بابل سپریو نے لوک سبھاکی رکنیت سے استعفیٰ دیا

نئی دہلی:سابق مرکزی وزیربابل سپریونے منگل کو لوک سبھاکی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ سپریو نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی اور انہیں اپنا استعفیٰ پیش کیا۔حال ہی میں بابل سپریو نے بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد سپریو نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہاہے کہ دل ابھی تک بھاری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دیدی (ممتا بنرجی) فیصلہ کریں گی کہ آسنسول سیٹ سے الیکشن لڑناہے یانہیں۔ اوم برلاکواستعفیٰ دینے کے بعد بابل سپریونے کہاہے کہ آج میرا دل بھاری ہے کیونکہ میں نے بی جے پی کے ساتھ اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ میں پی ایم مودی اورامت شاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ راج ناتھ سنگھ نے مجھ پر بھروسہ کیا میں نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ اب میں اس کا حصہ نہیں رہا ۔ اس لیے میں نے استعفیٰ دے دیا۔ میں نے یہ فیصلہ اپنے دل کی بات سننے کے بعدلیا۔ترنمول کانگریس لیڈر نے بتایاہے کہ دیدی نے کہاہے کہ آپ نے اچھا کام کیا۔ دوسری بار کام کرکے زندہ رہو۔ میں نہیں رہنا چاہتا جہاں دل نہیں ہے۔ آسنسول میرے لیے خاص ہوگا۔ اگلی بار دیدی فیصلہ کریں گی کہ آسنسول سے لڑنا ہے یا نہیں۔ ہم نے صرف بنگال کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بی جے پی لیڈر شوبھیندو ادھیکاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ بی جے پی میں کئی لیڈر باہر سے آئے ہیں۔ شوبھیندو ادھیکاری چند ماہ پہلے ٹی ایم سی میں تھے۔ ان کے بھائی اور والد کو ٹی ایم سی سے استعفیٰ دیناچاہیے۔ ٹی ایم سی سے ایم پی رہناخلاقی طور پر مناسب نہیں ہے۔