بابری مسجدکے برابررقبے پرنئی مسجدکی تعمیرہوگی:ٹرسٹ

اجودھیا:سنی وقف بورڈ کے ذریعہ تشکیل کردہ ٹرسٹ اجودھیاکے دھنی پور میں بابری مسجد کے برابر مسجد کی تعمیرکرے گا۔ اس مسجدکمپلیکس میں اسپتال ، لائبریری اور میوزیم وغیرہ موجود ہوں گے۔ یہ معلومات ٹرسٹ کے ایک افسرنے دی ہے۔انھوں نے بتایاہے کہ میوزیم کی تعمیرکے لیے کنسلٹنٹ کیوریٹر کی ذمہ داری پروفیسر پشپش پنت کو سونپی گئی ہے۔ ہند،اسلامک کلچر فاؤنڈیشن(آئی سی ایف) کے سکریٹری اور ترجمان اطہر حسین نے کہاہے کہ یہ مسجد دھنی پور میں تعمیر کی جائے گی جس کے تحت ہند اسلامی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں عام لوگوں کے لیے اسپتال ، میوزیم جیسی سہولیات میسرہوں گی۔یہ مسجد15 ہزارمربع فٹ میں ہوگی ، جبکہ باقی زمین میں دیگرسہولیات میسرہوں گی۔ ریٹائرڈ پروفیسر پشپش پنت میوزیم کا کیوریٹر بننے پر راضی ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایس ایم اختر اس منصوبے کے معمار ہوں گے۔ریاستی حکومت نے اجودھیاکے قریب دھنی پور میں مسجدکے لیے پانچ ایکڑ اراضی دی ہے۔مسلمانوں کاسواداعظم اس زمین کولینے کے خلاف ہے۔ آئی سی ایف مسجد کی تعمیر کے علاوہ ہند، اسلامی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، لائبریری اور اسپتال کی بھی دیکھ بھال کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت سنی سنٹرل وقف بورڈکومسجدکی تعمیرکے لیے پانچ ایکڑ اراضی دی گئی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار نے اجودھیا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سے 18 کلومیٹردور گاؤں دھنی پور کی تحصیل سوہوال میں تھانہ روناہی کے قریب مسجدکے لیے پانچ ایکڑ اراضی الاٹ کی ہے۔اختر کے مطابق پورا کیمپس ہندوستانیت سے بھر پور ہوگا اور اسلام کے جذبات کومدنظر رکھتے ہوئے اس کیمپس کا مقصد انسانیت کی خدمت کرنا ہوگا۔