بابری مسجدشہادت کیس:فیصلہ کل،کیا مجرموں کو سزا ملے گی؟

لکھنؤ:بابری مسجد شہادت کیس میں لکھنؤکی خصوصی سی بی آئی عدالت 30 ستمبر بروز بدھ فیصلہ سنانے جارہی ہے۔سپریم کورٹ نے سی بی آئی عدالت کوتیس ستمبرتک فیصلہ سنانے کاحکم دیاہے۔بابری مسجدشہادت کے بعدبڑے پیمانے پرملک کاماحول خراب کیاگیااوراقلیتی طبقے کی نسل کشی کی گئی۔بابری مسجدکی زمین کوفریق مخالف کودیتے وقت بھی سپریم کورٹ نے کہاتھاکہ مسجد،مندرتوڑکربنائی گئی،اس کاکوئی ثبوت نہیں ملا۔یہ عدالت کی طرف سے فریق مخالف کے جھوٹے پیروپیگنڈے کاکراراجواب تھا۔اس نے یہ بھی مانا کہ لمبے عرصے تک یہاں نمازہوتی رہی ۔اس کے ساتھ ہی اہم تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مسجدکی شہادت کوغیرقانونی بتایاتھا۔اوراسی لیے مسلم فریقوں کوبھی مسجدکی جگہ اجودھیاکے قریب دی گئی۔اب مسجدکی شہادت پرفیصلہ آناہے ۔اندازہ لگایاجارہاہے کہ مجرموں کوپانچ برس کی سزادی جائے گی ۔بی جے پی کے سینئر لیڈرسابق مرکزی وزیرداخلہ ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، اوما بھارتی ، کلیان سنگھ اور دیگر اس معا ملے کے مرکزی ملزم ہیں۔ عدالت نے تمام ملزمان سے اس دن عدالت میں پیش ہونے کو کہا ہے۔یہ معاملہ جو گذشتہ 28 سالوں سے التوا میںرہا ہے ،اس پرایک کے بعدایک قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں اورانصاف کی راہ مشکل ترہوگئی ہے۔6 دسمبر 1992کو شہادت سے متعلق دوفوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ ایف آئی آر نمبر 197 میں ، لاکھوں افراد کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے ، جس میں آئی پی سی کی دفعہ 153 اے (مذہبی بنیادوں پر دشمنی پھیلانا) ، 297(تجاوزات) ، 332 (جان بوجھ کر سرکاری ملازم کو اپنے فرائض سے روکنا) 337 (دوسروں کی زندگی اور ذاتی حفاظت کو خطرے میں ڈالنا)، 338 (زندگی کو خطرے میں ڈال کرشدید چوٹ پہنچانا) ، 395 (ڈکیتی) اور 397 (موت کا سبب بننے کی کوشش)کے تحت مقدمہ درج ہے۔