بچیوں کی تربیت روز اوّل سے ،کہیں دیر نہ ہو جائے ! – قمر جہاں

 

(کچھ باتیں بچپن میں ہی ذہن نشین کرانے کی ہوتی ہیں ، جو شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں ، بعد میں ہزار کوششیں بھی رنگ نہیں لاتیں)

 

1- زمین سے کوئی چیز اٹھاتے وقت ایک ہاتھ سے دوپٹہ سنبھال لیں اور سینے کی ستر پوشی کا خیال رکھیں ، کہیں جھکنے کی وجہ سے ستر کھل نہ جائے ‏۔

 

2- عام جگہ پر زمین پر رکھی ہوئی کوئی چیز اٹھاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ براہ راست نہ جھکیں ، کہ آپ کی کیفیت رکوع کی سی ہو جائے ، بلکہ بیٹھ کر وہ چیز اٹھائیں اور پھر کھڑی ہو جائیں ‏، تاکہ پیچھے سے بھی آپ کی ستر پوشی باقی رہے‏۔

 

3- مردوں کے سامنے پیر پر دوسرا پیر رکھ کر نہ بیٹھیں ( گھر میں بھی ) ، بلکہ پیروں کو سمیٹ کر بیٹھیں – یہ ادب کا تقاضا بھی ہے اور حیا کی دلیل بھی ‏۔

 

4- سیڑھیوں پر چڑھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے آگے یا پیچھے کوئی غیر محرم تو نہیں ، اگر کوئی ہے تو رک جائیں اور ان کو پہلے جانے دیں ‏۔

 

5- کسی اجنبی مرد کے ساتھ لفٹ میں ہرگز نہ داخل ہوں ، کتنی ہی جلدی کیوں نہ ہو ، اس کے نکلنے کا انتظار کریں پھر آپ لفٹ میں داخل ہوں ‏۔

 

6- مسکراہٹ مطلوب و مرغوب ہے ،مگر اپنے حدود میں ، زور سے ہنسی اور ٹھٹھا لگانا نسوانیت کے بالکل خلاف ہے ‏۔

 

7- کزن ( چچا زاد ، ماموں زاد ،پھوپھی زاد ) سے دوری بہتر ہے ، مصافحہ اور معانقہ تو سمّ قاتل ہے ، خواہ ان کی عمر کتنی ہی کم کیوں نہ ہو ‏۔

 

8- کسی سے بھی بات کرتے وقت مطلوب دوری قائم رکھیے ‏۔ اور بات میں بھی وقار کا دامن چھوٹنے نہ پائے ‏۔

 

9- شاہراہ ، گلی اور کالج میں سہیلیوں کے ساتھ ہنسی مذاق نہ کریں ، راستے کے بھی آداب ہیں ‏، ان کا پاس و لحاظ کریں ‏۔

 

10- اگر کسی اجتماعی جگہ(بینک ، میٹرو ، کانفرنس روم وغیرہ ) پر بیٹھی ہیں ، اور کوئی بڑی عمر کا شخص داخل ہو جاتا ہے تو اس کے احترام میں کھڑے ہو جائیں اور اس کے لیے کرسی خالی کر دیں‏۔

 

11- بس ، ٹیکسی ، میٹرو میں اپنی زندگی کے صفحات نہ کھولیں ، خواہ آپ کے ساتھ کوئی کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو ‏، اور کتنی مدت کے بعد کیوں نہ ملے ہوں ، یاد رہے دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں ‏۔

 

12- گھر کے کام میں حصہ لینے کی عادت ڈالیں ‏۔ نفاست اور سلیقہ مندی کی اصل کلاس گھروں میں ہوتی ہے ‏۔ہوم سائنس کی عملی تربیت گھر کی چہار دیواری میں ہے ‏۔

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*