اذان پر الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ-نثار مصباحی

حالیہ برسوں میں کورٹس کے کچھ فیصلوں میں ایک عجیب رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ فلاں چیز اسلام کا حصہ/لازمی حصہ نہیں، لہذا اس پر پابندی لگائی جاتی ہےـ کئی معاملات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اسی بنیاد پر کورٹ اسلامی چیزوں پر مکمل پابندی لگا دیتی ہے یا محدود کر دیتی ہے، تازہ مثال آج کا الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ "اذان اسلام کا حصہ ہو سکتی ہے،لیکن لاؤڈ اسپیکر سے اذان اسلام کا حصہ نہیں ہے”!! اور اسی بنیاد پر پہلے سے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا اجازت نامہ نہ رکھنے والی مسجدوں میں لاؤڈاسپیکر سے اذان کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا، جن مسجدوں کو پہلے سے اجازت ہے وہ بھی صوتی آلودگی کے قوانین کے مطابق ہی لاؤڈ اسپیکر استعمال کر سکتی ہیں!
کورٹ کے فیصلے کا ماحصل یہ ہے کہ :
بغیر لاؤد اسپیکر کے اذان اسلام کا لازمی جز اور دستورِ ہند کی دفعہ 25 کے ذریعے دیا گیا بنیادی حق ہے، اسے نہیں روکا جا سکتاـ
لاؤد اسپیکر سے اذان اسلام کا لازمی حصہ نہیں،اس لیے صوتی آلودگی قوانین کے مطابق اس پر فیصلہ کیا جائے گا اور بغیر پرمیشن کے کہیں بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ممنوع رہے گاـ
رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صوتی آلودگی قوانین کے پیشِ نظر حسبِ سابق ممنوع رہے گا،کیوں کہ نیند بنیادی انسانی حق ہے جس میں خلل ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں ـ
جس مسجد کو لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی تحریری اجازت پہلے سے حاصل نہیں ہے وہاں لاؤڈ اسپیکر سے اذان غیر قانونی ہے، یہ کورٹ اس کی تصویب نہیں کرسکتی،ہاں بغیر لاؤڈ اسپیکر کے میناروں پر سے اذان دی جا سکتی ہےـ
اپیل کنندہ افضال انصاری(ممبر آف پارلیمنٹ) نے اپنی اپیل میں کورٹ سے کہا تھا کہ غازی پور کے ضلع مجسٹریٹ نے کورونا لاک ڈاؤن کے نام پر اپنے زبانی حکم سے مسجدوں میں اذان پر پابندی لگا دی ہے، یہ مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، انھوں نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ پرانے دور کا معاملہ الگ تھا، اب آبادیاں بڑی اور پھیلی ہونے کی وجہ سے لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکر سے اذان ضروری ہےـ
غازی پور کے علاوہ ہاتھرس اور فرخ آباد ضلعوں کے ضلع مجسٹریٹ نے بھی زبانی حکم سے مسجدوں میں اذان پر پابندی لگا دی تھی، کورٹ نے تینوں مقامات کے معاملے پر ایک ساتھ سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہےـ کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کورونا گائڈ لائن کے بہانے اذان پڑھنے سے نہیں روکا جا سکتا ہےـ مؤذن لاؤڈ اسپیکر یا کسی دوسرے آلے کے بغیر اذان دےسکتا ہےـ
اپیل کنندگان کی طرف سے سید صفدر علی کاظمی وغیرہ وکیل تھے، جب کہ حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گویل نے بحث کی،منیش گویل نے حکومتی موقف کورٹ کے سامنے رکھتے ہوئے ان ضلعی افسران کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ اذان سے لوگوں کے مسجدوں میں جمع ہونے اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کا خطرہ ہے (اس لیے مذکورہ ضلعی افسران کا فیصلہ درست ہے) اس پر سید صفدر علی کاظمی نے اعتراض کیا اور کہا کہ جب سے لاک ڈاؤن نافذ ہوا ہے تب سے کہیں بھی کسی مسجد میں اس کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے، کورٹ نے منیش گویل کی دلیل کو تسلیم نہیں کیاـ
حاصل یہ کہ جن مسجدوں کو متعلقہ اتھارٹی سے تحریری اجازت حاصل نہیں ہے وہاں لاؤڈ اسپیکر سے اذان غیر قانونی قرار دی گئی ہے اور جنھیں اجازت حاصل ہے وہاں کوئی روک نہیں ہےـ
مگر زمینی سطح کا یہ طرفہ تماشا بھی دیکھنے لائق ہے کہ ایک طرف مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگائی جارہی ہے تو دوسری جانب لاک ڈاؤن میں بھی مندروں میں بلاناغہ لاؤڈ اسپیکر سے بھجن کیرتن جاری ہیں، متعدد تہواروں، سیاسی ہنگامہ آرائیوں اور بہت سے دوسرے مواقع پر لاؤڈ اسپیکر کا بےمحابا استعمال مسلسل ہوتا ہے لیکن اِن معاملات میں ضلع انتظامیہ،متعلقہ اتھارٹی اور کورٹس کو نہ تو لاؤڈ اسپیکر کی آواز سنائی دیتی ہے اور نہ یہاں وہاں آویزاں لاؤڈ اسپیکر نظر آتے ہیں،لے دے کر سب کا نشانہ مساجد کے لاؤڈ اسپیکر ہی بنتے ہیں ـ
ادھر قوم کی شعوری حالت بھی کچھ اچھی نہیں کہی جا سکتی ہے، مساجد کے ذمے دار عموماً ایسے لوگ ہیں جنھیں نہ آج کی کوئی خبر ہے اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ، اگر انھیں آنے والے پرخطر حالات سے آگاہ کیا جائے تو پوری شانِ بےپروائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا، کم و بیش 2 سال قبل جب لاؤڈ اسپیکر سے اذان پر پابندی کی بات آئی تھی تو اس وقت پرمیشن بھی مل رہی تھی، بہت سی مساجد کے ذمے داران نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا تحریری اجازت نامہ اسی وقت حاصل کر لیا تھا، آج کورٹ کا فیصلہ ان مسجدوں کے بارے میں آیا ہے جن کے پاس لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی تحریری اجازت نہیں ہے، آج ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ کتنی مسجدوں کے پاس تحریری اجازت نامے ہیں اور کتنی مسجدوں کے پاس نہیں ہیں ـ
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجدوں کی ذمے داری ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جو دین و دنیا کی سمجھ رکھتے ہوں، قانونی معاملات سے آگاہ رہتے ہوں،موجودہ حالات اور مستقبل کے خطرات کے بارے میں سنجیدہ ہوں، تاکہ مساجد کے تمام قانونی پہلو مضبوط رہیں اور مستقبل کے ممکنہ خطرات سے حفاظت ہوتی رہےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)