بابری مسجد سے گرو کی مسجد تک-سعید حمید

بابری مسجد ،اتر پردیش ،ایودھیا میں ہے ، گرو کی مسجد، شری ہر گوبند پور، پنجاب میں ہے ۔بابری مسجد 1528 ء میں تعمیر کی گئی تھی ۔آزادی کے بعد اس کے اندر بت رکھ دیے گئے ۔اذان و نماز کا سلسلہ بند کروادیا گیا ۔6دسمبر 1992 ء ایک شرم ناک مجرمانہ کارروائی میں
بابری مسجد شہید کردی گئی ۔اب اس پر رام مندر تعمیر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔
ایک جانب تاریخی بابری مسجد کا الم ناک قصہ سامنے ہے ، جو بھارت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔
دوسری جانب گرو کی مسجد ، ضلع گرداس پور ، پنجاب کی ایک انتہائی روشن اور امید افزا مثال ؛گرو کی مسجد چھٹے سکھ گرو ، گرو ہرگوبند جی نے تعمیر کروائی تھی ۔
اس لئے اس مسجد کو گرو کی مسجد یا گرو کی مسیت کہا جاتا ہے ۔تاریخ کو مسلم دشمنی کا رنگ دینے والے مورخین کیلئے تاریخ کا یہ سچ ان کے منہ پر طمانچہ ہی کہا جا سکتا ہے ، جو اپنے ایجنڈہ کیلئے سماج میں نفرت کا زہر گھولتے ہیں ۔
ایودھیا ، اترپردیش میں بابری مسجد کی جگہ پر بننے والے رام مند کی وجہ سے شر پسندوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی ہوگی ،اور مستقبل میں بھی اس طرح کی جارحانہ
حرکتوں کیلئے اشتعال انگیزی سے باز نہیں آئیں گے ،لیکن اسی دوران پنجاب کے شہر شری ہرگوبند پور میں واقع گرو کی مسجد ملک کے تمام امن پسند عوام کو اتحاد کا پیغام بھی دیتی رہے گی اور یہ مسجد گنگا جمنی تہذیب کی ایک بڑی روشن علامت بن کر سامنے آئے گی ۔
بس ، امن پسند عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی ضرورت ہے!
آج جبکہ ملک کا جارحیت پسند طبقہ رام مندر کی تعمیر پراپنے سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔گرو کی مسجد کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنا بھی ضروری ہے ۔دسمبر 1634 ء کی بات بتائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ سکھو ں کے چھٹے گرو ، گرو ہرگوبند جی کا بیاس ندی کے کنارے، ایک بھاری مغل فوج کے ساتھ زبردست معرکہ ہوا تھا ۔اس میں گرو ہر گوبند جی کو فتح حاصل ہوئی ۔گرو صاحب نے کچھ مدت کیلئے وہیں قیام کا فیصلہ کیا ، اسلئے وہاں ایک بستی بھی بس گئی ۔یہ بستی بڑھتے بڑھتے ایک شہر بن گئی ، جو آج شری ہر گوبند پور کے نام سے مشہور ہے ۔
چونکہ مغلوں سے جنگ کا سلسلہ جاری تھا ، اسلئے اس بستی کی حفاظت کیلئے اس کے اطراف
فصیلیں تعمیر کی گئیں اور قلعہ بھی بنایا گیا ۔بیاس ندی کے کنارے تعمیر اس بستی کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا ، اور ہر مذہب کے لوگ یہاں
آکر رہنے لگے ۔ان میں سکھ بھی تھے اور مسلمان بھی ۔اس طرح یہ بھی واضح ہوگیا کہ تاریخ میں جو
جنگیں ہوئیں ، ان کو مذہب کا لبادہ اڑھانا غلط تھا ۔یہ حرکت برٹش نے کی ، اور برہمن وادیوں ، ہندوتوا وادیوں نے اس نفرت انگیز جھوٹے بیانیہ کو آگے بڑھایا ۔ چھٹے سکھ گرو ہر گوبند صاحب جی اور ان کی تعمیر کردہ گرو کی مسجد سے یہ بات سچ ثابت کی جاسکتی ہے ۔
جب بیاس ندی کے کنارے ایک نئی بستی بس گئی ، تب اس بستی کے سکھوں نے ایک گرودوارہ تعمیر کرلیا ۔البتہ اس بستی میں جو مسلمان تھے ، وہ غریب تھے ، وہ اپنی عبادت کیلئے مسجد نہیں بنا سکتے تھے ، لیکن انہیں اس بستی میں ایک مسجد کی ضرورت محسوس
ہو رہی تھی ۔اس لئے وہ سب گرو صاحب کے پاس گئے ، اور ان سے مسجد کی تعمیر کیلئے مدد طلب کی ۔
گرو صاحب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ جہاں وہ سکھ مذہبی رہنماؤں کی عزت کرتے تھے ، وہیں مسلم درویش ، فقیر اور ہندو سادھو ، سنتوں کا بھی احترام کیا کرتے تھے ۔
وہ اپنی حکومت میں ہر دھرم کے عوام کو برابر ی کا درجہ دیتے تھے ، اور سب کے ساتھ انصاف میں یقین رکھتے تھے ۔اس لئے ان کی مسلمان رعایا نے جب ان سے مسجد کی تعمیر کیلئے مدد مانگی ، تو گرو ہر گوبند جی نے اپنے سکھ ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ اس بستی میں اپنی مسلم رعایا کیلئے ایک مسجد تعمیر کریں۔
تب گرو صاحب کے حکم پر بیاس ندی کے کنارے ایک خوبصورت اور تاریخی مسجد تعمیر کی گئی ۔
اور اسے مسلمانوں کے حوالے کردیا گیا ۔
تاریخ کا یہ ایک سنہرا باب ہے کہ جہاں ایک طرف مغلوں اور سکھوں میں جنگ جاری تھی ، اسی دوران ایک سکھ گرو نے مسجد تعمیر کی ،
اپنی مسلم رعایا کیلئے ، اور اس طرح یہ ثابت ہوا ، کہ ان جنگوں کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔
دونوں جانب ہر مذہب کی رعایا تھی ۔لیکن اس سنہری تاریخ پر فرقہ پرستی کی کولک پوتی جا رہی ہے ۔
یہ کام انگریزوں کے زمانہ میں شروع ہوا اور آج بھی جاری ہے ۔
ان حرکتوں کی وجہ ملک کا بٹوارہ بھی ہوگیا ۔آزادی تو ملی لیکن ، ملک کے ٹکڑے ٹکڑے بھی ہوگئے ۔ سری ہرگوبند پور میں آزادی سے قبل مٹھی بھر مسلمان رہتے تھے ۔جب تقسیم ہند پر بھیانک فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے ، تو یہ مسلمان بھی ہجرت کر گئے اور گرو کی مسجد کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا ،کوئی وہاں اذان دینے والا ، کوئی نماز پڑھنے والا باقی نہیں بچا ۔برسہا برس یہ مسجد ویران تھی ۔1984 ء میں نہنگ سکھ فرقہ کے ایک مذہبی رہنما
بابا کیرتن سنگھ نے جو وہاں سے بیس کلو میٹر دورڈیرہ پر
رہتے تھے ، اپنے نہنگ سیوا داروں کو بھیجا کہ وہ اس ویران مسجد کی صاف صفائی کاکام کریں ، اس مسجد میں جو لنگر چلتا تھا ، اسے دوبارہ شروع کریں اور مسجد کی دیکھ بھال کریں ۔ان کیلئے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کیونکہ چھٹے سکھ گرو
شری ہرگوبند صاحب نے یہ مسجد تعمیر کی تھی ، اسلئے وہ اس مسجد کا بھی اسی قدر احترام کرتے تھے ،
جیسے کہ وہ کسی گرودوارہ کی احترام کرتے تھے ۔ 1997 ء میں اس مسجد کو یونیسکو نے
HERITAGE – STRUCTRURE قرار
دیا تو اس کی مرمت ، دیکھ بھال ، تعمیر اور آرائش نو کے اخراجات ایک سکھ تنظیم سکھ فاؤنڈیشن نے برداشت کئے ۔
مسجد کے آس پاس غیر قانونی قبضہ ہوچکے تھے ، انہیں ہٹایا گیا ،
کچھ لوگوں نے اس مسجد کی شناخت مٹانے کیلئے اس کے اندر گرو گرنتھ صاحب کی ایک بیر رکھ دی تھی اور باہر ایک نشان صاحب کھڑا کردیا تھا ۔سکھ فاؤنڈیشن اور مقامی سکھوں نے عطیہ دے کر قریب کا ایک مکان خرید لیا ،اور گرو گرنتھ صاحب کو وہاں منتقل کردیا گیا ۔
مقامی ایم ایل اے ، ممبران پارلیمنٹ ، نہنگ سیوادار، رہنما ،
اور مقامی وقف بورڈ کے تعاون سے ایک دن یہ مسجد مسلمانوں کو سونپ دی گئی اور یہاں ساٹھ باسٹھ سال بعد نماز و اذان کا سلسلہ
دوبارہ شروع ہوگیا ۔
ایک طرف بابری مسجد کی شہادت کا اندھیرا چھایا ہوا ہے ، جو دوسری طرف گرو کی مسجد نے امیدوں کے جو روشن چراغ جلادیے ، وہ ایک دن اس اندھیرے کو ضرور ختم کردیں گے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*