عزیزؔ بگھروی کی غزل گوئی

Mumtaz ahmad khan

ڈاکٹر ممتاز احمد خاں
باغملی، حاجی پور، (ویشالی)

رابطہ: 9852083803

عزیزؔ بگھروی کی شاعری کے تین مجموعے ”جہاد حرف“، ”ناموسِ قلم“ اور ”حرمتِ فن“ منظر عام پر آچکے ہیں ۔ انھوں نے اپنے مخصوص فکر اور اسلوبِ فن سے جدید اردو شاعری میں اپنا منفرد مقام بنالیا ہے۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، گرچہ انھوں نے بعض اچھی نظمیں اور خوب صورت قطعات بھی لکھے ہیں۔ ان کا ترانہ کافی مشہور و مقبول ہوچکا ہے اور اس ترانے کے بند ہزاروں جوانوں کے دلوں میں ایمانی حرارت اور اسلامی اولوالعزمی کے جذبات پیدا کرچکے ہیں۔ اس کے متعدد بند زبان زدِ خاص و عام ہوکر ہماری فکر اور جذبات کا حصہ ہوچکے ہیں۔ یہ سعادت کم فن کاروں کو نصیب ہوتی ہے۔ ترانہ کے چند بند ملاحظہ ہوں ؎
ہم دینِ محمدؐ کے وفادار سپاہی
اللہ کے انصار و مددگار سپاہی
اسلام کی عظمت کے نگہہ دار سپاہی
باطل کی خدائی کو گوارا نہ کریں گے
مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے
خوشنودیئ رب مقصدِ ہستی ہے ہمارا
قرآن ہی دستورِ اساسی ہے ہمارا
قائد بھی محمدؐ سا مثالی ہے ہمارا
اب ہم کسی رہبر کی تمنا نہ کریں گے
مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے
پیغامِ سکوں راحتِ جاں لے کے اُٹھیں ہیں
اِک سوزِ یقیں عزمِ جواں لے کے اٹھیں ہیں
ہم جذبہئ تعمیرِ جہاں لے کے اُٹھیں ہیں
سنگینیِ حالات کی پروا نہ کریں گے
مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے
ذہنوں سے ہر اِک نقشِ کدورت کو مٹاکر
تفریق کے بھڑکے ہوئے شعلوں کو بجھا کر
دم لیں گے ہم انسان کو انساں سے ملاکر
آباد پھر اُجڑا ہوا کاشانہ کریں گے
مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے
اِک موسمِ گُل رنگِ بہاراں ہے نظر میں
اِک نورِ سحر جلوہئ تاباں ہے نظر میں
تاریخ کا اِک عہدِ درخشاں ہے نظر میں
ہم سنگِ درِ وقت پہ سجدہ نہ کریں گے
مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے
عزیزؔ بگھروی کی شاعری اب اس منزل پر پہنچ چکی ہے جہاں حکمت و بصیرت اور فکر و خیال کی بلندی، زبان و بیان کے حسن اور لفظوں کی جادوگری سے ہم آمیز ہوجاتی ہے۔ عزیزؔ بگھروی کی شاعری ہماری صالح اور صحت مند ادبی روایات سے مربوط اور تہذیبی تمول سے مالا مال ہے۔ وہ حالیؔ، اکبرؔ اور اقبالؔ جیسے شاعروں کی بنائی ہوئی راہ پر نہایت دلجمعی اور استواری سے گامزن ہیں۔ انھوں نے اعلیٰ افکار و خیالات اور صالح اقدار سے اپنا رشتہ مضبوط باندھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اپنی تمام انفرادیت و جدت کے باوجود راہِ اعتدال سے منحرف نہیں ہوتی۔
عزیزؔ بگھروی اپنے تہذیبی سرمایے اور فکری اثاثے کو ہر حال میں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ اپنی شخصیت اور اپنی تہذیبی روایات سے منقطع ہوکر کوئی فن کار اپنے کمالِ فن کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ اس لیے ان کی شاعری میں ان کے عقائد و نظریات، ان کی آرزوؤں اور اُمنگوں، خوابوں اور خیالوں کا عکس نظر آتا ہے۔
عزیزؔ بگھروی کی شاعری سرمایہ و محنت کے موضوعات میں محدود نہیں ہے۔ وہ فرد کی تنہائی و بے چہرگی، خوفِ مرگ اور زندگی کی بے معنویت کو بھی اپنے فن کا حصہ نہیں بناتے۔ وہ گل و بلبل کے مضامین سے بھی دامن کش رہتے ہیں۔ وہ کسی معشوقِ فتنہ گر کے حسن و جمال اور عشوہ و ادا کا ذکر نہیں کرتے اور نہ کسی محبوبِ مجازی کے عشق و فراق میں اپنی کیفیت دل بیان کرتے ہیں۔ ان کی شاعری زندگی کے اہم و سنجیدہ مسئلوں اور سنگین حقیقتوں سے سروکار رکھتی ہے۔ ہوش و خرد اور متانت و شائستگی ان کے فن کے اجزائے خاص ہیں۔ وہ تفکر و تعقل کی بلند سطح سے تفنن و تلذّذ کی پست سطح پر کبھی نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں وہ چٹخارہ نہیں مل سکتا جو حسرتؔ موہانی اور فراقؔ وغیرہ کے یہاں ملتاہے۔
عزیزؔ بگھروی ایک جابر و ظالم قوت سے نبردآزما ہیں۔ اس لیے ان کا تحریکی اور انقلابی لب و لہجہ ان کو ترقی پسندوں سے قریب کردیتا ہے۔ جب ایک اسلامی فکر کا شاعر اور ایک اشتراکی فکر کا شاعر اپنے مقابل قوت سے ٹکراتا ہے تو دونوں کا انداز اور لب و لہجہ تقریباً ایک جیسا ہوجاتا ہے۔ عزیزؔ بگھروی کے مندرجہ ذیل اشعار ترقی پسند شاعروں کے اشعار سے مماثلت اختیار کرلیتے ہیں ؎
ساتھیو! تیز کرو شمعِ یقیں کی لَو کو
تیرگی لرزہ بر اندام نظر آتی ہے
ہتھیلی پر جو سر لے کے نکل آئے ہیں میداں میں
دلوں میں ان کے اب اندیشہ قاتل تو کیا ہوگا
مردانِ حق نگر کی نظر میں تمام ہیچ
زنجیر کیا، صلیب کیا، زندان و دار کیا
باندھ کر سر سے کفن میداں میں آجاتے ہیں پھر
سہتے سہتے ظلم جب مجبور ہوجاتے ہیں لوگ
راستہ مقتل و زنداں سے گزرتا ہے مرا
زندہ رہنے کی تو عادت ہے مجھے مر مر کے
ابھی تو اور بھی آئیں گے جاں باز
صلیب و دار کو گل نار کرنے
کفن بر دوش دیوانے چلے ہیں
طوافِ کوچہ دل دار کرنے
لیکن عزیزؔ بگھروی کے مندرجہ ذیل اشعار ان کو ترقی پسندوں اور جدیدیوں سے الگ کردیتے ہیں اور ایسے اشعار کی ان کے یہاں بہتات ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
محور مری حیات کا یہ زندگی نہیں
اس زندگی سے مجھ کو ہیں دلچسپیاں ضرور
نبیوں کا راستہ ہے صداقت کا راستہ
یہ راہ جو چلے گا ستایا بھی جائے گا
جذبہ  صبر و قناعت، خوئے تسلیم و رِضا
اعلیٰ ظرفوں کی یہ باتیں دنیا داروں میں کہاں
دل کسی کے لیے، سر کسی کے لیے
بدنما داغ ہے زندگی کے لیے
دنیا عزیزؔ مجھ سے بس اس لیے خفا ہے
میں ربِّ دو جہاں کی تکبیر چاہتا ہوں
اَن گنت خداؤں کی دل نوازیاں منظور
اِک خدائے واحد کی بندگی نہیں ہوتی
جسم تک ہے بس نفاست کی نمائش کا ہنر
روح کی پاکیزگی تزئین کاروں میں کہاں
یہ اشعار ترقی پسندوں اور جدیدیوں کے افکار و خیالات سے میل نہیں کھاتے اس لیے کہ ان اشعار میں اسلامی فکر و عقاید کی پرچھائیاں صاف لہراتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ ان اشعار اور ان جیسے اشعار میں جن حقائق و معارف اور اسرار و افکار کی گونج ہے، وہ عزیزؔ بگھروی کے دیگر اشعار کو بھی ایک مخصوص آہنگ اور واضح معنوی سمت عطا کرتی ہے۔ اس لیے کہ یہ تمام اشعار ایک ہی منبعِ نور سے کسبِ ضیا کرتے ہیں۔ عزیزؔ بگھروی کے خیالات میں پراگندگی، انتشار اور نراج کی کیفیت نہیں پائی جاتی۔ ان کی شاعری ایک ہی محور پر گردش کرتی ہے۔
عزیزؔ بگھروی شاعر و فن کار کے منصب و مقام سے خوب واقف ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ شاعر بھی ایک متکلم ہوتا ہے، اس لیے اسے اپنی ایک حیثیت متعین کرلینی چاہیے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنا موقف (Stand) بار بار تبدیل کرے۔ ایک شاعر اگر ایسا کرے گا تو اس کی دانشوری مشکوک اور اس کی حیثیت متزلزل ہوجائے گی اور وہ تھالی کا بیگن یا بے پیندے کا لوٹا تو ہوسکتا ہے مگر ایک سنجیدہ اور ذمہ دار شاعر و فن کار نہیں ہوسکتا۔ اس بات کا احساس عزیزؔ بگھروی کو بھی ہے کہ وہ اگر گم گشتگی اور آوارہ خیالی سے محفوظ ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک مضبوط عقیدے سے بندھے ہوئے ہیں ؎
گم گشتگی سے ہم رہے محفوظ اس لیے
اِک نقطہ نظر تھا ہماری اُڑان کا
عزیزؔ بگھروی اپنے تخیل کے سہارے اونچی اُڑانیں بھرتے ہیں اور نئے نئے آسمانوں کی سیر کرتے ہیں لیکن وہ مخصوص و مضبوط عقیدہ و نظریہ سے رشتہ استوار رکھتے ہیں۔ وہ اپنے اشعار سے خود اپنی تردید نہیں کرتے بلکہ ان کے تمام اشعار فکر کی ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی معلوم ہوتے ہیں اور ہر موتی خوب صورت اور جاذب و منفرد ہونے کے باوجود لڑی سے منسلک و مربوط ہوتا ہے اور ہارکا حصہ نظر آتا ہے۔
عزیزؔ بگھروی کی شاعری کی نمایاں ترین صفت طنطنہ اور شان و شکوہ ہے۔ ان کی شاعری میں ایک عجیب کج کلاہی اور طمطراق پایا جاتا ہے۔ اس میں مایوسی، شکست خوردگی، ہزیمت و پست حوصلگی، نااُمیدی اور یاس و قنوط کا گزر نہیں۔ ان کے یہاں ولولہ خیز اور نشاط انگیز اشعار و افکار قدم قدم پر ملتے ہیں۔ حزن و ملال، غم و اندوہ، سینہ کوبی و مرثیہ خوانی ان کے مزاج سے میل نہیں کھاتی۔ وہ کہتے ہیں ؎
مسلک مرا خوشی ہے، مسرت مرا چلن
اپنا مزاج ملتا نہیں غم پرست سے
عزیزؔ بگھروی کی شاعری کا لب و لہجہ مرادانہ ہے۔ وہ اپنی کج کلاہی، بے باکی و بے خوفی سے دست بردار نہیں ہوتے۔ وہ ظلم کے کارندوں اور ظلمت کے طرف داروں پر تابڑتوڑ طنز کے تیر برساتے ہیں۔ وہ اقتدار کے بھوکے، ابنُ الوقت و زرپرست سیاست دانوں کو بطورِ خاص ہدفِ ملامت بناتے ہیں ؎
اہلِ وطن کے غم میں تڑپتے ہیں کس قدر
دل چسپیاں ہیں جن کی فقط تخت و تاج سے
جھوٹ بھی کھل کے نہ بولیں گے سیاست والے
اور صداقت کا بھی اظہار نہ ہونے دیں گے
کھیل ہے ان کا ریاکاری، ہنر مکر و فریب
احترامِ عہد و پیماں شہر یاروں میں کہاں
عزیزؔ بگھروی ”ستم گروں“ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔ وہ مرعوب و خوف زدہ نہیں ہوتے۔ اپنے ہم سفروں اور ہم خیالوں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ ظالموں او رجبر و جَور کے علم برداروں سے آنکھیں ملاکر بات کریں۔ ان سے گرگرا کر فقیروں اور گداگروں کی طرح عزت و عافیت کی بھیک نہ مانگیں ؎
شکووں سے خود سری کا فسوں ٹوٹتا نہیں
آنکھیں ستم گروں سے ملانے کی فکر کر
جب وہ باطل کے کارندوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو ان کے اشعار میں للکار، مبارزت طلبی اور چیلنج کا انداز پیدا ہوجاتا ہے ؎
معیارِ صداقت پہ اسے تول کر دیکھو
حق بات تمھاری ہے کہ حق بات ہماری
نظر جھکا کے نہ الزام دو مجھے یارو
اگر ہے دم تو نظر سے نظر ملاؤ نا
وہ باطل کی دھمکیوں اور طاقت سے ڈرنے والے نہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی حق کا پرچم بلند کرنے کا عزم کرچکے ہیں۔ وہ دعوت و تبلیغ اور درس و تدریس کی محفلیں منعقد کرتے رہیں گے اور حق کی نشر و اشاعت کا کام جاری رکھیں گے۔ انہیں دار و رسن اور زنداں و سلاسل کی پروا نہیں، اس لیے کہ حرفِ حق کے جرم میں انبیائے کرام اور علمائے دین کو ابتلا و آزمائش سے گزرنا پڑا ہے ؎
اُٹھتے ہیں تو اُٹھّیں طوفاں، گرتی ہے تو برق کرے
بستی بستی ہم بھی کریں گے محفل برپا تیرے نام
نبیوں کا راستہ ہے صداقت کا راستہ
یہ راہ جو چلے گا ستایا بھی جائے گا
اور کبھی دنیا کی چمک دمک انھیں اپنی طرف ملتفت کرتی ہے تو وہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہیں اور اپنے دل کو سمجھاتے ہیں۔ ایثار و قربانی، سرفروشی و شہادت کا سبق یاد کرتے ہیں اور اپنے ہم فکر و ہم خیال ساتھیوں کو بھی ثابت قدمی و استقلال کی تلقین کرتے ہیں ؎
چل سکے تو پھر اسی سمت شکن رستے پہ چل
ورنہ اسے دل! زندگی کی بات کرنا چھوڑ دے
قافلہئ حق میں جب سست روی، انتشار اور بے دلی پیدا ہونے لگتی ہے تو وہ متردد و مضطرب ہوجاتے ہیں۔ اپنے ہم سفروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ جائزہ تو لیں کہ ان کے قافلے میں اہلِ ہوس اور منافقین تو نہیں گھس آئے ؎
منتشر ہونے لگا نظمِ محبت یارو
کوچہ شوق میں کیا اہلِ ہوَس در آئے
وہ اپنے ساتھیوں اور راہِ حق کے رہ نوردوں کی ہمت بندھاتے ہیں کہ اب ظلمت و تیرگی کا دَور ختم ہونے والا ہے۔ اب نفاذِ حق کی کوششیں تیز تر کردینے کی ضرورت ہے ؎
ساتھیو! تیز کرو شمعِ یقیں کی لَو کو
تیرگی لرزہ بر اندام نظر آتی ہے
اور راہِ شوق کے رہ نوردوں کو خبردار و آگاہ کرتے ہیں کہ وہ کرگسوں سے راہ و رسم نہ رکھیں ورنہ بزدلی و کم ہمتی ان میں بھی پیدا ہوجائے گی۔ نیز سرفروشی اور جہد و عمل کا شعلہ سرد ہوجائے گا اور دنیا کے اسبابِ آسائش انہیں راہِ حق سے منحرف کردیں گے ؎
سرد پڑ جائے گا شعلہ سرفروشی کا تری
بزدلوں کی انجمن میں آنا جانا چھوڑ دے
وہ تمام آنے والوں کو بھی متنبہ کرتے ہیں کہ راہِ حق کی جانب بہت سوچ سمجھ کر آئیں کہ یہ کانٹوں سے بھری ہوئی راہ ہے۔ اس راہ پر چلنے والوں کو سماج کی مخالفت و مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؎
مقتلِ عشق ہے یہ، کوچہ و بازار نہیں
جو یہاں آئے بہت سوچ سمجھ کر آئے
سوچ لیں خون کے دریا سے گزرنا ہوگا
مری آواز میں آواز ملانے والے
اور جب اس راہ پر آنے والے آجائیں تو پھر جمیعت و جماعت کی اہمیت کو سمجھیں اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں ؎
زندگی بردوش ہے دریا میں قطرے کا وجود
موت اُس قطرے کو آتی ہے جو دریا چھوڑ دے
اور راہِ حق کے مسافروں کو عزیزؔ بگھروی مشورہ بھی دیتے ہیں کہ غلبہ حق کے لیے حکمت و دانش اور فہم و فراست کا توشہ ساتھ لے کر چلیں۔ صرف شوقِ فراواں اور جذباتِ بے پایاں سے کام نہیں چلے گا۔ جذبہئ عشق اور جاں نثاری کی تڑپ کے ساتھ ساتھ حکمت و دانش سے مرتب کردہ خاکے اور منصوبے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ خیر کا غلبہ اور شر کا استیصال اسی طرح ممکن ہے۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے اور دعا کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے ؎
خلافِ حکمت و دانش ہے بے توشہ سفر کرنا
خلوصِ جذبہ دل کو تو ہشیاری نہیں کہتے
دعا میں بھی اثر ہوتا ہے لیکن
وسائل کے بنا کیا کام ہوگا
ہوائے وقت بہت تیز ہے، سنبھل کے چلو
ذرا سی لغزشِ پا بھی بڑی سزا دے گی
اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ باطل کے پاؤں اُکھڑنے ہی والے ہیں تو وہ اپنے ہم سفروں کی سست روی پر تبصرہ کرتے ہیں اور تیز گامی کی تلقین کرتے ہیں۔ عزیزؔ بگھروی اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ معرکہ سر کرنے کے لیے عملی جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے راہِ حق پر چلنے والوں کو اپنی عملی کوششوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ صرف سوچنے، فکر کرنے اور فلسفیانہ تقریر اور عالمانہ گفتگو سے منزلِ مقصود تک نہیں پہنچا جاسکتا ہے ؎
سنبھل سنبھل کے چلیں رہروانِ شوق مگر
خرامِ ناز کو تھوڑا سا تیز گام کریں
طے یوں تو شبِ غم کا سفر ہو نہیں سکتا
سوچوں سے کوئی معرکہ سر ہو نہیں سکتا
عزیزؔ بگھروی اپنی دعوت و تبلیغ کے کام کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ وہ پوری عمر جس مضبوطی سے اسلامی افکار و اقدار کی حمایت اور علم برداری کرتے رہے، اس بات پر انہیں اطمینان و فخر ہے۔ وہ اپنے ہم مسلک و ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ نیکی، خداترسی اور امن و سلامتی کا پیغام پھیلاتے رہے ہیں، اور یہ معمولی کام نہیں ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف وہم و گمان اور جہالت و بے حسی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، وہ آگہی کی قندیل روشن کیے ہوئے ہیں۔ ان کی مندرجہ ذیل غزل انہیں افکار و جذبات سے معمور ہے۔ یقین و اعتماد اور افتخار و انبساط کی کیفیت سے پوری غزل مملو ہے۔ منتخب اشعار ملاحظہ ہوں ؎
ہم پرچمِ حیات اٹھائے ہوئے تو ہیں
آنکھیں ستم گروں سے ملائے ہوئے تو ہیں
ہر چند زخم زخم ہیں یہ رہروانِ شوق
کانٹوں سے پیرہن کو سجائے ہوئے تو ہیں
بے چہرہ ہو کے رہ گئے فن کار آج کے
ہم اپنا ایک نقش بنائے ہوئے تو ہیں
ہوں کامیابِ شوق کہ اب نامرادِ شوق
بازی سروں کی اپنے لگائے ہوئے تو ہیں
ظلمت کدے میں وہم و گماں کے عزیزؔ ہم
قندیل آگہی کی جلائے ہوئے تو ہیں
عزیزؔ بگھروی قافلہ شوق کے نمایندہ و نقیب بن کر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا اور سماج کو کس روپ میں دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں، وہ کیسا معاشرہ اور کیسے افراد چاہتے ہیں۔ افراد اور معاشرے کو کن صفات سے مزین اور کن اصولوں پر کاربند دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سب بہ ظاہر کھردری، بے رس اور خشک باتیں ہیں جنھیں وہ شاعری و نغمگی، ایمائیت و رمزیت، استعارہ و کنایہ کا لباس پہنا دیتے ہیں۔ یہ انتہائی مشکل فن ہے، یہ جوئے شیر لانے کا ہنر ہے۔ لب و رخسار، زلف و کاکل کے ذکر سے کلام میں چاشنی و لطافت پیدا کرنا نہایت سہل کام ہے۔ لیکن زندگی کے سنجیدہ و متین اور بظاہر خشک اور بے رس موضوعات کو قالبِ شعر میں ڈھالنا بہت دشوار اور کٹھن ہے۔ یہ غزل ملاحظہ فرمائیے جو تغزل و ترنم کی عمدہ مثال ہے ؎
بے قید زندگی پر تعزیر چاہتا ہوں
ہر پائے بوالہوس میں زنجیر چاہتا ہوں
دل تیرگی کا مرکز آنکھیں ہیں شب گزیدہ
ظلمت کدوں میں جشنِ تنویر چاہتا ہوں
سب کچھ لٹا دیا ہے جس آرزو کی خاطر
اس خواب کی میں اپنے تعبیر چاہتا ہوں
سچ بولنے کی میں نے پھر ڈال دی روایت
اب شہر شہر اس کی تشہیر چاہتا ہوں
خم جو سروں کو کردے جو جیت لے دلوں کو
وہ تیغ چاہتا ہوں وہ تیر چاہتا ہوں
اِک چاند بن کے چمکے جو وقت کی جبیں پر
تیرہ شبی میں ایسی تحریر چاہتا ہوں
دنیا عزیزؔ مجھ سے بس اس لیے خفا ہے
میں ربِّ دو جہاں کی تکبیر چاہتا ہوں
عزیزؔ بگھروی جانتے ہیں کہ ان کی کوششوں کے اچھے اثرات دنیا میں باقی رہیں گے۔ ان کے افکار، اشعار اور ان کے چھوڑے ہوئے نقشہ ہائے کار آنے والی نسلوں کی رہنمائی کریں گے اور ان کے ناقہ شوق کو مہمیز کریں گے۔ ان کی کوششیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کی مندرجہ ذیل غزل ان احساسات کا اظہارِ مسلسل ہوکر قاری کو عجیب سرمستی و سرشاری، رجائیت و بشارت کی کیفیت سے ہم کنار کرتی ہے۔ غزل ملاحظہ ہو ؎
زخموں کے پھول، داغِ جگر چھوڑ جاؤں گا
دامن میں زندگی کے گہر چھوڑ جاؤں گا
لے جاؤں گا بچا کے دلِ خود نگر کو مَیں
اہلِ ستم کے واسطے سر چھوڑ جاؤں گا
روشن ہر ایک موڑ پہ کر جاؤں گا چراغ
تابندہ زندگی کا سفر چھور جاؤں گا
اُلفت سے کرکے خون کے پیاسوں کو شرمسار
لڑنے کا دشمنوں سے ہنر چھوڑ جاؤں گا
دیدہ وروں کی راہ نمائی کے واسطے
آیاتِ حسنِ فکر و نظر چھوڑ جاؤں گا
رگ رگ میں ان کی رقص کرے گی حیاتِ نو
بے حوصلوں میں ذوقِ سفر چھوڑ جاؤں گا
دنیا سنے گی میرے ترانوں کی بازگشت
میں جاؤں گا تو اپنا اثر چھوڑ جاؤں گا
اے انقلابِ نو! میں چمن میں ترے لیے
شایانِ شان راہ گزر چھوڑ جاؤں گا
عزیزؔ بگھروی کی شاعری غزلوں کی بھیڑ میں گم نہیں ہوتی۔ ان کی غزل اپنی منفرد شناخت قائم کرتی ہے۔ ان کے اشعار اپنے مخصوص زاویے، منفرد اندازِ فکر اور جداگانہ طرزِ گفتار کے سبب اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ ان کا ہمہمہ، طنطنہ اور طنزیہ لہجہ ان کے تقریباً تمام اشعار میں پایا جاتا ہے ؎
قتل کرکے وہ مجھے میرا طرف دار بنا
میرا قاتل میرا ہم دم، میرا غم خوار بنا
قہر ٹوٹا نہ گری برق نہ پتھر آئے
آج شدت سے ہمیں یاد ستم گر آئے
لَو دے گا زخم زخم تو چمکے گا دا غ داغ
روشن حقیقتوں کو چھپایا نہ جائے گا
ممکن ہے عزیزؔ بگھروی کی شاعری میں بعض ناقدوں کو رِعایت ِ لفظی کا وہ اہتمام استعاروں کی وہ فراوانی اور پیکر تراشی کا وہ انداز نظر نہ آئے جو بعض دوسرے شاعروں کے یہاں ملتا ہے۔ لیکن اشاریت و ایمائیت اور رمز و کنایہ کے اعتبار سے عزیزؔ بگھروی کے ا شعار کی دل آویزی، تازگی و تہہ داری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بعض اشعار تو ضرب المثل کی طرح استعمال کیے جانے کی صلاحیت و صفت رکھتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اشعار اپنی تازہ کاری اور ندرتِ اسلوب کے اعتبار سے اردو میں بہت زمانے تک بھلائے نہیں جاسکتے ؎
دامن بھی سلامت ہے گریباں بھی سلامت
وحشت کا ہم انداز پرانا نہیں رکھتے
ہے کجی جس نگاہ میں اس کو
ہر کوئی کج ادا سا لگتا ہے
اِک روش پر کون ٹھہرا ہے یہاں
سب بدل جاتے ہیں موسم کی طرح
سنبھل سنبھل کے چلیں رہ روانِ شوق مگر
خرامِ ناز کو تھوڑا سا تیز گام کریں
طے یوں تو شبِ غم کا سفر ہو نہیں سکتا
سوچوں سے کوئی معرکہ سر ہو نہیں سکتا
مانگے کی روشنی تو کوئی روشنی نہیں
اپنا بھی تو چراغ جلانے کی فکر کر
معیارِ صداقت پہ اسے تول کے دیکھو
حق بات ہماری ہے کہ حق بات تمہاری
ساتھیو! تیز کرو شمعِ یقیں کی لَو کو
تیرگی لرزہ بر اندام نظر آتی ہے
عزیزؔ بگھروی اپنے خاص اندازِ فکر اور اسلوبِ شاعری پر مطمئن و مفتخر ہیں۔ ان کے زمانہ شباب میں ترقی پسندی کا عروج تھا۔ پھر جدیدیت کی آندھی بھی چلی لیکن وہ اپنی روشِ خاص پر نہایت ثابت قدمی سے چلتے رہے۔ انھوں نے شاعری کو اعلیٰ معیار پر تول کر پیش کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے اشعار فن اور تہذیب کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے، اس لیے انھوں نے مواد اور اسلوب دونوں کی عمدگی اور نفاست کا خیال رکھا ہے ؎
کہیے غزل عزیزؔ مگر یہ رہے خیال
اِک ایک شعر آپ کا تولا بھی جائے گا
اس اہتمام کے سبب اور ایک عمر کی ریاضت اور مشقِ سخن کے نتیجے میں عزیزؔ بگھروی کی شاعری میں زبان کی صفائی، بندش کی چستی، محاوروں کی صحت، جذبات کا خلوص اور موضوعات کی متانت قدم قدم پر متوجہ کرتی ہے۔ ان کا کلام بہ قولِ خود شعور و ہوش سے بھرپور ہوتا ہے۔ وہ بازاری قسم کے مبتذل مضامین سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان کے اشعار ان کے واردات قلبی کے آئینہ دار ہیں۔ مستعار خیال اور مانگے کے اسلوب سے وہ اپنا نگار خانہئ فن نہیں سجاتے ؎
شعور و ہوش سے بھرپور ہوتا ہے کلام اُس کا
عزیزِؔ بگھروی اشعارِ بازاری نہیں کہتے
مانگے کے ہیں خیال نہ انداز مستعار
فن میرا میرے کرب کا عکاس کچھ تو ہے
عزیزؔ بگھروی کا فن ان کی شخصیت اور ان کے سچے احساسات و جذبات کے پرتو سے جگمگاتا ہے۔ صداقت اور سچائی کو وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ شہرت، عزت، دولت کسی کی خاطر وہ اپنے قلم کا سودا نہیں کرسکتے۔ ان کی شخصیت کی اسی ”اکڑ“، ”انانیت“، خودداری اور عزتِ نفس کے احساس نے انہیں سچی آواز کا مغنی و مبلغ بنا دیا ہے۔ وہ دوسرے شاعروں، ادیبوں اور فن کاروں کو بھی اپنے قلم کی حفاظت کرنے کی نصیحت کرتے ہیں ؎
ناموسِ قلم، فکرِ گہر بار نہ بیچو
اے دیدہ ورو! غیرتِ فن کار نہ بیچو
کہنے دو عزیزؔ اس کو جو کہتا ہے زمانہ
تم اپنا لب و لہجۂ اشعار نہ بیچو

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*