آزادی،تقسیم اور ساورکر-پنکج چودھری

اگر سو ال کیا جائے کہ کیا ملک کی آزادی کے لیے اس کی تقسیم ضروری تھی؟ کیا ساورکر کا کوئی ایسا دخل جنگ آزادی میں تھا کہ تقسیم رُک جاتی؟ اگر اس دور کے حالات، جناح-ساورکر کے فرقہ وارانہ کارڈ اور برطانوی حکومت کی پھوٹ ڈالو پالیسی کو ایک ساتھ رکھیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان کے عوام طویل جدوجہد کے نتائج نہ نکلنے سے مایوس ہورہے تھے اور اگر تب آزادی کو تقسیم کی شرط پر نہیں قبول کیا جاتا تو ملک خوفناک فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں آجاتا اور اس کے بعد جنگ آزادی کمزور ہوجاتی۔ جیل سے لوٹنے کے بعد آزادی کے حصول تک کوئی 27سال کے دوران ساورکر کے ذریعہ برطانوی حکومت کے خلاف کوئی تقریر، تحریک، تحریر وغیرہ دستیاب نہیں ہیں۔ جہاں نہرو- گاندھی- آزاد- سبھاش-پٹیل کی کانگریس آزادی کے بیج عام لوگوں میں بو کر ان کی حوصلہ افزائی کررہی تھی، ساورکر کی ہندومہاسبھا کا ایک بھی احتجاج یا تحریک برطانوی حکومت کے خلاف نہیں رہی ہے۔ اس لیے واضح ہے کہ وہ آزادی کی بات چیت میں کوئی فریق تھے ہی نہیں۔
1935میں انگریزحکومت نے ایک ایکٹ کے ذریعے ہندوستان میں صوبائی اسمبلیوں میں الیکشن کے ذریعے حکومت کو قبول کیا۔ 1937میں الیکشن ہوئے۔ واضح ہو کہ اسی 1937سے 1942تک ساورکر ہندو مہاسبھا کے صدر تھے اور انتخابی نتائج میں ملک کے عوام نے انہیں ہندوؤں کی آواز ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اس میں کل تین کروڑ60لاکھ ووٹر تھے، کل بالغ آبادی کا 30فیصد جنہیں مقننہ کے 1585نمائندے منتخب کرنے تھے۔ اس الیکشن میں مسلمانوں کے لیے سیٹیں محفوظ کی گئی تھیں۔ کانگریس نے عام/جنرل سیٹوں میں کل 1161پر الیکشن لڑا اور 716پر فتح حاصل کی۔ مسلم اکثریتی 482سیٹوں میں سے 56پر کانگریس نے الیکشن لڑا اور 28پر جیت حاصل کی۔ 11میں سے 6صوبوں میں اسے واضح اکثریت ملی۔ ایسا نہیں کہ مسلم سیٹوں پر مسلم لیگ کو کامیابی ملی ہو، اس کی حالت بہت خراب رہی اور کئی مقامی چھوٹی پارٹیاں کانگریس اور لیگ سے کہیں زیادہ کامیاب رہیں۔ٹھیک یہی حالت ساورکر کی ہندو فرقہ پرست پارٹی کی تھی۔ پنجاب میں مسلم سیٹیں 84تھیں اور اسے محض 7سیٹ پر امیدوار مل پائے اور جیتے دو۔ سندھ کی 33مسلم سیٹوں میں سے 3اور بنگال کی 117مسلم سیٹوں میں سے 38 سیٹ ہی لیگ کو ملیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مسلم لیگ کو مسلمان بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے۔ حالاں کہ اس الیکشن میں مسلم لیگ کانگریس کے ساتھ اترپردیش کا الیکشن لڑنا چاہتی تھی لیکن نہرو نے صاف انکار کردیا۔ یہی نہیں، 1938میں نہرو نے کانگریس کے اراکین کی لیگ یا ہندومہاسبھا دونوں کی رکنیت یا ان کی سرگرمیوں میں شامل ہونے پر پابندی عائد کردی۔ 1937کے الیکشن میں ریزرو سیٹوں پر لیگ محض 109سیٹ ہی جیت پائی۔ لیکن 1946کے الیکشن کے اعداد و شمار دیکھیں تو پائیں گے کہ گزشتہ 9برسوں میں مسلم لیگ کا فرقہ وارانہ ایجنڈا کافی تقویت حاصل کرچکا تھا۔ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں کے لیے محفوظ سبھی 60سیٹوں پر جیت گئی۔ قوم پرست مسلمان محض 16سیٹ جیت پائے، جبکہ ہندو مہاسبھا کو صرف دو سیٹیں ملیں۔
ظاہر ہے کہ ہندوؤں کا بڑا طبقہ کانگریس کو اپنی پارٹی سمجھ رہا تھا، جب کہ لیگ نے مسلمانوں میں پہلے سے بہتر جگہ بنالی تھی۔ اگر1946کی ریاست کے اعداد و شمار دیکھیں تو مسلم ریزرو سیٹوں میں آسام میں 1937 میں محض10 سیٹیں جیتنے والی لیگ 31پر، بنگال میں 40سے 113،پنجاب میں ایک سیٹ سے 73، اترپردیش میں 26سے 54پر پہنچ گئی تھی۔ حالاں کہ اس الیکشن میں کانگریس کو 1937کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں ملی تھیں، لیکن لیگ نے اپنی الگ ریاست کے دعوے کو اس انتخابی نتائج سے پختہ کردیا تھا۔
وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اگر نہرو ضد نہیں کرتے اور جناح کو وزیراعظم مان لیتے تو ملک کی تقسیم ٹل سکتی تھی، وہ 1929کے جناح-نہرو معاہدہ کی شرائط کی اس تجویز پر غور کریں،(کیا دیش کا وبھاجن انیواریہ تھا، سرو سیوا سنگھ، صفحہ:145) جس میں جناح کی 9شرائط تھیں، جن میں مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ کی آزادی، وندے ماترم گیت نہ گانے کی چھوٹ اور ترنگے جھنڈے میں لیگ کے جھنڈے کو شامل کرنے کی بات تھی اور اسے نہرو نے بغیر کسی جواز کے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اگر ہندو مہاسبھا کی آزادی کی شرائط پر غور کیا جائے تو وہ بھی تقریباً ایسی ہی تھیں۔
1937کے الیکشن میں اپنے ہی لوگوں کے درمیان ہار سے بوکھلا کر جناح نے کانگریس کابینہ کے خلاف جانچ کمیٹی بھیجنا، الزام لگانا، تحریک چلانا وغیرہ شروع کردیا تھا۔ اس دور میں کانگریس کی پالیسیاں بھی ریاستوں میں الگ-الگ تھیں۔ جیسے کہ متحدہ ریاستوں میں کانگریس زمینی اصلاح کی بڑی تبدیلی کی حامی تھی لیکن پنجاب میں وہ اس مسئلہ پر غیرجانبدار تھی۔ معاملہ صرف زمین کا نہیں تھا، یہ بڑے مسلم زمینداروں کے مفادات کا تھا۔ 1944سے 1947تک ہندوستان کے وائسرائے رہے فیلڈ مارشل اے پی بے ویل کے پاس آزادی کو آخری شکل دینے کا ذمہ تھا اور وہ مسلم لیگ سے نفرت کرتا تھا۔ اس کے پیچھے بھی اسباب تھے- اصل میں جب بھی وہ لیگ سے پاکستان کی شکل میں ملک کا نقشہ چاہتا، وہ اقتدار کا توازن یا نفسیاتی اثرات جیسے جذباتی ایشوز پر تقریر کرنے لگتے، نہ ان کے پاس کوئی جغرافیائی نقشہ تھا نہ ہی اس کی ٹھوس پالیسی۔ ایسے میں انگریز مشترکہ ہندوستان کو آزادی دے کر یہاں اپنی بڑی فوج کا اڈہ برقرار رکھ کر دنیا میں اپنے اثر و رسوخ کی خواہش رکھتے تھے۔ وہ لیگ اور کانگریس کے اختلافات کا بیجا فائدہ اٹھاکر ایسا سسٹم چاہتے تھے، جس میں فوج کے علاوہ پورا اقتدار دونوں پارٹیوں کے ہاتھوں میں ہو۔
9؍اپریل1946کو پاکستان کی تشکیل کی آخری تجویز پاس ہوئی تھی۔ اس کے بعد 16مئی 1946کی تجویز میں ہندو، مسلم اور راجے رجواڑوں کی مشترکہ پارلیمنٹ کی تجویز انگریزوں کی تھی۔ 19 اور 29جولائی 1946کو نہرو نے آئینی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے فوجی بھی اپنے ملک کی ہونے پر زور دیا۔ پھر16؍اگست کا وہ ظالم دن آیا جب جناح نے راست کارروائی کے نام پر خون خرابے کا کھیل کھیل دیا۔ تشدد شدید ہوگیا اور بے ویل کا منصوبہ ناکام رہا۔ تشدد اکتوبر تک چلتا رہا اور ملک میں وسیع پیمانے پر تصادم کے حالات بننے لگے۔ عام لوگ بے چین تھے، وہ روز روز کے مظاہرے، دھرنوں، آزادی کا تصور اور خوابوں کے قریب آکر چھٹکنے سے مایوس تھے اور اسی کے درمیان تقسیم کو بے دلی سے قبول کرنے اور ہر حال میں برطانوی حکومت کو بھگا دینے پر دل مسوس کر اتفاق رائے ہوا۔ حالاں کہ صرف کانگریسی ہی نہیں، بہت سے لیگی بھی یہ مانتے تھے کہ ایک مرتبہ انگریز چلے جائیں پھر دونوں ممالک  ساتھ ہوجائیں گے۔
آزادی کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں مذہبی بنیاد پر نقل مکانی اور گھناؤنا تشدد، لوٹ، خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک، نہ بھول پانے والی نفرت میں تبدیل ہوگیا۔ کھویا دونوں طرف کے لوگوں نے۔ لیکن اس وقت کے حالات پر غور کریں تو کوئی ایک فیصلہ لینا ہی تھا اور آزادی کی جنگ چار دہائیوں سے لڑرہے لوگوں کو اپنے تجربات میں جو بہتر لگا، انہوں نے لے لیا۔ کون گارنٹی دیتا ہے کہ آزادی کے لیے کچھ اور دہائی رکنے یا برطانوی فوج کو بنائے رکھنے کے فیصلے اس سے بھی خوفناک ہوتے۔ کل ملاکر آزادی-تقسیم وغیرہ میں ساورکر کا کوئی کردار تھا تو بس یہ کہ وہ بھی مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے حامی تھے اور ہر قدم پر برطانوی حکومت کے ساتھ تھے؛حالاں کہ وہ خود کو ہندوؤں کا لیڈر بھی ثابت نہیں کرپائے تھے۔

 

(بہ شکریہ روزنامہ سہارا اردو)