بابری مسجد انہدام معاملہ:خصوصی عدالت کا فیصلہ غیر معقول،سپریم کورٹ کے فیصلے سے پرے:کانگریس

نئی دہلی:کانگریس نے بدھ کے روز بابری مسجد انہدام معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو گذشتہ سال سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین ،معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے پر یقین رکھنے والا ہر شخص توقع کرتا ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومت اس غیر معقول فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔ پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سورجے والا نے کہا کہ بابری مسجد انہدام معاملے کے تمام ملزموں کو بری کرنے کا خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور آئین سے پرے ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ 9 نومبر 2019 کے فیصلے کے مطابق بابری مسجد کا انہدام غیر قانونی جرم تھا، لیکن خصوصی عدالت نے تمام مجرموں کو بری کردیا۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے صریح خلاف ہے۔انہوں نے الزام لگایاکہ پورا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس اور ان کے رہنماؤں نے سیاسی فوائد کے لئے ملک اور معاشرے کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو توڑنے کے لئے مکروہ سازش کی تھی۔ اس وقت اترپردیش کی بی جے پی حکومت نے بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو توڑ نے کی اس سازش میں ملوث تھی ۔ سرجے والا نے کہاکہ یہاں تک کہ جھوٹے حلف نامے دے کر عدالت عظمیٰ کو بھی بہکایا گیا تھا۔ ان تمام پہلوؤں، حقائق اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی سپریم کورٹ نے مسجد انہدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ ہر وہ شخص جو آئین، معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے پر یقین رکھتا ہے وہ توقع کرتا ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومت خصوصی عدالت کے اس غیر معقول فیصلے اور ملک کے آئین کے بغیر کسی تعصب کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گی۔ اور قانون کی تعمیل کریں گی۔واضح رہے کہ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بدھ کے روز 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام معاملے میں طویل انتظار کے بعد تمام ملزموں کو بری کردیا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد انہدام سانحہ پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا، یہ ایک حادثاتی واقعہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزموں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ۔