اذان پر پابندی کا تنازعہ-معصوم مرادآبادی

الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی کے غازی پور، ہاتھرس اور فرخ آباد کے کلکٹروں کا وہ حکم خارج کردیا ہے، جس میں انھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران مسجدوں سے اذان پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی لاؤڈ اسپیکر کے بغیر مسجدوں میں اذان کی اجازت دے دی گئی ہے۔ جسٹس ششی کانت گپتا اور اجیت کمار کی بنچ نے رکن پارلیمان افضال انصاری اور دیگر کی عرضیوں پر گذشتہ سنیچر کو سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ”مسجدوں میں اذان سے کووڈ۔19سے وابستہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔“
ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ”اذان،اسلام کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن لاؤڈ اسپیکر یا مائکروفون کو اس کا حصہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ دستور کی دفعہ25 کے تحت دئیے گئے بنیادی حقوق کے دائرے میں نہیں بلکہ دستور کے باب 3 کے ضابطوں کے تحت آتا ہے، جس میں رات10 بجے سے صبح 6 بجے تک لاؤڈاسپیکر کے استعمال کے لئے انتظامیہ کی اجازت لینا ضروری ہے۔“ عدالت نے بغیر لاؤڈاسپیکر کے مسجدوں میں اذان کی اجازت دے دی ہے۔ جن مسجدوں میں لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان کی اجازت حاصل ہے، وہ بدستور جاری رہے گی۔
یہ خبر ان لوگوں کے لئے یقینا مایوس کن ہے جو لاک ڈاؤن کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف مسلسل اپنی نفرت اور بیز اری کا اظہار کررہے تھے۔ حالانکہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں بہت سی بندشیں اٹھالی گئی ہیں اور زندگی معمول کی طرف واپس آرہی ہے، لیکن لاک ڈاؤن کا یہ عرصہ سماج کے ایک بڑے طبقے کے لئے ناقابل یقین پریشانیوں کا رہا ہے۔ اس نے جہاں ایک طرف کروڑوں مزدوروں کی زندگی کو اجیرن بنایا ہے تو وہیں دوسری طرف اس دوران سماج کے ان طبقوں سے انتقام لینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے، جو حکمراں جماعت کے لوگوں کو ایک آ نکھ نہیں بھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سرگرم فسطائی طاقتوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں مسلمانوں کو قدم قدم پر نشانہ بنایا ہے۔یہاں تک کہ انھیں ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کا مجرم گردان کر ان پر عر صہ حیات تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اس بے ہودہ اور شرمناک مہم میں جہاں گودی میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے تو وہیں سرکاری مشینری میں بیٹھے ہوئے ان لوگوں کی ’بھومیکا‘ بھی کچھ کم نہیں ہے جو مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور ایسے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس میں وہ اپنی اس نفرت اور عداوت کا اظہار کرسکیں۔
کورونا وائرس کی اس عالمی وبا سے نپٹنے کے لئے جہاں پوری دنیا تن دہی کے ساتھ اپنے انسانی فرائض کی ادائیگی میں مشغول تھی تو وہیں ہمارے ملک میں اس خطرناک اور جان لیوا وائرس کے ساتھ فرقہ وارانہ منافرت کا وائرس بھی پوری شدت کے ساتھ اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ رمضان شروع ہونے سے چند روز پہلے دہلی کے پریم نگر علاقہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت تیزی کے ساتھ وائرل ہوئی جس میں دہلی پولیس کے کانسٹبل ایک مسجد کے موذن کو دھمکاتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ اگر اس نے مسجد سے اذان دی تو اسے اٹھاکر لے جائیں گے۔ موذن بے چارہ خوف کے عالم میں انھیں دیکھ رہا ہے، تبھی مسجد کے سامنے والے مکان سے ایک مسلم خاتون پوری جرات کے ساتھ ان پولیس والوں سے مخاطب ہوتی ہے کہ ”وہ کس قانون کے تحت اذان پر پابندی لگارہے ہیں۔ مسجد تو پہلے ہی بند ہے اور اگر رمضان کے مہینے میں اذان بھی نہیں ہوگی تو انھیں سحر وافطار کے اوقات کا کیسے پتہ چلے گا۔“ اس پر پولیس والے لیفٹیننٹ گورنر کے کسی حکم کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس واقعہ کی ویڈیو بہت تیزی کے ساتھ عام ہوئی اورمسلمانوں میں اس کا شدید ردعمل ہوا۔ چوطرفہ گھیرا بندی کے بعددہلی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر اپنے دفاع میں یہ دلیل دیتے ہوئے سامنے آئے کہ”لاک ڈاؤن کے دوران مسجدوں میں نماز پر پابندی ہے، اذان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پولیس والے دراصل نماز کو منع کرنے گئے تھے، لیکن غلطی سے انھوں نے اذان سمجھ لیا۔“ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دہلی پولیس جسے ملک میں سب سے زیادہ ’پروفیشنل‘ سمجھا جاتا ہے، اسے اذان اور نماز کے درمیان فرق بھی نہیں معلوم۔ دہلی پولیس کا یہ رد عمل درحقیقت ’عذر گناہ بدتر ازگناہ‘ کے ذیل میں آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لیپا پوتی کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ دراصل دہلی میں تبلیغی مرکز کے واقعہ کے بعد مسلمانوں کو نفسیاتی دباؤ میں لینے کی جو کوشش کی گئی تھی، اس میں فرقہ پرست طاقتوں، گودی میڈیا اور حکومت کی متعصب مشینری کے درمیان ایک گٹھ جوڑموجود تھا۔
دہلی کے واقعہ کے بعد پڑوسی ریاست اتر پردیش سے یہ خبریں آنے لگیں کہ رمضان کے دوران کئی شہروں میں اذان پر ضلع انتظامیہ پا بندیاں لگارہا ہے۔ تشویش ناک بات یہ تھی کہ یہ پابندی زبانی طورپر لگائی جارہی تھی اور اس سلسلہ میں قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے کوئی سرکاری حکم جاری نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن کچھ ضلع مجسٹریٹ اس معاملہ میں زیادہ ہی اکڑفوں دکھارہے تھے تاکہ یوگی جی کی ڈانٹ سے محفوظ رہ سکیں۔ ان اضلاع میں غازی پور، ہاتھرس اور فرخ آباد کے ڈی ایم صاحبان کا کردار خاصا ’گمبھیر‘تھا، جنھیں عدالت عالیہ نے ہدایات جاری کرتے ہوئے یاددلایا ہے کہ یہ ملک دستور کا پابند ہے، کسی کی دھونس اور زبردستی کا نہیں۔دستور نے اس ملک کی اقلیتوں کو دفعہ25 میں جو مذہبی آزادی فراہم کی ہے، اس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی اور کوئی بھی اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کرسکتا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یوگی انتظامیہ نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے سے کیا سبق حاصل کیا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اب ان مسجدوں سے اذانوں کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں،جہاں انتظامیہ نے پابندیاں عائد کی تھیں۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ملک کے کسی حصے میں اذان پر پہرے بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے قبل بھی کئی سطحوں پر یہ کوششیں ہوچکی ہیں۔ لوگوں نے انفرادی سطح پر بھی مختلف عنوانات کے تحت اذان کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ آ پ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال گلوکار سونو نگم نےفجر کی اذان کے خلاف ایک ایسا بیان دیا تھا، جس میں انھیں اپنا دفاع کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ سونو نگم اس وقت لاک ڈاؤن کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے شہردبئی میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں انھیں اپنے اس بیان کی وجہ سے خاصی دقتوں کا سامنا کرناپڑا ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ دوسال قبل جب ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جی جب متحدہ عرب امارات کے سفر پر گئے تھے تو انھیں ابوظہبی کی وہ عالیشان مسجد بھی دکھائی گئی تھی جو اپنے طرز تعمیر کے لحاظ سے دنیا کی جدید ترین اور انتہائی خوبصورت مسجدوں میں شمار ہوتی ہے۔ وزیر اعظم شاید اپنی زندگی میں پہلی بارکسی مسجد میں داخل ہوئے تھے اور اس کی کافی تشہیر بھی ہوئی تھی ۔
کئی برس قبل جب راقم الحروف نے ابو ظہبی کے سفر میں مسجد کو دیکھا تھا تو اس کی جس خوبی نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا تھا، وہ اس کی اذان کا غیرمعمولی نظام تھا۔اس مسجد میں پنج وقتہ نمازوں کے لئے جو اذان دی جاتی ہے، اسے سیٹیلائٹ کی مدد سے ابوظہبی کی تمام مسجدوں سے جوڑ دیا گیا ہے اور پورے ابو ظہبی شہر کی مسجدوں کے میناروں سے ایک ہی آواز میں اذان گونجتی ہے۔یہ شاید دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ ہے۔
اب آخر میں اذان سے متعلق کناڈا سے آئی ایک اچھی خبر کا تذکرہ۔ کناڈا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث ملک بھر کی مساجد میں لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں کو ماہ رمضان میں بذریعہ لاؤڈ اسپیکر اذان دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ایسا کناڈا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مساجد کے باہر لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی آواز سنائی دے رہی ہے اور لوگ اپنے گھروں میں اذان کی آواز براہ راست سن کر افطار کررہے ہیں۔ خاص طور پر کناڈا کے شہر ایڈمنٹن کی ایک مسجد لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 1938میں ہوئی تھی، لیکن یہاں کبھی لاؤڈ اسپیکر سے اذان کی آواز نہیں سنی گئی۔ واضح رہے کہ ایڈمنٹن سمیت کناڈا کے تمام شہروں میں صوتی آلودگی روکنے کے قوانین کے تحت لاؤڈ اسپیکر پر اذان ممنوع ہے۔ لاؤڈاسپیکر پر اذان کا تجربہ کورونا وائرس کی اس وبا میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کے لئے بھی خوشگوار ثابت ہورہا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ اذان کے وقت مسجدوں کے باہر اپنے بچوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تاکہ وہ اس تاریخی لمحے کے گواہ بن سکیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*