ایام ِ تالا بندی میں کتاب بینی-ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

تاریخ کے عجیب و غریب  دو راہے پہ دنیا آج کھڑی ہے۔ کورونا کی پُرآشوبی سے پوری انسانی دنیا جھوجھ رہی ہے ۔ ایک طرف دنیا ظاہری آلودگی سے مسموم ہورہی ہے تو دوسری جانب باطنی آلائش سے بھی دنیا پراگندا ہو چکی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ دونوں آلودگی زمین و آسمان کی بقا کے لیے خطرناک ہے ۔ سماج پہلے ہی سے دونوں سے مقابلہ آرا تھا لیکن اس عالمگیر تعطل نے اسے اس کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے کہ  اس کی دھڑکنوں کی رفتار دھیمی ہو گئی اور سانس بند ہورہی ہے یا وہ ان دونوں آلودگیوں سے آزاد ہو رہا ہے ۔ اس وقت قربانیوں کی علامت مولانا محمد علی جوہر کا وہ مصرعہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے کہ

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

یعنی کامیابی کے ہر ساحل سے پہلے قربانیوں کا دریا عبور کرنا پڑتا ہے ۔ کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ڈسچارج ہو گئی تھی ، ہوا کم اور پانی ختم ہورہا تھا ، ظلم بڑھ اور انصاف کا قتل ہورہا تھا ۔ایسے میں اگر چارجنگ (Charging)کا انتظام نہ ہو تو دنیا کا نظام معطل ہوکر رہ جائے گا۔ اب رہی بات کہ دنیا کے کس ملک اور ملک کے کس سورما کو اتنی جسارت ہوسکتی تھی کہ وہ اس قدر وسیع دنیا کو چارج کرے ؟

کائنات کے پالنہار کو ترس آیا اور اسی کو ترس آبھی سکتا تھا ۔ چناں چہ اس نے چند شہر اور کچھ ممالک ہی نہیں ؛ پوری دنیا ہی کو گھروں میں محبوس کردیا ۔ کورونا کتنا حقیقت اور کتنا فسانہ ہے ؟ اس کا بہتر فیصلہ تو مستقبل ہی کرےگا ؛ تاہم اس کے بہانے بہت سے بدمعاشوں کی بدمعاشیوں اور بہت سے ظالموں کی ناانصافیوں پر قدغن ضرور لگی ہے ۔ تھوڑے دنوں کے لیے ہی سہی لیکن یہ ایک اٹل سچائی  ہے ۔ آسمان اور آسمان کی مانگ پہ سجے سورج و چاند  کو کتنے ہزارے بعد اٹ پٹانگ دیکھنے سے آرام ملا ہوگا اور ان کے  دیدے آسودہ ہوئے  ہوں گے۔ جنگلوں نے بھی چین کا سانس لیا اور ندیوں کو بھی جان میں جان آئی ہوگی ۔ آج ہوا پوری پاکیزگی کے ساتھ لہر رہی  اور شمس و قمر کھل کر ہنس  پارہے ہیں۔

اس تالا بندی کے ذریعے مولیٰ نے جانوں کی کچھ قربانیاں لیں اورکچھ اب بھی  لے رہا ہے لیکن اب تک کی رپورٹ کے حساب سے دنیا لگ بھگ چارج ہو چکی ہے اور امید ہے کہ ایک ڈیڑھ صدی تک یہ چارج چل جائے گا۔

کورونا ئی وبا کی اس مار سے دنیا کا کوئی فرد نہیں بچ سکا ، مار کی نوعیت الگ ہوسکتی ہے ۔ ابتدا میں تو ہر شخص سراسیمہ ، حیران و پریشان اور وحشت زدہ تھا ، تھوڑے دنوں کے لیے تو  لوگوں کی دھڑکنیں تیز اور سانسیں پھولنے لگیں اور وہ خود کو بےیار و مددگار سمجھنے لگا ، لیکن شدہ شدہ خوف روز مرہ کا معمول بن گیا اور حیرت عادت میںنے تبدیل ہوگئی ۔

ابھی چند روز قبل بہار یونیورسٹی مظفر پور میں میرا بطور مہمان استاذ(Guest Teacher) عارضی انتخاب ہوا ، 20 مارچ کو تدریس کے لیے کالج ،ملنے والا تھا کہ لاک ڈاؤن کی آفت آن پڑی ، پھر میں اور میری تنہائی باقی رہ گئے ، گھر میں نظربند ہو گیا ، کچھ دنوں تو تذبذب و اضطراب کا شکار رہا پھر جلد ہی تنہائی کے دوست کو منانے میں کامیابی مل گئی ۔

شورش کاشمیری نے کسی موقعے سے کہا تھا کہ تنہائی کا بہترین دوست کتاب ہے لیکن آج کے زمانے میں تنہائی کے دو دوست ہو چکے ہیں ۔ ایک کتاب دوسرا موبائل ؛ تاہم میرے لیے آج بھی موبائل سے بڑا تنہائی کا دوست کتاب ہی ہے ۔ الحمد للہ میرے غریب خانہ پے ایک چھوٹا سا  میرا کتب خانہ”معینی دار المطالعہ ”  بھی ہے اور ایک چھٹکی سی لائبریری میرے لیپ ٹاپ میں بھی سانس لیتی ہے اور مجھے سانس دیتی بھی ہے ۔ مجھ غریب کے پاس باغ نہ باغیچہ  اور کھیت نہ کھلیان تو مطالعے سے بہتر میرے لیے مشغلہ نہیں ہوسکتا تھا ۔ ان ایام میں مختلف کتابوں کامطالعہ تو کیا اور کچھ تحریریں بھی قلم سے نکلیں لیکن منصوبہ بند طریقے پر کچھ لکھنا پڑھنا میرے  لیے دشوار گزار ہی رہا ۔ ذیل میں وہ کتابیں درج کی جاتی ہیں جو ان دنوں مطالعے سے گزریں :

1-احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن    علامہ سید مناظر احسن گیلانی  (صفحات : 279)

2-کتابیں ہیں چمن اپنا                                   عبد المجید قریشی  (صفحات : 292)

3-رحلۃ الشتاء (سفر نامہ فلسطین )                     پروفیسر راشد نسیم ندوی  (صفحات : 160)

4-رسیدی ٹکٹ (آپ بیتی )               امرتا پریتم  (صفحات : 167)

5-سفر مصر و حجاز                             مولانا منت اللہ رحمانی  (صفحات : 192)

6-بوئے گل ، نالہ دل(آپ بیتی)                      شورش کاشمیری  (صفحات : 539)

”احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن ” علامہ سید مناظر احسن گیلانی کے دیوبند میں گزارے ہوئے حسین لمحات کا خوبصورت مرقع ہے ۔ علامہ نے تعلیم و تدریس کے ڈھائی سال دیوبند میں بیتائے تھے ۔ یوں تو اس کتاب کا اصل موضوع دیوبند ہے لیکن ضمناًدیوبند سے پہلے اور بعد کے زمان و مکان کا  تذکرہ بھی  آگیا ہے ۔ یہ کتاب علامہ کی ایک ادھوری آب بیتی ہے جیسا کہ اس  کے نام ہی سے ظاہر ہے ۔اس کتاب میں دیوبند جانے کے محرکات ، وہاں کی نیرنگیاں ، وہاں کا نظام ِ تعلیم و تدریس ،وہاں کے اساتذہ کے علمی جاہ و جلال کا بیان  ، بطور خاص علامہ انور شاہ کشمیری کا ذکر ِ جمیل ،اپنی قلمی زندگی کے آغاز کا تذکرہ اور اپنے احباب کے طالب علمانہ مشغلوں کے قصے وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے ۔

”کتابیں ہیں چمن اپنا”ایک کتابی کائنات  ہے ۔ بیک وقت  یہ کتاب دنیا بھر میں بسے  اپنے خاندان کی مختلف شاخوں سے  باتیں کراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ آپ بغیر کسی ْ ہرے پھٹکری ٗ کے دنیا کی کئی اہم لائبریریوں کی سیر کر لیتے ہیں اور سینکڑوں ادبا و شعرا اور اہل قلم سے آپ کی بات و ملاقات ہوجاتی ہے ۔ عبد المجید قریشی کو کتابوں سے بے پناہ عشق تھا اور وہ دوسروں کو بھی کتابون کا عاشق بنانا چاہتے تھے ۔ ان کے اسی سچے عشق کی منہ بولتی تصویر یہ کتاب ہے ۔ اس کتاب کو پڑھنے سےآپ کو  کتابوں سے عشق ہو جائے گا۔

”رحلۃ الشتاء ”ارض مقدس فلسطین کا  خوبصورت سفرنامہ ہے ۔ اس کے مصنف پروفیسر سید راشد نسیم ندوی ہیں  جو ایفلو حیدر آباد کے شعبہ عربی سے وابستہ ہیں ۔یہ کتاب اپنے حروف و الفاظ کے ذریعے ہمیں ارض ِ مقدس کا سیر کراتی ہے ۔ اس میں اس کی عظمت ِ رفتہ کا ذکر جمیل بھی ہے اور حال کی پرآشوبی کا بیان بھی ، نہتے فلسطینیوں کی بے بسی اور عزم و حوصلے کی چمک بھی اور اہل عرب کی مجرمانہ خاموشی اور چشم پوشی بھی ۔ اس سفرنامے میں ارض مقدس کی موجودہ صورت ِ حال کی کشمکش بھی ہے اور مسلم حکمرانوں کے لیے چند مفید مشوروں کی پیش کش بھی ۔

”رسیدی ٹکٹ” پنجابی زبان کی عالمگیر شہرت یافتہ شاعرہ اورناول نگارامرتا پریتم کی خود نوشت سوانح ہے۔ یہ ایک ناولانہ طرز کی ایک مختصر آپ بیتی ہے۔ اس میں حالات کم اور مشاہدات زیادہ ہے ۔ امرتا نے بڑے والہانہ انداز میں اپنی داستان ِ عشق رقم کی ہے اور زندگی کی حقیقت اور سراب بڑا خوبصورت تحریری پیرایا عطاکیا ہے۔ تقسیم ہند کے طفیل ہجرت کے کرب سے امرتا کو بھی گزرنا پڑا ، ساحر سے عشق کی ساحری میں تاعمر مبتلا رہی اور اپنی ہر نظم اور ہر ناول کے ذریعے محبت و انسانیت کی خوشبو بکھیرتی رہی ۔ ان ہی تجربات و احساسات کا نمونہ یہ کتاب ہے ۔

” سفر مصر و حجاز” مولانا منت اللہ رحمانی کا اچھوتا سفرنامہ  ہے ۔ اس میں مصر میں منعقد ایک علمی و دینی عالمی کانفرنس کی راداد اور وہاں کی تہذیبی ، مذہبی ، تاریخی اور جغرافیائی حالات کا دل آویز البم ہے ۔ مارچ 1964 کا یہ سفر ہے ، دنیا بھر کے مسلم نمائندوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی ، ہندوستان کی طرف سے قاری محمد طیب قاسمی ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی اور مولانا رحمانی پر سہ رکنی وفد شریک ہوا تھا ۔ مولانا اکبر آبادی پروگرام کے بعد ہندوستان واپس تشریف لے آئے تھے اور یہ دو حضرات وہیں حج کے لیے روانہ ہو گئے تھے ۔ یہ دراصل مصر ہی کے سفر کا مرقع ہے اور حجاز کا بہت مختصر ذکر ہے ۔ مولانا رحمانی نے اس سفر اور کانفرنس جو دیکھا ، سنا اور پرکھا اسی کا بیانیہ یہ کتاب ہے ۔

”بوئے گل ، نالہ دل، دود ِ چراغ ِ محفل ” آغا عبد الکریم شورش کاشمیری کی ضخیم آپ بیتی ہے ۔  یہ کتاب محض  ایک خود نوشت ہی نہیں ہے ؛ تحریک آزادی ہند کی تاریخ کا ایک اہم باب بھی ہے ۔ اس میں ہندو مسلم کی قربانیوں ، باہمی رویوں ، فرقہ وارانہ فساد کی جڑوں اور سفید پوشی میں کالے دلوں کا قصہ بیان کیا گیا ہے ۔ شورش کا تعلق احرار سے تھا اور وہ خود ایک پریکٹیکل مسلم تھے تاہم ؛ جانبداری ، تعصب اور ناانصافی سے کوسوں دور تھے ۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی کتاب پڑھ کر نہیں زندگی کا مطالعہ کرکے لکھی تھی ۔ اسلوب و انداز انتہائی البیلا اور اچھوتا ہے اور معلومات سے بھرپور اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے ۔ (جاری )

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*