بابری مسجد کی تاریخ:نئے ابواب اور تشنہ سوالات ـ سمیع اللہ خان

 

آج بڑے زوروشور سے بابری مسجد کی تاریخ بیان ہورہی ہے، بڑے بلند بانگ دعوے کیے جارہےہیں اور گلا پھاڑ پھاڑ کر بابری مسجد پر تجارت کی جارہی ہے، البتہ انہی میں کچھ مخلص اور واقعی دردمندانِ قوم بھی ہیں جو بابری مسجد کی شہادت اور وہاں مندر کی تعمیر پر رنجور ہیں جوکہ یقینًا ایک مومن کا فطری غم ہےـ
آج کے دن کو یومِ سیاہ اور ماتم کے لیے منانے والے میرے ایمانی برادران سے ایک التماس ہے کہ آج کے دن کی مناسبت سے کیا صرف بابری مسجد کی روایتی تاریخ بیان کردینا کافی ہے؟ کیا بابری مسجد کی تاریخ نگاری میں اب باضابطہ یہ باب نہیں جڑتا کہ جن لوگوں نے اس کا مقدمہ اپنے ہاتھوں میں لیا انہوں نے شکست کھائی اور اُس وقت کی متحرک نسل اس کو بچا نہیں سکی تھی؟ نوجوان جو ابھی ۲۰ سے ۲۵ سال کے ہیں وہ خود کو کوسنے دےکر احساس شکست میں مبتلا کیوں ہورہےہیں؟ جبکہ وہ لوگ جو بابری مسجد کی زمینی شہادت سے لےکر سپریم کورٹ میں اس کے انہدام کے ذمے دار ہیں وہ کمال سے فلسفیانہ شیخی بگھار کر اس کی جواب دہی سے بچ نکلتے ہیں، مسلمانوں کی مین اسٹریم آرگنائزیشنز اور ان کی مختلف مرکزی تنظیموں کے عہدوں اور مناصب پر براجمان بڑے بڑے دانشوران آج کل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے اور سوالات سے بچے رہنے کے لیے نئی نسل کو ہی احساسِ جرم میں مبتلا کرتےہیں، وہ نسل جو کہ جوانی کی دہلیز پر پہنچتے ہی ملک میں اپنی پوزیشن کو سمجھنے میں ہی غلطاں و پیچاں ہے، جو آج کے حیران و پریشان اور سرگرداں حالات میں کھڑی ہوئی ہے، اُس نسل کو ماضی میں ناکام ہندوستان تعمیر کرنے والے لوگ مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور اسے یہ باور کرائے رکھنا چاہتے ہیں کہ ہم نے تمہیں جو ملک فراہم کیا ہے اور تمہارے لیے اس ملک میں جو کچھ بویا اسے صرف کاٹتے رہو لیکن پلٹ کر سوال مت کرناـ
یہ سب نفسیاتی کھیل ہے، وگرنہ کوئی بات نہیں کہ جن لوگوں اور جس نسل کو بابری مسجد ہار جانے کےبعد خود اپنا احتساب کرنا چاہیے تھا، اپنی شکست کو تسلیم کرنا تھا وہ اب اس سے بھی بدکنے لگے ہیں کہ نئی نسل بابری مسجد کو یاد کیوں کررہی ہے؟ ارے بھائی اگر کچھ نوجوان چھ دسمبر کو جس دن بابری مسجد کو شہید کیا گیاتھا اسے یاد کرلیتے ہیں تو کون سی آفت پھٹ پڑی ہے؟ چھ دسمبر کو بابری مسجد کو نہیں یاد کریں گے تو کیا ۱۵ اگست کو کریں گے؟ آپ عالمی استعمار کے سرغنہ اقوام متحدہ کے مسلط کردہ ایک سے ایک ایّام ڈھونڈ لیتےہیں منانے کے لیے، تب آپ کو فکر نہیں ہوتی کہ مسلمانوں کی تاریخ کے عظیم تاریخی دنوں کو یاد کیاجانا چاہیے، لیکن ان سب کو چھوڑ 6 دسمبر کو یومِ بابری منائے جانے پر مزاج اکھڑے اکھڑے نظر آرہے ہیں، مجھے خود کل رات میں ایک اہم شخص نے چھ دسمبر کو بابری مسجد کا دن منانے کے لیے فون کیا لیکن میں نے منع کردیا کیونکہ یہ سب دن وغیرہ منانے والی بات مجھے سمجھ میں نہیں آتی، لیکن جو لوگ بابری مسجد کو یاد کرنا چاہتےہیں اور اس کی یاد زندہ رکھنا چاہتےہیں وہ ظاہر سی بات ہے کہ 6دسمبر کو ہی کریں گے آپ کو نہیں یاد کرنا آپ مت کیجیے لیکن جو کر رہےہیں ان پر مسلّط ہونے کا ٹھیکہ مت لیجیے، بلکہ جواب دیجیے کہ جب بابری مسجد شہید ہورہی تھی تب نسل آپ کی تھی اور قیادت آپ کی، آپ کیوں نہیں روک سکے؟ اگر بابری مسجد نہیں بچا سکے تو یہ بتائیں کہ اس کی شہادت کےباوجود بھی کانگریس کا اقتدار کیسے باقی رہا؟ بابری مسجد شہید ہوگئی اور اس کے مجرمین حکومت میں باقی رہے، کیسے؟ مسلم قیادت سے اُس وقت کے مسلم نوجوانوں نے کیا سوالات کیے اور کیسے کیے کہ مسلم قیادت کانگریس کے ساتھ ہی وابستہ رہی؟
یہ وہ فیصلہ کن مرحلہ ہے کہ اگر تبھی درست فیصلہ کرکے قبلہ درست کرلیا جاتا تو آج کی نسل کو ایسا ہندوستان نہیں ملتا یا کم از کم اتنی پست پوزیشن نہیں ملتی، لیکن کمال ہے کہ اس سانحے کے شاہدین ہوں کہ مسلسل اس ناکامی کو دراز کرنے والے ذمہ داران، وہ سب ان سوالات کو ایڈریس کرنے کے بجائے کمال ہوشیاری سے ۲۰ سالہ نوجوان کو ۳۰ سال قبل کی ناکامی کا ذمہ دار بناکر نکل لیتے ہیں اور جو لوگ خالص اشتعال پھیلاتے ہیں بابری کےنام سے وہ ہر مرحلے میں موجود رہے، یاد کیجیے چند ہی سال پہلے ایک اشتعال انگیز استحصالی سیاستدان نے اعلان کیا تھا کہ وہ بابری مسجد جائے گا، بڑی زبردست واہ واہی لوٹی یہ بیان دے کر لیکن جب فیصلہ خلاف آیا، بابری کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، تو وہ ان سب مراحل میں غائب رہاـ آپ نے واہ واہی ضرور کی لیکن اُس سیاستدان کا گریبان پکڑ کے کبھی نہیں پوچھا کہ ” کہاں ہو بھیّا؟ لشکرِ جرّار لے کر پہنچے نہیں یا زبانی پٹاخے اور چٹخارے ہی تمہارے دامن میں ہیں؟”ـ
اس لیے ضروری یہ ہے کہ صرف ماتمی تبصروں کی بجائے بابری کی تاریخ میں جہاں ہندوستان میں آئین ہند کے قتل اور سپریم کورٹ کے ظالمانہ فیصلوں پر بات ہو وہیں تاریخ میں درج ہوکہ اس کو شکست کن کے عہد میں ہوئی اور اس کی شہادت کے باوجود کانگریس کا اقتدار باقی رہا اس کے ذمہ دار کون تھے؟ اور ہر قومی و ملّی تنظیم کے کردار کو اس کی اصلی حیثیت کے ساتھ اس ناانصافی کی تاریخ میں شامل کیا جاناچاہیےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*