اعظم خان کو ایک اورجھٹکا، جوہر یونیورسٹی کی اراضی یوپی حکومت کے نام ہوگی

رام پور:اترپردیش کے سابق وزیراورسماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان کوجوہر یونیورسٹی کیس میں ہفتہ کے روز اے ڈی ایم عدالت سے دھچکا لگاہے۔ نوبھارت ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق عدالت نے حکومت اترپردیش کے نام پر جوہر ٹرسٹ کی 70.05 ہیکٹر اراضی کے اندراج کاحکم دیا ہے۔ یہ زمین ابھی بھی اعظم خان کے جوہر ٹرسٹ کے نام پر تھی۔آپ کو بتادیں کہ جوہر یونیورسٹی نے 70 ہیکٹر سے زیادہ اراضی کومبینہ طورپر قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے خریدا تھا جبکہ صرف 12.5 ایکڑ اراضی خریدنے کی اجازت تھی۔ اے ڈی ایم عدالت نے جوہر ٹرسٹ کو قواعد پر عمل نہ کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ سرکاری وکیل اجے تیواری نے کہاہے کہ اب تحصیل کے ریکارڈمیں یہ زمین اعظم خان کے جوہر ٹرسٹ سے کاٹ کر ریاستی حکومت کے نام پر رجسٹرڈ ہوگی۔کہاجاتاہے کہ ایس پی حکومت کے دوران رام پور کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے جوہر ٹرسٹ کے نام پر سیکڑوں بیگھا اراضی پر قبضہ کیا۔ یہ کیس اے ڈی ایم عدالت میں چل رہا تھا۔ یہ الزامات لگے تھے کہ اجازت کی متعددشرائط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔انتظامیہ نے جوہر ٹرسٹ کو الاٹ کی گئی زمین کی جانچ ایس ڈی ایم صدر نے کی۔ یہ الزام ہے کہ ایس پی کے دور حکومت میں جوہر ٹرسٹ کو اراضی دیتے وقت اس شرط پر اسٹامپ ڈیوٹی چھوٹ دی گئی تھی کہ اس زمین پرٹرسٹ کے کام ہوں گے۔