے، دوسری بات یہ کہ گھر کے اندر ایسی مشقیں کرائی جائیں جو احترام ذات اور خود اعتمادی کے حصول میں معاون بن سکیں۔
چنانچہ آپ دیکھیے کہ جن بچوں میں خود اعتمادی ہوتی ہے وہ اپنے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے دوسروں سے بھی محبت کرتے ہیں، آپ دیکھیں گے کہ وہ آسانی کے ساتھ دوسروں کے ساتھ گھلتے ملتے ہیں، دوسروں کے کام میں شرکت کرتے ہیں، ان کے عزم کا اظہار ہوتا ہے، ان کو کوئی جھجک نہیں ہوتی، اپنے بارے میں دوسروں کی رائے پر بہت زیادہ اعتماد نہیں کرتے، ایسے ہمیشہ اپنے مقاصد حیات اور اپنی صلاحتیوں پر پوری حقیقت پسندی کے ساتھ نظر رکھتے ہیں، پھر اپنی زندگی کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مناسب مواقع بھی تلاشتے رہتے ہیں۔
اس کے برخلاف جو بچہ اپنے آپ کو اپنی صلاحتیوں کو پہچاننے میں کمزوری کا شکار ہوتا ہے وہ خوف وتردد کی نفسیات سے دوچار رہتا ہے، بیشتر اوقات غمگین اور دوسروں سے کٹ کر رہتا ہے، آپ دیکھیںگے کہ وہ دوسروں کی طرف سے تعاون نہ ملنے کے امکان کو لے کر ہی قلق میں مبتلا رہتا ہے، وہ ہمیشہ دوسروں کو رضامند کرنے کی ہی فکر میں کڑھتا رہتا ہے، وہ لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور گھلنے ملنے میں شرم محسوس کرتا ہے، اگر بمشکل دوسروں کے عمل میں شریک ہی ہوجائے تو بھی اپنا فائدہ اور ذاتی رغبت شامل نہیں ہوتی بلکہ اس کی شرکت محض دوسروں کو خوش کرنے کے لیے ہوتی ہے، صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحتیوں کا درست استعمال ہی نہیں کر پاتا، یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے جو چیزیں ذاتی طور پر ممکن ہوتی ہیں ان کے حصول میں بھی نقصان کا سامنا ہوتا ہے، یا اس کے برعکس وہ ان ممکنات کے حصول میں غیر واقعی مبالغہ سے کام لیتا ہے، وہ اپنے سامنے غیر واقعی اور اتنہائی مشکل اہداف رکھتا ہے جس کے سبب اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے اور بے جا بوجھ کا شکار ہوتا ہے، خوف نامرادی وناکامی کے اثرات اس پر اس حد تک ہوتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحتیوں کو بھول کر اپنے واجبات وذمہ داریوں سے بچنے کے لیے اعذار تلاش کرنے لگتا ہے، اسے کوشش کرنے اور تجربہ کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی، اگر خوانخواستہ وہ کسی کام کو کرنے پر آمادہ ہوجائے مگر اس میں وہ ناکام ہوجائے تو دوبارہ کوشش کرنے اور اپنے کام کو درست کرنے کوشش نہیں کرتا۔
فطری طور پر اکثر بچوں میں اس طرح کی صفت نہیں پائی جاتی بلکہ اکثریت خود اعتمادی اور عدم اعتماد کے بین بین کی حالت میں رہتے ہیں، جیسی صورت حال ہوتی ہے اس کے مطابق وہ اچھی طرح عمل کر لیتے ہیں، البتہ جس میں خود اعتمادی ہوتی ہے وہ بہت بہتر انداز میں اپنا کام انجام دیتا ہے اور جو خود اعتمادی سے محروم ہوتا ہے وہ ہر نئے پیش آنے والے امر کے سامنے خود کو مجبور و بے بس پاتا ہے۔
خود اعتمادی کی کمی بچیوں میں بچوں کی بہ نسبت زیادہ پائی جاتی ہے، لیکن اس کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ وہ بچی ہے اس لیے اس میں خود اعتمادی کا فقدان ہے، بلکہ اس کاسبب یہ ہے کہ معاشرے میں عورت کو جو مقام دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ جو سلوک روا ہے اس کے سبب اس میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے، البتہ علم ومعرفت کی روشنی سے اس صورت حال کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
جو بچے سرکشی، بغاوت اور اکڑ پن کا مظاہرہ کرتے ہیں، عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ان میں خود اعتمادی کی کمی، اپنی صلاحیت اور اپنی ذات پر اطمینان مفقود ہوتا ہے، اسی وجہ سے وہ اس معاشرہ کا احترام نہیں کرتے جو ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا اور اپنے آپ کو پہچاننے میں ان کی معاونت نہیں کرتا، ایسے معاشرے کی تئیں ان میں باغیانہ عنصر پیدا ہوجاتا ہے، پھر وہ اپنی نفرت اور بغاوت کے اظہار کے لیے پر تشدد اور غیر معاشرتی وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔
انسان کے کے طرز عمل کو سمجھنے کے لیے ایک اصول نہایت ضروری ہے، خواہ بچہ کا معاملہ ہو یا بوڑھے کا، اور وہ اصول یہ ہے کہ ہم کسی کے رویے کو دیکھنے پر اکتفانہ کریں؛ بلکہ اس کے گرد وپیش پر بھی نظر رکھیں، اس لیے کہ انسان سے جب کسی سرکشی کا ظہور ہوتاہے تو اس کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بدمزاجی سرکشی اور بری ذہنیت کا حامل ہے، بلکہ بسا اوقات اس کی سر کشی اپنے احساس کمتری کو چھپانے کے لیے ہوتی ہے، یہی حال مغرور انسان کا ہوتا ہے کہ وہ اپنے غرور کے ذریعے عدم امن اور عدم استقرار سے دوچار اپنی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے، اس کے برعکس جو انسان اپنا احترام کرتا ہے اور اپنی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے وہ اس طرح کا تعامل ہر گز نہیں کرتا، اس کو اپنی قدر کا خود اندازہ ہوتاہے اس لئے دوسروں سے اپنی قیمت کا اندازہ کرانے کی اسکو کوئی ضرورت نہیں ہوتی؛ اس کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا ہے، اسی لیے اپنی کامیابی پر وہ جشن منانے میں حد سے متجاوز نہیں ہوتا اور اپنی ناکامی کی صورت میں حزن وملال اسے گھر بیٹھ رہنے پر مجبور نہیں کرتا، اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قدر وقیمت کسی ایک کامیابی یا کسی ایک ناکامی سے ہی وابستہ نہیں ہے، قرآن مجید کا ارشاد ہے۔ لکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما آتاکم (حدید:۲۳) (تاکہ جو کچھ تمہیں نہ ملے اس پر غم وافسوس نہ کرو اور جو اللہ نے دیا اس پر نہ اتراؤ)
یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جوخود اعتمادی میں کمی کا شکار ہو وہ اس کمی کو سر کشی یا غرور کے ذریعہ پورا کرنے کی کوشش کرے، لیکن آپ بہت سے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنی ایک خیالی تصویر بنا لیتے ہیں، اور خیالات کی دنیا میں جیتے ہیں، یا زندگی بھر ان کو اس گناہ کا احساس رہتا ہے کہ لوگوں کو ان سے جو توقع تھی اس پر وہ پورے نہیں اترے، یہ ایک تکلیف وہ صورت حال ہے اور ان میں سے ہر کیفیت سے دوچار نمونے ہمارے سامنے ہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ ایسے گھریلو اور خاندانی عوامل کی وضاحت کردی جائے جو اپنے تئیں احساس ہونے اور اپنے مقام اور قدر قیمت کو پہچاننے میں معاون ہوتے ہیں، ہم یہاں ایسی فیملی کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہیں جس کی تربیت میں پروان چڑھنے والا بچہ اپنے احترام اور خود اعتمادی کی صفات سے متصف ہوتا ہے:
۱- بچہ کو والدین سے غیر مشروط محبت ملتی ہے، وہ گفتگو اور تعامل کے ذریعہ اس محبت کو محسوس کرتا ہے۔
۲- بچہ کو اس محبت کے ختم کیے جانے کی دھمکی نہیں دی جاتی خواہ وہ کچھ بھی کرے، یعنی اس فیملی میں محبت پر کوئی سودا نہیں ہوتا۔
۳- بچہ کو اس کے اپنے جذبات و احساسات کو جوں کے توں قبول کرنے میں مدد کی جاتی ہے۔
۴- گھر میں مسلسل فیملی کی ترجیحات اور اہم ضروریات ومقاصد کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی ہے۔
۵- گھر کے ہر فرد کو اپنی رائے دینے کی دعوت دی جاتی ہے اور پوری توجہ اور اہتمام سے اس کی بات سنی جاتی ہے۔
۶- والدین بچے کی پسند وناپسند سے واقف ہوتے ہیں۔
۷- والدین اپنی زندگی کے تجربات وواقعات بچوں سے شیئر کرتے ہیں۔
۸- والدین بچے کے مدرسے، اسکول اور اس کی مختلف سر گرمیوں کے بارے میں اس کی باتیں توجہ سے سنتے ہیں۔
۹- والدین بچے کی خصوصیات کا احترام کرتے ہیں اور ان کو خاص مقام اور خصوصی وقت دیتے ہیں۔
۱۰- والدین بچے کے مزاج اوراس کی شخصیت سے واقف ہوتے ہیں۔
۱۱- بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
۱۲- گھر کے قوانین وقواعد بہت واضح ہوتے ہیں اور ان کی بھر پور پابندی کی جاتی ہے۔
۱۳- گھر کا ہر رکن ان خانگی اصولوں سے واقف ہوتا ہے اور ان کے سلسلہ میں اپنی رائے دیتا ہے۔
۱۴- بچہ یہ سمجھتا ہے کہ کون سے تعامل گھر میں مقبول اور کون سے غیر مقبول ہیں۔
۱۵- بچہ والدین سے اپنے تعلق اور ان کے سامنے اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہوتا ہے۔
۱۶- والدین بچے کے ساتھ عدل واحترام اور حقیقت پسندانہ معاملہ کرتے ہیں۔
۱۷- کسی فرد خاندان کو تکلیف نہیں پہنچائی جاتی نہ ہی کسی کی صلاحیت وقیمت کی تنقیص کی جاتی ہے اور نہ کسی کی آراء کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
۱۸- اہانت آمیز اور قدر وقیمت کو کم کرنے والے الفاظ کا استعمال بچے کے ساتھ نہیں کیا جاتا مثلا یہ نہیں کہا جاتا کہ (تم احمق ہو، جھوٹے ہو، پاگل ہو وغیرہ)
۱۹- بچہ جب اپنے احساسات وخیالات کا اظہار کرے تو اس سے تعارض نہ کیا جائے بلکہ اسے اپنی بات کہنے دیا جائے، مثلا اگر وہ کہے کہ وہ اپنے اسکول کو نہیں پسند کرتا ہے تو فوراً مشتعل ہوکر یہ نہ کہا جائے یہ بات صحیح نہیں ہے، اگر اس پر معاملہ گنجلک کر دیا گیا یا اس کو خلط مبحث کا شکار کر دیا گیا تو پھر آئندہ وہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرے گا کہ اسے کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے۔
۲۰- بچہ کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے، اس سے درخواست کرنے کا طریقہ اپنایا جاتا ہے، اس کے ساتھ کھیلا جاتا ہے، بچہ سے درخواست کرنے سے نہ صر ف محبت کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ معلوم ہوتاہے کہ بچہ جیسا بھی ہے والدین کے نزدیک مقبول ہے، بالخصوص یہ رویہ اس وقت زیادہ ضروری ہے جب بچہ کسی جسمانی عذر کا شکار ہو۔
۲۱- متعدد تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اپنا خیال رکھنے اور اپنی قدر وقیمت و پہچاننے کا تعلق حسن صورت یا ذکاوت یا بہت زیادہ مال خرچ کرنے سے نہیں ہے؛ بلکہ اس کے لیے اہم بات یہ ہے کہ بچہ کو یہ احساس ہو کہ وہ گھر میں محبوب ہے اور گھر کا مکمل رکن ہے۔
۲۲- عموما بچہ اپنے آپ کو اسی نظر اوراسی زاویہ سے دیکھتا ہے جس زاویہ سے والدین اسے دیکھتے ہیں، چنانچہ اگر اس پر یہ واضح ہوگیا کہ والدین اس کا احترام کرتے ہیں اس کی قدر کرتے ہیں اس لیے اس کے ساتھ کچھ وقت گزارتے ہیں، تو پھر وہ اس طرح پروان چڑھے گا کہ وہ اپنے آپ کو بھی پہچانتا ہوگا، اسے اپنی قدر قیمت کا بھی اندازہ ہوگا، پھر اس کے نتیجہ میں وہ اپنی زندگی میں وقت، محنت، عمل، کوشش، اہل خانہ اور مال ومتاع ہر چیز کی قدر کرے گا۔
۲۳- بچہ میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے بسا اوقات بہت چھوٹی چھوٹی باتیں بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں، لیکن ضروری ہے کہ ان باتوں کو رسمی طریقہ سے نظریاتی امور کی طرح اس کو نہ پڑھایا جائے، بلکہ حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بتدریج اس کو سکھایا جائے۔
۲۴- بچہ کو اپنے تئیں مثبت زبان استعمال کرنے پر ابھارا جائے، مثلا اس کو سکھایا جائے کہ وہ اس طرح کے جملے نہ استعمال کرے کہ ’’میں یہ کام نہیں کر سکتا‘‘ بلکہ اس طرح کہے ’’میں اس کام کو آہستہ آہستہ بہتر طور پر انجام دوں گا‘‘۔
۲۵- اس کو اس پر ابھارا جائے کہ ایسی زبان استعمال کرجس سے پتہ چلے کہ وہ اپنے کاموں کا ذمہ دار ہے نہ کہ ایسی زبان جس سے ظاہر ہو کہ وہ ان کاموں کو کرنے میں معذور ہے، مثلا وہ نہ کہے کہ ’’میں اس کو لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا‘‘ بلکہ یوں کہے کہ ’’میں اس کو لکھنا نہیں چاہتا‘‘۔
۲۶- بچہ کو اپنے متعلق اظہار خیال کے لیے متکلم کا صیغہ استعمال کرنے کی عادت ڈالی جائے کہ اسی سے اپنے تئیں شعور زیادہ بیدار ہوتا ہے، نہ کہ وہ بہت سے بچوں کی طرح صیغۂ غائب استعمال کرے۔
۲۷- کبھی بچہ اگر اس طرح کا اظہار کرے کہ ’’میں معذور ہوںناکام ہوں‘‘ تو اس سے قدرے پر مزاح انداز میں کہا جائے ’’نہیں بالکل ویسے نہیں ہیں، آپ بہت اچھے ہیں‘‘۔
۲۸- بچہ کو یہ سکھانا انتہائی ضروری ہے کہ جب وہ کسی سے بات کرے تو اس سے آنکھیں ملاتے ہوئے بات کرے، گفت وشنید کے دوران نظروں سے نظریں ملا کر بات کرنے سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کا احترام کرتا ہے وہیں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ پر اعتماد کرتا ہے، اسے یہ باور کرایا جائے کہ وہ جب دوسروں سے کسی طرح کمتر نہیں ہے تو پھر ان کی طرف دیکھتے ہوئے اسے بات کرنا چاہیے۔
۲۹- بچے کو بتایا جائے کہ وہ خود اپنے لیے کس طرح آراء وتجاویز پیش کر سکتا ہے اور انہیں خود کس طرح مکرر اپنی سماعتوں کو سنا سکتا ہے، مثلا وہ بار بار یہ دہرائے ’’میں اس امتحان میں کامیاب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہوں‘‘ اس طرح کی ذاتی آراء وتجاویز خود اس کی ذات اور طرز عمل کے لیے لاشعوری طور پر بہت پر تاثیر ہوتی ہیں۔
۳۰- بچہ کی اس طرح حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے کہ اسے اس طرح کے آراء اور خیالات لکھنے کی تلقین کی جائے، کبھی ان کو لکھ کر انہیں رنگنے اور اسے اپنے کمرے کی دیوار پر لٹکا نے کو کہا جائے، مثلا اس طرح کا خیال ’’میں حساب پسند کرتا اور اچھی طرح حساب کر سکتا ہوں‘‘۔
۳۱- بچہ کی خاص طور پر اس سلسلہ میں مدد کرنا چاہیے کہ وہ اپنے سامنے اس طرح کے اہداف رکھے جن کا حصول ممکن ہو اورجس سے اس کی وہ صلاحیتیں سامنے آئیں جو ابھی تک پردۂ خفا میں ہیں، اس طرح بچہ کامیابی و کامرانی سے قریب ہوجائے گا اور ناکامی ونامرادی سے بچ جائے گا۔

(جاری)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*