عظیم پریم جی سے نفرت؟!-ایم ودود ساجد

آپ عظیم پریم جی کو ضرور جانتے ہوں گے۔۔ وہ ہندوستان کے سب سے بڑے انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی گروپ آف کمپنیز ’وپرو‘ (VIPRO) کے بانی ہیں۔اس کمپنی کے دیگر شرکاء (Partners) میں ان کی والدہ‘ اہلیہ اور ان کے بیٹے شامل ہیں۔ان کی کمپنی کا ٹرن اوور 613 بلین ہندوستانی روپیہ ہے جبکہ خود عظیم پریم جی 8 بلین امریکی ڈالر کے مالک ہیں۔ عظیم پریم جی ہندوستان کے مخیر افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔2020 میں ہندوستان کے عطیہ دہندگان کی جو فہرست تیار ہوئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ عظیم پریم جی نے اس مالی سال میں 7904 کروڑ روپیہ مختلف مدوں میں عطیہ دیا ہے۔۔ یعنی انہوں نے غریبوں اور ضرورتمندوں کے تعاون کیلئے ہر روز 22 کروڑ روپیہ خرچ کئے ہیں۔۔ یہ 1125 کروڑ کی اس رقم کے علاوہ ہے جو انہوں نے اپریل 2020 میں کورونا سے لڑنے کیلئے وزیر اعظم کے فنڈ میں دئے تھے۔

آج عظیم پریم جی کا ذکر کیوں آیا۔یہ ایک بڑا دلچسپ مگر افسوس ناک واقعہ ہے۔ آج تامل ناڈو کے چینئی میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ’انڈیا اویک فار ٹرانسپیرینسی کمپنی‘ کو سپریم کورٹ نے خوب لعن طعن کی اور عظیم پریم جی‘ ان کی اہلیہ اور ان کے ڈائریکٹر سری نواسن اور ان کی بیوی کو راحت دی۔۔واضح رہے کہ پچھلے دنوں عظیم پریم جی نے اپنی تین کمپنیوں کے تمام اثاثے اپنے مرحوم والد کے نام پر ایک ٹرسٹ بناکر اس میں منتقل کردئے تھے۔

مذکورہ بالا تنظیم IAT کی ڈائریکٹر سری متی آدی سیشن اور راجندر کمار نے گزشتہ 27 جنوری کو عظیم پریم جی، ان کی اہلیہ اور ان کے ڈائریکٹر اور اس کی بیوی کے خلاف بنگلور کی ایڈیشنل سٹی سول اینڈ سیشن کورٹ میں ایک شکایت کی کہ انہوں نے اپنی تین کمپنیوں کے تمام اثاثے ایک ٹرسٹ کو منتقل کرکے غیر قانونی اور مستوجب سزا کام کیا ہے۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ ان تینوں کمپنیوں کے اثاثے یکجا کرکے ان پر عظیم پریم جی‘ان کی اہلیہ‘ان کے ڈائریکٹر اور اس کی بیوی کو ڈائریکٹر بناکر غلبہ دیدیا گیا ہے۔اس پر عدالت نے عظیم پریم جی کے خلاف 409, 34, 120B, 13(1)(d) 13(2) میں مقدمہ قائم کرکے انہیں سمن جاری کردیا۔شکایت کنندہ نے یہ بھی کہا تھا کہ مذکورہ افراد ان تینوں کمپنیوں کے مالک نہیں تھے بلکہ از راہ خلوص انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ لیکن اب انہوں نے ان کمپنیوں کے اثاثوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

عظیم پریم جی کی کمپنی نے بنگلور کی مقامی عدالت کے اس سمن کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔۔ ہائی کورٹ نے کمپنیوں کے انضمام کو تو جائز ٹھہرایا لیکن ان کی اس اپیل کو کہ مجرمانہ مقدمہ کالعدم کردیا جائے رواں سال کے مئی میں خارج کردیا۔یعنی انہیں بنگلور کی مقامی عدالت کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا۔۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وپرو کمپنی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ آج وپرو کے وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے بحث کی ابتدا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عجیب وغریب معاملہ ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ عظیم پریم جی گروپ کی تین کمپنیوں کو‘جو خالصتاً عظیم پریم جی اور ان کی والدہ کی ملکیت ہیں‘ عظیم پریم جی گروپ کے ایک ٹرسٹ ’حشم‘میں ضم کردیا گیا۔سوال یہ ہے کہ اس میں کیا غیر قانونی ہے اور شکایت کنندہ کو کیوں اعتراض ہے؟

سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس سری کرشن کول نے کہا کہ میں نے معاملہ کی تلخیص پڑھی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تینوں کمپنیوں کو یکجا کرنے کے علاوہ‘ جس کو ہائی کورٹ نے تسلیم کیا ہے‘ کیا کوئی اور مواد بھی ہے اور یہ کہ شکایت کنندہ کے الزامات کمپنیوں کے انضمام کی اسکیم کے دائرہ کے اندر ہیں یا اس سے باہر ہیں؟ وپرو کے وکیل منو سنگھوی نے جواب دیا کہ الزامات انضمام کی اسکیم کے دائرہ کے اندر ہیں۔اس پر سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ اور حکومت کرناٹک کو نوٹس جاری کردئے۔۔ منوسنگھوی نے عدالت کو توجہ دلائی کہ کل 19دسمبر بروز پیر عظیم پریم جی وغیرہ کو بنگلور کی مقامی عدالت میں بہ نفس نفیس پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔اس پر جسٹس کول نے وضاحت کی کہ مقامی عدالت کی کارروائی پر بھی فی الحال روک لگادی گئی ہے۔

شکایت کنندہ کا وکیل اس پر جز بز ہوگیا اور اسے غصہ آگیا۔اس نے بنچ سے کہا کہ ابھشیک منو سنگھوی غلط کہہ رہے ہیں اور عظیم پریم جی‘ ان کی والدہ یا دوسرے دو افراد کا ان کمپنیوں میں کوئی شیئر تک نہیں ہے۔اس پر بنچ کے سربراہ جسٹس ایس کے کول کو بھی غصہ آگیا۔انہوں نے سوال کیا کہ تمہارا ان کمپنیوں کے لین دین اور مالی معاملات سے کیا لینا دینا؟ کیا تم ان کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہو؟۔اس سوال پر شکایت کنندہ کے وکیل کے ہوش اڑ گئے۔عظیم پریم جی کے دوسرے وکیل مکل روہتاگی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حضور شکایت کنندہ کی تنظیم کا عظیم پریم جی کی کمپنیوں کے مالی لین دین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔اس تنظیم نے 39 کمپنیوں کے خلاف 27 تنازعات (مقدمات) کھڑے کر رکھے ہیں۔منو سنگھوی نے عدالت سے استدعا کی کہ شکایت کنندہ کو سنا ہی نہ جائے۔اس پر جسٹس کول نے کہا کہ ”یقیناً سننے کیلئے کچھ ہے ہی نہیں“۔

عظیم پریم جی کے بارے میں وقفہ وقفہ سے خبریں آتی رہتی ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ وہ پارسی ہیں‘کوئی کہتا ہے کہ وہ بوہرہ ہیں۔کبھی کبھی انہیں مسلمان بھی سمجھ لیا جاتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ عظیم پریم جی گجرات کے ایک مسلم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔۔عظیم پریم جی کی اہلیہ کا نام یاسمین اور ان کے دو بیٹوں کے نام رشاد اور طارق ہیں۔ عظیم پریم جی 24 جولائی 1945 کو ممبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد محمدحشم پریم جی بھی ایک بڑے تاجر تھے۔انہیں Rice King of Burma کہاجاتا تھا۔۔تقسیم وطن کے بعد ان کے دوست‘ بانی پاکستان محمد علی جناح نے انہیں پاکستان منتقل ہوجانے کی دعوت دی تھی لیکن عظیم پریم جی کے والد نے اس دعوت کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا تھا کہ جس ملک میں پیدا ہوا ہوں اسی ملک کی مٹی میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔

محمدحشم پریم جی کی روح کو بھی خبر نہ ہوگی کہ ان کے بعد ان کے نام پر قائم ہونے والے فلاحی ٹرسٹ پر ایسے لوگوں کو اعتراض ہوگا کہ جن کا اس کمپنی یا اس ٹرسٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔ عظیم پریم جی کوئی غیر معروف انسان نہیں ہیں۔ ان کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے بھی نہیں ہے۔وہ بظاہر کسی مذہبی سرگرمی سے بھی وابستہ نہیں ہیں۔وہ بلا امتیاز ضرورتمندوں کی مدد کرتے ہیں۔کورونا سے لڑنے کے لئے وزیر اعظم کو سب سے بڑا عطیہ انہوں نے ہی دیا ہے۔عطیہ دہندگان کی فہرست میں ان کا نام سب سے اوپر ہے اور ریلائنس‘ٹاٹا‘برلا اور بجاج جیسی درجنوں بڑی کمپنیاں بھی ان سے بہت نیچے اور پیچھے ہیں۔۔۔۔ ایسے میں ایک غیر معروف سی تنظیم کی شکایت پر بنگلور کی عدالت کا انہیں سمن جاری کردینا اور پھر کرناٹک ہائی کورٹ کا انہیں کوئی راحت دینے سے انکار کردینا ذہن میں کتنے ہی وسوسے پیدا کرتا ہے۔اگر اس ملک میں سپریم کورٹ نہ ہوتا اورملک کی مختلف عدالتوں میں کچھ اچھے جج نہ ہوتے تو عظیم پریم جی جیسے مخیر افراد کا جینابھی کتنا مشکل ہوجاتا؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*