شہرِ شوق کا دیدار

ایام ِ تالا بندی کی جھک ماریاں(2)

 

ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی
مشکی پور ، جمال پور ، کھگڑیا ۔ بہار
ان ہی ایام میں رمضان کا مبارک مہینہ بھی آیا ۔ یوں بھی یہ مہینہ عام دنوں میں بھی مسلمانوں کے لیے نصف لوک ڈاؤن ہی کا سا رہتا ہے ۔ کئی اعتبار سے یہ رمضان اچھا بھی رہا اور کئی لحاظ سے انتہائی روکھا پھیکھابھی۔ حسن اتفاق کہیے کہ میرا قیام تالابندی سے پہلے ہی سے اپنے وطن (کھگڑیا )میں تھا ۔ گزشتہ دو تین برسوں سے رمضان انتہائی شدید گزر رہا ہے ، رمضان سے پہلے روزہ دار بڑے فکرمند دکھائی دیتے ہیں کہ امسال کا رمضان کیسے گزرے گا ؟ حالیہ رمضان سے پہلے بھی موسم کی مار کے ساتھ کورونا کے انتشار کی فکر ہر کسی کو لاحق تھی کہ اسی دوران رمضان آن پڑا ۔ اوروں کے مقابلے مجھے ایک اور ٹینشن رہتی ہے یعنی قرآن پاک سنانے کی تیاری اس لیے کہ میں بہت ڈ ھیل پھوڑا قسم کا حافظ ہوں ۔ رمضان کے دنوں میں تراویح کی یہ فکر گزشتہ کئی برسوں سے مجھے لوک ڈاؤن کرتی آرہی ہے۔ رمضان کا پورا مہینہ اس مشغلے میں کیسے گزر جاتا ہے ، احساس ہی نہیں ہوتا ۔ اس سال بھی ایسا ہی ہوا ۔ لیکن اس سال تراویح کی جماعت محض چار افراد پر مشتمل تھی ، کئی احباب و رشتہ دار جماعت میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن کسے چھوڑتا اور کسے پکڑتا ، بادلِ نا خواستہ ان سے معذرت کرنی پڑی ، بعض احباب ناراض بھی ہوئے لیکن اس پرآشوبی کے زمانے میں اور کیا بھی کیا جاسکتا تھا ؟پورے رمضان اس کے علاوہ کوئی دوسرا مشغلہ نہیں رہا ۔ الحمد للہ پورے رمضان کاموسم ایک دو روز چھوڑ کر خوشگوار ہی رہا ، خورد و نوش میں بھی کوئی کمی نہیں رہی البتہ مسجد سے تقریباً محرومی رہی ، صرف جمعے کو مسجد جاتا وہ بھی اس وجہ سے کہ امام صاحب کا اصرار ہوتا کہ ذرا آکے سنبھال دیجیے کیوں کہ بھڑ کا خدشہ لگا رہتا ہے ، میں جاتا اور وقت کے تعین کے بغیر پانچ منٹ کے اندر خطبہ ، نماز اور دعا کرکے جمعہ مکمل کر دیتا اور مصلیان کو بڑے پیار سے مسجد سے رخصت کر دیتا اور خود بھی گھر چلا آتا ۔ یہ تھی اس مقدس ماہ میں پلک جھپکنے بھر مسجد کی ہفتہ وار زیارت اور بس ۔
اس رمضان میں اور بھی کئی محرومیوں سے گزرنا پڑا ۔ کسی کی دعوت میں کوئی جاسکتا تھا نہ کسی کو اپنے یہاں مدعو کرسکتا تھا ۔ بہت سے فقراء و مساکین وغیرہ رمضان میں آیا کرتے تھے ، ان کا آنا بھی تقریبا ً موقوف رہا ۔ ہمارے گاؤں میں ہر سال ایک خاص موسم میں کچھ دنوں کے لیے کچھ خانہ بدوش خیمہ زن ہوتے ہیں ، اس سال بھی آئے لیکن لوک ڈاؤن میں وہ بھی پھنس گئے اور بڑی کسمپرسی میں ان کے دن کٹے ، ان ہی خانہ بدوشوں کے بچے روزانہ آب و دانہ کی تلاش میں دروازوں پر آجایا کرتے اور بحسب ِ توفیق انھیں کچھ دے دیا جاتا ۔ ایک روز دو چھوٹی چھوٹی بچیاں آئیں ، میرے بھانجے لبریز نے انھیں پانچ کا ایک سکہ دیا اور کہاکہ آپس میں بانٹ لینا ، لبریز نے معاً ان بچیوں سے پھر ایک سوال کیا کہ کیسے تقسیم کروگی ؟ بغیر سوچے سمجھے ایک بچی نے جواب دیاکہ دو دو روپے اور ایک روپیہ کی دو ٹافی خرید کر ایک ایک ٹافی آپس میں تقسیم کرلیں گے ۔ میں اس بچے کی حاضر جوابی پر حیرت زدہ رہ گیا ۔ مجھے بہت ترس آیا کہ کاش ان بچیوں کے ہاتھوں میں بجائے کاسے کے کتاب ہوتی اور وہ گلیوں میں دربدری کے بجائے اسکول جاتیں ۔ اللہ ان معصوموں پر رحم فرما ۔
اس وبائی عہد میں دینی مدارس کا بھی بڑا خسارہ ہوا ، یہی زمانہ ہوتا ہے مدارس کے لیے مالیاتی فراہمی کا ، اہل مدارس ملک بھر میں اس کے لیے کوششیں صرف کرتے ہیں اور مدارس کے ایک بڑے بجٹ کا انحصار اہل خیر کی ان ہی عطیات پر ہوتا ہے۔ یہ پورا موقع ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔ نتیجۃً مدارس کے اساتذہ و ملازمین کے چولہوں پر اس کا برا اثر پڑا ہے ۔ اللہ اپنے خزانہ غیب سے ان کی مدد فرما ۔
اس رمضان کی اور بھی کئی خصوصیات ہیں ۔ بہت سے اہل ایماں جو یا تو اپنی جہالت کی وجہ سے یا کم ہمتی کی بنا پر روزے نہیں رکھتے یا نہیں رکھ پاتے تھے اس بار انھوں نے بھی روزے رکھنے کا اہتمام کیا بلکہ نماز تراویح پڑھی بھی اور پڑھائی بھی اور ان سے متعلق مسائل بھی علماء سے جاننے اور سیکھنے کی کوشش کی ۔ مسلم نو جوانوں میں ان ایام میں خدمت ِ خلق کا جذبہ بھی کچھ بیدار ہوا اور تجارت میں بھی ذرا دلچسپی بڑھی ہے ۔ باہر نہ نکلنے کی وجہ سے روزہ دار گناہ کی بہت سی آلودگیوں سے بھی محفوظ رہے لیکن ترکی سیریل ارطغرل نے بہت سے نوجوانوں کے روزے بھی کھائے ۔ اس رمضان کا ایک بڑا امتیاز یہ بھی رہا کہ وہ سیاسی افطار پارٹیوں کی نحوست سے پورے طور پر پاک رہا ۔
اب اہل ِ بستی جمعۃ الوداع ادا کرنے کے لیے بےچین ہورہے تھے ۔ ایک تو آج بھی کچھ لوگ جہالت اور کچھ سادہ لوحی کی بنا پر اس جمعے کو خاص اہمیت دیتے ہیں جب کہ قرآن و حدیث میں ایسا کچھ نہیں ہے ، رمضان کے دوسرے جمعوں کی طرح یہ بھی ایک جمعہ ہے بس ۔ دوسرے مسجد سے پورے مہینے کی محرومی کا احساس بھی عوام کو بے چین کیے دے رہا تھا ۔ لوگ میرے پاس آئے کہ جمعہ کیسے ادا کیا جائے ؟ میں نے وہی بات دہرائی کہ اس کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی آپ سمجھتے ہیں ۔ دوسرے کورونا کی آفت ہمارے سروں پر الگ ہے ۔ اس کے پیش ِ نظر ہمارے علمائے کرام کی تاکیدی گزارشات اور حکومتی فرمان بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس لیے بھڑ اکٹھی کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے ۔ اگر بھڑ بھاڑ ہوگی تو میں جمعہ پڑھانے مسجد نہیں جاپاؤں گا ۔ بالآخر میں نہیں جا پایا ۔
اب نماز عید الفطر کا مسئلہ سامنے تھا ۔ کئی احباب و بزرگوار تشریف لائے اور اس بارے میں اپنی فکرمندی کا اظہار کیا۔حکومت کے سرکلر کے مطابق یہ بات تو طے تھی کہ عید کی نماز عیدگاہ میں ادا نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی دوسرے مقامات پر بھڑ اکٹھی کرنے کی اجازت ہوگی ۔ علمائے کرام کی اپیل بھی یہی تھی کہ اپنے اپنے گھروں میں اہلِ خانہ کی جماعت بناکر نماز دوگانہ ادا کرلیں یا تنہا تنہا چاشت کی دو نفل پڑھ لیں ۔ خلاصہ یہ کہ پوری بستی میں پانچ چھ زون بنالیے گئے اور اس کے لیے امام صاحبان کو بھی طے کر دیا گیا اور عوام سے یہ درخوست کی گئی کہ یہ عمل آپ کے لیے اختیاری ہے ۔ اگر کوئی گھر ہی میں پڑھنا چاہے یا نہ بھی پڑھے تو اس کے لیے معافی ہے ان شاء اللہ۔
جیسے تیسے نماز ِ عید الفطر بھی ادا ہو گئی لیکن اس عید میں بڑی بے عیدی رہی ۔ بڑی بے رونق ، پھیکی اور بہت سونی عید ۔ ایک آدھ فیصد کو منہا کرکے تقریباً بڑے اور بچے سب نے پرانے کپڑوں میں ہی عید منائی، اس میں ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی بھی برابر کی حصہ داری رہی۔ خاص طور پر بچوں کے لیے بڑی مایوس کن عید رہی نہ کپڑے ، نہ عیدی ، نہ میلہ نہ تماشا اور نہ گھومنے پھرنے کی آزادی ۔ اللہ ان معصوموں کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ان کے صدقے میں زمین سے اس کورونائی بلا کو ختم فرما دے ۔
تالا بندی کی جھک ماریوں میں کچھ کتابوں کے مطالعے کی بھی توفیق ہوئی جس کا تفصیلی ذکر پہلے ہوچکا ہے ساتھ ہی اس کی بھی کوشش کی گئی کہ پڑھی ہوئی کتابوں پر قلم کو بھی کچھ جنبش دی جائے ۔ تحریر کردہ چند مضامین و مضمونچے درج ِ ذیل ہیں :
1-کتابیں ہیں چمن اپنا (چند الفاظ )
2-دارا لعلوم دیوبندکے زمانہ طالب علمی میں میرا مطالعہ
3- رحلۃ الشتاء (سفر نامہ فلسطین )
مضمونچے :
1-مدارس دینیہ کے ذمہ داران سے گزارش
2-مدارس کے مجلات اور چند سفارشات
یہ تھی ایام تالابندی کی چند جھک ماریاں ۔ امید کہ میرے دیگر احباب بھی اردو ، عربی ، فارسی ، انگریزی اور ہندی وغیرہ میں اپنے ان ایام کی سرگزشت قلم بند فرمائیں گے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*