بابری مسجدشہادت کیس:اڈوانی سے 4 گھنٹے میں 100 سوالات پوچھے گئے،خودکوبے قصوربتایا،الزامات کی تردید

لکھنؤ:بی جے پی کے سینئرلیڈر ایل کے اڈوانی نے آج 1992 کی بابری مسجد شہادت کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اپنا بیان قلمبند کرایا۔ ایودھیا میں بابری مسجدشہادت سے متعلق کیس کے ملزموں میں 92 سالہ اڈوانی کا نام بھی شامل ہے۔ وہ آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے لکھنؤکی خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے۔ 4.5 گھنٹے تک جاری رہی سماعت کے دوران، صبح 11 بجے سے دوپہر 3:30 بجے تک عدالت نے اڈوانی سے100 سے زائدسوال پوچھے۔ اڈوانی کے وکیل نے کہاہے کہ انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ بدھ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اڈوانی سے ملاقات کی۔ دونوں لیڈروں نے تقریباََ 30 منٹ تک بات چیت کی۔بتادیں کہ عدالت کو روزانہ سماعت کے ذریعے کیس مکمل کرنا ہے اور 31 اگست تک فیصلہ دینا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بابری شہادت کیس کی سماعت ایودھیا میں رام مندرکے لیے 5 اگست کو بھومی پوجن کے انعقاد سے چند دن پہلے رکھی گئی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق رام مندر تحریک کے اڈوانی سمیت دیگر رہنماؤں کوبھی مدعوکیاجائے گا۔ اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی اس معاملے میں مسجد کی شہادت کی سازش میں ملزم رہے ہیں۔ 86 سالہ جوشی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جمعرات کو عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔