بابری مسجد کے کٹہرے میں ” بے گناہ ” اڈوانی

معصوم مرادآبادی

سابق وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی نے بابری مسجد انہدام سازش کیس میں تمام الزامات کوقبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے گزشتہ24 جولائی کو سی بی آئی عدالت کے خصوصی جج ایس کے یادو کے روبرو کہا کہ ”بابری مسجد کے انہدام سے ان کا کوئی لینا دینانہیں ہے ۔ اس معاملے میں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ایک سیاسی سازش کا حصہ ہیں۔“ اتنا ہی نہیں انھوں نے اپنے خلاف پیش کئے گئے ثبوتوں کو بھی من گھڑت قرار دیا۔ یہ بی جے پی کے ایک ایسے لیڈر کا بیان ہے جو بابری مسجد انہدام کا کلیدی ملزم تصور کیا جاتا ہے اور جس کے خلاف زمینی سطح پر بے شمار شہادتیں موجود ہونے کی وجہ سے مجرمانہ سازش کا مقدمہ زیر سماعت ہے ۔لیکن آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں سچ اور جھوٹ کے پیمانے یکسر بدل گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاتعداد بے قصور لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں اور جو قصور وار ہیں، وہ صاحبان اقتدار کی سر پرستی میں آزادگھوم رہے ہیں۔حق اور انصاف کی آوازیں دبادی گئی ہیں۔ جھوٹ اور مکر وفریب کا بازار گرم ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سامنے جو کچھ ہورہا ہے، وہ اتنا عجیب وغریب اور انوکھا ہے کہ کبھی کبھی ہمیں اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آتا۔اس سے بڑھ کر المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں نے 90کی دہائی میں رام جنم بھومی مکتی آندولن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور بابری مسجد کے انہدام کی راہ ہموار کی تھی، وہ آج اس معاملے میں اپنے آپ کو قطعی بے قصور بتارہے ہیں۔
سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں اب تک اڈوانی سمیت جن تیس ملزمان کے بیانات درج ہوئے ہیں، ان سب نے یہی کہا ہے کہ بابری مسجد انہدام میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور انھیں اس معاملے میں سیاسی سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔اڈوانی سے پہلے مرلی منوہر جوشی، کلیان سنگھ، اوما بھارتی اور ونے کٹیار وغیرہ اسی طرح کے بیانات دے کر خود کو ’بے قصور‘ ثابت کرچکے ہیں۔ سی بی آئی کے خصوصی جج نے پیشی کے دوران اڈوانی سے ایک دو نہیں پورے1050 سوالات پوچھے۔ انھوں نے بڑی ہوشیاری سے ان سوالوں کے جوابات دئیے اور سازش کے ہر الزام کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔پانچ گھنٹے تک چلی اس عدالتی کارروائی کے دوران 92سالہ اڈوانی نے کسی ایک الزام کو بھی قبول نہیں کیا اوروہ بار بار یہی کہتے رہے کہ انھیں اس مقدمے میں سیاسی سازش کے تحت پھنسایا گیاہے۔
کہا جاتا ہے کہ اگر کسی جھوٹ کو 100 بار بولا جائے تو وہ سچ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سی بی آئی کے خصوصی جج ایس کے یادو نے اڈوانی اینڈ کمپنی کے بیان پر کتنا اعتبار کیا اور کتنا نہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اڈوانی، جوشی اور کلیان سنگھ نے اس معاملے میں عدالت کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ورنہ یہ حقیقت کسے معلوم نہیں کہ یہ لوگ بابری مسجد انہدام کے معاملہ میں پوری طرح قصوروار ہیں۔ انہی لوگوں کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں 500 سالہ قدیم عبادت گاہ کو زمیں بوس کیا گیا تھا۔یوں تو بابری مسجد انہدام کیس میں مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا کررہے تمام ملزمان وہ ہیں جنہوں نے بابری مسجد کے انہدام میں عملی کردار ادا کیا تھا، لیکن اس معاملہ میں لال کرشن اڈوانی کا کردار تو اتنا نمایاں ہے کہ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔خود اڈوانی نے اپنی آپ بیتی ”مائی کنٹری، مائی لائف“ میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی کے تمام ہی لیڈر اس معاملے میں فخر کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انھوں نے بابری مسجد کے انہدام کو اپنی کالی زبان میں ’غلامی کی علامت‘ قرار دے کر مٹانے کی باتیں بھی کہی ہیں، لیکن اب یہ لوگ تمام باتوں سے مکررہے ہیں اور اپنے آ پ کو بے قصور ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
لال کرشن اڈوانی کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ انھوں نے بابری مسجد کے خلاف ماحو ل سازی میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔وہ مسجد کی شہادت کے وقت دیگر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ وہاں موجود تھے اور کارسیوکوں کا حوصلہ بڑھارہے تھے۔1990میں اڈوانی جی نے سومناتھ سے ایودھیا تک جو رتھ یاترا نکالی تھی،اس کی تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں۔اڈوانی جی نے رتھ پر سوار ہوکر بابری مسجد کے خلاف جو اشتعال انگیزیاں کی تھیں، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں۔ اس یاترا کے دوران ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی، اس کی مثال آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔اس یاترا کے دوران جو نعرے لگائے جارہے تھے، ان سے مسلمانوں میں بے پناہ خوف وہراس پھیل گیا تھا اور وہ بری طرح دہشت زدہ ہوگئے تھے۔ ہر مسلمان خود کو دیوار سے لگا ہوا محسوس کررہا تھا۔ اس یاترا کو اگر لالو پرساد یادو نے بہار میں نہیں روکا ہوتا تو اس کی تباہ کاریاں ایودھیا تک جاری رہتیں۔
بابری مسجد کی شہادت دراصل ان ہی اشتعال انگیزیوں کا نتیجہ تھی، کیونکہ سماج میں اتنا زہر گھول دیا گیا تھا کہ بھولے بھالے ہندو بابری مسجدکو حرف غلط کی طرح مٹانے میں ہی عافیت سمجھنے لگے تھے۔ یوں تو رام جنم بھومی مکتی آندولن پہلے سے جاری تھا، لیکن اڈوانی کی رتھ یاترا نے اس آندولن کو انتہاؤں تک پہنچادیا تھا۔اس کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا جوسلسلہ شروع ہوا، اس میں ہزاروں بے قصور لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ ممبئی میں اس وقت جو بھیانک مسلم کشی ہوئی تھی اس کا پوسٹ مارٹم سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ میں موجودہے۔ یہ رپورٹ آج بھی سرکاری ریکارڈ میں خاک پھانک رہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ1993 میں ممبئی میں جو خوفناک بم دھماکے ہوئے تھے، وہ دراصل بابری مسجد کی شہادت اور ممبئی فسادات کا انتقام تھے، جنھیں انڈرورلڈ سرغنہ داؤد ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے انجام دیا تھا۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ان دھماکوں کے تمام مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچادیا گیا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ابھی تک نہ تو ممبئی فساد کے کسی مجرم کو سزا ملی ہے اور نہ ہی بابری مسجد کے ملزمان میں سے کسی ایک کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے۔انصاف کا دوہرا پیمانہ شاید اسی کو کہتے ہیں۔
6 دسمبر1992 کو اڈوانی نے اپنی زندگی کا سب سے افسوس ناک دن قرار دیا تھا، لیکن ان کی سادہ لوحی تو دیکھئے کہ اس انہدام میں انھوں نے اپنی سرگرم شمولیت کو پوری طرح فراموش کردیا۔جس وقت بابری مسجد شہید کی جارہی تھی تواڈوانی اور ان کی پوری ٹیم وہاں موجود تھی۔ بی جے پی، آرایس ایس اور وشوہندو پریشد کے تمام لیڈروں کی موجودگی میں مسجد شہید کی گئی اور سب مل کر کارسیوکوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔جب مسجد زمیں بوس ہوگئی تو انھوں نے مٹھائیاں بانٹیں اور جشن منایا۔اوما بھارتی نعرے لگارہی تھیں کہ ”ایک دھکا اور دو۔ بابری مسجد توڑدو۔“ مسجد ٹوٹنے کی انھیں اتنی خوشی تھی کہ وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر مرلی منوہر جوشی کے کاندھوں پر چڑھ گئی تھیں۔ اس موقع کی ایک تصویر اخبارات میں خوب شائع ہوئی تھی اور آج بھی اسے کبھی کبھی ’قند مکرر‘ کے طور پر شائع کیا جاتا ہے۔ لیکن اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی دونوں نے ہی سی بی آئی عدالت میں یہ کہا کہ ان کا بابری مسجد انہدام میں کوئی رول نہیں ہے اور وہ پوری طرح بے قصور ہیں۔ مرلی منوہر جوشی نے تو یہاں تک کہاکہ وہ اس روزموقع واردات پر موجود ہی نہیں تھے۔
اگراڈوانی، جوشی، ونے کٹیار اور اوما بھارتی جیسے لوگوں کا بابری مسجد کی شہادت میں کوئی رول نہیں ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسجد کیسے شہید ہوگئی۔ کیا وہ خود بخود زمیں بوس ہوگئی یا پھراچانک آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ظاہرہے قانون کے ساتھ آنکھ مچولی کا یہ کھیل خود کو سزا سے بچانے کے لئے ہی کھیلا جارہا ہے۔ رام جنم بھومی مکتی آندولن سے وابستہ وہ لوگ جو کل تک اپنے اس کارنامے پر فخر کا اظہار کیا کرتے تھے، آج وہ اس سے انکار کررہے ہیں۔ ظاہر ہے اس سے ان کے دوہرے کردار کا ہی اندازہ ہوتا ہے۔ یہ تمام لوگ آرایس ایس کے پروردہ ہیں، جس کا دعویٰ ہے کہ وہ زندگی کے مختلف میدانوں کے لئے اعلیٰ اور بلند کردار کے لوگ تیار کرتی ہے۔اس وقت بی جے پی کی سیاست میں جتنے بھی لوگ سرگرم ہیں، وہ سب آرایس ایس کے ہی پروردہ ہیں۔ان کے کردار و اطوار کو دیکھ کر آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان کا اصل چہرہ کیا ہے۔مرلی منوہر جوشی کو آرایس ایس کے پروردہ اہم دانشوروں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن انھوں نے سی بی آئی عدالت میں یہ کہہ کر اپنی اصلیت واضح کردی کہ وہ بابری مسجد انہدام کے وقت اجودھیا میں موجود ہی نہیں تھے۔ جب اڈوانی جیسا بی جے پی کا بڑا لیڈر سزا سے بچنے کے لئے عدالت کو گمراہ کرسکتا ہے تو سنگھ پریوار کے دیگر لوگ کیا کچھ نہیں کرسکتے، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اگر یہ لوگ صاحب کردار ہوتے تو بابری مسجد انہدام سازش کیس کی سماعت کررہی سی بی آئی عدالت میں اقبال جرم کرتے ہوئے خود کو سزا کے لئے پیش کرتے، مگر انھوں نے عدالت میں جھوٹ بول کر اپنے دوہرے کردار سے ہی دنیا کو واقف کرایا ہے۔ قانون کے بڑے بڑے ماہرین انھیں سزا سے بچانے کے لئے رات دن سرگرم ہیں اور اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ان میں سے کسی کو اپنے گناہوں کی سزامل سکے گی۔ شاید افلاطون نے درست ہی کہا تھا کہ”قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف کیڑے مکوڑے پھنستے ہیں جبکہ بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔“