اجودھیا، کاشی اور متھرا میں بی جے پی کوشکست-معصوم مرادآبادی

اجودھیا، کاشی اور متھرا محض اترپردیش کے تین شہرنہیں بلکہ ایسی تین علامتیں ہیں جن کی بنیاد پربی جے پی نے ملک میں فرقہ پرستی کا جوالا مکھی تیار کیا ہے۔اجودھیا میں عدالت کے سہارے بابری مسجد کے مقام پررام مندر کی تعمیر شروع کرنے کے بعد اب وہ منصوبہ بند طریقے سے کاشی اور متھرا کی مسجدوں پر بھی عدالتی لڑائی کا آغاز کرچکی ہے۔یہ تینوں ہی مقامات اس کے لیے ہندو ووٹوں کی صف بندی کا ایک موثر ذریعہ رہے ہیں، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان تینوں ہی مذہبی شہروں میں حالیہ پنچایتی چناؤ کے دوران بی جے پی کا صفایا ہوگیا ہے اور یہاں اپوزیشن جماعتوں نے بازی ماری ہے۔اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی زمین کھسک رہی ہے اور وہ آئندہ سال کے شروع میں ہونے والے اسمبلی انتخابات دوبارہ جیتنے کے جو سپنے دیکھ رہی تھی، وہ اس کے لیے ڈراونا خواب ثابت ہونے والے ہیں۔کیوں نہ ہوں جب صوبائی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشہ چار سال کے دوران زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں کیا اور حالیہ کورونا بحران کے دوران سرکار ہر محاذ پر ناکام نظر آئی۔ جب مخالفت کی آوازوں کو دھمکیاں دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی جائے گی تو لوگوں کا ’مونہہ بھنگ‘ ہونا لازمی ہے۔
اترپردیش اسمبلی کے انتخابات سے محض دس ماہ پہلے ہونے والے پنچایتی چناؤ کے نتائج پر نظر ڈالئے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان میں بی جے پی کی سب سے کراری ہار ان حلقوں میں ہوئی ہے جو اس کا گڑھ مانے جاتے رہے ہیں اور جہاں وہ خود کو ناقابل شکست تصورکرتی ہے۔اسی لیے بڑی خبر یہ ہے کہ ریاست کے حالیہ ضلع پنچایت چناؤ میں بی جے پی کے امیدوار اجودھیا، کاشی اورمتھرا میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ خود وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ناک کے نیچے راجدھانی لکھنؤ کی 25 نشستوں میں سے بی جے پی کو محض تین سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔ان چناؤ میں سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کا اتحاد سبقت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ منگل کی رات تک اس اتحاد کے 828 ضلع پنچایت امیدوار کامیابی کا پرچم بلند کرچکے تھے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پنچایت چناؤکے ذریعہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف کانگریس کو بھی اس چناؤ میں جھٹکا لگا ہے اور اس کے صرف 74 امیدوار ہی کامیاب ہوپائے ہیں۔اب ضلع پنچایت کے ممبران اپنے اپنے صدر کا انتخاب کریں گے۔ضلع پنچایت صدر کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ضلع کی ترقی کے لیے مرکز اور صوبائی حکومت سے حاصل ہونے والی رقم ان ہی کے ذریعہ خرچ ہوتی ہے۔ ایک ضلع پنچایت صدر ایک سال میں تقریباً 30 کروڑ روپے خرچ کرتا ہے۔
اگر آپ ان پنچایتی چناؤ کی بنیاد پر آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو بڑی مایوس کن تصویر ابھرتی ہے۔ بی جے پی کا خیال ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کے پاس رام مندر سب سے بڑا موضوع ہوگا۔اجودھیا میں مندر کی تعمیر کا کام زور وشور سے جاری ہے اور اس کے لیے کروڑوں روپوں کا چندہ بھی جمع کرلیا گیا ہے، لیکن جب ہم اسی اجودھیا کے حالیہ پنچایتی چناؤ میں بی جے پی کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں تو سوائے مایوسی کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔اجودھیا ِضلع کی 40 ضلع پنچایت سیٹوں میں سے 24 پر سماجوادی پارٹی نے قبضہ کرلیا ہے اور بی جے پی کو صرف چھ سیٹیں ہی ملی ہیں۔یہاں بی جے پی کے ایک درجن لیڈروں نے پارٹی کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کے طورپر چناؤ لڑا اور بی جے پی کی شکست کا راستہ ہموار کردیا۔اسی طرح آپ متھرا پر نظر ڈالیں تو وہاں کی 33 نشستوں میں سے بی جے پی نے صرف آٹھ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں بی ایس پی نے 13، راشٹریہ لوک دل نے آٹھ اور سماجوادی پارٹی نے ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ تین سیٹیں آزاد امیدواروں نے جیتیں اور کانگریس یہاں کھاتہ نہیں کھول پائی۔
اب آئیے وزیراعظم کے حلقہ انتخاب کاشی یعنی بنارس کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں کی 40 سیٹوں میں سے بی جے پی کو صرف آٹھ سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ یہاں سماجوادی پارٹی نے 14 اور اپنا دل (ایس)نے تین اور عام آدمی پارٹی نے ایک سیٹ جیتی ہے۔اسی طرح وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے گھر یعنی گورکھپور میں بی جے پی اور سماجوادی پارٹی نے 19۔ 19 سیٹیں جیتی ہیں۔ یہ وہی گورکھپور ہے جہاں یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد جب ان کی لوک سبھا سیٹ پر ضمنی چناؤ ہوئے تو سماجوادی پارٹی کے امیدوار نے کامیابی کا پرچم لہرایا تھا۔گورکھپور میں بی ایس پی کو دو اور کانگریس کو ایک نشست پر کامیابی ملی ہے۔یہاں سب سے زیادہ 22 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ اب اترپردیش کی راجدھانی کے نتائج پر نظر ڈالتے ہیں جہاں بہ حیثیت وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ قیام پذیر ہیں۔لکھنؤ شہر کی 25 سیٹوں میں بی جے پی کے حصے میں محض تین سیٹیں آئی ہیں۔ یہاں سماجوادی پارٹی کو آٹھ اوربی ایس پی کو پانچ نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ آزاد امیدوار 9 سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں اور کانگریس لکھنؤ میں کھاتہ نہیں کھول سکی ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دوبار ممبر پارلیمنٹ رہ چکی بی جے پی کی حمایت یافتہ رینا چودھری پنچایت چناؤ میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار سے شکست کھاگئی ہیں۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اترپردیش میں پنچایتی چناؤ ہمیشہ سے بڑی اہمیت کے حامل رہے ہیں اور انھیں اسمبلی الیکشن کے بعد دوسرا بڑا عوامی منڈیٹ مانا جاتا ہے،کیونکہ ان سے عوامی رجحان کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ کس انداز میں سوچ رہے ہیں۔ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ پنچایتی چناؤ کے یہ نتائج حال ہی میں منعقد ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد منظرعام پر آئے ہیں۔ ان انتخابات میں مغربی بنگال اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کی کراری شکست کا موضوع زیربحث ہے۔یوں تو اسمبلی انتخابات بنگال کے علاوہ آسام، کیرل، تمل ناڈو اور پانڈیچری میں بھی ہوئے تھے، لیکن سب سے زیادہ تذکرہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی ہار کاہورہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں بی جے پی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی، مگر ایڑھی سے چوٹی تک کا زور لگانے کے باوجود وہ ناکامی سے دوچار ہوئی۔ اکیلی ممتا بنرجی کو ہرانے کے لیے بی جے پی کی ساری توپیں اور بے پناہ وسائل وہاں لگے ہوئے تھے، لیکن زخمی شیرنی نے مغربی بنگال کی سرزمین پر بی جے پی کے غرور کو خاک میں ملادیا۔ممتا بنرجی نے جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ بی جے پی کے مکروفریب کی ہوا نکالی ہے اور وزیراعظم کی انتھک کوششوں کو ناکام کیا ہے، اس کے نتیجہ میں ممتا کا نام آئندہ لوک سبھا چناؤ میں بطور وزیراعظم اپوزیشن امیدوار کے طور پر لیا جارہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مرکزکے اقتدار کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتا ہے، جہاں 2017 کے اسمبلی چناؤ میں بی جے پی نے ریاست کی ۰۰۴ میں سے 312 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے پی کو یہاں 77 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تھے، لیکن حالیہ ضلع پنچایت چناؤ میں بی جے پی کو حاصل ہونے والے ووٹ محض 25 فیصد رہ گئے ہیں۔اگر اسمبلی چناؤ تک یہی حالت برقراررہی تو اترپردیش میں بی جے پی کا صفایا ہوجائے گا۔ دراصل عوام اب بی جے پی سے اوب چکے ہیں، کیونکہ اس عرصہ میں وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تک سب نے عوام کو طفل تسلیوں پر زندہ رکھا ہے۔ اگر کسی نے حکومت کی ناکامیوں پر زبان کھولی ہے تو اس کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ حالیہ کورونا بحران کے دوران پورے ملک میں طبی سہولتوں کا جو فقدان ہے اور لوگ علاج معالجہ، آکسیجن، ویکسین اور آخری رسومات کے لیے طویل قطاروں میں لاچار کھڑے نظر آئے ہیں، اس نے پورے نظام کی پول کھول دی ہے۔جن لوگوں کو اجودھیا، کاشی اور متھرا کی افیم چٹائی گئی تھی، وہ اب ہوش میں آنے لگے ہیں اور ان ہی مذہبی مقامات سے بی جے پی کی شکست کی کہانی لکھی جارہی ہے۔