بچوں کی مادری زبان:ذاتی تجربہ اور چند مشورے-عابدہ آغا شیخ ’’ثریا‘‘

تہذیب و تنقیح:محمد رضی الرحمن قاسمی

نو عمر بچے زبان سیکھنے کے ابتدائی مر حلے میں ہوتے ہیں، گھر میں عام طور پر جیسی زبان بولی جاتی ہے، ویسی زبان دھیرے دھیرے سیکھ لیتے ہیں۔ بچوں کے زبان کو تیزی سے سیکھنے کے اسباب مختلف ہیں، ان میں ایک فطرت کی طرف سے ودیعت کیا ہوا جذبہ، دوسرا سبب تیزی سے اخذ کرنے والا ذہن، اور تیسرا سبب ان کی جرأت اور ہر ممکنہ طور پر اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کا حوصلہ اور چاہت ہوتی ہے۔
مجھے یہ تجربہ ہوا کہ بچے زبان بولنے اور استعمال کرنے میں اپنی "زبان اور دنیا کے دوسرے معاملات کے تئیں” محدود معلومات ہی کی روشنی میں سہی؛ لیکن منطقی (logical) سوچ سے بھی کسی حد تک کام لیتے ہیں۔ میرا چار سالہ بیٹا دانیال ایک دن کہنے لگا : امی ! مجھے بہت غصہ لگ رہا ہے۔ میں سوچنے لگی کہ ’’ غصہ لگ رہا ہے‘‘ کیوں کہہ رہا ہے، جب کہ میں تو ’’غصہ آنا‘‘ استعمال کرتی ہوں، پھر فورا ہی خیال آیا کہ یہ جملہ تو میں بہت کم استعمال کرتی ہوں؛ البتہ ’’بھوک لگ رہی ہے، پیاس لگ رہی ہے‘‘ جیسا جملہ کثرت سے وہ سنتا ہے؛ شاید اسی لئے اپنی سمجھ سے اس نے’’ غصہ لگنا‘‘ استعمال کیا، خیر ، میں نے اس کی اصلاح کر دی۔
میری سوا دو سال کی بیٹی ہبہ بارش میں پائجامہ کے پائنچوں کو دروازے سے گندا کر کے آئی، میں کسی کام میں مصروف تھی، مجھے متوجہ کر کے کہنے لگی: امی! آستین گندی ہوگئی ہے، میں نے دیکھا کہ آستین تو صاف ہے، میں نے کہا: بیٹا! آستین توصاف ہے، تو اپنا پاؤں اٹھا کر دکھانے لگی اور کہنے لگی: امی! پائجامہ کی آستین ۔ یہ سن کر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی ۔
بچے جب اپنے بچپن میں زبان سیکھنے کے مرحلے میں ہوں، تو چند باتوں کا خیال رکھنا چاہئے:
۱۔ گھر میں صاف ستھری اور سلیس و شستہ زبان بولی جائے، تاکہ بچے اچھی زبان سیکھیں ۔
۲۔ زبان میں بچوں کی غلطی کی اصلاح ضرور کی جائے؛ لیکن غلط بولنے پر مذاق اڑانے یا سخت تنقید کرنے سے گریز کیا جائے؛ تاکہ ان کی حوصلہ شکنی نہ ہو، جو نتیجہ کے اعتبار سے بچوں میں بزدلی کا سبب نہ بنے۔
۳۔کوشش کی جائے کہ چھ سات سال کی عمر تک بچوں سے مادری زبان ضرور بولی جائے اور اس پر خصوصی توجہ دی جائے؛ تاکہ بچوں کو اپنی مادری زبان آئے، کم سے کم بولنے کی حد تک ہی سہی ( کہ یہ آخری درجہ ہے) ان کے پاس مادری زبان کےاتنے الفاظ ہوں کہ وہ صاف ستھری زبان بول سکیں، بچوں کودوسری زبانیں ضرور سکھائی جائیں؛ لیکن مادری زبان کے ساتھ ، مادری زبان کو چھوڑ کر نہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*