عظیم داعیہ ڈاکٹر ہاجہ مہرون سراج کی رحلت ـ مجتبی فاروق

ڈاکٹر ہاجہ مہرون سراج انسانی حقوق کی پاسبان، ماہر قانون اور داعیہ تھیں ۔ان کاتعلق ملیشیا سےتھا ۔انھوں نے سنگاپور سے L.L.M کیا اور اس کے بعد لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیذ سے ماسٹرس اور پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے مالیا کے ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنا شروع کیا لیکن انہیں اکیڈمکس سے دلچسپی تھیں اور اسی ذوق کو پروان چڑھانے کے لیے درس و تدریس کاشعبہ اختیار کیا ۔
ڈاکٹر مہرون انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا کے لا کالج میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں ۔اس کے علاوہ آپ مختلف اکیڈمک اداروں اور تحقییقی جرنلز کی رکن تھیں۔درجنوں بین الاقوامی کانفرنسوں میں مہمان مقرر کی حیثیت سے حصہ لیا ۔تحقیق و تصنیف سے بھی دلچسپی تھی اور کئی اہم معاصرمسائل اور ایشوز پر کتابیں اور مقالات لکھے ۔انھوں نے کئی اہم ایشوز پر اسلامی قانون کا پہلو اجاگر کیا ہے جو کہ ان کا منفرد کام ہے ۔ان کے دو علمی پروجکٹس Legal Effect of Conversion to Islam اور
Human Rights in Malysia -Women and Religion
کافی مشہور ہیں ۔
ڈاکٹر مہرون بنیادی طور پر ایک اسلامی فکر کی نمائندہ اسکالر اور ماہر قانون تھیں۔انھوں نے انسانی حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی اور ہر وقت انسانی حقوق کے لیے اہم کرار ادا کرتی رہیں ۔نیز AIDS کے خلاف بھی وہ محوِجدوجہد رہتی تھیں ۔انہیں ملیشیا میں ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی سطح پر قدر کی نگاہ سےدیکھا جاتا تھا ۔
ڈاکٹر مہرون نے اسلامی نظریات اور دینی اقدار کو اپنے کرئیر میں ہمیشہ مقدم رکھا اورکبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔ڈاکٹر مہرون کو قرآن مجید سے بے پناہ لگاٶ تھا اور اسی لیے ان کے افکار میں قرآنی فکر کی نمائندگی ہوتی تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ قرآن ہمارا دستور اور قانون ہے اور یہ ہمارے لیے ہمارے رب کا بھیجا ہوا کلام ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے ۔قرآن کے بارے میں وہ کہتی ہیں ۔
“The Quran is the anchor that prevents the ship of society from being buffeted by the winds of change in human behaviour resulting from a refusal to obey God’s prescriptions for human conduct”.
وہ کہتی ہیں کہ ہم قرآن مجید کی آیات سے ہرگز بھی روگردانی نہیں کر سکتے ہیں، اس بنیاد پر کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے تعلق سے یہ یہ باتیں کہی گئی ہیں اس لیے ہمیں بھی ان ہی باتوں پر غور کرنا چاہیے ۔ڈاکٹر مہرون بچوں کی پرورش اور ان کے مذہبی حقوق کے تعلق سے بھی گہرائی سے غور وفکر کرتی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ جو مرد کتابیہ عورت سے شادی کر لیتاہے اور جب ان میں علاحدگی ہوجاتی ہے تب قانون یہ حق دیتا ہے کہ بچے ماں کی پرورش میں رہیں گے لیکن جب ماں اہل کتاب سے سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ ان بچوں کو اپنے مذہب کے مطابق لے کے چلیں گی جو کہ بچوں کے ساتھ صحیح معاملہ یا رویہ نہیں ہے اور اولاد ہی ایک ایسی نعمت ہے جو افکار ونظریات اور دینی تہذیب کی روایات کی حفاظت کرتی ہے ۔مسلم علما کو سنجیدگی سے اس مسئلہ پر مزیدغور کرنا چاہیے ۔
ڈاکٹر مہرون کے انتقال سے اسلامک وومن اکٹیوزم کا کافی نقصان ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ۔آمین