عزم و ہمت کا کوہِ گراں: مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ ـ نور اللہ جاوید

 

(تین سال قبل برادرم شہاب الدین ثاقب قاسمی سب ایڈیٹر روزنامہ انقلاب نئی دہلی نے اپنی تصنیف’ متاع زندگی‘ جس میں ا نہوں نے مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ کی خدمات ،مشن اورعزائم کا جائزہ لیا ہے، کےلئے ابتدائیہ لکھنے کی فرمائش کی تو اس وقت میں نے یہ مذکورہ مضمون لکھ کر ان کے حوالے کیا تھا جو متاع زندگی کے دوسرے ایڈیشن کا حصہ ہے۔مجھے اس وقت اندازہ بھی نہیں تھا کہ محض تین سال بعد ممدوح گرامی مفتی عثمانی مرحوم ہوجائیں گے اور20سالہ تعلقات کا یہ باب ہمیشہ ہمیش کےلئے بند ہوجائے گا۔وہ صرف یادوں میں باقی رہ جائیں گے ۔ مخدوم گرامی مفتی محفوظ الرحمنؒ نےان 20سالوں میں گرم جوشی،شفقت اور حوصلہ افزائی کا جو اظہار کیا ہے وہ میرے دل پر ہمیشہ ہمیش کےلئے اس طرح نقش ہوچکا ہے کہ اسے فراموش کرنا مشکل ہوگا۔ الفاظ و خیالات نے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ یقین نہیں آرہاہے کہ وہ اس قدر جلد ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے۔میرے لئے اس وقت کوئی تازہ مضمون لکھنا کافی مشکل ہے ۔اسی پرانے مضمون کوخراج عقیدت کے طور پر پیش کررہا ہوں۔
جامعۃ القاسم کی ترقی اور اپنے تعلیمی مشن و خواب کی تعبیر کےلئے انہوں نے پوری زندگی جھونک دی اور اس کی وجہ سے کم عمری میں ہی کئی ایسی بیماریوں کے شکار ہوگئے جس سے ان کا جسم کھوکھلا ہوتا چلا گیا،مگروہ عزم و ہمت کا کوہ گراں تھے،نہ وہ تھک کربیٹھنے والے تھے نہ ہی حالات کی ستم ظریفی ، مخالفت کے طوفان سے گھبراجانے والے ۔مخالفتوں ، مشکلات سے بے پرواہ ہوکردن رات اپنے مشن کی تکمیل کےلئے سرگرداں رہنے والے انسان تھے۔ میر ی یہ دعا ہے کہ اللہ جامعۃ القاسم کی حفاظت فرمائے اور ان کے وارثین کو ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت و استعداد اورتوفیق نصیب فرمائے۔(آمین)

مولانا آزاد ؒنے زندگی کی حقیت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ زندگی ایک آئینہ خانہ ہے ، یہاں ہر چہرے کا عکس بہ یک وقت سیکڑوں چہروں پر پڑنے لگتا ہے ۔اگر ایک چہرے پر غبار آئے گا تو سیکڑوں چہرے غبار آلود ہوجائیں گے۔ہم میں سے ہرفرد کی زندگی محض ایک انفرادی واقعہ نہیں ہے۔وہ پورے مجمع کا حادثہ ہے ۔دریا کی سطح پر ایک لہر تنہا اٹھتی ہے ۔لیکن اسی ایک لہر سے بے شمار لہریں بنتی چلی جاتی ہیں ۔یہاں ہماری کوئی بات بھی صرف ہماری نہیں ہوتی۔ہم جوکچھ اپنے لیے کرتے ہیں اس میں دوسروں کا حصہ ہوتا ہے ۔ہماری کوئی خوشی بھی ہمیں خوش نہیں کرسکے گی ۔اگر ہمارے چاروں طرف غم ناک چہرے اکھٹے ہوجائیں‘‘ ۔
حساس اور دل دردرمند کا حامل شخص اپنے ماحول اور سماج سے بیگانہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ اپنی ترقی پر آسودہ حال نہیں ہوسکتا ہے بلکہ وقت کی تبدیلی اورحالات کو سازگار بنانے کی ہرممکن کوشش کرے گا اور یہی زندگی کی حقیقت ہے ۔اگر زندگی کی تشریح اگر مختصرالفاظ میں کرنی ہوتو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’زندگی حرکت و اضطراب کے تسلسل کے سواکچھ بھی نہیں ہے ، موج جب تک مضطرب ہے زندہ ہے ۔ آسودہ ہوتے ہی معدوم ہوجاتی ہے ،گویا جس حالت کو ہم سکون سے تعبیر کرتے ہیں در اصل وہ موت ہے ۔یہی زندگی کا فلسفہ ہے ۔فارسی کے ایک شاعرکے بقول:
موجیم کہ آسودگی ما عدم است
مازندہ از انیم کہ آرام نہ گیریم
جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کے بانی و مہتمم، جمعیۃ ویلفیئر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری اور معارف قاسم جیسے علمی مجلہ کے ایڈیٹر اور شمالی بہار میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے سپہ سالار مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی زندگی بھی ان ہی صفات سے عبارت ہے جنھیں مولانا آزاد نے بیان کیا ہے ۔یعنی ان کی زندگی حرکت و اضطراب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔وہ صرف اپنے چہرے کا غبار نہیں بلکہ سیکڑوں چہروں کے غبار صاف کرنے کرنے کیلئے مسلسل جد و جہد کررہے ہیں ،وہ صرف اپنی اور اہل خانہ کی زندگی کو خوشگوار بنانے کیلئے سرگرم نہیں ہیں بلکہ اپنی قوم اور اپنے علاقے کے باشندوں اور آبادی کے مقدر کو تابناک اور آنے والی نسل کے مستقبل کو روشن بنانے میں مصروف عمل ہیں ۔بلکہ وہ ہرایک دن ایک خواب دیکھتے ہیں اور پھر اس خواب کی تعبیر میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔علامہ اقبال کے بقول:
زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیر تقدیر
خواب میں دیکھتا ہے عالم نو کی تصویر
او ر جب بانگ اذاں کرتی ہے بیدار اسے
کرتا ہے خوا ب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر!
دارالعلوم وقف دیوبند اور مظاہرالعلوم سہارن پور میں اپنے زمانہ طالب علمی میں ہی عالم نوکی تصویر کا خواب دیکھنے والے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا کی تعمیر کیلئے 25مارچ 1989میں اپنے آبادی گاوں مدھوبنی میں تین استاذ اور 10طلباء سے اللہ کے نام پر جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کی شروعات کی ۔ مدرسہ کے قیام کے پہلے ہی دن اپنے مدرسے کا نام جامعہ رکھنا ایک عجیب و غریب معاملہ معلوم ہوتا ہے ۔کیوں کہ جامعہ کا معنی یونیورسٹی اور عظیم درسگاہ ہوتا ہے ۔ایسے میں تین استاذ اور دس طلباء سے شروع ہونے والے مکتب کا نام جامعہ رکھنا بادی النظر میں منا سب نہیں معلوم ہوتا۔مگر آج جب وہ مدھوبنی کی اسی سرزمین پر جامعۃ القاسم اسلامک یونیورسٹی کے قیام کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اسی وقت اس سرزمین علم و فن کا عظیم مرکز بنانے کا ایک خواب دیکھا تھا اور خوابوں کی تعبیر کوئی راتوں رات نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کیلئے مسلسل جفاکشی ، ابتلا وآزمائش کے ایک طویل دورسے گزرنا ہے جب جا کر چمن میں دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ اب جب کہ 30سالوں کی سخت محنت و مشقت ، ایثار و قربانی کے بعد یہ خواب شرمندہ تعبیر ہورہا ہے تو ایسے موقعے پر علامہ اقبال مرحوم یاد نہ آئیں ایسا ہونہیں سکتا ہے۔بقول ان کے:
آں عزم بلند آور، آں سوز جگر آور
شمشیر پدرخواہی، بازوئے پدر آور
بنیادی طور پر میں زندوں پر مضمون لکھنے کا قائل نہیں ہوں ، کیوں کہ زندوں سے متعلق حتمی کوئی بھی بات نہیں کہی جاسکتی ہے ۔ آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منھ پر تعریف کے پل باندھنے اور مدح سرائی سے سخت منع فرمایا ہے۔دوسرے یہ کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا قول ہے کہ ’’من کان مستنا فلیستن بمن قد مات،إذ الأحیاء لاتومن عليهم الفتنہ‘‘۔اگر کوئی کسی کو نمونہ عمل بنانا چاہتا ہے تو ان افراد کو اپنا نمونہ عمل بنائے جو دنیاسے رخصت ہوچکے ہیں کیوں کہ زندہ لوگ فتنوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے‘‘۔تاہم جب معاملہ مدح سرائی اور نمونہ عمل بنانے سے آگے کا ہو یعنی نئی نسل میں قوم وملت کے تئیں احساس ذمہ داری پیدا کرنے اور زمانہ حال کی تاریخ کو قلم بند کرنے کا ہوتو ایسے میں زندوں کے تذکرے ، کارنامے اور ان کے طریقۂ کارپر بحث کرنا مستحب نہیں بلکہ واجب ہوجاتاہے ۔یورپی معاشرے میں زندوں کی خدمات اور تحقیقات کو خراج تحسین پیش کرنے کا چلن عام ہے، اس کیلئے اکیڈمیاں قائم ہیں ، اس کا مقصدشخصیتوں کی خدمات کوخراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نسل نوکو عظیم شخصیتوں کے کارناموں اور ان کے مقاصد کو متعارف کراکے ان کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہوتا ہے ۔ظاہرہے کہ نوجوانوں کو شامل اور انہیں حرکت میں لائے بغیر کام کی توسیع نا ممکن ہے ۔نئی نسل کی تربیت بھی ضروری ہے اس کیلئے زندہ شخصیتوں کی صحبت اور رہنمائی ضروری ہوتی ہے ۔اس لیے یورپ میں عظیم زندہ شخصیتوں کے کارناموں پر ریسرچ اور مقالے تحریر کیے جاتے ہیں تاکہ کام کے دائرے میں وسعت لائی جائے ، مثبت و تعمیری اعتراضات اوربحث و مباحثہ کے دروازے کھو ل کرکام کی سمت متعین کی جائے ۔
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی خدمات کی عظمت و اہمیت کے اعتراف اور ان کے کارناموں کا تجزیہ ان کے میدان عمل کا تاریخی و جغرافیائی اور سماجی وتعلیمی صورت حا ل کاجائزہ لیے بغیر نامکمل ہوگا۔ درالعلوم دیوبند، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، مظاہرعلوم سہارن پور، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو ، بنارس ہندو یونیورسٹی کی تاریخی عظمت واہمیت کاصحیح اندازہ ہمیں اس وقت تک نہیں ہوسکتا ہے جب تک اس دور کے سماجی ، تعلیمی اور سیاسی پس منظر سے صحیح واقفیت نہ ہوجائے ۔مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی خدمات اور جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کی افادیت جاننے کیلئے سیمانچل کی سیاسی و سماجی اور معاشی صورت حال کا تجزیہ کرنا ضروری ہے ۔
نیپال کی سرحد سے متصل شمالی بہار کی پورنیہ اور کوسی کمشنری جو مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے اور اس علاقے کو سیمانچل بھی کہا جاتا ہے۔کشمیر کے بعدسب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی والا علاقہ ہے کوہ ہمالہ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ زر خیز و شاداب ضرور ہے مگر مہا نندا ندی کا طوفان اور نیپال کے ذریعہ پیشگی اطلاع کے بغیر پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے سیلاب کی وجہ سے اس علاقے کی معیشت کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ ہندوستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔مزید یہ کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کی وجہ سے آزادی کے بعد سے مرکزی و ریاستی دونوں حکومتوں نے اس پورے خطے کو نظر انداز کیا ہے۔2011کی سروے رپورٹ کے مطابق ہائی اسکول کے بعد تعلیم چھوڑنے کی شرح 60فیصد ہے ۔یعنی 60فیصد بچے ہائی اسکول کے بعد تعلیم چھوڑ دیتے ہیں ۔اس کی وجہ سے بے روزگاروں کی ایک فوج ہر سال تیار ہوجاتی ہے جو مقابلہ جاتی دور میں روزگار کے مواقع حاصل کرنے کے لائق نہیں ہوتی ہے ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ معاشی بدحالی کئی مسائل پیدا کرتی ہے ، استعماری قوتیں معاشی طور پر بدحال لوگوں کے ایمان ویقین کا سوداکرنے کی تاک میں بیٹھی رہتی ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فقر و محتاجی سے اسی وجہ سے پناہ مانگی ہے۔تعلیمی پسماندگی کے نتیجہ میں معاشی ، سماجی پسماندگی خود بخود در آتی ہے ۔شاعر کی ز بان میں
یہ حسین کھیت،پھٹا پڑتا ہے جو بن جن کا
کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
یہ ہر اک سمت پراسرار کھڑی دیواریں
جل بجھے جن میں ہزاروں جوانی کے چراغ
زندگی کیا کسی مفلس کی قباہے اے دوست
ہر گھڑی درد کے پیوندلگے جاتے ہیں
ان حالات میں کسی بھی انسان کیلئے دوہی راستے ہوتے ہیں ایک یہ کہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی اور مستقبل کو سنوارنے میں لگ جائے یا پھر پوری قوم و آبادی کے تقدیر ومستقبل کو تبدیل کرنے کا درد لے کر کھڑا ہوجائے اور حتی المقدور اس کیلئے کوشش کرے۔کسی دانا شخص نے لکھا ہے کہ ’’زندگی کے دوہی راستے ہیں جن میں سے انسان ایک کو اختیار کرسکتا ہے یا تو وہ اپنی طبیعت ایسی بنالے کہ زمانے کی ہوا کے ساتھ چلے اور پانی کے ساتھ بہہ جائے۔دنیا سازی میں کمال حاصل کرلے اور جوں جوں دنیا بدلتی جائے خود کو بھی بے چوں و چراں اس کے مطابق ڈھالے یا اپنے اندر ایسی ہمت اور حوصلہ پیدا کرے کہ دنیا کی تمام تحریصوں کو ٹھکراکر ان سے بلند ہوجائے ۔اس کی خودداری باطل کے ساتھ معاملہ نہ کرے بلکہ حق کی خاطر سارے عالم کا مقابلہ کرنے کو تیار رہے ۔یہی دوسرا طریقہ ہی سچا راستہ ہے ۔علامہ اقبال نے اس حقیقت کو زبان شعر میں بہت ہی حسین انداز میں پیش کیا ہے:
گفتندجہان من آیا بہ تومی سازند
گفتم کہ نمی سازدگفتندکہ برہم زن
کافر اور مومن کا فرق بھی یہی ہے کہ کافر ہمیشہ زمانے کے سانچے میں ڈھلتا ہے اور مومن زمانے کو اپنے سانچے میں ڈھالتا ہے:
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
اپنے علاقے اور آبادی کی معاشی و سماجی اور تعلیمی بدحالی نے مفتی محفوظ الرحمن الرحمن عثمانی کے نگاہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز طبیعت کو بے چین کردیا اور انہوں نے امام ربانی مولانا قاسم نانوتویؒ کے نقش قدم پر انقلاب کی ابتدا کیلئے تعلیم سے اپنی تحریک کی شروعات کی ۔ان کے پیش نظر صرف ایک جامعہ کا قیام نہیں تھا بلکہ وہ احیائے سنت ، اسلامی تہذیب و تمدن کی توسیع اور آزادی و خود مختاری کے ساتھ دین کی تبلیغ و ترویج اور سماج و معاشرہ سے گمراہی پر مبنی رسوم و رواج کا خاتمہ اور مسلم معاشرے میں صالح اقدار کا فروغ اور اصلاح معاشرہ کیلئے ایک عظیم مرکز بناناچاہتے تھے۔چناں چہ مرد مجاہد عزم و حوصلہ کا چٹان بن کر مقصد کے حصول میں سرگرداں ہوگیاجب آپ 30سال پیچھے مڑ کر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی جدو جہد، جانفشانی ، قربانی کو دیکھیں گے تو آپ کو انداز ہ ہوگا اگر ضلع سوپول کے مدھوبنی میں عظیم الشان عمارت کے ساتھ بہار کی سب سے بڑی مسجد تعمیر ہوکر ہمارے سامنے ہے تووہ حضرت عثمانی کی قربانی ، محنت ، جانفشانی اور بالغ نظری ، عقل و شعور کی پختہ کاری اور عزائم کی تلاش و خراش کا ثمرہ ہے ۔بقول کسے ’’بستی بسناکھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے‘‘۔
حق و باطل کی معرکہ آرائی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ابد سے ازل تک حق و باطل کے تصادم کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز چراغ مصطفویؐسے شرار بولہبی
حق کے علمبرداروں کو سخت مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے ۔مگرسب سے تکلیف دہ مرحلہ اس وقت پیش آتا ہے جب اپنے جن سے حمایت ، رفاقت اور تعاون کی امیدیں ہوتی ہیں،وہ اچانک مخالف خیمے میں شامل ہوجائیں اور تحریک کو نقصان پہنچانے لگیں تو انسان ٹوٹ جاتا ہے ۔ان سب مشکل مرحلوں سے مفتی عثمانی کو بھی گزرنا پڑا۔گزشتہ تیس سالوں کے دوران سخت سے سخت ترین حالات پیدا ہوئے ،جانی حملے بھی ہوئے ، جھوٹے کیسوں میں پھنسانے کی کوشش کی بھی کی گئی ۔ مخالفت کا ایسا تیزطوفان و آندھی چلی کہ ایک پل یہ لگنے لگا تھا کہ یہ طوفان ہر ایک شئی کواڑا دے گا۔سازش، ہنگامہ آرائیاں، مخالفتوں کا طوفان مولانا عثمانی کی تحمل مزاجی ، بردباری ، ثبات قدمی کے سامنے ٹھہر نہ سکا اور وہ ہرآزمائش وابتلا میں سرخرو ثابت ہوئے اور آج زمانہ داد و تحسین پیش کررہا ہے:
نگاہ بلند،سخن دلنواز ، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کاررواں کیلئے
2008میں شمالی بہار بالخصوص سوپول ضلع میں فتنہ قادیانیت نے پوری قوت کے ساتھ الحاد کی تحریک برپا کی اس وقت اس فتنے کو اقتدار کی سرپرستی حاصل تھی اور جب کسی فتنہ کو اقتدار اور دولت کا ساتھ مل جائے تو فتنہ صرف ایک فتنہ نہیں رہتا ہے بلکہ فتنہ عظیم بن کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔چناں چہ اس وقت ضلع کا ڈی ایم قادیانی تھا اور اس کی سرپرستی میں ہی قادیانیت کام کررہی تھی۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ قادیانیت کو اسرائیل فنڈنگ کرتا ہے اور اس کے پاس مال و زر کی بہتات ہے ۔چناں چہ اس فتنے نے تعلیمی اور معاشی طور پر بدحال افراد کے ایمانوں کا سودا کرنے کیلئے روپے کی بوری کھول دی ۔ فلاحی کاموں کے نام پر اس فتنے نے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان و عقیدے پر شب خون مارنا شروع کردیا ۔اس وقت مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بیرونی ممالک کے دورے پر تھے۔مگر اس فتنے کے پائوں پھیلانے کی خبر ملتے ہی وہ اپنی تمام سرگرمیاں ترک کرکے ناموس رسالت کے تحفظ اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کیلئے سرگرم ہوگئے ۔چوں کہ اس فتنے کو اقتدار و دولت کی سرپرستی حاصل تھی اس لیے قادیانیوں نے مفتی عثمانی اس راہ سے ہٹانے کیلئے ہرطرح کے حربے آزمائے ، جان سے مارنے سے لے کر گرفتار کرنے تک کی دھمکیاں دی گئیں مگر جب معاملہ ناموس رسالت کا آجائے ہرطرح کے خوف ، دھمکیاں ، مشکل ترین حالات ایک طرف اور عقیدہ ختم نبوت کا جذبہ و حوصلہ اور مرمٹنے کی تمنا ایک طرف ہوجاتی ہے ۔چناں چہ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے مدرسہ کے اساتذہ کے ساتھ مل کر اس فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ کفر و الحاد کا فتنہ ان کے عزم و استقلال کے سامنے دم توڑدیا اور حکومت قادیانی ڈی ایم کا تبادلہ کرنے پر مجبور ہوگئی اور جولوگ اس فتنے میں مبتلا ہوگئے اور ڈی ایم کے حرص و طمع کا شکار بن گئے تھے دوبارہ انھیں داخل اسلام کیا گیا ۔ فتنے قادیانیت کی ہمیشہ ہمیش کیلئے سرکوبی کیلئے صرف ضلع سوپول میں ہی نہیں بلکہ سیمانچل ، مونگیر اور بہار کے کئی اور مختلف اضلاع میں ختم نبوت کی تحریک زور دار اور اثرانگیز چلائی گئی ۔نوجوان علما کی تربیت کیلئے دارالعلوم دیوبند ، مظاہرعلوم سہارن پور اور دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنوکے اکابر علما کی نگرانی میں مختلف کیمپوں کا انعقاد کیا جس میں سیکڑوں مقامی علما نے شرکت کی اور پھر ان کے ذریعہ پورے علاقے میں تحریک ختم نبوت برپا کیا گیا اور یہ تحریک اس قدر کامیاب ہوئی اب شاید یہ فتنہ اس علاقے میں سراٹھانے کی کوشش کرے گی۔قادیانیت مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی تحریک سے اس قدر تنگ اور مجبور ہوگئے تھے کہ اس کا انداز ہ مجھے بھی ذاتی طور پر کلکتہ میں اس طرح ہواکہ میں اس زمانے میں روزنامہ راشٹریہ سہارا کلکتہ سے وابستہ تھا۔بہار کے صفحے پر ہم لوگ تحریک ختم نبوت کی خبر یں شایع کررہے تھے۔کلکتہ میں موجود قادیانیوں کا ایک گروپ ان خبروں سے پریشان تھا۔ان کا ایک وفدراشٹر سہارا کولکاتا کے دفتر سہارا سدن میں آیا اور اخبار پر جانبدار ی کا الزام عاید کرتے ہوئے ’’قایانیوں کے وضاحتی بیان کو شایع ‘‘ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وفد نے ان کے وضاحتی بیانا ت شایع نہیں کرنے کی صورت میں مقدمے کی دھمکی دی ۔مگر ہم لوگوں نے ان کے وضاحتی بیان کو شایع نہیں کیا اور ان کی جانب سے وکیل نے نوٹس بھی بھیجا ۔اس موقع پر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے ختم نبوت کے عنوان سے درجنوں کتابیں مرتب کرکے شایع کرائیں جو تحریک ختم نبوت سے وابستہ افراد کیلئے پیش قیمتی تحفہ ہے ۔مستقبل کا مورخ اگر ہندوستان میں ختم نبوت کی تحریک کا ذکرکرے گا اور اس میں مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی جدو جہد، قربانی اور ان کی تحریک کا ذکر کرنے سے چوک گیا تو وہ تاریخ نامکمل کہلائے گی ۔
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر وتیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی خدمات کا دائرہ مدرسہ تک ہی محدود نہیں ہے ، بلکہ وقت اور ضرورت کے لحاظ سے عوام کے درمیان جاکر اصلاح معاشرہ کی کوشش ،صالح اقدارکی ترویج اور ضلالت و گمراہی پر مبنی رسم و روج کے خلاف پوری اولوالعزمی کے ساتھ آواز بلند کرنا ، غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی جرأت انہوں نے کی ہے۔یہ بات کہنے کی نہیں ہے مگر سچائی یہی ہے کہ آج ہم جس معاشرہ میں رہتے ہیں وہ دو رخا پن کا شکار ہے ، مسجد کے منبر و محراب سے باطل عقائد ، جہالت و گمراہی پر مبنی رسم و رواج کے خلاف لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں مگر جب وقت آتاہے اس کے خلاف کھڑے ہونے اور اصلاح کرنے کی تو مصلحت اور مدرسہ کے مفادات سامنے آجاتے ہیں اور حق سے چشم پوشی کرلی جاتی ہے مگر معاملہ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے یہاں برعکس ہے وہ کبھی بھی حق کی آواز بلند کرنے اور سچائی کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز نہیں کرتے ہیں ۔ان کی نظریہ وہی ہے جسے کئی سال قبل فیض احمد فیض نے اس طرح بیان کیا تھا۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زبان اب تک تیری ہے
بول کہ تھوڑا وقت بہت ہے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
ہندوستان کثیر مذہبی و لسانی اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کا ملک ہے ۔مگر کثرت میں وحدت ، اتحاد و یگانگی، رواداری، اورکنگا و جمنی تہذیب اس ملک کی بنیاد میں شامل ہے۔مگر حالیہ برسوں میں ملک کی اس وحدت و سالمیت کو ختم کرنے اور فرقہ واریت کو پھیلانے کی مہم تیز ہوگئی ہیں اور افسوس ناک پہلویہ ہے کہ اس طبقے کو اقتدار پر قابض افراد کی سرپرستی حاصل رہی ہے ۔ان قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ملک کے سیکولر و جمہوری اقدار ، اتحاد و سالمیت کی مضبوطی کیلئے جدو جہد کیا جائے اور براداران وطن کے درمیان پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کے ازالے کی بھر پور کوشش کی جائے اور یہ ملک اور مسلمانوں کے مفادات میں بھی ہے ۔چناں چہ اس حقیقت کا ادارک مفتی عثمانی نے کئی سال قبل ہی کرلیا تھا اور انہوں نے ’’پیام انسانیت ‘‘ کے عنوان سے شمالی بہار کے سیمانچل میں خصوصی مہم چلائی اور علاقے کے سرکردہ براداران وطن کو مدرسہ کے پروگراموں میں مدعو کرکے اسلام کی سچائی ، پاکبازی اور امن کے پیغام سے روش ناس کرایا ۔ مفتی محفوظ الرحمن کی دعوت پر ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی مدرسہ پہنچے اور مفتی عثمانی کی خدمات کا اعتراف کیا ۔
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی خدمات کے ذکر کے ساتھ ماہنامہ معارف قاسم کا ذکر نہ کیا جائے یہ تحریر نامکمل رہے گی ۔اول یہ کہ معارف قاسم سے میرا بھی جذباتی تعلق ہے ۔میں نے معارف قاسم کی ادارت ایک ایسے وقت میں سنبھالی تھی جب میں میدان تحریرمیں نوآز مود تھا۔اس لایق ہرگز نہیں تھا کہ کسی شمارے کی ادارت سنبھالوں مگرنئی نسل کی تربیت ، حوصلہ افزائی اور آگے بڑھنے کے مواقع دینا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی ایسی خاصیت ہے کہ وہ اس معاملے میں وہ اپنے معاصرین سے ممتاز ہیں ۔جید عالم دین، شہنشاہ خطابت ، ادیب و انشاء پرداز سیکڑوں نہیں لاکھوں کی تعداد میں مل جائیں گے مگر ایسے افراد بہت ہی کم ملتے ہیں جو اپنے چھوٹوں پر ذرہ نوازی کرتے ہیں ، ان کیلئے راہ ہموار کرتے ہیں اور آگے بڑھنے کیلئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔معارف قاسم بھی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے وابستہ ہوکر کئی نوآزمود آج دنیائے صحافت میں اپنی شخصیت کو تسلیم کراچکے ہیں ۔اگر میں آج اس حقیقت کااعتراف نہ کروں یہ بہت بڑی نا انصافی ہوگی کہ معارف قاسم کی ادارت میری صحافتی زندگی کیلئے سنگ میل کی حیثیت ہے ۔معارف قاسم کی دوسری خاصیت خصوصی شماروں کی اشاعت ہے جن کی تعداد تقریباایک درجن کے قریب پہنچ چکی ہے ۔جن میں سے کئی خصوصی شمارے معرکۃ الآراء کا درجہ حاصل کرلیا ہے ۔ان میں سیرت نبوی ﷺ نمبر، قرآن نمبر، مسلم مسائل نمبر خاص طور پر شامل ہیں ۔ماشاء اللہ اب یہ تمام خصوصی نمبرات ’’مجموعہ قاسم ‘‘ کی شکل میں کئی جلدوں میں منظر عام پر آرہی ہے ۔امید ہے کہ نئی نسل سے اس سے استفادہ ضروری کرے گی اور علمی دنیا کیلئے یہ پیش قیمتی تحفہ ثابت ہوگا ۔بہت سی باتیں تھیں جو میں ضبط تحریر میں لانا چاہتا تھا ۔مگر صفحات کی قلت پیش نظر ہے ۔پھر کبھی مو قع ملاتو قلم اٹھانے کو اپنی سعادت سمجھوں گا۔
مفتی عثمانی کی سادگی، للہیت ، ثبات قدمی ، جہد مسلسل ، عمل پیہم ، شاہین کی پرواز ، بلندآہنگی، اعلیٰ اخلاقی، نرمی و بانکپن، فکر و نظر کی بلندی، روشن بینی ، جہاں بانی ،تحمل مزاجی، مروت ، رواداری اور سخت کوشی کاگزشتہ پندرہ سالوں سے مشاہدہ اورتجربہ کرنے کے بعد علامہ اقبال ؒ کے یہ اشعار خود بخود ذہن میں آجاتے ہیں:
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کاتارا
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
اگر ہو جنگ تو شیران غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزالِ تاتاری!
خدا نے اس کو دیا ہے شکوہ سلطانی
کہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کراری!
نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کْلاہی کو
یہ بے کلاہ ہے سرمایہ کلہ داری