اذان کی آوازسے وی سی کوپریشانی

مسجدانتظامیہ نے ازخوداقدامات کیے،لاؤڈ اسپیکر کارخ بدلاگیا،آوازکم کی گئی
الہ آباد:سونونگم کے بعداب ایک وی سی کواذان کی آوازسے پریشانی ہونے لگی ہے۔وسیم رضوی کامعاملہ تھمانہیں تھاکہ نیاشوشہ چھوڑدیاگیاہے۔جس پرملک گیربحث ہوگی ۔اس سے بی جے پی کوالیکشن لڑنے میں مدعوؤں کی کمی نہیں ہوگی اورکسان ،بے روزگاری اورمہنگائی پرعوامی توجہ ہٹانے میں کامیابی ملے گی۔ملک میں فرقہ پرستی اورعدم رواداری کاجوماحول پیداکردیاگیاہے،اس کے اثرات مندرمیں پانے پینے سے لے کراذان تک میں ظاہرہونے لگے ہیں۔اترپردیش کی الہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکرسے اذان کی آوازآنے پر اعتراض کرتے ہوئے ڈی ایم کو ایک خط لکھاہے۔انہوں نے ڈی ایم سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں فوری کارروائی کریں۔ وی سی خط وائرل ہونے اور شہ سرخیوں میں آنے کے بعد ، مسجد انتظامیہ نے دوسری طرف لاؤڈ اسپیکر کا رخ موڑ دیا۔ اس کے علاوہ اس کی آواز بھی کم کردی گئی ہے۔مسجد کمیٹی نے بتایا کہ منارہ پر لاؤڈ اسپیکر کے اسٹینڈ کو الہ آباد یونیورسٹی کی وی سی سنگیتا سریواستوکے گھر کے رخ سے ہٹا دیاگیا ہے۔ دونوں لاؤڈ اسپیکر کو دوسری طرف تبدیل کردیاگیاہے۔مسجد کمیٹی نے بتایا کہ پہلے منارہ میں چار لاؤڈ اسپیکرتھے۔ ضلعی انتظامیہ کی اجازت نہ ہونے پر دو اسپیکروں کوہٹا دیا گیا۔ صرف دو اسپیکر لگائے گئے ہیں۔ وی سی کے اعتراض کے بعد دونوں لاؤڈ اسپیکر کو دوسری طرف گھمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز میں بھی 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اب اذان کی آواز وی سی کے گھر نہیں جائے گی۔الہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر سنگیتا شریواستو نے ڈی ایم کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کے بنگلے کے قریب مسجدمیں اذان ان کی نیند کوپریشان کررہی ہے۔ وی سی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ہر روز صبح تقریباََ 5.30 بجے قریب کی مسجد کے مولوی کی آواز میری نیند کو توڑ دیتی ہے اور پھر میں نہیں سوتی ہوں۔ اس کے نتیجے میں ، مجھے سر درد ہو جاتا ہے اور دن کے کام کو متاثر کرتے ہیں۔لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایاہے کہ مندرکی آوازاورتہواروں میں لگاتاررات بھربجنے والے ڈی جے سے ان کی نیندمتاثرہوتی ہے یانہیں۔ انھو ںنے کہاہے کہ ایک پرانی کہاوت ہے کہ آپ کی آزادی اسی جگہ ختم ہو جاتی ہے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے۔اسی کے ساتھ ہی انہوں نے کہاہے کہ میں کسی مذہب کے خلاف نہیں ہوں ، لیکن اگر لاؤڈ اسپیکر کے بغیر کوئی اذان ہوجائے تو پھر کسی کو بھی دشواری نہیں ہوگی۔ عید سے پہلے صبح 4 بجے مائیک سے سحری کے لیے بھی اعلان ہوگا۔ آئین میں تمام شہریوں کے سیکولر بقائے باہمی کی بات کی گئی ہے۔ اسے مکمل طور پر نافذ کیا جاناچاہیے۔ براہ کرم اس تیز اذان سے دوچار تمام لوگوں کی زندگیوں میں کچھ سکون بحال کریں۔