بابری مسجدشہادت:اڈوانی،جوشی،اومابھارتی اور کلیان سنگھ کے خلاف مقدمے کی سماعت میں توسیع


نئی دہلی:بابری مسجدشہادت کیس میں سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کرنے کے لیے 31 اگست 2020 تک کا وقت دیاہے۔ عدالت نے کہاہے کہ لکھنؤمیں سی بی آئی کی خصوصی عدالت اگست کے آخر تک اس کیس کو مکمل کرے اور اپنا فیصلہ دے۔ سی بی آئی عدالت اگست کی آخری تاریخ کی خلاف ورزی نہ کرے۔ سی بی آئی عدالتوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولیات کا استعمال کرناچاہیے۔بی جے پی کے سنیئرلیڈروں ایل کے اڈوانی،مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ اور دیگرکے خلاف مقدمہ چل رہا ہے، جس میں سپریم کورٹ نے مزیدتوسیع کردی ہے۔ خصوصی جج ایس کے یادو نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر توسیع کی درخواست کی تھی۔ 20 اپریل کو، 9 ماہ کی تحدیدمکمل ہوچکی ہے۔19 جولائی کو لکھنؤ کی سپریم کورٹ بابری مسجد انہدام کیس کی سازش کی سماعت ایل کے اڈوانی، ایم ایم جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ اور دیگر کے خلاف کررہی ہے۔ سی بی آئی عدالت کے خصوصی جج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نوماہ میں مقدمے کی سماعت مکمل کریں اور فیصلہ دیں۔ اس کے ساتھ ہی، بینچ نے سی بی آئی جج ایس کے یادوکی ریٹائرمنٹ کی میعاد 30 ستمبر کو مقدمے کی تکمیل تک بڑھانے کا حکم جاری کیا تھا۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس آر ایف نریمن کی سربراہی میں بنچ نے ہدایت کی تھی کہ جج 6 ماہ میں سماعت مکمل کریں گے اور تین ماہ میں فیصلہ لکھیں گے۔در حقیقت، خصوصی جج ایس کے یادونے مئی میں لکھے گئے خط میں عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 30 ستمبر 2019 کوریٹائر ہو رہے ہیں، جب کہ اس مقدمے کی سماعت میں 6 ماہ کا وقت لگے گا۔ بنچ نے کہاتھاکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے اور اس مقدمے کی سماعت اسی جج کے ذریعہ ہونی چاہیے۔